آپ کا  اجمالی تعارف: صاحب آستانہ عالیہ تھورگو سکردو حجت الاسلام سید حسن الحسینی نے 1870ء کو  ایک  پاکیزہ گھرانے میں سید علی شاہ الحسینی کے ہاں  حسین آباد سکردو میں آنکھیں کھولیں۔

آپ موصوف کےچھوٹے صاحبزادے، صاحب کرامت شخصیت حجت الاسلام سید حسین الحسینی مرحوم کے چھوٹے بھائی اور  حجت الاسلام سید حسن الموسوی حسین آبادی مرحوم(مسجد کشمیریاں لاہور) کے بہنوی تھے۔ ابتدائی تعلیم آپ نے مقامی علماء سے ہی حاصل کی۔ مختصر وقت میں آپ نے درسی میدان میں کافی پیشرفت کی۔ ساتھ ہی تزکیہ نفس انجام دینے کو آپ نے اپنا  اولین فریضہ گردانا۔ یوں علم  نے نور بن کر آپ کے دل کو منور کیا۔ آپ اور آپ کے بھائی  کا زہد وتقوی اور بہترین تبلیغی کارکردگی دیکھ کر تھورگو پائین والوں نے اپنے لیے میر واعظ  اور ہادی بناکر خصوصی دعوت دے کریہاں لے آئے۔آپ خود ایک بہترین عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ "ابوالعلماء" بھی تھے کیونکہ آپ کے تینوں صاحبزادے حجت الاسلام سید شاہ محمد الحسینی، حجت الاسلام سید شمس الدین الحسینی اور حجت الاسلام سید علی الحسینی تینوں اپنے وقت کے برجستہ علما میں سے تھے۔آپ کی زندگی کا ہر گوشہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ البتہ ہم یہاں اس مختصر سی تحریر میں   آپ کی بابرکت زندگی کے چند اہم گوشوں کی طرف فقط اشارہ کرنے پر  ہی اکتفا کریں گے۔

آپ کی عبادت و بندگی:آپ عبادت الہی میں ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔ساتھ ہی  آپ کی آواز اتنی سریلی اور دلکش تھی کہ  جب لاوڈ سپیکر جیسی سہولیات بھی میسر  نہ تھیں تو تھورگو والوں کے علاوہ  حسین آباد کے لوگ بھی رمضان المبارک میں آپ کی مناجات سن کر سحری کے لیے اٹھتے تھے اور آپ کی اذان سن کر سحری کھانا بند کرتے تھے۔ آپ کی یہ پرکشش آواز تادم حیات اسی حالت پر باقی رہی۔ آپ کی عبادات و مناجات کے باعث اللہ تعالی نے آپ کو طول عمر سے نوازا۔ شاید اس وقت پورے علاقے میں آپ سے کوئی عمر رسیدہ شخص نہیں تھا یوں آپ نے 109 سال بابرکت  زندگی گزاری۔ 

آپ کا عشق اہل بیت علیھم السلام: عشق اہل بیت علیھم السلام تو آپ کو وراثت میں ملا تھا۔ انہی پاکیزہ ہستیوں کی ولادت و شہادت کے ایام کو آپ جیسے بابصیرت عالم دین نے بہترین تبلیغ کا وسیلہ بنا دیا۔  دوسرے بعض صوبوں کے برخلاف آج اگر گلگت بلتستان میں امام بارگاہیں بہترین درسگاہ کی صورت اختیار کر گئی ہیں تو ان میں آپ جیسی  عظیم ہستیوں کا بڑا کردار ہے ۔ اس اعتبار سےآج ہم آپ لوگوں کی جتنی بھی قدردانی کریں،  کم ہے۔

وعظ و نصیحت سے آپ لوگوں کے دل موم بنادیتے تھے اور مصائب امام حسین علیہ السلام پڑھتے پڑھتے آپ مولا کے عشق میں اپنا چہرہ پیٹتے تھے۔ جس کے بعد لوگوں پر بھی عجیب کیفیت طاری ہوتی تھی۔ نویں محرم الحرام کو دوران مصائب آپ ممبر پر لگےحضرت عباس علمدار علیہ السلام کے علم کو اتارکر وسط صف میں رکھ کر باب الحوائج کے مصائب پڑھتے تھے۔ یوں لوگ زار و قطار دل کھول کر اور جی بھر کر روتے اور شہنشاہ وفا سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرتے تھے۔  آپ نے 11گیارھویں محرم الحرام کی مجلس خود نذر کررکھی تھی جس کا سلسلہ اب بھی باقی ہے۔ 

آپ کی روش تبلیغ: آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغ دین کے لیے وقف کر دی۔  آپ نے ایسی تدبیر سوچی کہ اس کا اثر آج بھی بہترین انداز سے باقی ہے۔ ہر امام کی ولادت و شہادت کے ایام مؤمنین میں تقسیم کر دیے۔ تاکہ منظم انداز سے یہ سلسلہ چلتا رہے۔ آپ نے اپنی دن دگنی رات چگنی زحمتوں کے ذریعے ایسی بہترین ثقافت کی داغ بیل ڈال دی کہ جس کے باعث ہر ایک کے دکھ درد کو بانٹنا،  نادار افراد کا ہاتھ بٹھانا،  ہمسائیگی کے حقوق کو ادا کرنا یہاں کے لوگوں کی فطرت ثانیہ بن گیا۔یوں اسلامی اصولوں نے مقامی ثقافت کا روپ دہار لیے ہیں اور یہ اصول یہاں کے لوگوں کی زندگی کا لاینفک جز  بن گئے ہیں۔ آپ نے انبیائے کرام اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی روش کو اپناتے ہوئے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے  "بلسان قومہ" تبلیغی سلسلہ شروع کیے۔ قرآن مجید اور بنیادی احکامات کے باقاعدہ درس دیا کرتے تھے۔ جس کے باعث آپ کے شاگرد  مقامی اعتبار سے بہترین قاری شمار ہوتے تھے اورآپ کے بعض شاگرد تو  آج بھی ناصرف خود  قرائت قرآن کا حق ادا  کررہے ہیں بلکہ قرآن کے نور سے دوسروں کے قلوب کو بھی منور کر رہے ہیں۔  

آپ کی یتیم نوازی: علی نامی ایک یتیم لڑکے کی کفالت آپ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ اس کو کھانا آپ خود اپنے ہاتھوں سے کھلاتے، اسے  کپڑا آپ خود پہناتے، بالوں میں کنگھی بھی خود کرتے اور اس کا سارا دیکھ بھال آپ نے خود اپنے ذمہ لے رکھے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے صاحبزادہ سید شمس الدین سے جب استفسار کیا گیا کہ آپ کے والد گرامی میں وہ کونسی بارز صفات پائی جاتی تھیں کہ جس کے باعث آپ کو دنیا سے گئے نصف صدی کے قریب ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کی حاجت روائی کا وسیلہ قرار پارہے ہیں؟ تب انھوں نے جوابا فرمایا کہ ان کی ایک اہم صفت یتیم پروری تھی۔ شاید رب العزت کو ان کی یہی خاصیت پسند آیا ہو۔ 

آپ کی سخاوت: سخاوت میں آپ ثانی حاتم طائی تھے۔ گھر والوں کو زحمت دیے بغیر خود اٹھ کے جاکر مہمان کی پذیرائی کرنا آپ اپنے لیے شرف سمجھتے تھے، باغ میں مختلف پھلدار درخت اوربیلیں آپ نے خود لگائے تھے اور خود اپنے ہاتھوں سے وہی میوہ جات کاٹ کے لاکر مہمانوں کی پذیرائی کے لیے کھلے دل اور شاداں چہرے کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دیتے تھے، آپ بہت ہی باذوق اور تخلیقی ذہنیت کے مالک تھے۔ پورے بلتستان سے نامور علما اور سرکردہ افراد آپ کی زیارت کے لیے تواتر سے آتے رہتے تھے۔ یوں ہمیشہ آپ کا گھر مہمانوں سے کھچاکچ بھرا رہتا تھا۔ مواصلاتی نظام کے نہ ہونے کےباجود بھی آپ کا عشق دور دراز علاقوں سے  لوگوں کو اپنی طرف کھینچ  لاتے تھے۔ 

آپ کی شجاعت و بہادری: آپ نہایت شجاع و نڈر بھی تھے جب ڈوگرہ راج کے دوران پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے لوگوں سے جبری غنڈہ ٹیکس لینے کے لیے مسلح افراد بھیجے یوں وہ  غریب لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑنے لگے تو آپ نے لوگوں کے حوصلے بلند کیے درنتیجہ  آپ کی سپہ سالاری میں سب  لوگ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ جب دشمن کے مدمقابل آگئے تو سب سے پہلے نمبردار محمدمرحوم  نے ان پر مردانہ وار کیا۔ اب دشمن نے بھانپ لیا کہ اگر ہم میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو ان کے ہاتھوں سے بچ نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لہذا انھوں نے شکست تسلیم کرلی۔ درنتیجہ کسی  جانی و مالی نقصان ہونے سے پہلے ہی دشمن پشیمانی کے عالم میں یہاں کے باسیوں سے معافی مانگ کرواپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔ 

آپ کی طبابت: آپ  اپنے دور میں تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ طب کے میدان میں بھی ید طولی رکھتے تھے۔جس دور میں صحت کے مراکز نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایسے دور میں اپنی خداداد صلاحتیوں سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف لاعلاج مریضوں کا علاج ممکن بنانا بہت ہی قابل تحسین عمل تھا۔ یوں آپ اپنے زمانے میں حازق طبیب سمجھے جاتے تھے۔ دور دراز سے لوگ آپ کے پاس علاج معالجے کے لیے آتے تھے۔ جہاں آپ  کے پاس سے روحانی علاج بھی ہوجاتا تھااور آپ کی اپنی ایجاد کردہ دوائیوں کے ذریعے جسمانی بیماریاں بھی ٹھیک ہوجاتی تھیں۔  

آپ کی وفات:جب آپ زندگی کی 109 بہاریں دیکھ چکے تب وہ وقت بھی آن پہنچا کہ جہاں سے کسی کو چھٹکارا حاصل نہیں۔ "جب احمد مرسل نے رہے کون رہے گا" اب آپ کو بھی اپنے حقیقی محبوب کی طرف سے بلاوا آیا ۔مختصر علالت کے بعد آپ7جمادی الاول1399ہجری بمطابق 5مئی 1979ءکو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ کی تجہیز و تکفین میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ آخر کار آہوں اور سسکیوں کے سایے میں آپ کو اپنے آبائی گاؤں تھورگو پائین میں لب سڑک خصوصی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کی رحلت کی خبر سن کر  آپ سے عشق رکھنے والے بہت سارے لوگ آپے سے باہر ہوگئے۔ ان میں سے ایک آپ کا خصوصی عاشق خواجہ محمد خان (گولوپی محمد خان) بھی ہیں ۔ آپ کا عاشق یہ دردناک خبر ملتے ہی فوری آئے لیکن تدفین میں شرکت نہ کرپائے۔ آپ کی قبر پر پہنچتے ہی فریاد شروع کردی اور بے اختیار ناک سے خون کے فوارے نکلنے لگے اور بے ہوش ہوگئے۔ہوش آنے کے بعد کہنے لگے کہ اب تھورگو کی رونقیں ماند پڑ گئیں اور اب  دوبارہ یہاں آنے کا لطف ختم ہوگیا۔

آپ کا آستانہ عالیہ:

یہ شرف بہت کم افراد کو نصیب ہوتا ہے کہ دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر بیٹھیں، لوگوں کی حاجت روائی کا وسیلہ قرار پائیں، مریضوں کی صحتیابی کا سبب قرار پائیں بالخصوص  بہت سارے وہ مریض جن کو ڈاکٹر جواب دے چکے ہوتے ہیں وہ آپ کے وسیلے سے آپ کے آستانہ عالیہ پر آکر دعائیں مانگتے ہیں تو  رب ذوالجلال کی خصوصی نظر کرم کے باعث وہ صحت مند ہوجاتے ہیں، دعاؤں کی قبولیت  کی وجہ بن جائیں، سفر میں سلامتی کا ذریعہ ہوپائیں، بے چین افراد آپ کے آستانہ عالیہ پر آکر سکون و اطمینان سے بہرہ ور ہوجائیں،  نصف صدی کے قریب آپ کی رحلت کو گزر چکا ہے لیکن دن بہ دن آپ کے آستانہ عالیہ پر لوگوں کی آمد میں اضافہ ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ کسی کی بس کی بات نہیں بلکہ "و تعز من تشاء" والی ذات کی خصوصی نظر کرم کا نتیجہ ہے کہ جس کی راہ میں آپ نے اپنی پوری زندگی صرف کر دی۔  یہی وجہ ہے کہ مدت مدید گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کا روضہ مبارکہ دن بہ دن لوگوں کی توجہ کا مرکز اور ان کی حاجات کی برآوری کا وسیلہ قرار پارہا ہے۔سکردوسےکھرمنگ، شگر اور خپلو کی طرف جتنے لوگ روزانہ سفر کرتے ہیں وہ  آپ کی ضریح پر حاضری دیے بغیر  وہاں سے گزرجانے کو  اپنی بدبختی  کا سبب  اور سلب توفیق قرار دیتے  ہیں۔ بعض تو دنیا و مافیھا کی مصروفیات چھوڑ کر محض آپ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے وہاں پہنچ جاتے ہیں،  آپ کی بارگاہ سے بہت ساروں کی حاجت روائی، بہت سارے لاعلاج  مریض صحت یاب، بہت ساروں کی مشکلیں حل اور بہت سارے اپنے سخت سے سخت امتحانات میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں  اور  یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری  ہے۔ اگر ان  تمام واقعات  کو جمع کیا جائے تو شاید ایک کتاب بن جائے۔آپ کا روضہ اگر کسی بڑے شہر میں ہوتا تو شاید آج  وہاں روزانہ ہزاروں کا جم غفیر دکھائی دیتا اور آج کے مادی دور میں اطمینان و سکون کے متلاشیوں کو سکون قلب  بہم پہنچانے کا سامان ثابت ہوتا۔ جہاں آپ اپنی زندگی میں کہ جس دور میں علاج معالجے کی سہولیات  ناپید تھیں،  لوگوں کے لیے مسیحا ثابت ہوئے ۔وہیں عرصہ دراز گزرجانے کے باجود آج بھی آپ کا روضہ لوگوں کے لیے حلال مشاکل کا  سبب قرار پا رہا ہے۔

اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اپنے جد امجد کے جوار میں جگہ عنایت کرے اور ہمیں آپ کی سیرت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے!آمین ثم آمین!

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه