دینی رہبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظھور کا انتظار کرنے والوں کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ھیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند اہم فرائض کو بیان کرتے ھیں۔
راہ انتظار کو طے کرنا امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر ممکن نھیں ھے،



امام کی پہچان
راہ انتظار کو طے کرنا امام علیہ السلام کی شناخت اور پہچان کے بغیر ممکن نھیں ھے، انتظار کی وادی میں صبر و استقامت کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ھے، لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ھے۔
”ابو نصر“ جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم تھے، امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے، امام مہدی علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ھو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ھیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نھیں ھے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا آخری جانشین ھوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ھے“۔([1])
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ھوجائے تو پھر وہ اسی وقت سے اپنے کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ امام علیہ السلام اور ان کے خیمہ کے نزدیک ھے، لہٰذا اپنے امام کے مورچہ کو مضبوط بنانے میں پَل بھر کے لئے کوتاھی نھیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مَنْ مَاتَ وَ ھو عَارِفٌ لِاِمَامِہِ لَمْ َیضُرُّہُ، تَقَدَّمَ ہَذَا الاٴمْرِ اٴوْ تَاٴخَّرَ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ھو عَارِفٌ لِاِمَامِہِ کَانَ کَمَنْ ھو مَعَ القَائِمِ فِی فُسْطَاطِہِ“([2])
”جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو ظھور کا جلد یا تاخیر سے ھونا کوئی نقصان نھیں پھونچاتا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ اپنے امام زمانہ کو پہچانتا ھو تو وہ اس شخص کی طرح ھے جو امام کے خیمہ اور اور امام کے ساتھ ھو“۔
قابل ذکر ھے کہ یہ معرفت اور شناخت اتنی اہم ھے کہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے اور جس کو حاصل کرنے کے لئے خداوندعالم کی نصرت و مدد طلب کرنا چاہئے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طولانی غیبت کے زمانہ میں باطل خیال کے لوگ (اپنے دین اور عقائد میں) شک و تردید میں مبتلا ھوجائیں گے، امام علیہ السلام کے خاص شاگرد جناب زرارہ نے عرض کی: آقا اگر میں اس زمانہ میں ھوا تو کونسا عمل انجام دوں؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس دعا کو پڑھیں:
”اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی نَفْسَکَ لَمْ اٴعْرِفْ نَبِیَّکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی رَسُولَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اٴعْرِفْ حُجَّتَکَ، اَللّٰہُمَّ عَرِّفْنِی حُجَّتَکَ فَإنَّکَ إنْ لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِی“([3])
”پرودگارا! مجھے تو اپنی ذات کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی ذات کی معرفت نہ کرائی تو میں تیرے نبی کو نھیں پہچان سکتا، پرودگارا! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت کرادے اور اگر تو نے اپنے رسول کی پہچان نہ کرائی تو میں تیری حجت کو نھیں پہچان سکوں گا، پروردگارا! تو مجھے اپنی حجت کی معرفت کرادے اور اگر تو نے مجھے اپنی حجت کی پہچان نہ کرائی تو میں اپنے دین سے گمراہ ھوجاؤں گا“۔
قارئین کرام! مذکورہ دعا میں نظام کائنات کے مجموعہ میں امام علیہ السلام کی عظمت کی معرفت ھے([4]) اور وہ خداوندعالم کی طرف سے حجت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حقیقی جانشین اور تمام لوگوں کا ہادی و رہبر ھے جس کی اطاعت سب پر واجب ھے، کیونکہ اس کی اطاعت خداوندعالم کی اطاعت ھے۔
معرفت امام کا دوسرا پہلو امام علیہ السلام کے صفات اور ان کی سیرت کی پہچان ھے([5]) معرفت کا یہ پہلو انتظار کرنے والے کی رفتار و گفتار پر بہت زیادہ موثر ھوتا ھے، اور ظاہر سی بات ھے کہ انسان کو امام علیہ السلام کی جتنی معرفت ھوگی اس کی زندگی میں اتنے ھی آثار پیدا ھوں گے۔
نمونہ عمل
جس وقت امام علیہ السلام کی معرفت اور ان بزرگوار کے خوبصورت جلوے ہماری نظروں کے سامنے ھوں گے تو اس مظہر کمالات کو نمونہ قرار دینے کی بات آئے گی۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ھیں:
”خوش نصیب ھے وہ شخص جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھے کہ اس کے قیام سے پہلے خود اس کی اور اس سے پہلے ائمہ کی اقتداء کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرے، تو ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([6])
واقعاً جو شخص تقویٰ، عبادت، سادگی، سخاوت، صبر اور تمام اخلاقی فضائل میں اپنے امام کی اتباع کرے تو اس الٰھی رہبر کے نزدیک ایسے شخص کا رتبہ کس قدر زیادہ ھوگا اور ان کے حضور میں شرفیابی سے کس قدر سرفراز اور سربلند ھوگا؟!
کیا اس کے علاوہ ھے کہ جو شخص دنیا کے سب سے خوبصورت منظر کا منتظر ھے وہ اپنے کو خوبیوں سے آراستہ کرے اور خود کو برائیوں اور اخلاقی پستیوں سے دور رکھے نیز انتظار کے لمحات میں اپنے افکار و اعمال کی حفاظت کرتا رھے؟! ورنہ آہستہ آہستہ برائیوں کے جال میں پھنس جائے گا اور اس کے اور امام کے درمیان فاصلہ زیادہ ھوتا جائے گا، یہ ایک ایسی حقیقت ھے جو خود خطرات سے آگاہ کرنے والے امام علیہ السلام کے کلام میں بیان ھوئی ھے:
”فَمَا یَحْبِسُنَا عَنْہُمْ إلاَّ مَا یَتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نُکْرِہُہُ وَ لاٰ نُوٴثِرُہُ مِنْہُم“([7])
”کوئی بھی چیز ہمیں شیعوں سے جدا نھیں کرتی، مگر خود ان کے وہ (برے) اعمال جو ہمارے پاس پہنچتے ھیں جن اعمال کو ہم پسند نھیں کرتے اور شیعوں سے ان کی امید بھی نھیں ھے!“۔
منتظرین کی آخری آرزو یہ ھے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اور عالمی عدل کی حکومت میں کچھ حصہ ان کا بھی ھو، اور اس آخری حجت خدا کی نصرت و مدد کا افتخار ان کو بھی حاصل ھو، لیکن اس عظیم سعادت کو حاصل کرنا خود سازی اور اخلاقی صفات سے آراستہ ھوئے بغیر ممکن نھیں ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
”مَنْ سَرَّہُ اٴنْ یَکُوْنَ مِنْ اٴصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْیَنْتَظِرْ وَ لِیَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الاٴخْلاَقِ وَ ھو مُنْتَظِر“()۔
”جو شخص یہ چاہتا ھو کہ حضرت قائم علیہ السلام کے ناصروں میں شامل ھو تو اسے اس حال میں منتظر رہنا چاہئے کہ تقویٰ اور پرھیزگاری اور اخلاق حسنہ سے آراستہ رھے“۔
اور یہ بات روشن ھے کہ ایسی آرزو تک پہنچنے کے لئے خود امام مہدی علیہ السلام سے بہتر کوئی نمونہ نھیں مل سکتا جو تمام ھی نیکیوں اور خوبصورتی کا آئینہ ھے۔
امام علیہ السلام کی یاد
جو چیز امام مہدی علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنے اور آپ کی پیروی کرنے میں مدد گار ثابت ھوتی ھے اور انتظار کی راہ میں صبر و استقامت عطا کرتی ھے؛ وہ ھے روح کے طبیب (امام مہدی علیہ السلام) سے ہمیشہ رابطہ رکھنا ۔
واقعاً جب وہ مہربان امام ہر وقت اور ہر جگہ شیعوں کے حالات پر نظر رکھتا اور کسی بھی وقت ان کو نھیں بھلاتا ، تو کیا یہ مناسب ھے کہ اس کے چاہنے والے دنیا میں مشغول ھوجائیں اور اس محبوب امام سے غافل اور بے خبر ھوجائیں؟ یا دوستی اور محبت کی راہ و رسم یہ ھے کہ ہر حال میں ان کو اپنے اور دوسروں پر مقدم رکھا جائے، جس وقت مصلے دعا پر بیٹھیں اس کے لئے دعا کریں اور اس کی سلامتی اور ظھور کے لئے دست دعا بلند کریں جس کے لئے خود انھیں بزرگوار نے فرمایا ھے:
میرے ظھور کے لئے بہت دعا کیا کرو کہ اس میں خود تمہاری بھلائی ھے۔()۔ لہٰذا ہمیشہ یہ دعا ہماری ورد زبان رھے:
”اَللَّہُمَّ کُنْ لِوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الحَسَنِ صَلَوٰاتُکَ عَلَیْہِ وَ عَلٰی آبَائِہِ فِی ہَذِہِ السَّاعَةِ وَ فِی کُلِّ سَاعَةٍ وَلِیاً وَ حَافِظاً وَ قَائِداً وَ نَاصِراً وَ دَلِیلاً وَ عَیْناً حَتّٰی تُسْکِنَہُ اٴرْضَکَ طَوْعاً وَ تُمَتِّعَہُ فِیْہَا طَوِیلاً“۔([8])
”پروردگارا! اپنے ولی حجت بن الحسن کے لئے کہ تیرا درود و سلام ھو ان پر اور ان کے آباء و اجداد پر ، اس وقت اور ہر وقت سرپرست اور محافظ، رہبر، ناصر و مددگار، رہنما اور نگہبان بن جا، تاکہ ان کو اپنی زمین میں اپنی رغبت اور مرضی سے سکونت دے اور ان کو طولانی زمانہ تک زمین پر بہرہ مند فرما“۔
حقیقی منتظر صدقہ دیتے وقت پہلے اپنے امام علیہ السلام کے وجود شریف کو مدّ نظر رکھتا اور ہر طریقہ سے اس محبوب کے دامن سے متوسل ھوتا ھے اور اس کے مبارک ظھور کا مشتاق رہتا ھے اور اس کے بے مثال جمال پُر نور کے دیدار کے لئے آہ و نالہ کرتا ھے۔
”عَزِیزٌ عَلَیَّ اٴنْ اٴرَی الخَلْقَ وَ لٰا تُریٰ“([9])
”(واقعاً) میرے لئے سخت ھے کہ میں سب کو دیکھوں لیکن آپ کا دیدار نہ ھوسکے!!“۔
راہ انتظار پر چلنے والا (عاشق) امام مہدی علیہ السلام کے نام سے منسوب محافل اور مجالس میں شریک ھوتا ھے تاکہ اپنے دل میں اس کی محبت کی جڑوں کو مستحکم کرے، اور امام عصر علیہ السلام کے نام سے منسوب مقدس مقامات جیسے مسجد سہلہ، مسجد جمکران اور سرداب مقدس میں رفت و آمد کرتا ھے۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظھور کا انتظار کرنے والوں کی زندگی میں آپ کی یاد کا بہترین جلوہ یہ ھے کہ ہر روز اپنے امام علیہ السلام سے تجدید عہد کرے اور وفاداری کا پیمان باندھے اور اس عہد نامے پر برقرار رہنے کا اعلان کرے۔
جیسا کہ دعائے عہد کے فقرات میں ہم پڑھتے ھیں:
اللّٰہُمَّ إِنِّي اٴُجَدِّدُ لَہُ فِي صَبِیحَةِ یَوْمِي ہَذَا وَ مَا عِشْتُ مِنْ اٴَیَّامِي عَہْداً وَ عَقْدًا وَ بَیْعَةً لَہُ فِي عُنُقِي لاَ اٴَحُولُ عَنْہ وَ لاَ اٴَزُولُ اٴَبَداً، اللّٰہُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ اٴَنْصَارِہِ وَ اٴَعْوَانِہِ ، وَالذَّابِّینَ عَنْہُ وَ الْمُسَارِعِینَ إِلَیْہِ فِي قَضَاءِ حَوَائِجِہِ ، وَ الْمُمْتَثِلِینَ لاٴَوَامِرِہِ ، وَ الْمُحَامِینَ عَنْہُ ، وَ السَّابِقِینَ إِلیٰ إِرَادَتِہِ ، وَ الْمُسْتَشْہَدِینَ بَیْنَ یَدَیْہِ ،([10])
”خدا یا میں آج کی صبح اور جب تک زندہ رھوں ہر صبح ان کی بیعت کا عہد کرتاھوں اور ان کی یہ بیعت میری گردن پر رھے گی جس سے نہ ہٹ سکتا ھوں اور نہ الگ ھو سکتا ھوں ۔خدایا مجھے ان کے انصار واعوان ،اس سے دفاع کرنے والوں ،ان کی حاجتوں کو پورا کرنے میں تیزی سے کام کرنے والوں ،ان کے امر کی اطاعت کرنے والوں ،ان کی طرف سے دفاع کرنے والوں ،ان کی مقاصد کی طرف سبقت کرنے والوں اوران کے سامنے شھید ھونے والوں میں قراردیدے “۔
اگر کوئی شخص ہمیشہ اس عہد کو پڑھتا رھے، اور دل کی گہرائی سے اس کے مضمون پر پابند رھے تو ہرگز سستی میں مبتلا نہ ھوگا، اور اپنے امام کی آرزوؤں کو عملی بنانے اور ان بزرگوار کے ظھور کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے ہمیشہ کوشش کرے گا، انصافاً ایسا ھی شخص اس امام برحق کے ظھور کے وقت ان کے مورچہ پر حاضر ھونے کی صلاحیت رکھتا ھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”جو شخص چالیس دن تک ہر صبح کو اپنے خدا سے یہ عہد کرے تو خدا اس کو ہمارے قائم (علیہ السلام) کا ناصر و مددگار قرار دے گا، اور اگر امام مہدی علیہ السلام کے ظھور سے پہلے اس کی موت بھی آجائے تو خداوندعالم اس کو قبر سے اٹھائے گا (تاکہ حضرت قائم علیہ السلام کی نصرت و مدد کرے)۔۔۔۔
وحدت اور ہم دلی
قبیلہ انتظار کے ہر فرد کے فرائض اور ذمہ داری کے علاوہ انتظار کرنے والے اپنے امام (علیہ السلام) کے اہداف و مقاصد کے سلسلہ میں خاص منصوبہ بندی کریں، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انتظار کرنے والوں کے لئے ضر وری ھے کہ اس راہ میں سعی و کوشش کریں جس سے ان کا امام راضی اور خوشنود ھو۔
لہٰذا انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ھے کہ اپنے امام سے کئے ھوئے عہد و پیمان پر باقی رھیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظھور راستہ ہموار ھوجائے۔
امام عصر علیہ السلام اپنے بیان میں اس طرح کے افراد کے لئے یہ بشارت دیتے ھیں:
”اگر ہمارے شیعہ (کہ خداوندعالم ان کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے) اپنے کئے ھوئے عہدو پیمان پر ایک دل اور مصمم ھوں تو ہرگز (ہمارے)دیدار کی نعمت میں دیر نھیں ھوگی، اور مکمل اور حقیقی معرفت کے ساتھ ہماری ملاقات جلد ھی ھوجائے گی“۔([11])
وہ عہد و پیمان وھی ھے جو کتاب خدا اور الٰھی نمائندوں کے کلام میں بیان ھوا ھے، جن میں سے چند اہم چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ھے:
۱۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی پیروی کرنے کی ہر ممکن کوشش ، اور ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں سے دوستی، اور ان کے دشمنوں سے بیزاری۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ھیں کہ آپ نے فرمایا:
”خوش نصیب ھے وہ شخص جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے ائمہ کی پیروی کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرے، تو ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ھیں، اور روز قیامت میرے نزدیک میری امت کے سب سے عظیم افراد ھیں“۔([12])
۲۔ دین میں تحریفات ،بدعتوں اور معاشرہ میں پھیلتی ھوئی برائیوں اور فحشاء کے مقابلہ میں انتظار کرنے والے بے توجہ نھیں رہنا چاہئے، بلکہ نیک سنتوں اور اخلاقی اقدار کو بھلائے جانے پر ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ھے کہ آپ نے فرمایا:
”البتہ اس امت کے آخری زمانہ (آخر الزمان) میں ایک گروہ ایسا آئے گا جس کا ثواب اسلام میں سبقت کرنے والوں کی طرح ھوگا، وہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرتے ھوں گے، اور اہل فتنہ (و فساد) سے جنگ (مقابلہ) کرتے ھوں گے“۔([13])
۳۔ ظھور کا انتظار کرنے والوں کا یہ فریضہ ھے کہ دوسروں کے ساتھ تعاون اور نصرت و مدد کو اپنے منصوبوں کی سرخی قرار دیںاور اس معاشرہ کے افراد تنگ نظری اور خود پرستی سے پرھیز کرتے ھوئے معاشرہ میں غریب اور نیازمند لوگوں دھیان دیں، اور ان کے سلسلہ میں لاپرواھی نہ کریں۔
شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت محمد باقر علیہ السلام سے نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”تم میں سے صاحب حیثیت لوگ غریبوں کی مدد کریں، اور مالدار افراد نیاز مندوں کے ساتھ محبت و مہربانی سے پیش آئے، اور تم میں سے ہر شخص دوسرے کی نسبت نیک نیتی سے کام لے“۔([14])
 قابل ذکر ھے کہ اس تعاون اور مدد کا دائرہ اپنے علاقہ سے مخصوص نھیں ھے بلکہ انتظار کرنے والوں کا خیر اور احسان دور دراز کے علاقوں میں بھی پہنچتا ھے کیونکہ انتظار کے پرچم تلے کسی طرح کی جدائی اور غیریت کا احساس نھیں ھوتا۔
۴۔ انتظار کرنے والے معاشرہ کے لئے ضروری ھے کہ معاشرہ میں مہدوی رنگ و بو پیدا کریں، ان کے نام اور ان کی یاد کا پرچم ہر جگہ لہرائیں، اور امام علیہ السلام کے کلام اور کردار کو اپنی گفتگو اور عمل کے ذریعہ عام کریں، اور اس راہ میں اپنے پورے وجود کے ذریعہ کوشش کریں کہ بے شک ائمہ معصومین علیہم السلام کا لطف خاص ان کے شامل حال ھوگا۔
عبد الحمید واسطی، امام محمد باقر علیہ السلام کے صحابی آپ کی خدمت میں عرض کرتے ھیں:
”ہم نے امر فرج (ظھور) کے انتظار میں اپنی پوری زندگی وقف کردی، جو بعض لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث ھوگیا ھے!
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
اے عبد الحمید! کیا تم یہ گمان کرتے ھو کہ خداوندعالم نے اس بندہ کے لئے جس نے اپنے کو خداوندعالم کے لئے وقف کردیا ھے اس کے لئے مشکلات سے نجات کے لئے کوئی راستہ نھیں قرار دیا ھے؟! خدا کی قسم، اس نے ایسے لوگوں کے لئے راہِ حل قرار دی ھے، خداوندعالم رحمت کرے اس شخص پر جو ہمارے امرِ (ولایت) کو زندہ رکھے“۔([15])
آخری نکتہ یہ ھے انتظار کرنے والے معاشرہ کو کوشش کرنا چاہئے کہ تمام اجتماعی پہلوؤں میں دوسرے معاشروں کے لئے نمونہ قرار پائے اور منجی عالم بشریت کے ظھور کے لئے تمام لازمی راستوں کو ہموار کرے۔
 

 

 
[1] کمال الدین، ج۲، باب ۴۳، ح۱۲، ص ۱۷۱۔
 
[2] اصول کافی، ج۱، باب ۸۴، ح ۵، ص ۴۳۳۔
[3] غیبت نعمانی، باب ۱۰، فصل ۳، ح۶، ص ۱۷۰؟
 
[4] اس سلسلہ میں کتاب کی پہلی فصل میں بعض مطالب بیان ہوئے ہیں، دوبارہ مطالعہ فرمائیں۔
 
[5] ہم امام مہدی علیہ السلام کی سیرت اور صفات کے بارے میں آنے والی فصل میں گفتگو کریں۔
 
[6] کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ح۳، ص ۵۳۵۔
 
[7] بحار الانور، جلد ۵۳، ص ۱۷۷۔
 
[8] مفاتیح الجنان، ماہ رمضان میں تیئسویں شب کے اعمال۔
 
[9] مفاتیح الجنان، دعائے ندبہ۔
 
[10] مفاتیح الجنان، دعائے عہد۔
 
[11] احتجاج، ج۲، ش۳۶، ص ۶۰۰۔
 
[12] کمال الدین، ج۱، باب ۲۵، ح۲، ص ۵۳۵۔
 
[13] دلائل النبوة، ج۶، ص ۵۱۳۔
[14] بحار الانوار، ج۵۲، باب ۲۲، ح۵، ص ۱۲۳۔
 
[15] بحار الانوار، ج۵۲، باب ۲۲، ح۱۶، ص ۱۲۶۔
 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه