بقلم: ف۔ح۔مہدوی

شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی "لا مؤثر في الوجود إلا الله سبحانه"، عالم وجود میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی بھی مؤثر نہیں ہے اور اللہ کے سوا جتنے بھی انبیاء اور اولیاء اور اقطاب و علماء و عرفاء یا عام انسان یا دیگر موجودات بھی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مخلوق ہیں چنانچہ ان کو وجود میں مؤثر سمجھنا شرک ہے اور کہیں کوئی نبی یا کوئی ولی کوئی معجزہ دکھاتا یا کائنات میں کوئی تصرف کرتا نظر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کو تصرف کا یہ حق اور یہ اختیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اور یہ تصرف ان کا ذاتی نہیں ہے۔

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے تابعدار اسی لئے ہیں کہ وہ "اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں" اور ان کا اعتبار اللہ تعالی کی ذات سے براہ راست وابستگی کی بنا پر ہے؛ اب اگر ہم ان کی مدح سرائی میں حد سے بڑھ جائیں. متقی ہندی علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: "عن علي قال : يهلك في رجلان : محب مُفرِط ، و مبغض مُفَرِّط"۔ (1) دو آدمی میری وجہ سے نابود ہوجائیں گے: وہ جو میری محبت میں غُلُو کا ارتکاب کرے گا اور وہ جو میری دشمنی میں زیادہ روی کرے گا۔ اور نہج البلاغہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ (2) میری وجہ سے دو لوگ نابود ہوجائیں گے وہ جو میری محبت میں غلو کریں گے (اور مجھے اپنے درجے سے بڑھا کر (معاذاللہ) الوہیت کے قائل ہوں گے) اور وہ جو میری مخالفت میں بغض اور دشمنی کی انتہا تک پہنچیں گے۔

میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: "يهلك في اثنان ولا ذنب لي: محب غال، ومفرط قال. (3) میری وجہ سے دو قسم کے لوگ ہلاک (نابود) ہوجائیں گے اور مجھ پر کوئی گناہ نہ ہوگا ... ۔ ابن ابي جمهور الأحسائي المستدرك للحاكم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اميرالمؤمنين علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یا علي! يهلك فيك فئتان. محب غال ومبغض قال"۔ (4) اے علی! دو قسم کے لوگ آپ کی وجہ سے ہلاک اور نابود ہونگے ایک وہ جو آپ کی محبت میں زیادہ روی اور غُلُوْ کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ جو آپ کے ساتھ دشمنی کی انتہا کریں گے... اور فرائد السمطين، میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: دو قسم کے لوگ میری وجہ سے نابود ہونگے: زیادہ روی کرنے والے دوست اور بغض برتنے والے دشمن۔ (5)

ہلاکت اور نابودی کا خطرہ چودہ معصومین کے سلسلے میں ہی نہیں بلکہ ان سے منسوب دیگر شخصیات کے حوالے سے بھی پیش آسکتا ہے۔ بعض لوگ اس زمانے میں بعض سادات کے بارے میں اسی مسئلے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بعض دیگر امام حسین علیہ السلام کے بارے میں افراط اور زیادہ روی کے اس درجے پر پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ تلوار اور نیزے اور تیر کی جرأت ہی نہیں ہے کہ وہ امام اور خاندان بنی ہاشم کے قریب آئیں چنانچہ وہ جان کر یا پھر انجانے میں کربلا کی خاک پر رقم ہونے والے حق و باطل کے تاریخی معرکے کو جھٹلا رہے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے سامنے سوالیہ علامت ثبت کرنے کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں یا بعض لوگ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں افراط اور زیادہ روی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ (معاذاللہ) "لم یلد و لم یولد" ہیں! اور یوں وہ کئی غلطیوں کا ارتکاب کررہے ہیں کہ اولاً چودہ معصومین کس طرح اس دنیا میں آئے اور دوسری بات یہ کہ جو سادات اس دنیا میں موجود ہیں وہ کون ہیں؟ کیا سادات اہل بیت علیہم السلام کی اولاد نہيں ہیں؟ اگر وہ لم یلد ہیں تو سادات کیونکر ان کی اولاد ہوسکتے ہیں اور اگر امام حسن اور امام حسین علیہما السلام امام علی علیہ السلام کے فرزند ہیں اور امام زین العابدین امام حسین کے اور امام محمد باقر امام زین العابدین کے فرزند اور ہر امام اپنے سے پہلے امام کے بھائی یا فرزند ہیں تو لم یولد ہونے کا ثبوت کیا ہے؟

جو کچھ عرض ہوا وہ اس دعوے کے الفاظ سے متعلق تھا اور مذکورہ بالا حدیث کے حوالے سے یہ ہلاکت کا سبب بھی ہے اور پھر ان لوگوں کے عقائد دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نسل پرستی کا شکار بھی ہیں اور ایک خاص نسل کو آگے رکھ کر در حقیقت اسلام اور اسلام کے تمام احکام کو بھی جھٹلاتے ہيں اور ان پرعمل کرنا بھی ضروری نہيں سمجھتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین اسلام کے پیغمبر بن کر شرافت کے اس درجے پر ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر" اور امام علی رسول اسلام کی جانشینی اور اسلام کے لئے قربانی اور شہادت کی وجہ سے رسول اللہ (ص) کے بعد امت میں سب پر بھاری ہیں اور 11 امام اور سیدہ سلام اللہ علیہا سب کی عظمت اسلام کے لئے شہادت کی سرحد تک جانے کی وجہ سے خدا اور خلق خدا کے عزیز ہیں اور رہیں گے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اس طرح کے عقائد میں مبتلا حضرات کو لامحالہ تاریخ کے تمام حقائق اور مذہب شیعہ کے تمام علوم اور حصولیابیوں نیز مرجعیت اور عاشورا اور اصولی طور پر قرآن مجید اور فلسفۂ امامت و مہدویت تک کو جھٹلانا پڑتا ہے چنانچہ ان افراد کو شیعہ مذہب و مکتب کے سینے پر ایک نیا زخم کہنا ہی بجا ہوگا یا اس کو ایک انتہا پسند فرقہ کہا جاسکتا ہے اور مکتب امامت ان کے عقائد و نظریات سے بری ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ذات باری تعالی کی نسبت شرک کا ادراک زیادہ آسان ہے لیکن اس کی صفات کی نسبت شرک کا ادراک بہت مشکل ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر شرک برتنے والے کو خود معلوم و محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ شرک میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ عبادت کررہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت شرک اس کے عمل میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔

شرک کیا ہے

شرک یعنی: غیر خدا پر تکیہ کرنا اور مخلوق خدا کو خدا کا درجہ دینا۔

شرک یعنی: کوئی دوسری قدرت کو خدا کی قدرت کے سامنے لاکھڑا کرنا۔

شرک یعنی: غیر خدا کی بلاچون و چرا اطاعت کرنا۔

شرک یعنی: ایسی تنظیم یا جماعت کی طرف مائل ہونا جس کا مقصد غیر خدا ہو۔

شرک یعنی: طاقتوں اور بڑی طاقتوں سے وابستہ ہوجانا۔

قرآنی قصوں کے درمیان دو قصے خاص طور پر چشم نوازی کرتے ہیں:

حضرت نوح نے بیٹے سے کہا: کفار سب غرق ہونگے بیٹے نے کہا: میں پہاڑ کی پناہ لوں گا۔ (6) خدا سے بھاگ کر پہاڑ کی پناہ لینا اور یہ کہنا کہ پہاڑ مجھے ڈوبنے سے بچائے گا یعنی اس کی روح میں شرک رچ بس چکا تھا۔ اگر آج بھی ہم کسی کو خدا کے سامنے لاکھڑا کریں چاہے وہ پہاڑ ہو یا کوئی اور چیز، تو ہم بھی مشرک ہونگے۔

شرک کی تاریخ

انسان مادی موجود ہے اور مادیات کی طرف بہت زیادہ مائل ہے۔ قدیم زمانوں میں جب کوئی بڑا آدمی دنیا سے رخصت ہوجاتا لوگ اس سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لئے اس کا مجسمہ بنایا کرتے تھے اور اس کی تعظیم و تکریم کیا کرتے تھے اور یہی تعظیم پرستش اور پوجا میں تبدیل ہوئی۔ طاغوتوں سے خوف، طمع و لالچ، دوستی اور رفاقت بھی شرک کے اسباب تھے۔

شرک کی گوناگونی اور تنوع (Variety)

شرک ہر زمانے میں چہرہ بدلتا رہا ہے اور اگر کل شرک کی صورت کچھ تھی تو آج کچھ اور ہے۔ کل اگر خورشید پرستی (سورج کی پوجا)، ماہ پرستی (چاند کی پوجا)، بت پرستی وغیرہ تھی تو آج مقام پرستی و منصب پرستی، عنوان پرستی اورعہدہ پرستی، مال پرستی یا سند پرستی (سرٹیفیکیٹ یا ڈگری کی پوجا)؛ کل کا شرک قوم پرستی اور قبیلہ پرستی اور قومی و قبائلی تعصب سے عبارت تھا تو آج کا شرک نشینلزم یا زیادہ وسیع سطح پر وہی قوم پرستی وغیرہ، کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔

شرک کے نمونے

کوئی کہتا ہے کہ اب ہمیں بارش کی ضرورت نہیں ہے ایک کنواں کھود کر اپنی ضرورت پوری کرسکتے ہیں۔

دوسرا کہتا ہے: اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ خدا غضبناک ہوجائے اور لوگوں پر قحط مسلط کرے کیونکہ گندم باہر سے منگوائی جاسکتی ہے!

تیسرا کہتا ہے: یہ درست ہے کہ شرعی قوانین کا اپنا حساب و کتاب ہے لیکن سرکاری اور بین الاقوامی قوانین سے بھی انکار ممکن نہیں ہے؛ یا یہ درست ہے کہ خدا کا حکم یوں ہے لیکن عوام کی خوشنودی یا بیوی یا دوسروں کی رضا و خوشنودی کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ قصاص اور دیت درست ہیں لیکن بڑی طاقتوں یا ان سے وابستہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی خوشنودی کا حصول بھی ضروری ہے چنانچہ اگر دنیاوی مفاد کے لئے اللہ کی حدود کو معطل کیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؛ یہ بھی اپنے مقام پر شرک ہے۔ یا وہ جو شرک کی سطح بڑھا کر انبیاء اور اولیاء سے توسل کو بھی شرک قرار دیتے ہیں اپنی حکومتیں بچانے کے لئے امریکہ اور اسرائیل سے دوستی کرتے ہیں اور ان کی فوجیں مقدس سرزمینوں میں تعینات کرتے ہیں، بلاشبہہ یہ بھی شرک کی ایک اہم قسم ہے۔

یا کہا جاتا ہے: ہم کبھی خدا کے فرامین کی پیروی کرتے ہیں لیکن کبھی فلاں اور فلاں کی بات بھی مانتے ہيں۔

اس طرح کے تصورات سب توحید اور یکتا پرستی کی روح سے متصادم ہیں۔

ایک فقیہ معظم نے کہا: ہم انقلاب سے قبل امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ قم سے تہران جارہے تھے۔ راستے میں، میں نے عرض کیا: بہت اچھی بات ہے کہ عراقی حکومت ہمارے طلبہ کو نجف میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی کیونکہ اگر عراق انہیں اجازت دیتا تو حوزہ علمیہ قم طلبہ سے خالی ہوجاتا۔

بات میرے خیال میں بہت معمولی سی تھی لیکن امام بہت ناراض ہوئے اور قم سے تہران تک گاڑی میں ہمارے لئے ایک درس کا اہتمام کیا کہ کوئی فکر اللہ کے بغیر کسی اور مقصد کے لئے ہو اور چاہے کہ کوئی شخص، کوئی ادارہ یا کوئی حوزہ اوپر رہے اور دوسرا نیچے، حوزہ علمیہ قم میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہو اور حوزہ علمیہ نجف میں تعداد کم ہو یا بالعکس؛ خلاصہ یہ کہ خدا کی راہ اور اس کی رضا کی بجائے کسی مسئلے کے درپے ہو تو وہ توحید کے محور سے دور ہے جبکہ ہمارے تمام افکار و اعمال و افعال کا محور اللہ ہونا چاہئے اور تعلقات، روابط، جغرافیہ، پیشہ و روزگار، مقامی اور قبائلی و قومی تعصبات کو ہمارے افکار و اعمال و افعال کا محور نہيں ہونا چاہئے۔ (دیکھئے باریکیاں شرک کی! جن کا ادراک آسانی سے ممکن نہيں ہے)۔

شرک کی علامتیں

شرک کا مفہوم قرآن میں 51 مرتبہ "دونہ" کے لفظ اور 74 مرتبہ "دون اللہ" کے ضمن میں بیان ہوا اور 166 مرتبہ لفظ شرک کا لفظ آیا ہے۔ شرک کی قرآنی اور صحیح علامتیں تو کئی ہیں لیکن ایک بہت آسان علامت یہ ہے کہ جو انسان غیراللہ کی طرف مائل ہوتا ہے، عزت و عظمت غیر اللہ سے مانگتا ہے، غیراللہ کے قوانین نافذ کرتا ہے، اس کے تمام اعمال کے محرکات غیراللہ ہیں اور وہ غیراللہ ہی سے ڈرتا ہے اور غیراللہ کے لئے کام کرتا ہے وہ مشرک ہے۔

قرآن میں شرک کی متعدد علامتیں بیان ہوئی ہیں جن میں سے ایک علامت یہ ہے کہ مشرک خدا کے قانون کے سامنے بہانوں کا سہارا لیتا ہے۔

خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:

"أَ فَكُلَّما جاءَكُمْ رَسُولٌ بِما لا تَهْوى‏ أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ"۔ (7)

ترجمہ: کیا جب بھی پیغمبر (ص) کوئی قانون لاتے ہیں جو تمہاری خواہشات سے ہماہنگ نہ ہو تو تم تکبر برتتے ہو؟

جب بھی جہاد کا حکم نازل ہوتا "وہ کہتے:

"لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتالَ"۔ (8)

ترجمہ: اے خدا تو نے ہم پر جہاد کیوں واجب کیا ہے۔

جب بھی رسول اللہ (ص) جنگ کا حکم دیتے وہ کہتے "آپ نے ہمیں جنگ و جہاد کا حکم کیوں دیا؟

جب بنی اسرائیل کے لئے آسمانی غذا نازل کی گئي، کہنے لگے:

"لَنْ نَصْبِرَ عَلى‏ طَعامٍ واحِدٍ"۔ (9)

ترجمہ: ہم اس غذا پر ہرگز صبر نہیں کریں گے بالفاظ دیگر "یہ غذا کیوں"۔

جب خدا کا کلام آتا اور اس میں کسی چیز کوئی مثال دی ہوئی ہوتی، وہ کہتے:

"ما ذا أَرادَ اللَّهُ بِهذا مَثَلًا" (10)

ترجمہ: اس مثال سے خدا کی مراد کیا ہے؟ یا یہ مثال کس لئے دی گئی؟۔

شرک کی ایک علامت خاندان، مال و دولت، دنیاوی وسائل، مکان اور سواری وغیرہ کو اللہ کے احکام پر فوقیت دینے سے عبارت ہے:

"قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِيَ اللّهُ بِأَمْرِهِ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ"۔ (11)

ترجمہ: (اے میرے حبیب (ص))! کہہ دیں ان سے کہ اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

شرک کی ایک علامت تفرقہ اور اختلاف ہے کیونکہ معبود ایک سے زیادہ ہونگے تو روشیں متضاد ہونگی اور یہ لمبی جدائیوں اور گہری نفرتوں کا سبب ہے۔ جماعتیں بنانا اور جماعتوں کو اسلام اور مذہب کے مفادات اور مصلحتوں پر مقدم رکھنا اور اپنے آپ اور اپنی جماعتوں کو حق و حقیقت کا معیار قرار دینا، شرک کے زمرے میں آتا ہے جس کی وجہ سے تعصبات جنم لیتے ہیں یہاں تک کہ جماعت کی غلطیاں بھی درست نظر آنے لگتی ہیں یا اس جماعت کے سربراہ کی کام چوریوں اور فاش غلطیوں کو درست ثابت کرنے کے لئے دین و ایمان اور دولت اور وسا‏ئل نیز آبرو اور دین و دیانت کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور یہ شرک کی نشانیاں ہیں؛ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَ كانُوا شِيَعا كُلُّ حِزْبٍ بِما لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ"۔ (12)

ترجمہ: ان (لوگوں) میں سے (بھی نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہ در گروہ ہو گئے، ہر گروہ اسی (ٹکڑے) پر خوش ہے جس کو اس نے اپنے لئے منتخب کیا ہے۔

یہ خود شرک کی علامت ہوئی اور پھر دین کے ایک ٹکڑے کو پورا دین سمجھنے کی بنا پر باقی دین ترک ہوجاتا ہے۔

نفسیات کی دنیا کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص توحید کے مدار میں جگہ پاتا ہے اور اس کی فکر و حرکت خدائی ہوجاتی ہے اس کے نزدیک شکست بے معنی ہے چنانچہ وہ حادثات اور واقعات کے سامنے کبھی بھی دھماکہ خیز رد عمل ظاہر نہيں کرتا اور اس کے لئے نفسیاتی دھماکہ خیزی پیش ہی نہیں آتی۔ ارشاد خداوندی ہے:

"إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم"۔ (13)

ترجمہ: بلاشبہ اللہ نے ایمان لانے والوں سے ان کے جان اور مال خرید لیے ہیں۔

یعنی توحید کے مدار میں داخل ہونے والے مؤمنین کے اعمال کا خریدار خدا ہے اور یہ بات اس مدار میں قرار پانے والوں کو معلوم ہے اسی لئے ان کے نزدیک دنیا میں کسی خریدار کی تلاش بے معنی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بات سننے والا اور اس کے اعمال کو امتیاز اور نمبر و رتبہ دینے والا خدا ہے کیونکہ وہ سمیع و بصیر اور سمیع و علیم ہے۔ چنانچہ وہ خدا کے سوا کسی سے کچھ نہيں مانگتا اور کسی اور کو خدا کے سامنے اپنا معبود قرار نہيں دیتا۔

اللہ تعالی علی علیہ السلام اور سیدہ فاطمہ اور حسنین علیہم السلام کے انفاق و خیرات کا قصہ سناتا ہے جنھوں نے تین دن تک اپنی افطاری یتیم، مسکین اور اسیر کو پیش کی اور فرمایا کہ ہمیں تو بس اللہ کی رضا چاہئے۔ ارشاد ربانی ہے:

"وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ٭ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاء وَلَا شُكُورًا ٭ إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا". (14)

ترجمہ اور وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت کے ساتھ ساتھ غریب محتاج اور یتیم اور جنگ کے قیدی کو * ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے جزاء چاہتے ہیں اور نہ شکریہ * ہم ڈرتے ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے اس دن کے عذاب کے ڈر سے جو بہت ترش روا اور سخت ہو گا.

امیرالمؤمنین اور خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ عمل توحید اور یکتا پرستی کی عظیم مثال ہے یعنی یہ کہ علی اور خاندان علی (ع) نے اللہ کے لئے تین روز مسلسل روزہ رکھا اور اللہ کی راہ میں اپنی افطاری مسکین، یتیم اور اسیر کو عطا فرمائی چنانچہ یہ ان لوگوں کے لئے بھی بہت سبق آموز ہے جو اللہ کے احکام سے بچنے کے لئے علی علیہ السلام کو معاذاللہ الوہیت کا درجہ دیتے جس کے بعد وہ قرآن اور رسالت اور اسلام کو جھٹلاتے ہوئے، تمام احکام الہیہ سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں اور پھر ہم نے ائمہ علیہم السلام کے زبانی مندرجہ بالا [[[سطور]]] میں ثابت کیا کہ محبت اہل بیت (ع) کے لئے اللہ کی اطاعت ضروری ہے ورنہ تو انسان اہل بیت علیہم السلام کا دشمن ہی سمجھا جاسکتا ہے اور مشرک بھی، کیونکہ اہل بیت (ع) کی اطاعت کا حکم رسول اللہ (ص) نے اللہ کے فرمان پر، دیا ہے اور ہم نے دیکھا کہ شرک کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان اللہ کے احکامات کے سامنے حیلے بہانے لے کر آئے۔۔۔

نفسیات کے ماہریں دل اور وسوسوں، روحانی اور قلبی پریشانیوں، احساس کمتری، احساس حقارت اور فکری بیماریوں کی بات کرتے ہيں جو ناکامیوں کے نتیجے میں لاحق ہوا کرتی ہیں لیکن اس بات کی تصدیق بھی کرتے ہیں کہ "توحید اور یکتا پرستی کے دائرے میں ان بیماریوں کا تصور تک نہیں کیا جاتا"۔ کیونکہ دائرہ توحید میں بے سکونی نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ سلام اللہ علیہا کے ہاں تھے تو ان کی بھیڑیں اور بکریاں چراتے تھے، بعثت کے بعد ہزاروں صعوبتیں جھیل لیں، مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے، پہاڑوں میں پناہ لی، مدینہ میں حکومت تشکیل دی، تنہائیاں دیکھیں، مسجد و منبر کی تعمیر فرمائی، ہزاروں لوگ آپ (ص) کے گرد اکٹھے ہوئے لیکن آپ (ص) کے رویے میں کبھی کوئی فرق نہيں آیا، کبھی نا مطمئن نہيں ہوئے۔

علی علیہ السلام آپ (ص) کے بستر پر صبح تک موت کے گھیرے میں لیٹے رہے، جنگیں لڑیں، حکومت تشکیل دی لیکن گوشہ نشینی کے دور اور حکومت کے دور میں آپ (ع) کے لئے کوئی فرق محسوس نہيں ہوا اور جب محراب مسجد میں ماتھا زخمی ہوا تو فرمایا:

"فزت برب الکعبہ"

ترجمہ: میں کامیاب ہوگیا رب کعبہ کی قسم۔

اور فرمایا: "بسم الله و بالله و علي ملّه رسول الله"

امام حسن علیہ السلام کا یہی حال رہا اورامام حسین علیہ السلام نے شہادت سے چند ہی لمحے قبل فرمایا:

"بسم اللہ و باللہ و علی ملۃ رسول اللہ ... الهي رضي برضاك و تسليما لامرك ، صبراً على قضائك، یا ربّ، لا معبود سواك یا غیاث المستغیثین". (15)

ترجمہ: اللہ کے نام سے، اللہ کی رضا سے، اور ملت رسول اللہ (اللہ کی راہ میں قربانی دی میں نے) راضی ہوں تیری رضا پر، سراپا تسلیم ہوں تیرے امر کے سامنے، تیرے فیصلے پر صابر ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں اے مدد مانگنے والی کی مدد کو پہنچنے والے۔ یا سیدہ ثانی زہراء بھائی کے جسم بے سر پر آتی ہیں تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کرتی ہیں کہ:

"اللّهم تقبل منّا هذا لقربان"۔ (16)

ترجمہ: خداوندا! ہم سے یہ قربانی قبول فرما۔

یا جب یزیدی گورنر عبیداللہ بن مرجانہ کہتا ہے کہ : "کیا دیکھا آپ نے کربلا میں؟" تو فرماتی ہیں:

"ما رأيت الا جمیلاً". (17)

ترجمہ: میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ بھی نہ دیکھا۔ یہ ہے قلب مطمئن جس کی بنیاد توحید ہے اور یکتا پرستی۔

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "الهي رضي برضاك و تسليما لامرك" شہید عاشورا کے شہادت طلبانہ جذبے کی تفسیر ہے جو بانوئے کربلا کی زبان پر "ما رأيت الا جميلاً" بن کر جلوہ گر ہوئی۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اپنا ذائقہ کچھ ایسا ذائقہ بنائیں کہ ہمارے لئے تمام دشواریوں میں حلاوت اور مٹھاس محسوس ہو۔ اللہ کی قضا پر راضی ہونے کا مطلب یہی ہے۔ کوئی فرق نہيں پڑتا کہ خدا سے ہمیں بلا اور آزمائش ملے یا پھر نعمت کے طور پر ایک عظیم ملت ملے جس کے تمام مرد اور عورتیں شہادت کے شیدائی ہیں۔ انسان پھر اس بات سے شکوہ شکایت نہیں کرتا کہ فلاں چیز کم ہے اور فلاں چیز زیادہ ہے۔ (18)

مشرکین کے اعداد و شمار

شرک کے معنی بہت وسیع ہیں اور ان لوگوں کا تو کسی کو علم ہی نہيں ہے جو شرک خفی میں مبتلا ہیں اور بہت سوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ خود شرک میں مبتلا ہیں چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت شرک میں مبتلا ہے اور مخلص یکتا پرستوں کی تعداد بہت کم ہے۔

مخلصین وہ ہیں جن کے تمام افکار، افعال اور اعمال کا دارومدار رضائے الہی پر ہو اور کسی عمل کے عوض جزا اور انعام کی توقع لگا کر نہیں بیٹھتے، ریا کار اور دکھاوے والے نہیں ہوتے۔ کیونکہ دکھاوا شرک ہے۔ خدا کے قوانین کے سامنے سراپا تسلیم ہوتے ہیں اور غیر الہی قوانین بنانے اور نافذ کرنے کی طرف مائل نہ ہوں۔

اس ارشاد ربانی میں غور کیجئے گا:

"وَكَأَيِّن مِّن آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ ٭ وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُونَ"۔ (19)

ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان سے صرفِ نظر کئے ہوئے ہیں ٭ اور ان میں سے اکثر لوگ اﷲ پر ایمان نہیں رکھتے مگر یہ کہ وہ مشرک ہیں۔

ان مؤخر الذکر آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ جو بظاہر اہل ایمان بھی ہیں صاحب ایمان نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ان کے ایمان کے ساتھ شرک بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ مشرکین کی آبادی دنیا کی اکثریتی آبادی ہے جن کے سہارے غیرالہی ہیں۔

شرک کے آثار

خدا کے ساتھ ہر قسم کا شرک برتنے کے آثار بہت خطرناک اور برے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

شرک اعمال کی تباہی اور محو ہونے کا سبب بنتا ہے اور قرآن کے مطابق انسان کے تمام اچھے اعمال شرک کی وجہ سے "حبط" ہوجاتے ہیں؛ کبھی انسان کا ایک چھوٹا سا شرک آمیز عمل اس کی پوری عمر کی عبادات و اعمال کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ جس کی مثال یہ ہے: مثلاً ایک شخص حفظان صحت کے تمام اصولوں کا لحاظ رکھتا ہے اور بالکل تندرست ہے لیکن ایک لمحہ بھر غفلت کرکے تھوڑا سا زہر کھا لیتا ہے؛ اور یہی لمحہ بھر کا چھوٹا سا عمل صحت و سلامتی کے لئے ہونے والی عمر بھر کی کوششوں پر پانی پھیر لیتا ہے۔

بے شک خدا کے ساتھ شرک زہر کھانے یا پھاڑ سے کھودنے یا پھر تیراکی جانے بغیر سمندر میں غوطہ زن ہونے کی مانند ہے جو انسان کی پوری زندگی کی زحمتوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔

خداوند متعال کا ارشاد ہے:

"وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ" (20)

ترجمہ: اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضبط (یعنی نیست و نابود) ہو جاتے جو وہ انجام دیتے تھے۔

ارشاد ہوتا ہے:

لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ"۔ (21)

ترجمہ: (اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

اب دیکھتے ہیں امام حسن عسکری علیہ السلام شرک کو کس انداز سے متعارف کراتے ہیں:

اللہ تعالی ایک طرف سے ایمان والوں کو تمام گناہوں کی مغفرت کی بشارت دیتا ہے لیکن شرک سے خبردار کرتا ہے اور فرماتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا"۔ (22)

ترجمہ: بے شک اللہ اس (بات) کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرایا جائے اور جو (گناہ) اس سے نیچے ہے جس کے لئے چاہے معاف فرما دیتا ہے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ واقعی دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔

امام حسن عسکری شرک کا تعارف کراتے ہیں اور فرماتے ہیں:

"الاشراك في الناس أخفى من دبيب النمل على المِسح الاسود في الليلة المظلمة"۔ (23)

ترجمہ: لوگوں میں شرک کی رفتار اور طرز عمل اس چھوٹی سی چیونٹی سے بھی زيادہ مخفی اور اوجھل و نامحسوس ہے جو شب دیجور میں کالی چادر پر رینگ رہی ہو۔

مسح سے مراد چادر یا کمبل ہے اور اس کو اسود سے مقید کیا گیا تا کہ اس کے خفیہ پن پر زور دیا جائے جس کو دیکھا نہیں جاسکتا کیونکہ اگر چادر یا کمبل سفید ہو تو شاید اس پر رینگنے والی چیونٹی دیکھی جاسکے۔

بحث بہت طویل ہوگئی ہے چنانچہ اپنے قارئین و صارفین سے معذرت طلب کرتے ہوئے اس بحث کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ایک حدیث پر روک لیتے ہیں اگر زندگی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لے کر امام عصر علیہ السلام تک کی حدیثوں سے رجوع کرکے ان کی نظر میں شیعیان علی علیہ السلام کی خصوصیات اکٹھی کرنے کی کوشش کی جائے گے اور اللہ تعالی سے بحق محمد و آل محمد (ص)، توفیق طلب کرتے ہیں کہ دنیا کے مشاغل سے فرصت ملے اور ہم سب اپنے اعمال اور عقائد کو معصومین علیہم السلام کی زبان سے جاری ہونے والے قواعد الہی کی کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ ہم تشیع کے کس درجے پر ہیں؟ کیا ہم شیعیان علی (ع) ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہم محب اہل بیت (ع) ہیں، اگر محب بھی نہیں ہیں تو پھر کیا ہیں!؟

۔۔۔۔۔

موضوع شرک کے مآخذ

1۔ متقی الہندی کنزالعمال کی ج11 ص326۔ مسند أحمد : ج 1 ص 160، المستدرك للحاكم: ج3 ص123، ذخائر العقبى: ص92، نظم درر السمطين: ص104، مجمع الزوائد: ج9ص133.

2.نہج البلاغہ کلمات قصار حکمت نمبر 117

3. (الامالي الشيخ الصدوق ص 709 بحار الانوار جلد: 25 من صفحه 272۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: للائمة ربوبية أو نبوة أو لغير الائمة إمامة فنحن براء منه في الدنيا والاخرة ۔۔ ائمہ کے لئے ربوبیت اور نبوت ہو اور غیر ائمہ کے لئے امامت، تو ہم اس خیال اور اس عقیدے سے بیزار ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

4۔ ابن ابي جمهور الأحسائي عوالي اللئالي" ج 4 ص87۔ بحوالۂ المستدرك للحاكم، ج 3 / 123، كتاب معرفة الصحابة۔

5۔ فرائد السمطين، ج 1، باب 35 جدیث نمبر 133۔

6۔ سورہ ہود آیت 43۔

7۔ سورہ بقرہ آیت 87۔

8۔ سورہ نساء آیت 77

9۔ سورہ بقرہ آیت61۔

10۔ سورہ بقرہ آیت 26۔

11۔ سورہ توبہ آيت 24۔

12۔ سورہ روم آیت 32۔

13۔ سورہ توبہ کی آیت 111۔

14۔ سورہ انسان آیات 8، 9 اور 10۔

15۔ منتهی الامال، (مطبوعہ علمیه اسلامیه)، ج 1، ص 286۔

16۔ مقرم مقتل الحسين، ص 307۔

17۔ مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، ج ۴۵، باب ۳۹، ص ۱۱۶، مؤسسة الوفاء، بیروت، لبنان، ۱۴۰۴ق.

18۔ خطاب امام خميني رحمۃ اللہ علیہ۔ خطاب مورخہ 21 مارچ 1985۔

19۔ سورہ یوسف کی آیات 105 و 106۔

20۔ سورہ انعام آیت 88۔

21۔ سورہ زمر آیت 65۔

22۔ سورہ نساء آیت 48۔

23۔ بحار الانوار ج75 (باب) * * " (مواعظ أبى محمد العسكري عليهما السلام وكتبه إلى اصحابه) ص370 الی 380۔ تحف العقول، ص 361؛ کشف الغمّه، ص 420

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه