علم كي اھميت
اسلام علم و عقل كا دين ھے مسلمانوں سے دلچسپي كے ساتھ علم حاصل كرنے كو چاھتا ھے، اسلام لوگوں كي اھميت علم و دانش سے ديتا ھے اور حصول علم كو تمام لوگوں پر واجب و لازم جانتا ھے، خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں فرمايا: اے رسول (ص) پوچھو! بھلا جاننے والے اور نہ جاننے والے كھيں برابر ھو سكتے ھيں؟ (۱)

اور خدا قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ھے: خدا مومنين كے مقام كو بلند كرتا ھے اور علماء كو سب سے بلند درجہ تك پھنچاتا ھے (۲)

رسول (ص) خدا فرماتے ھيں: علم كا حاصل كرنا ھر مسلمان مرد و عورت پر واجب ھے (۳)

آنحضرت (ص) نے فرمايا: عالم وہ ھے جو دوسروں كي معلومات اور اطلاعات سے فائدہ حاصل كرے اور اپنے علم ميں اضافہ كرے ۔۔۔۔پُر اھميت شخص وھي ھے جس كے اعمال و حسنات زيادہ ھوں، اور لوگوں ميں بے اھميت وہ ھے جس كے پاس علم و آگھي نہ ھو (۴)

حضرت علي امير المومنين (ع) فرماتے ھيں: علم سے بھتر كوئي خزانہ نھيں ھے(۵)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا: ميں تمھارے جوانوں كو دو حال ميں پسند كرتا ھويا علم حاصل كرنے والے يا تعليم دينے والے ھوں اگر ايسا نھيں ھے تو انھوں نے كوتاھي كي ھے، اور ھر كوتاھي كرنے والا عمر ضائع كرتا ھے اور عمر كو برباد كرنے والا گنھگار ھے اور گنھگار كا ٹھكانہ جھنم ھے۔ (۶)

حضرت باقر العلوم (ع) فرماتے ھيں: جو شخص حصول علم ميں رات و دن سرگرم رھے وہ اللہ كي رحمت ميں شريك ھے۔ (۷)

حضرت سروركائنات (ص) نے ارشاد فرمايا: اے ابوذر! علمي گفتگو ميں ايك گھنٹہ رھنا، اللہ كے نزديك ہزار راتوں كي عبادت سے افضل ھے، جس كي ھر رات ميں ہزار ركعت نماز پڑھي گئي ھو۔ (۸)
خدا كي پہچان

خدا وند عالم نے دنيا كو پيدا كيا اور اسے منظم طريقہ سے چلا رھاھے، كوئي بھي چيز بغير سبب كے وجود ميں نھيں آتي ھے مثال كے طور پر اگر ھم كسي نئے گھر كو ديكھيں تو يقين كريں گے كہ اس كا بنانے والا، كار گر و مزدور اور نقشہ كھينچنے والا انجينيركوئي ضرور ھوگا، يعني يہ گھر انھيں افراد كي زحمات كا نتيجہ ھے كسي كے خيال ميں بھي نھيں آئے گا كہ يہ خودبخود تيار ھو گيا ھوگا ۔

اگر ھم ٹيبل پر قلم اور سفيد كاغذ ركھ كر چلے جائيں اور واپسي پر ديكھيں كہ اس پر كسي نے لكھا ھے تو ديكھ كر ھميں اطمينان سا ھوجائے گا كہ ھماري غير موجودگي ميں كوئي آيا تھا، اور اس پر اپنے آثار چھوڑ گيا ھے اگر كوئي كھے بھائي صاحب آپ كي غير موجودگي ميں يہ قلم خود ھي اس پر رواں ھو گيا اوراس نے يہ تمام چيزيں لكھ دي ھے تو ھم اس كي باتوں پر تعجب كريں گے اور اس كي بات غير معقول قرار دينگے، اگر ھم كسي مقام پر خوبصورت تصوير بھترين پارك ميں بني ھوئي ديكھيں جو ھر ايك كا دل اپني طرف لبھا رھي ھو تو كيا ھمارے ذھن ميں يہ بات آئے گي كہ ھو نہ ھو يہ خود بخود بن گئي ھو گي ۔

ھم گاڑي ميں باتيں كرتے ھوئے چلے جا رھے تھے اتفاق سے گاڑي رك گئي ڈرائيور كو اطمينان ھے كہ گاڑي بغير وجہ كے نھيں ركے گى، كوئي نہ كوئي ضرور موٹر ميں خرابي آئي ھے، اور بنانے كے لئے تمام كوششيں كر رھاھے ھم كھيں بھائي ٹھھرو ابھي گاڑي خود بخود صحيح ھوكر چلنے لگے گي !

ھمارے ہاتھ كي گھڑي چلتے چلتے رك گئي ھم نے بنانے والے كو ديا، كيا وہ كہہ سكتا ھے كہ يہ ابھي خود ھي سے ٹھيك ھوجائے گي ۔

آپ كو اچھي طرح معلوم ھے كہ كسي چيز كا وجود بغير علت كے نھيں ھوتا ھے، اور اس كي تلاش ھر شخص كو ھوتي ھے، اب ميں آپ سے سوال كروں يہ اتني بڑي طويل و عريض دنيا بغير كسي پيدا (بنانے والے) كرنے والے كے پيدا ھوگئي ھے؟ ھرگز ايسا نھيں ھے، اتني بڑي اور منظم دنيا پھيلے ھوئے دريا، چمكتے ھوئے ستارے اور دمكتا ھوا سورج يہ رات دن كا آنا جانا، فصلوں كي تبديلى، درختوں كے شباب، گلوں كے نكھار بغير كسي بنانے والے كے نھيں ھو سكتا ۔
دنيا ميں نظم و ترتيب

اگر ھم ايك ايسي عمارت ديكھيں جو نہايت منظم اور با ترتيب بني ھوئي ھو كہ اس كے اجزاآپس ميں اچھي طرح خوب ملے ھوئے ھوںاوراس ميںرھنے والوں كيلئے تمام ممكن ضروريات كي چيزيںبھي باقاعدہ اپني اپني جگہ پرفراھم ھو يعني اس ميںكسي طرح كا كوئي عيب ونقص نظرنہ آرھاھواُجالے كے لئے بجلى، پينے كے لئے بھترين پانى، سونے كے لئے كمرہ، كچن، مھمان خانہ، حمام، پيشاب خانہ اورجاڑے ميں گرم كرنے كے لئے ھيٹر، گرمى ميں سرد كرنے كے لئے (AC) اوركولربھت ھي نظافت سے پاني كے پائپ اوربجلي كے تار پھےلے ھوئے ھوں، اور اس كي بناوٹ ميں ڈاكٹري پھلوؤں پر خاص توجہ دي گئي ھو، سورج كي ٹكيا پورے طور پر اس گھر ميں نور چھڑك رھي ھو، جبھم يہ ملاحظہ كرتے ھيں تو ھماري عقل فيصلہ كرنے پر مجبور ھو جاتي ھے كہ يہ ھر لحاظ سے منظم گھر خود بخود نھيں بنا ھوگا، بلكہ اس كے بنانے اور سنوارنے والا كوئي با ھوش مدبر، دقت بيں، نہايت ظرافت سے نقشہ كے مطابق بنايا ھے ۔

اس مثال كے ذكر كے بعد چاھتا ھوں كہ اپني روزانہ كي زندگي پر آپ لوگوں كي توجہ مبذول كراؤں انسان اپني زندگي بسر كرنے كے لئے پاني اور كھانے كا محتاج ھے كہ كھانا كھائے اور پاني پئے اور بدن كے خليوں (CELLES) كي ضروريات كو پورا كرے تاكہ بدن كے تمام خليہ زندہ اور اپنے كاموں ميں مشغول رھكر ھماري زندگي كو اچھي طرح قائم و دائم ركھيں، ضروري ھے كہ مختلف انواع كے كھانے كھائيں اور ان كو فوت ھونے سے بچائيں ورنہ انھيں كے ساتھ زندگي كے چراغ مدھم ھونا شروع ھوجائيں گے ۔

انسان اپني زندگي كے لئے مفيد ھوا كا نياز مند ھے تاكہ اس كو جذب كرے اور داخلي جراثيم كو باھر نكال كر حيات كو تازگي بخشے، آپ ملاحظہ كريں، كس طرح ھماري زندگي كو بھترين بنانے كے لئے ضروريات كي تمام چيزيں خارج ميں موجود ھيں اگر كھانا تلاش كريں تو مختلف انواع و اقسام كے كھانے موجود ھيں اگر زندگي كے لئے گيھوں، چاول، سبزى، پھل اور گوشت وغيرہ كي تلاش ھوتو تمام كي تمام چيزيں خارج ميں موجود ھيں، اگر پاني يا ھوا كي ضرورت ھوتو باھر موجود ھے پاؤں ھوں تو كھانے كي تلاش ميں نكل سكتے ھيں آنكھيں ھوں تو مناسب اچھي غذائيں ديكھ سكتي ھيں اور ہاتھ ھوں تو اٹھا سكتے ھيں، اور پيدا كرنے والے نے ہاتھ كو بھي كيا خلق كيا ھے كہ پورے طور پر ھمارے اختيار اور ھماري ضروريات كو مختلف انداز ميں پورا كرنے كے لئے تيار ھے جس طرح اور جس وقت چاھيں اٹھائيں بيٹھائيں فقط ھمارے ارادہ كے محتاج ھيں، جيسا ارادہ ھو ويسا كريں، بند كرنا چاھيں تو كھلے نہ، اور كھولنا چاھيں تو بند نہ ھو، كس قدر تعجب خيز ھے ہاتھوں كي بناوٹ اور اس ميں انگليوں اور ھتھيليوں كي ظرافت، ھونٹوں كو پيدا كيا تاكہ منھ كو بند ركھيں لقمہ باھر آنے سے محفوظ رھے ۔

مشكل ترين مسئلہ يہ ھے كہ بدن كي ضروري غذائيں جو رنگ برنگ اور مختلف اقسام كے ساتھ پائي جاتي ھيں كيا يہ اتني آساني سے بدن كے خليوں كے لئے لائقِ استفادہ ھو سكتي ھيں؟ ھر شخص كہہ سكتا ھے، نھيں بلكہ اس ميں بھترين طريقہ سے تغير و تبديلي واقع ھو، تاكہ وہ بدن كے استفادہ كے مطابق ھو سكے، انسان كي داخلي مشينري (Machinery) غذا كو چار مرحلہ كے بعد ہضم كے لائق بناتي ھے لہذا (بطور عبرت) خلاصة ً قارئين كے پيش خدمت ھے ۔

پھلا مرحلہ: خدا وند عالم نے ھمارے منھ ميں دانت جيسي نعمت دي جو غذا كے مطابق لقمہ كو چبا كر ريزہ ريزہ كرنے كے كام آتے ھيں، اور زبان ميں حركت عطا كي تاكہ لقمہ كو مناسب دانتوں كي طرف ھدايت كرے اور منھ كے اندر بعض حصوں كو ايسا منزہ بنايا جو كھانے كے ذائقہ اور اس كي اچھائي و خرابى، مٹھاس اور تلخي كو دماغ كي طرف منتقل كرتے ھيں، اور اسي لقمہ (غذا) كے مطابق، مرطوب اور نرم كرنے كے لئے مخصوص پاني چھوڑتے ھيں، تاكہ وہ لقمہ آساني سے چبانے اور نگلنے كے لائق ھو جائے اس كے علاوہ يہ منھ كے پاني غذا كو ہضم كرنے ميں كافي مدد كرتے ھيں اور خود اس كے اندر شيميائي اور كيميائي طاقتيں بھر پور پائي جاتي ھيں ۔

دوسرا مرحلہ: جب دانت اپنے كام سے فارغ ھوجائے يعني لقمہ نگلنے كے لائق ھو جائے تو غذا منھ كے راستہ كے ذريعہ معدہ ميں پھونچ جاتي ھے، لقمہ كو نيچے جاتے وقت چھوٹي زبان (كوا) ناك اور سانس كے سوراخ كو بند كر ديتي ھے اور اس مخصوص پردہ كے ذريعہ ناك و سانس كے راستے كو بن كرنے كا مقصد يہ ھے كہ كھانا ناك كے سوراخ ميں نہ چلا جائے ۔

تيسرا مرحلہ: كھانا كچھ دير معدہ ميں رھتا ھے تاكہ وہ ہضم كي صلاحيت پيدا كر لے، معدہ كي ديواروں ميں ہزاروں چھوٹے چھوٹے غدود پائے جاتے ھيں جس سے خاص قسم كا سيال پاني نكلتا ھے لہذا اس كے ذريعہ كھانا ہضم اور بھنے والے پاني كے مانند ھوجاتا ھے ۔

چوتھا مرحلہ: غذا پتلي ناليوں كے ذريعہ (آنت) پت كي تھيلي ميں جاتي ھے اور وہاں پر بڑا غدود جس كو (لوزالمعدہ) كھتے ھيں، جس سے مخصوص قسم كا، سيال اور غليظ پاني نكلتا ھے جو غذا كو ہضم كرنے كے لئے نہايت ھي ضروري ھے، كھانا آنت ميں بھنے والي چيزوں كي طرح رھتا ھے، اور اس آنت كي ديواروں پر لگے ھوئے غدود اس سے غذائي مواد حاصل كرتے ھيں، اور اس مواد كو خون كي صورت ميں تبديل كر كے تمام بدن ميں پھنچاتے ھيں اور دل جو برابر حركت ميں رھتا ھے، ان قيمتي مواد كو خون كے ذريعہ بدن كے تمام حصوںميں بھيجتا ھے اور اس طريقہ سے انسان كے بدن كے تمام خليے اپني اپني غذائيں حاصل كرتے ھيں ۔

توجہ كي بات ھے كہ انسان كے عضلات اور دنيا كي چيزوں ميں كس قدر ارتباط اور رابطہ پايا جاتا ھے، كيا اب بھي كسي ميں ھمت ھے جو كھے يہ دنيا خود بخود پيدا ھوگئي ھے !

اگر ھم اپنے بدن كي ساخت پر نظر ڈاليں اور اعضائے بدن كے اندر جو دقيق و عميق ريزہ كاري اور باريك بيني كا مظاھرہ كيا گيا ھے غور و فكر كريں تو تعجب كي انتھاباقي نہ رھے گي كہ اس بدن كے اجزا اور دنياوي چيزوں كے درميان كيسا گھرا تعلق اور رابطہ پايا جاتا ھے جس سے ھمارے لئے يہ بات بخوبي واضح ھو جاتي ھے كہ انسان اور دوسري تمام چيزيں، خود بخود وجود ميں نھيں آئي ھيں ۔

بلكہ پيدا كرنے والے نے بھت ھي تدبير اور ذرہ بيني اور تمام ضروريات كو مد نظر ركھنے كے بعد خلق فرمايا ھے، كيا خدا كے علاوہ كوئي ھو سكتا ھے جو انسان اور دنيا كے درميان اتنا گھرا رابطہ پيدا كر سكے؟ كيا طبيعت جس ميں كوئي شعور نھيں ھے انسان كے ہاتھوں كو اس طرح موزوں اورمناسب خلق كر سكتي ھے؟ كيا طبيعت كے بس كا ھے جو انسان كے منھ ميں ايسا غدود ركھے جس سے انسان كا منھ ھميشہ تروتازہ بنا رھے؟ كيا چھوٹي زبان (كوا) جو سانس اور ناك كے مقام كو ھر لقمہ اور ھر قطرہ پاني سے محفوظ ركھتي ھے خود بخود بن جائے گى؟ كيا يہ معدہ كے غدود جو غذا كے لئے ہاضم بنتے ھيں خود بخود خلق ھوئے ھيں ؟وہ كونسي چيز ھے (لوزالمعدہ) جو بڑے غدود كو حكم ديتي ھے كہ وہ سيال اور غليظ پاني كا غذا پر چھڑكاؤ كرے؟ كيا انسان كے دو عضو اپنے فائدہ كا خود خيال ركھتے ھيں ؟وہ كيا چيز ھے جو دل كو مجبور كرتي ھے كہ وہ رات ودن اپنے وظائف كو انجام دے اور پروٹين (Protein) حياتي ذرّات كو بدن كے تمام حصوں ميں پھنچائے؟ ہاں، خداوند عالم كي ذات ھے جو انسان كے عضلاتي مجموعے كو صحيح طريقہ اور اصول پر منظم ركھتے ھيں۔
بچپنے كا زمانہ

اب ھم اپني زندگي كے دوسرے پھلوؤں پر بھي نظر ڈاليں، جب ھم نے دنيا ميں آنكھيں كھوليں، تو اتنے لاغر و كمزور تھے كہ بات كرنے كي بھي تاب نھيں ركھتے تھے چل كر معاش فراھم كرنا كيسا؟ ھمارے ہاتھوں ميں تو لقمہ اٹھانے كي طاقت نھيں تھي جو اٹھاتے اور منھ ميں ركھتے، منھ ميں كيا ركھتے كہ چبانے كے لئے دانت نھيں تھا، معدہ ميں ہضم كرنے كي صلاحيت موجود نھيں تھى، اس حال ميں سب سے بھترين غذا خداوند عالم نے دودھ كو ھمارے لئے قرار ديا ۔

جب ھم نے دنيا ميں آنكھيں كھولي تو خدا نے اس سے پھلے ھي ماں كے سينہ ميں ھماري غذاركھ چھوڑي تھى، اس كے دل ميں ھماري محبت اور الفت كي جگہ دي تاكہ رات و دن كے ھر لمحات ميں ھمارے لئے زحمت و مشقت برداشت كرے، ھماري زندگي كو اپني زندگي ھمارے آرام كو اپنے لئے آرام سمجھے جب تھوڑا بڑے ھوئے ہاتھ پاؤں آنكھ كان اور معدہ كي قوت كے سبب سنگين غذاؤں كي طرف ہاتھ بڑھانا اور معمولي دانتوں سے كھانا شروع كيا۔
انصاف كريں

كس نے ھمارے لئے محبت پيدا كى؟ اور ھمارے بچپنے كي ضروريات كو پورا كرنے كے لئے ماں جيسي شفيق و مھربان خاتون بنايا؟ كس نے اس وسيع و عريض دنيا، چمكنے والے ستارے سورج اور چاند كو خلق كيا؟ كس نے اس دنيا كو منظم و مرتب پيدا كيا؟ كس نے زمين اور چاند كو عميق حسابوں سے رواں دواں كيا؟ يہ جاڑے، گرمى، برسات اور خزاں كو كس نے معين فرمايا؟ !

آنكھ، كان، زبان، معدہ، دل، كليجہ، آنت، پھيپھڑا، ہاتھ، پاؤں، دماغ اور دوسرے تمام بدن كے عضلات اس مہارت سے كام كرنے والے كس نے بنائے ھيں؟

كيا ممكن ھے بے شعور و بے ارادہ طبيعت، حيوان و انسان كے اعضا كو پيدا كرنے كي علت بن سكتي ھے؟ جب كي آنكھ جيسا حصہ، نہات دقت و باريك بيني كو گھيرے ھوئے ھے نھيں ھرگز ايسا ممكن نھيں ھے بلكہ خدائے مھربان نے ان كو پيدا كيا ھے وھي ھے، جو ھميشہ سے ھے اور ھميشہ رھے گا، اور زندہ ركھتا ھے اور مارتا ھے، خدا ھي ھے جو بندوں كو دوست ركھتا ھے اور ان كے لئے تمام نعمتوں كو پيدا كرتا ھے ھم خدا كو چاھتے ھيں اور اس كے سامنے عاجزي و فروتني سے سر جھكاتے ھيں، اس كے احكام كي اطاعت كرتے ھيں، اور اس كے علاوہ كسي كو مستحق عبادت و اطاعت نھيں جانتے، اور اپنے سر كو دوسروں كے سامنے عاجزي و ذلت سے نھيں جھكاتے ھيں ۔
ھر موجود كے لئے علت كا ھونا ضروري ھے

ھم جن چيزوں كي تحقيق كرنا چاھتے ھيں اس كے وجود اور موجود ھونے ميں كيسے فكر كريں؟ اس مطلب كو ھم اپنے وجدان سے درك كر سكتے ھيں كہ يہ موجود خود بخود وجود ميں نھيں آئي ھے موجود كے لئے وجود، عينِ ذات نھيں ھے مقام ذات ميں وجود و عدم سے خالي ھے اور وجود و عدم دونوں ھي اس كو چاھتے اور يہ دونوں كي قابليت ركھتے ھيں ايسے موجود كو ممكن كھتے ھيں مثلا پاني پر توجہ كريں ھم وجداناً كھيں گے كہ پاني در حقيقت نہ وجود ھے اور نہ ھي عدم، نہ بالذات وجود چاھتا ھے اور نہ عدم بلكہ دونوں كي نسبت مقام اقتضا اور خواھش ھے وہ چاھے وجود كو لے كر موجود ھوجائے اور چاھے تو عدم ھي رھے۔ پاني كي طرح دنيا كي تمام چيزيں مقام ذات ميں اپنے وجود و عدم سے خالي ھيں يہاں پر ھماري عقل كھتي ھے موجودات چونكہ مقام ذات ميں خود يہ وجود نھيں ركھتي ھيں، اگر چاھيں تو وجود ميں آجائيں تو چاھيے كہ ايك دوسرا عامل ھو جو اس كے نقائص اور كمي كو دور كرے تاكہ وہ چيز موجود اور ظاھر ھوسكے ۔

مقام ذات ميں تمام موجودات فقير اور ضرورت مند ھيں جب تك كہ ان كي احتياج پوري نہ ھو ان پر وجود كا لباس نھيں آسكتا ھے اور وہ چيز موجود نھيں ھو سكتي ھے، تمام دنيا چونكہ اپني ذات ميں كمي و نقص ركھتي ھے اور خود مستقل اور اپنے پيروں پر نھيں ھے لہٰذا ممكن ھے، تو چاھيے ايك كامل مستقل اور بے نياز وجود ركھنے والا جس كا وجود خود عين ذات ھو، اور اس كے لئے ممكن ھونے كا تصور بھي محال ھو، آئے اور اس كو وجود كا لباس پھنائے ايسے وجود كامل كو واجب الوجود اور خدا كھتے ھيں، خدا كي ذات عين وجود ھے اور اس كے لئے عدم و نابودي اصلاً متصور نھيں ھے، يعني خود اس كا وجود عين ذات اور مستقل ھے (جيسے دال نمكين ھے نمك كي وجہ سے اور نمك خود اپني وجہ سے نمكين ھے) اور تمام دنيا اور موجودات اس كے ضرورت مند و محتاج ھيں اور اسي سے اپنا وجود حاصل كرتے ھيں
حوالاجات

1. سورہ زمر (۳۹) آيت ۹۔

2. سورہ مجادلہ (۵۸) آيت ۱۱ ۔

3. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۷۔

4. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۶۴ ۔

5. بحار الانوار، ج ۱،ص ۱۶۵ ۔

6. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۰ ۔

7. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۷۴ ۔

8. بحار الانوار، ج۱،ص۲۰۳

مربوط مطالب

توحيد باري تعالي پر دلائل

توحید اور اس کی قسمیں

توحید کا مفهوم

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه