تحریر: محمد جان حیدری

جب رسول خدا (ص) حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر علی (ع) و فاطمہ (س) کے گھر تشریف لائے تو آپ نے نومولود بچی کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس کو پیار کیا اور سینے سے لگایا۔ اس دوران علی (ع) و فاطمہ (س) نے کیا دیکھا کہ رسول خدا (ص) بلند آواز سے گریہ کر رہے ہیں۔ جناب فاطمہ (س) نے آپ سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا "بیٹی، میری اور تمہاری وفات کے بعد اس پر بہت زیادہ مصیبتیں آئیں گی۔" کتب تاریخی میں شریکۃ الحسین کے ذکر شدہ القاب کی تعداد تقریباً 61 ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور القاب درج ذیل ہیں، عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ھاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغریٰ، محدثہ، کاملہ، عاقلہ، عابدہ، زاھدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء۔

عالمہ غیر معلمہ کا بچپن معصومین کی زیرنگرانی رہا۔ آپکی خوش قسمتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تربیت کرنے والی ماں سیدہ نساءالعالمین حضرت فاطمہ (س) ہیں، وہ فاطمہ جو دختر رسول ہے، جس کی رضا میں خدا راضی اور جسکے غضب سے خدا غضبناک ہوتا ہے۔ وہ فاطمہ جو بضعۃ الرسول ہے، جو خاتون جنت ہے، وہ فاطمہ کہ جس کی عبادت پر پروردگار مباہات فرماتا ہے، وہ فاطمہ جس کی چکی جبرئیل علیہ السلام چلاتے ہیں۔ اگر باپ کو دیکھیں تو حیدر کرار جیسا باپ ہے، آپ نے امام علی (ع) جیسے باپ کی زیر نگرانی پرورش پائی ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکرم (ص)، جو تمام انسانوں کے لئے "اسوہ حسنہ" ہیں، نانا کی حیثیت سے آپ کے پاس موجود ہیں۔ لہذٰا یہ آپ کے افتخارات میں سے ہے کہ آپ نے رسول خدا (ص)، امام علی (ع) اور فاطمہ زہرا (س) جیسی بےمثال شخصیات کی سرپرستی میں پرورش پائی۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تربیت کس قدر بہترین اور مقدس ماحول میں ہوئی۔

آپ کی شادی 17 ہجری میں آپ کے چچازاد بھائی عبداللہ ابن جعفر ابن ابیطالب سے ہوئی۔ عبداللہ حضرت جعفر طیار کے فرزند اور بنی ہاشم کے کمالات سے آراستہ تھے۔ آپ کے چار فرزند تھے، جن کے نام محمد، عون، جعفر اور ام کلثوم ہیں۔ (البتہ آپکی اولاد کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے) کربلا کا واقعہ انسانی تاریخ میں ایک بےمثال واقعہ ہے۔ لہذٰا اس کو تشکیل دینے والی شخصیات بھی منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ امام حسین (ع) اور ان کے جانثاروں نے ایک مقدس اور اعلٰی ہدف کی خاطر یہ عظیم قربانی دی، لیکن اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اس عظیم واقعے کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں تو بلاشک وہ تمام قربانیان ضائع ہو جاتیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے، "کربلا در کربلا می ماند گر زینب نبود۔" لٰہذا اگر ہم آج شہدائے کربلا کے پیغام سے آگاہ ہیں اور ان کی اس عظیم قربانی کے مقصد کو درک کرتے ہیں تو یہ سب عقیلہ بنی ہاشم سلام اللہ علیہا کی مجاہدت اور شجاعانہ انداز میں اس پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانے کا نتیجہ ہے۔

بلاشبہ اسی وجہ سے انہیں "شریکۃ الحسین" کا لقب دیا گیا ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثاروں نے اپنی تلواروں کے ذریعے خدا کی راہ میں جہاد کیا تو شریکۃ الحسین سلام اللہ علیہا نے اپنے کلام اور اپنے خطبات کے ذریعے اس جہاد کو اس کی اصلی منزل تک پہنچایا۔ کربلا میں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنے کے بعد دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کو ایک بے نظیر فتح نصیب ہوئی ہے اور اس کے مخالفین کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا ہے، لیکن نائبۃ الحسین سلام اللہ علیہا کے پہلے ہی خطبے کے بعد اس کا یہ وہم دور ہوگیا اور وہ یہ جان گیا کہ یہ تو اس کی ہمیشہ کیلئے نابودی کا آغاز ہے، یزید کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور حسین آج بھی زندہ ہے۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منابع:

آفتاب در مصاف۔ رھبر معظم انقلاب

زینب کبریٰ ولادت سے شھادت تک۔ آیت اللہ کاظم قزوینی

 

بی آر بی نہر اور اُس کی تاریخ

سید امجد حسین بخاری  

بی آر بی کے کنارے چلتے ہوئے جا بجا ہندوستانی فوج کے مورچے اور پاکستانی جانبازوں کی جراتوں کی داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔

آم کے گھنے درخت تلے، بی آر بی نہر کنارے بنائے گئے ٹیوب ویل کے پانی سے قربانی کے بیل کو نہلاتے ہوئے ہماری ملاقات ہوئی نور محمد سے۔ اپنی دنیا میں مگن، ماتھے پر پسینے کے بہتے ہوئے قطرے چمکتی چاندنی کی صورت ان کے چہرے کو جگمگا رہے تھے۔

میں ستمبر 1965ء کی جنگ کی عینی شاہد کی تلاش میں اپنے دوست اسد کے ہمراہ بی آر بی کے کنارے بسے ان کے گاؤں واہگڑی آیا تھا۔ مجھے یہاں کسی بزرگ سے ملنا تھا۔ موٹر بائیک سے اترتے ہی نور محمد پر نظر پڑی۔ سلام کیا، اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو نور محمد فوراً بولے، پتر اے گلاں بمبی کنارے نئیں ہوندیاں (بیٹا! یہ باتیں نہر کنارے نہیں ہو سکتیں)۔ بس پھر ان کی دعوت پر نہر سے کچھ فاصلے پر موجود آم کے درخت کے نیچے چبوترے پر بیٹھ گئے۔ ستمبر 1965ء کا تذکرہ چھڑا تو ایک نگاہ آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا اور گویا ہوئے،

وہ اس وقت 25 برس کے تھے جب ہندوستان نے پاکستان کی سرحدوں پر حملے کی جسارت کی۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ آسمان سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، ہندوستانی ٹینکوں کی آوازیں آج بھی ان کے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ لازوال جدوجہد اور جذبہ تھا۔

سچ پوچھیں تو میں نے 65ء کی جنگ کے جتنے بھی واقعات کتابوں میں پڑھے تھے یا بزرگوں کی زبانی سنے تھے ان میں پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور بہادری کے ساتھ ساتھ بی آر بی نہر کی داستانیں بھی تھیں۔ انہی داستانوں کو سننے کے لئے میں اس نہر کے کنارے پہنچا تھا۔ نور محمد جب جنگ کے واقعات بیان کر رہے تھے تو میرا بار بار دھیان بی آر بی کی جانب جاتا، بالاخر میں نے ان سے کہہ بھی ڈالا کہ کچھ تذکرہ اس نہر کا بھی کر دیں اور مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔

نور محمد کے مطابق دیپالپور نہر جو کہ حسین والا ہیڈ ورکس فیروز پورسے دریائے ستلج کے دائیں جانب سے نکلتی تھی جس کا ہیڈ تو بھارت میں تھا مگر ساری نہر پاکستان کے اندر سے بہہ رہی تھی۔ جب پاکستان بنا تو بھارت نے دریائے راوی کا پانی مادھو پور ڈیم بنا کر روک لیا۔ 14 مئی 1948ء کو ہندوستان سے معاہدے کے بعد پاکستان نے مرالہ کے قریب سے دریائے چناب میں ایک نہر تعمیر کی جو سدھنوالی گائوں کے قریب دریائے روای میں ملتی ہے۔ یہ نہر دریائے روای کے نیچے سے بہتی ہے اور بیئیاں گاؤں کے قریب دیپالپور نہر میں مل جاتی ہے۔ اس کی تکمیل 1958ء کو ہوئی، اس لنک نہر بی آر بی ڈی کا اصل اور مکمل نام ’بمبانوالا راوی بیدیاں دیپالپور‘ نہر ہے۔ اس بی آر بی نہر سے لاہور کی نہر کو بھی پانی فراہم کیا گیا۔ گویا راوی کے کنارے آباد لاہور شہر کی اس نہر میں راوی کے بجائے چناب کا پانی دوڑتا ہے۔

 

جس طرح اس نہر کے نام کے پیچھے دلچسپ حقائق کارفرما ہیں اسی طرح اس نہر کو کھودے جانے کی بھی ایک اور دلچسپ وجہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع یہ نہر لاہور کی عوام کی جانب سے 1948ء میں کھودی گئی تھی۔ زندہ دلان لاہور نے صوبہ پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی اپیل پر یہ نہر اس وقت کھودی جب انہوں نے اعلان کیا کہ اس مقام پر نہر کھودنے سے پاکستان کو بھارتی افواج کی جانب سے ممکنہ شر انگیزی سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ ان کی اپیل پر شہریوں نے 8 کلومیٹر رقبہ پر محیط یہ نہر محض چند دنوں میں بلا معاوضہ ہی کھود ڈالی۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی اس نہر کی وجہ سے ہی بھارتی افواج کا لاہور میں ناشتہ کرنے کا خواب تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

 

نور محمد کے بیان کی تصدیق اس وقت پاکستان آرمی میں اگلے مورچوں پر لڑنے والے اقبال صاحب نے بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج جب پاکستان کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں تو اس وقت بی آر بی نہر نے پاکستان کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان آرمی کی جانب سے بی آر بی نہر کا پانی سرحدی علاقوں میں چھوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے سرحد پر دلدل بن گئی اور دشمن کے ٹینکوں کی پیش قدمی رک کئی جبکہ دوسری جانب چونکہ پاکستانی فوج نے کامیابی سے اس نہر پر موجود پلوں کی حفاظت کی اور جہاں ان کی پوزیشن کمزور تھی ان پلوں کو تباہ کردیا گیا۔ یوں پاکستانی جوانوں نے بھارتی افواج کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک کہ انہیں فوجی کمک نہ پہنچ گئی۔ جس کے بعد بھارتی افواج کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔ میجر عزیز بھٹی نے بھی اسی نہر پر جنگ لڑتے ہوئے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا اور نشان حیدر کے حق دار ٹھہرے۔

 

اقبال صاحب اور نور محمد دونوں نے اس جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ جب بھارت نے واہگہ بارڈر اور باٹا پور سیکٹر کی جانب پیش قدمی کی اور توپوں، ٹینکوں اور ٹڈی دل لشکر کے ساتھ حملہ کیا تو لاہور کا یہ سرحدی مشرقی علاقہ جو آج واہگہ نہالہ نروڑ ڈیال، جلو موڑ، باٹاپور بھین، بھانو چک، ساہنکے، پڈھانہ اور بڈیارہ برکی پر مشتمل ہے ایک خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔

 

سرحدی علاقہ کےعوام پاکستان آرمی کے پہنچنے سے پہلے ہی ہندوستانی افواج کا راستہ روک کر کھڑے ہوگئے۔ ہندوستانی افواج کا مقابلہ کلہاڑیوں، لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے کیا۔ بی آر بی پر بنے پلوں کے راستوں سے جانور اور بچے محفوظ کیمپوں کی جانب روانہ کردئیے، جبکہ ان دیہاتوں کی عورتیں اور بوڑھے بھی جوانوں کے ہمراہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔

 

نور محمد کا کہنا تھا کہ میری والدہ اور دو بہنوں کو خاندان کے افراد نے بچوں کے ہمراہ روانہ ہونے کا کہا تھا مگر انہوں نے جانے کے بجائے بہادری سے لڑنا شروع کردیا اور میری بہنیں میرے والد سے کہنے لگیں کہ آپ ہمارے اندر حضرت صفیہ جیسی بہادری اور حضرت زینب جیسا صبر اور حوصلہ پائیں گے۔ اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ نہر کی دوسری جانب سے لاہور کے رضاکار اور نوجوان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے باٹا پور کی جانب چل پڑے تھے۔ لاہور کینال کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کے لوگ جب محفوظ مقامات کی جانب جارہے تھے تو لاہور کے رہائشی نہر کے پانی میں سے گزرتے ہوئے ہمیں کھانے پینے کی اشیاء پہنچا دیتے تھے۔

میں ان دو بزرگوں کی گفتگو سن کر تصور میں خود کو اس نہر کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا محسوس کررہا تھا۔ سرحدی علاقوں کی غازی خواتین ہوں یا لاہور اور پورے پاکستان کی وہ عفت ماب عورتیں جنہوں نے اپنے زیور دفاع وطن کی خاطر دے دئیے تھے، سبھی کے سراپے میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ نور محمد نے لسی کے ساتھ ہماری تواضع کی۔ ان کی محبت اور آنکھوں کی چمک گھنٹوں بیٹھنے پر مجبور کر رہی تھی مگر واپسی بھی ضروری تھی۔

 

اسد کے مشورے سے راوی سائفن کی جانب جانے کا فیصلہ کیا۔ بی آر بی کے کنارے چلتے ہوئے جا بجا ہندوستانی فوج کے مورچے اور پاکستانی جانبازوں کی جراتوں کی داستانیں دیکھنے اور سننے کو ملیں۔ برکی پر میجرعزیز بھٹی کی جائے شہادت دیکھی جہاں انہوں نے جرات اور بہادری کی لازوال داستان رقم کی۔ مناواں کے مقام پر پاک فوج تیسری بلوچ رجمنٹ کے اُن 39 افراد کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار دیکھی جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں واہگہ سیکٹر، باٹاپور پل بی آر بی کینال پر مادر وطن کا زبردست دفاع کیا اور 10 اور 11 ستمبر 1965ء کو دشمن پر جوابی حملہ کیا۔ لاہور شہر کا ذرہ ذرہ ان شہداء اور غازیوں کی یادوں سے بھرا ہوا ہے جس نے عددی اور عسکری اعتبار سے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دی۔

بی آر بی نہر کے دونوں جانب لگائے جانے والے مائنز کے بارے میں بعض افراد نے پروپیگنڈا کیا۔ لیکن شاید وہ لوگ اس کے محل وقوع سے واقف نہیں ہیں کیوںکہ اس کے دونوں جانب دیہات آباد ہیں اور مائنز لگانا ممکن نہیں۔ بی آر بی نہر حقیقت میں پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار کی حامل ہے۔ ایک جانب ملک کے آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے میں اس کا متبادل نہیں جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے دفاع کو مضبوط اور مستحکم بنا رہی ہے۔ اسی نہر سے ایک اور نہر نکالی گئی ہے جو واہگڑیاں گاؤں سے شروع ہوتی ہے اور ٹھوکر نیاز بیگ تک جاتی ہے۔ جس کے دونوں جانب لگے ہوئے درخت نہر اور لاہور کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ مگر اسی نہر کے گرد بنائے گئے رہائشی اسکیموں کا سیوریج اس حسین نہر کو آلودہ کر رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نہر کی خوبصورتی کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے حکومت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اہلیان لاہور بی آر بی اور لاہور کینال کے احسان مند رہتے ہوئے اس کا خیال بھی رکھیں کیوں کہ 65ء کی جنگ میں اسی نہر نے اہلیان لاہور کی حفاظت کی اور دشمن کا لاہور کے جم خانہ میں چائے پینے کا خواب چکنا چور کیا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

(بشکریہ ایکسپریس)

ترجمہ و تحقیق: افتخار علی جعفری

 

دختر رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شہادت کے ایام ہیں۔ حضرت زہرا(س) کا اسم گرامی ذہن میں آتے ہیں ان پر پڑے مصائب بھی انسان کے ذہن میں آ جاتے ہیں۔ اور جب مصائب کا تذکرہ آتا ہے باغ فدک کا آپ سے چھینا جانا اور حضرت زہرا(س) کا اپنا حق مانگنے کے لئے دربار خلیفہ میں جانا بھی انسان کے ذہن میں آ جاتا ہے اور انسان کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ باغ فدک کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کرے جس کی خاطر دختر رسول دربار خلیفہ تک گئیں۔ اسی وجہ سے ایام فاطمیہ میں باغ فدک کے بارے میں ایک مختصر تحقیق کی گئی ہے جو خاندان اہلبیت(ع) کے چاہنے والوں کی نذر کی جاتی ہے۔

فدک ایک گاؤں کا نام ہے جو مدیںہ النبی سے ۲۶۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے یہ علاقہ سرسبز و شاداب اور درختوں سے لبریز تھا یہ گاؤں، خیبر کا حصہ تھا اور مدینہ کے یہودی اس میں زندگی گزارتے تھے اس میں کاشت کرتے تھے اور اس کے باغات سے اپنی روزی روٹی کماتے تھے یہ علاقہ ایک ذرخیز اور بہترین درآمد والا علاقہ تھا۔

اس کے بعد امیر المومنین علی علیہ السلام نے جنگ خیبر میں خیبر کا قلعہ فتح کیا یہودیوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے صلح کرنے کی خاطر فدک کا علاقہ پیغمبر اکرم (ص) کو بخش دیا۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے مبارک ہاتھوں سے فدک میں خرمے کے درخت لگائے اور اس کے قرآن کریم کے حکم سے اسے اپنی لخت جگر فاطمہ زہرا(س) کو ہدیہ دے دیا(۱)۔

پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد، خلیفہ اول نے اس پر قبضہ کر لیا اور حضرت زہرا(س) کے خادموں وہاں سے نکال کر اپنے مزدور اس می کام پر لگا دئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خلیفہ اول سے فدک حاصل کرنے کے مقدمہ دائر کیا اور اپنا حق واپس لینے کی بھرپور کوشش کی لیکن انہیں واپس نہ دیا گیا۔ خلیفہ ثانی نے اپنے دور حکومت میں اسے یہودیوں کو لوٹا دیا۔ خلیفہ ثالث نے دوبارہ یہودیوں سے واپس کر کے مروان اور دیگر رشتہ داروں کو بخش دیا بنی امیہ کے خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے دور حکومت تک یہ فدک بنی امیہ کے پاس رہا۔

عمر بن عبد العزیز نے فدک کو حضرت فاطمہ زہرا(س) کی اولاد کو واپس کر دیا لیکن یزید بن عبد الملک نے دوبارہ اولاد فاطمہ(س) سے اسے چھین لیا۔ عباسی خلیفہ سفاح نے اسے عبد اللہ محض کو دیا لیکن منصور دوانیقی نے دوبارہ اس پر قبضہ کر لیا مہدی عباسی نے اسے ایک بار پھر اولاد زہرا(س) کو واپس کر دیا لیکن موسی بن مہدی نے پھر چھین لیا۔ آخر کار مامون نے اپنے سرکاری حکم کے مطابق فدک کو اولاد زہرا(س) کو واپس دے دیا۔

لیکن مامون کے بعد متوسل نے اس باغ کو پھر اولاد حضرت زہرا(س) سے چھین کر اسے عمر بازیار کو بخش دیا عبداللہ بن عمر بازیار نے فدک میں لگائے ہوئے ان درختوں کو کاٹ دیا جو پیغمبر اکرم نے اپنے دست ہائے مبارک سے لگائے ہوئے تھے درخت کاٹنے کے بعد اس کے ہاتھ شل ہو گئے (۲)

بنی عباس کی حکومت کا سلسلہ ختم ہونے اور عثمانی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد پورا عربستان عثمانی حکومت کے زیر قبضہ آ گیا اور اس علاقے کی اہمیت بھی پیغمبر اکرم(ص) کے لگائے ہوئے درختوں کے کاٹ دئے جانے کے بعد ختم ہو گئی اور تاریخ میں بھی اس کے بعد کا تذکرہ نہیں ملتا ہے۔

موجودہ دور میں فدک کا علاقہ کہاں واقع ہے؟ اس کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اس وقت فدک کو حرہ ہتیم یا الحویط کے نام سے جانا جاتا ہے جو حرہ خیبر کے مشرق میں واقع ہے۔

مدینہ شناسی کے مولف لکھتے ہیں کہ سرزمین فدک کے بارے میں کافی تلاش و جستجو میں نے کی آخر کار اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس وقت فدک کا کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے اس سرزمین کو حائط کے نام سے جانا جاتا ہے جو امارات حائل کے تابع ہے الحلیفہ کے مغرب اور ضرغد کے جنوب اور خیبر کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔

مولف کا کہنا ہے کہ ان ایام میں جب میں فدک کی تلاش میں تھا جو موجودہ حائط ہے ۱۹۷۵ عیسوی میں یہ علاقہ ۲۱ دیہاتوں پر مشتمل تھا جن میں گیارہ ہزار کی آبادی تھی جبکہ خود الحائط کی مرکز سرزمین میں ایک ہزار چار سو سے زیادہ لوگ نہیں رہتے تھے۔ لیکن یہ زمین کجھور کے درختوں سے بھری اور کھیتی باڑی کے لیے آمادہ سر زمین تھی جبکہ اس کے اطراف کی دیگر تمام زمینیں خشک اور بنجر تھیں۔ حائط (فدک) موجودہ دور میں اپنی سابقہ اہمیت کو کھو چکا ہے مدینہ کے کسی راستے میں بھی واقع نہیں ہے اس لیے متروک ہو چکا ہے(۳)

بہرحال ایسا لگتا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت وہاں کے رہنے والوں کے زیر استعمال ہے اور بطور عمومی  سعودی حکومت ہی کے زیر قبضہ ہے اور اس کی درآمد سے بھی اس سرزمین پر ساکن لوگ ہی استفادہ کرتے ہیں اور کوئی خاص شخص یا کوئی خاص حکومت اس کی مالک نہیں ہے۔

حوالہ جات

۱؛ اسراء/۲۶؛ حشر/۶ و ۷؛ و بلاذری، فتوح البلدان، قم، منشورات الارومیه، ۱۴۰۴، ص ۴۲ ـ ۴۷ و ص ۳۶ ـ ۴۲؛ و مدنی، عبدالعزیز، التاریخ الامین، قم، انتشارات امین، ۱۴۱۸، ص ۴۶ و ۵۱.

۲: فالی، سید احمد، فدک، قم، مجمع الذخائر اسلامی، چاپ دوم، ۷۸، ص ۱۸۳.

۳ نجفی، محمد باقر، مدینه شناسی، آلمان، ناشر سفارت ایران در بن، ۱۳۷۵، ص ۳۳۵ ـ ۳۴۰؛ و محمد محمد حسن شراب، المعالم الاثیره فی السنه و السیره، دمشق، دار العلم، ۱۴۱۱، ص ۲۱۵.

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دور جہالت میں نوید اسلام

احمد علی جواہری

عرب جو اپنے آپ کو دین حضرت ابراہیم ؑ کا پیرو کہتے تھے ان کے حالات بھی دوسری قوموں کی طرح کچھ اچھے نہ تھے، ماسواء چند نفر کے تمام وحدانیت کو چھوڑ کر شرک و بت پرستی میں مشغول تھے۔

وہ گھر جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کی شمع روشن کرنے اور وحدانیت کا اعلان کرنے کیلئے تعمیر کیا تھا وہاں 360 بت سجا رکھا تھا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے خدا بناتے تھے اور اسکی پوجا کرتے تھے۔ قتل وغارت گری، شراب نوشی، بے حیائی اور بے شرمی ان کے رگوں میں بس چکی تھی اور ان کا پیشہ بن چکا تھا۔ عشق و محبت کی داستانیں رواج بن چکے تھے۔ بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، عورتوں پر ظلم کرنا کوئی عیب شمار نہیں کیاجاتا تھا، معمولی سی باتوں جنگ چھڑ جاتی تھی جو پشتوں در پشت چلی جاتی تھی۔اس دور میں نور حق کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی، انسانی و اخلاقی اقدار بھی بھلادی گئیں تھیں، خود پرستی و ہوس پرستی سے نظام درہم برہم ہوچکا تھا، جہالت کے پردوں میں انسانیت دب چکا تھا صرف عرب ہی نہیں پوری دنیا ظلمت کدہ بن چکی تھی۔ ایسے رسوم ان میں شائع ہوچکا تھا کہ خود عرب ان سے بیزار تھے نہ چاہتے ہوئے بھی پیروی کرتے تھے، چونکہ غیرب معاشرہ کا مسئلہ تھا اور اس چیز نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا اور معاشرے کے ہاتھوں مجبور تھے۔ عجب حال تھا عرب معاشرے کا جب آمنہ کے لال نے شمع ہدایت لے کر آیا۔ اسلام نے ان کے ان تمام غیر اخلاقی کاموں کو روکا جن سے انسانیت مجروح ہورہے تھے اور قتل وغارت ، ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ ایسا دور تھاکہ شیطان انسان کے دلوں پر غالب آچکا تھا اور شیطان کے اشارے پر ہی چلتے تھے اور یہ لوگ اندھیرے میں ڈھوبے ہوئے تھے اور جاہلیت کا تمدن "حمیت" اور جاہلانہ غیض و غضب کی دعوت دیتا ہے لیکن اسلام کا تہذیب و تمدن ، قرار و آرام اور ضبط نفس کی طرف بلاتا ہے۔ ایسے زمانے میں خداوند عالم نے انسانوں کی ہدایت کیلئے ایک ایسا نبی بھیجا جو خلق عظیم کے عظیم درجے پر فائز تھے اور اپنی صادقیت و امانتداری کو اس معاشرے میں منوایا۔ انہوں نے معلم انسانیت بن کر اس دور میں انسانوں کی تربیت شروع کی، ہر طرح کی مشکلات کے باوجود دین اسلام کو فروع دیا، ان تمام رسوم کو ختم کیا جس سے خدا نے منع کیا اور ہر اس کام کا اجراءکیا جو خدا چاہتا تھا اور یہی دین ہے جس نے انسانوں کو آزاد زندگی بسر کرنے کا درس دیا، اچھے اور برے کی تمیز سکھائی، اخلاق و بردباری سکھائی اور انسانوں کو بہترین زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا۔

 

عرب معاشرہ قبل از اسلام

قرآن مجید میں بھی بہت سے مقامات پر انہی ادوار کے ذکر ملتا ہے۔ خداوند عالم فرماتے ہیں کہ

Ÿwur (#qßsÅ3Zs? $tB yxs3tR Nà2ät!$t/#uä šÆÏiB Ïä!$|¡ÏiY9$# žwÎ) $tB ô‰s% y#n=y™ 4 ¼çm¯RÎ) tb$Ÿ2 Zpt±Ås»sù $\Fø)tBur uä!$y™ur ¸x‹Î6y™ [1]

اور خبردار جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح (جماع) کیا ہے ان سے نکاح نہ کرنا مگر وہ جو اب تک ہوچکا ہے۔ یہ کھلی ہوئی برائی اور پروردگار کا غضب اور بدترین راستہ ہے۔

اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر نمونہ میں لکھتے ہیں کہ : زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا اور اپنے پیچھے بیوی ،بچے چھوڑ جاتا تو اگر وہ بیوی انکی سگی ماں نہ ہوتی تو وہ بیٹے اسے مال کی طرح اپنی میراث بنالیتے اور اس طرح وہ یہ حق سمجھتے کہ اپنی سوتیلی ماں سے خود شاری کریں یا اسکی کسی اور سے شادی کردیں۔ ظہور اسلام کے بعد ایک مسلمان کے بارے میں یہ حادثہ پیش آیا وہ یہ کہ ابو قیس نامی ایک انصاری فوت ہوگیا اسکے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں سے شادی کرنا چاہی تو اس عورت نے کہا میں تجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہوں اسلئے یہ کام مناسب نہیں ۔ اس کے باوجود حضرت رسول اللہ ؐ سے اپنی شرعی ذمہ داری پوچھ لیتی ہوں۔ اسکے بعد اس عورت نے یہ بات رسول اکرم ؐ کی خدمت میں عرض کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس آیت نے زمانہ جاہلیت کے ایک نہایت مکروہ اور ناپسندیدہ فعل پر خط بطلان کھینچ دیا۔[2]

وراثت:

زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ وہ (مشرک) صرف مردوں کو وارث سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو شخص مسلح ہو کر لڑنے اور اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کیلئے کبھی کبھی ڈاکہ ڈالنے کی طاقت نہیں رکھتا اسے ترکہ نہیں مل سکتا۔ اسی وجہ سے وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے اور میت کا مال بہت دور کے مردوں میں بانٹ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک انصار جس کا نام اوس بن ثابت تھا فوت ہوگیا اور اپنے بعد چھوٹی چھوٹ بچیاں اور بچے چھوڑ گیا اس کے چچا زاد بھائی جن کے نام خالد اور ارفطہ تھے وہ آئے انہوں نے اس کا مال آپس میں بانٹ لیا اور اس کی بیوی اور چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کو کچھ بھی نہ دیا تو اس کی بیوی نے حضرت رسول اکرم ؐ کی خدمت اقدس میں شکایت کی اس وقت اس سلسلے میں اسلام میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس موقع پر یہ آیت نال ہوئی:

zNõ3ßssùr& Ïp¨ŠÎ=Îg»yfø9$# tbqäóö7tƒ 4 ô`tBur ß`|¡ômr& z`ÏB «!$# $VJõ3ãm 5Qöqs)Ïj9 tbqãZÏ%qム[3]

مردوں کیلئے اس میں سے جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی جو ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے۔ چاہے وہ مال کم ہو کہ زیادہ یہ حصہ مقرر اور لازمی ہے۔

چنانچہ حضرت رسول اکرم ؐ نے ان دنوں کو بلایا کہ وہ اس مال میں بالکل چھینا جھیپٹی نہ کریں اور اسے پہلے طبقے کے پس ماندگان یعنی اولاد اور اس کی بیوی کے سپرد کردیں۔[4]

مراسم حج:

}§øŠs9 öNà6ø‹n=tã îy$oYã_ br& (#qäótGö;s? WxôÒsù `ÏiB öNà6În/§‘ 4 !#sŒÎ*sù OçFôÒsùr& ïÆÏiB ;M»sùttã (#rãà2øŒ$$sù ©!$# y‰YÏã ̍yèô±yJø9$# ÏQ#tysø9$# ( çnrãà2øŒ$#ur $yJx. öNà61y‰yd bÎ)ur OçFZà2 `ÏiB ¾Ï&Î#ö7s% z`ÏJs9 tû,Îk!!$žÒ9$#

کوئی گناہ اور حرج نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے فضل سے (ایام حج میں اقتصادی منافع سے) فائدہ اٹھاو (کیونکہ حج کا ایک فلسفہ اسلامی اقتصادی معاشرہ کی بنیاد رکھنا ھی ہے) اور جب میدان عرفات سے کوچ کرو تو مشعر الحرام کے پاس خدا کو یاد کرو اسے اس طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اگرچہ اس سے پہلے تم لوگ گمراہ تھے۔[5]

زمانہ جاہلیت میں مراسم حج بجالانے کے موقع پر معاملہ، تجارت، مسافروں کو لے جانا اور سامان لانا ، لے جانا حرام اور گناہ سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان فطری طور پر منتظر تھے کہ انہیں معلوم ہو کہ زمانہ جاہلیت والے احکام جوں کے توں باقی رہیں گے یا اسلام ان کے بے وقعت ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ اس آیت میں ان دنوں معاملہ یا تجارت کے گناہ ہونے کو غلط قرار دے دیا اور بتایا ہے کہ موسم حج میں کسی قسم کا معاملہ یا تجارت کرنے میں کوئی مانع اور حرج نہیں[6]۔

ایک اور مقام پر خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

#sŒÎ*sù OçGøŠŸÒs% öNà6s3Å¡»oY¨B (#rãà2øŒ$$sù ©!$# ö/ä.̍ø.ɋx. öNà2uä!$t/#uä ÷rr& £‰x©r& #\ò2ό 3 šÆÏJsù Ĩ$¨Y9$# `tB ãAqà)tƒ !$oY­/u‘ $oYÏ?#uä ’Îû $u‹÷R‘‰9$# $tBur ¼ã&s! †Îû ÍotÅzFy$# ô`ÏB 9,»n=yz

جب تم پوے کر چکو حج کے ارکان تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر الٰہی کرو اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب دے دیں ہمیں دنیا میں ہی (سب کچھ) نہیں ہے اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ۔[7]

امام ابن ابی حاتم ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ حج کے موسم میں ٹھہرتے تھے تو ایک شخص نے ان میں سے کہتا ہے کہ میرا باپ کھانا کھلاتا تھا، بوچھ اٹھاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اپنے آباو و اجداد کے تذکروں کے اور کچھ نہیں ہوتا تھا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی[8]۔

دور جاہلیت میں لوگ جب حج سے فارغ ہوتے تو جنگ و جدال، سخن پردازی اور فخر و مباہات شروع کرتے تھے اور اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

kptø:$# ֍ßgô©r& ×M»tBqè=÷è¨B 4 `yJsù uÚtsù  ÆÎgŠÏù ¢kptø:$# Ÿxsù y]sùu‘ Ÿwur šXqÝ¡èù Ÿwur tA#y‰Å_ ’Îû Ædkysø9$# 3 $tBur (#qè=yèøÿs? ô`ÏB 9Žöyz çmôJn=÷ètƒ ª!$# 3 (#rߊ¨rt“s?ur  cÎ*sù uŽöyz ϊ#¨“9$# 3“uqø)­G9$# 4 Èbqà)¨?$#ur ’Í<'ré'¯»tƒ É=»t6ø9F{$#

حج چند مقررہ مہینوں میں ہوتا ہے اور جو شخص بھی اس زمانے میں اپنے اور حج لازم کرلے اسے عورتوں سے مباشرت گناہ اور جھگڑے کی اجازت نہیں ہے اور تم جو بھی خیر کروگے خدا اسے جانتا ہے اپنے لئے زاد راہ فراہم کرو کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور اے صاحبان عقل ہم سے ڈرو۔[9]

ایک گروہ جب مناسک حج سے فارغ ہوجاتے تو ۱۳ ذی الحجہ کی شب محصب میں جمع ہوجاتے تھے اور مفاخرہ شروع ہوجاتے تھے اس موقع پر شعر و شاعری اور دوسرے قبیلہ جو اس کے دشمن ہو اس کی برائی شروع ہوجاتے تھے اور اپنے قبیلہ کے افتخارات بیان کرتے تھے۔[10]

حج کے موقع پر ایک قبیح فعل ان کا یہ تھا کہ ایک قبیلہ (جس کا نام حلہ بتایا جاتا ہے) ایسا تھا کہ اگر اس میں سے کوئی پہلی بار حج کررہا ہو تو وہ ننگے طواف کرتے تھے۔ اس طرح کہ وہ عورت جو ننگے طواف کرتی تھی وہ اپنے ایک ہاتھ آگے اور ایک ہاتھ پیچھے رکھی ہوئی ہوتی تھی اور کہ رہی ہوتی تھی

الیوم یبدو بعضہ او کلہ                        وما بدا منہ فال املہ

آج کچھ آشکار ہے اس میں سے اور وہ کہ جو آشکار ہے حلال اور اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

اسی طرح بنی عامر اور کچھ دوسرے قبیلہ بھی تھے جو ننگے طواف کرتے تھے اور مرد دن کو اور عورتیں رات کو ننگے طواف کرتے تھے[11]۔

زمانہ جاہلیت میں نکاح کے طریقے:

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح سے ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک نکاح کا طریقہ تو یہی تھا جو اب لوگوں میں جاری ہے یعنی ایک شخص دوسرے شخص کے پاس پیغام نکاح دیتا اور وہ اپنی بیٹی، بہن یا جو بھی ہو اس مہر مقرر کرتا ہے اور پھر نکاح کردیتا ہے ۔

دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا کہ عورت جب حیض سے فارغ ہوجاتی تو مرد اس سے کہتا کہ فلاں شخص کو بلا کر بھیج اور اس سے جماع کروا۔ اس کے بعد اس کا شوہر اس سے الگ رہتا اور اس سے جماع نہ کرتا یہاں تک کہ اس شخص کا حمل ظاہر ہوجاتا جس سے اس نے جماع کروایا تھا پس جب معلوم ہوجاتا کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے تو اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے جماع کرتا اور یہ طریقہ اس لئے جاری رکھا تھا تاکہ اچھی نسل کے بچے حاصل کیے جائیں اس نکاح کو نکاح استضاع کہا جاتا تھا اور نکاح کا تیسراطریقہ یہ تھا کہ آٹھ دس آدمی ایک عورت کے پاس آیا جایا کرتے اور سب اس کے ساتھ جماع کرے جب وہ حاملہ ہو جایا کرتی اور بچہ پیدا ہوجاتا چند روز کے بعد وہ سب کو بلا بھیجتی اور سب جمع ہوتے اور کوئی شخص آنے سے انکار نہیں کرسکتا تھا جب سب آجاتے تو وہ ان سے کہتی کہ تم سب اپنا حال جانتے ہو اور اب میرے بچہ پیدا ہوچکا ہے اور یہ بچہ تم میں سے فلاں شخص کا ہے وہ ان میں سے جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ بچہ اسی کا قرار پاتا۔ اور چوتھی قسم کا نکاح یہ تھا کہ بہت سے آدمی ایک عورت کے پاس جاتے یعنی اس سے جماع کرتے اور وہ کسی کو بھی جماع سے نہ روکتی ایسی عورتیں بغایا یعنی طوائف کہلاتی تھیں ان کے گھروں کے دروازوے پر جھنڈے لگے رہتے تھے یہ اس بات کی علامت تھی کہ جو چاہے ان کے پاس بغرض جماع آسکتا ہے پس جب وہ حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے آشنا اس کے پاس جمع ہوتے اور قیافہ شناس کو بلاتے پھر وہ جس کا بچہ کہہ دیتے وہ اسی کا قرار پاتا اور کوئی اس سے انکا نہیں کر سکتاتھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ؐ کو رسول بناکر بھیجا تو آپ ؐ کے ذریعہ دور جاہلیت کے نکاحوں کے تمام طریقوں کو باطل قرار دیا سوائے اس طریقہ نکاح کے جو آج کل اہل اسلام میں رائج ہے۔[12]

زمانہ جاہلیت میں پردے کا نظام:

زمانہ جاہلیت میں پردہ اور حجاب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ یہودو نصاریٰ ، یونانی، ایرانی اور ہندی معاشرے کے افراد اپنی اپنی تہذیبوں اور تقاضوں کے علم بردار تھے۔ ان کے یہاں مذہب، پردے یا حجاب کا کوئی تصور یا قانون نہیں تھا لیکن بعد از اسلام جوں جوں مسلمانوں کے تمدن و معاشرت کی بنیاد بڑھتی گئی، حتی کہ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کے شرم و حیاءاور لفظ ننگ و ناموس کی پوری پوری حد بندی کردی۔

اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہے کہ مسلمان عورتیں اس آیت کے نزول سے قبل بھی چادر اوڑھا کرتی تھیں، لیکن کسی اور طریقہ پر آیت کریمہ میں چادر اوڑھنے کا ڈھنگ بتا کر اسے شرعی پردہ قرار دیا، بلکہ انہیں چادر اوڑھنا لازمی قراردے دیا۔[13]

زمانہ جاہلیت میں پردے کا بھی کوئی خاص نظام نہیں تھا اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " tbös%ur ’Îû £`ä3Ï?qã‹ç/ Ÿwur šÆô_§Žy9s? yl•Žy9s? Ïp¨ŠÎ=Îg»yfø9$# 4’n<rW{$#  "[14]  اس آیت میں جاہلیت اولیٰ سے ظاہرا مراد جو پیغمبر ؐ کے زمانہ سے پہلے تھی اور جیسا کہ تواریخ میں آیا ہے کہ اس زمانے میں عورتیں ٹھیک طرح پردہ نہیں کرتی تھیں۔ دوپٹے کا ایک حصہ اپنی پشت پر اس طرح ڈال لیتی تھیں جس سے ان کا گلا، سینہ اور گردن کا ایک حصہ دکھائی دیتے تھے۔ قرآن پیغمبر ؐکی ازواج کو اس قسم کے اعمال سے روکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک عام حکم ہے اور آیات کا ازدواج پیغمبر ؐ کو مخاطب کرنا زیادہ تاکید کے لئے ہے۔ بہر حال یہ تعبیر نشاندھی کرتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں پردے کا کوئی خاص نظام نہیں تھا۔[15]

زمانہ جاہلیت کے وسوسے:

§NèO tAt“Rr& Nä3ø‹n=tæ .`ÏiB ω÷èt/ ÉdOtóø9$# ZpuZtBr& $U™$yèœR 4Óy´øótƒ Zpxÿͬ!$sÛ öNä3ZÏiB ۔۔۔۔۔۔ [16]واقعہ  احد کے بعد والی رات بہت دردناک اور اضطراب انگیز تھی۔ مسلمان سمجھتے تھے کہ قریش کے فاتح سپاہی دوبارہ مدینہ کی طرف پلٹ آئیں گے اور مسلمانوں کے باقی ماندہ مقابلہ کی طاقت ختم کردیں گے اور شاید کسی طور پر بت پرستوں کے واپس آنے کی خبر بھی انہیں آپہنچی تھی اور یہ مسلم تھا کہ اگر وہ پلٹ آتے تو جنگ کا خطرناک ترین مرحلہ پیش آتا۔ اس دوران مجاہدین اور فرار کرنے والوں میں سے پشیمان افراد جنہوں نے توبہ کرلی تھی اب پروردگار کے لطف و کرم پر اعتماد رکھتے تھے اور آئندہ کے لئے پیغمبر اکرم ؐ کے وعدوں پر مطمئن تھے۔

اس حالت میں وحشت میں وہ آرام کی نیند سوگئے تھے جبکہ جنگی لباس میں ملبوس اور ہتھیاروں سے لیس تھے لیکن منافق، ضعف الایمان اور بزدل گروہ ساری رات فکر و پریشانی میں مبتلا رہا اور بادل نخواستہ حقیقی مومنین کی پہرہ داری کرتا رہا۔ درج بالا آیت رات کی اس کیفیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پھر احد کے دن ان تمام غم و اندوہ کے بعد تم پر امن و امان اور راحت و آرام نازل کیا اور یہ وہی ہلکی پھلکی نیند تھی جو تم میں سے ایک گروہ کو آئی۔ لیکن ایک ایسا گروہ بھی تھا کہ جسے صرف اپنی جان کی فکر تھی وہ لوگ سوائے اپنی جانیں بچانے کے اور کوئی چیز نہیں سوچتے تھے۔ اس لئے وہ راحت و آرام سے محروم ہوگئے تھے۔

یہ ایمان کا ایک اہم ترین ثمرہ ہے کہ مرد مومن اس دنیا میں بھی راحب و آرام سے رہتا ہے جبکہ بے ایمان یا منافق اور کمزور ایمان والے افراد کبھی بھی اس کا ذائقہ نہیں چکھتے۔ بعد اذاں قرآن منافقین اور کمزور ایمان والے افراد کی گفتگو اور طرز فکر کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "یظنون بااللہ غیر الحق ظن الجاہلیۃ " وہ خدا کے بارے میں زمانہ جاہلیت کا غلط اور ناحق گمان رکھتے  اور اپنی گفتگو میں کہتے شاید پیغمبر کے وعدہ غلط ہوں۔

ربا:

ربا اور سود اس قدر رائج تھا کہ تقریبا تمام ہی لوگ اس رسم کو جائز سمجھ کر انجام دیتے تھے اور سرمایہ  دار اس سے خوب استفادہ کرتے تھے اگر مد مقابل سرمایہ داروں کو اصل رقم مع سود واپس نہیں کر پاتا تھاتو سرمایہ دار اس کو، اس کی جائداد و مکان حتی بیوی بچوں کو غلام بنالیا کرتے تھے۔[17]

اولاد کو بتوں پر قربان کرنا:

گذشتہ چند آیات میں زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام اور قبیح اور شرمناک رسموں سے متعلق گفتگو تھی منجملہ ان کے اپنی اولاد کو بتوں کی قربانی کے طور پر قتل کرنا، اپنے قبیلہ اور خاندان کی حیثیت و عزت کو محفوظ رکھنے کے نام پر اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا اور اسی طرح کچھ حلال نعمتوں کے حرام کر لینا تھا، اس آیت میں بڑی سختی کے ساتھ ان تمام اعمال و احکام کو جرم قرار دیتے ہوئے ساتھ مختلف تعبیروں کے ساتھ جو مختصر جملوں میں ہے لییکن وہ بہت ہی رسا اور جاذب توجہ ہے، ان کی وضع و کیفیت کو واضح و روشن کیاگیا ۔

پہلے فرمایا : وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنی اولاد کو حماقت ، بیوقوفی اورجہالت کی بنا پر قتل کیا ہے، انہوں نے نقصان اور خسارہ اٹھایا ہے وہ انسانی اور اخلاقی نظر سے بھی اور احساس کی نظر سے بھی اور اجتماعی و معاشرتی لحاظ سے بھی خسارہ اور نقصان میں گرفتار ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ اور سب سے بڑ کر انہوں نے دوسرے جہاں میں روحانی نقصان اٹھایا ہے۔" ô‰s% uŽÅ£yz tûïÏ%©!$# (#þqè=tGs% öNèdy‰»s9÷rr& $Jgxÿy™ ΎötóÎ/ 5Où=Ïæ "[18]۔

اسجملے میںان کا یہ عمل اولاد ایک قسم کا خسارہہ اور نقصان اور اس کے بعد حماقت ، کم عقلی اور بعد میں جاہلانہ کام کے طور پر متعارف ہوا ہے ان تینوں تعبیرات میں سے ہر ایک تنہا ان کے عمل کی برائی کے تعارف کے لئے کافی ہے، کونسی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے اور کیا یہ حماقت اور بے وقوفی کی انتہا نہیں ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر شرم نہ کریں بلکہ اس پر ایک قسم کا فخر کرے اور اسے عبادت شمار کرے، کونسا علم و دانش اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان ایسا عمل ایک سنت کے طور پر یا اپنے معاشرے میں ایک قانون کے طور پر قبول کرے۔

ظہار:

زمانہ جاہلیت میں مرد اپنی روب جمانے کیلئے ظہار کرتے تھے اس طرح کہ اپنی بیوی کو اپنے ماں یا بہن سے تشبیہ دیتے تھے اور وہ لڑکی اس مرد پر حرام ہو جاتا تھا اور یہ کام دین اسلام میں حرام ہے اور اس پر کفارہ بھی ہے[19]۔

عہد زرین:

زمانہ جاہلیت ادبیات کے لحاظ سے ایک عہد زرین تھا۔ وہی پا برہنہ اور نیم وحشی بادہ نشین بدو تمام تر اقتصادی و معاشرتی محرومیوں کے باوجود ادبی ذوق اور سخن سے سرشار تھے، یہاں تک کہ آج بھی ان کے اشعار ان کے سنہری زمانے کی یاد دلاتے تھے۔ ان کے بہترین اور قیمتی اشعار ادبیات عرب کا سرمایہ ہیں اور حقیقی عربی ادب کے متلاشیوں کے لئے ایک گراں بہا ذخیرہ ہیں۔ یہ بات اس وقت کے عربوں کے تفوق ادبی اور ذوق سخن پروری کی بہترین دلیل ہے۔

عربوں کے زمانہ جاہلیت میں ایک سالانہ میلا لگتا تھا جو بازار عکاظ کے نام سے مشہور تھا یہ ایک ادبی اجتماع کے ساتھ ساتھ سیاسی و دعالتی کانفرنس بھی تھی۔ اسی بازار میں بڑے بڑے اقتصادی سودے بھی ہوتے تھے، شعراء اورسخنواران اپنی اپنی تخلیقات اس کانفرنس میں پیش کرتے ان میں سے بہترین کا انتخاب ہوتا جسے شعر سال کا انتخاب ہوتا۔ ان میں سے سات یا دس قصیدے سبعہ یا عشر معلقہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس عظیم الشان ادبی مقابلے میں کامیابی شاعر اور ان کے قبیلے کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تصور کی جاتی تھی۔

ایسے زمانے میں قرآن نے اپنی مثل لانے کی دعوت انہی لوگوں کو دی اور سب نے اظہار عجز کیا اور اس کے سامنے سرجھکائے[20]۔

رسول اکرم ایک نعمت الٰہی:

حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ "یقیناً اللہ نے محمد ﷺ کو عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اور تنزیل کا امانتدار بنا کر اس وقت بھیجا جب گم گروہ عرب بد ترین دین کے مالک اور بد ترین علاقہ کے رہنے والے تھے، ناہموار پتھروں اور زہریلے سانپوں کے درمیان بودباش رکھتے تھے، گندہ پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کرتے تھے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے بے تکلفی رکھتے تھے۔ بت ان کے درمیان نصب تھے اور گناہ انہیں گیرے ہوئے تھے"[21]۔

ابن کثیر آیت !$yJx. $uZù=y™ö‘r& öNà6‹Ïù Zwqߙu‘ öNà6ZÏiB (#qè=÷Gtƒ öNä3ø‹n=tæ $oYÏG»tƒ#uä öNà6ŠÏj.t“ãƒur ãNà6ßJÏk=yèãƒur |=»tGÅ3ø9$# spyJò6Ïtø:$#ur Nä3ßJÏk=yèãƒur $¨B öNs9 (#qçRqä3s? tbqßJn=÷ès? [22] کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ : یہاں اللہ اپنی بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا جو اللہ کی روشن اور نورانی کتاب کی آیتیں ہماری سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی سرارتوں اور جاہلیت کی کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن اور حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جھل چھایا ہوا تھا، جنہیں صدیوں سے تایکی نے گھیر رکھاتھا، جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تک بھی نہیں پڑتاتھا، دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے اور تکلیف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے، دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بچائے، خود رسول  ؐ کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے۔[23]

حضرت علی ؑ ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :

پروردگار عالم نے حضرت محمد  ؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ آپ لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر عبادت الٰہی کی منزل کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمان کی اطاعت کرائیں۔ اس قرآن کے ذریعہ جسے اس نے واضح اور محکم قرار دیا ہے تاکہ بندے خدا کو نہیں پہچانتے ہیں تو پہچان لیں اور اس کے منکر ہو تو اقرار کر لیں[24]۔

نوید اسلام:

جب عرب معاشرہ جاہلیت سے برے ہوئے تھے ایسے میں حکم الٰہی ہوا اے نبی " ÷íy‰ô¹$$sù $yJÎ/ ãtB÷sè? óÚ̍ôãr&ur Ç`tã tûüÏ.Ύô³ßJø9$#"[25] حضورؐ کے علایہ اللہ کے حکم کی اطاعت اور شرک و بت پرستی کی مذمت، قتل و غارت کی مذمت اور دوسرے جاہلانہ رسم و رواج کی مخالفت سے کچھ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے یہ بات مشرکین کو راس نہ آئی وہ اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے لگے، ظلم و ستم کرنے لگے، نادار مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑا اور آپ  ؐ مدینہ تشریف لے گئے اور باقاعدہ اسلامی ریاست کا آغاز کیا۔

پیامبر اسلامؐ نے علم و دانش کے سلسلہ میں اور اخلاق و عمل کے بارے میں انسان کی تربیت کی تاکہ وہ ان دونوں پروں کے ذریعے آسمان سعادت کی بلندی پر پرواز کریں اور خدائی راستہ کو اختیار کرکے اس کے مقام قرب کو حاصل کریں۔

آپ  ؐ کا پر نور چہرہ چودہویں کی چاند کی مانند درخشان تھے۔ آپ ؐ خلق عظیم کے مالک تھے، آپ ؐ رحمت اللعالمین اور حلم و علم و کرم و سخاوت و عفت و شجاعت اور باقی صفات میں کمال تھے۔ آپ ؐ انسانیت کے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی، اسی بات کی طرف اشار کرتے ہوئے مولا علی ؑ فرماتے ہیں کہ :

"اس امت پر خدا کی نعمتوں کی طرف دیکھو! اس زمانے میں جب اپنے رسول کو ان کی طرف بھیجا تو اپنے دین کا انہیں مطیع بنادیا اور اسکی دعوت کے ساتھ انہیں متحد کیا۔ دیکھو ! اس عظیم نعمت نے اپنے کرامت کے پروبال کس طرح پھیلادیے اور اپنے نعمنتوں کی نہریں ان کی طرف جاری کیں اور دین حق نے اپنی تمام برکتوں کے ساتھ انہیں گھیر لیا وہ اس کی نعمتوں کے درمیان غرق ہیں اور خوش و خرم زندگی میں شادمان ہیں"۔

اور انہی باتوں کو ادامہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

یہ بعثت اس وقت ہوئی جب لوگ ایسے فنتوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی۔ اصول میں شدید اختلاف تھا اور امور میں سخت انتشار۔ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تنگ و تاریک ہوگئے تھے۔ ہدایت گمنام تھی اور گمراہی برسرعام۔ رحمان کی معصیت ہورہی تھی اور شیطان کی نصرت، ایمان یکسر نظر انداز ہوگیا تھا، دین کے ستون گر گئے تھے اور آثار نا قابل شناخت ہوگئے تھے۔ راستے مٹ چکے تھے اور شاہرائیں بے نشان ہوگئی تھیں۔ لوگ شیطان کی اطاعت میں اسی کے راستہ پر چل رہے تھے اور اسی کے چشموں پر وارد ہو رہے تھے۔ انہیں کی وجہ سے شیطان کے پرچم لہرا رہے تھے اور اس کے علم سر بلند تھے، یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیروں تلے رونددیا تھا اور سموں سے کچل دیاتھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے تھے۔ یہ لوگ فتنوں میں حیران و سرگرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے۔ پروردگار عالم نے انہیں اس گھر (مکہ) میں بھیجا جو بہترین مکان تھا لیکن بد ترین ہمسائے۔ جن کے نین بیداری تھی اور جن کا سرمہ آنسو، سرزمین جہاں عالم کو لگام لگی ہوئی اور جاہل محترم تھا۔[26]

اسلام ایک توحیدی مذہب ہے، اسلام دین محبت ہے، دین امن ہے، دین اطاعت ہے اور دین فطرت ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسولؐ  کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی۔ اس دین کے ذریعے محبت کے طلبگار انسان کے دل و دماغ کومسخر کر کے انہیں طغیان و بغاوت اور برائیوں سے روک کر بندگی اور حق و صداقت کی طرف لے جاسکتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں اسلام کو بہت ہی بد معفری کی ہے، مسلمانوں کے اختلافات نے دین کو اتنا بیچارہ کر دیا کہ جو باہر سے آنا چاہتے ہیں ، مسلمان ہونا چاہتے ہیں وہ بھی سوچتا ہے کہ کس طرف جاؤں؟

حضرت علی ؑ فرماتے ہیں کہ "الحکم حکمان، حکم اللہ و حکم الجاہلیہ فمن اخطاحکم اللہ حکم بحکم الجاہلیہ" حکم صرف دو طرح کے ہیں اللہ کا حکم یا جاہلیت کا حکم اور جو خدا کا حکم چھوڑدے اس نے جاہلیت کا حکم اختیار کیا۔

اس سے واضح ہو تا ہے کہ آسمانی احکام کے حامل ہونے کے باوجود آج کے مسلمان دوسری اقوام و ملل کے جعلی قوانین کے جو پیچھے پڑے ہوئے ہیں در حقیقت جاہلیت کے راستے پر گامزن ہیں۔ اسلام وہ دین ہے جس میں ہر چیز کے احکام موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان قوانین کو اپنے طرز زندگی میں شامل کریں۔

منابع:

1.    نہج البلاغہ، ترجمہ علامہ ذیشان ، چ، محفوظ بک ایجنسی ۱۹۹۹ء

2.    تفسیر نمونہ ،ترجمہ علامہ سید صفدر حسین نجفی ، چ، مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ۱۴۱۷ھ

3.    تفسیر در منثور، ضیاء القرآن پبلی کیشنز پاک ۲۰۰۶ء

4.    تفسیر ابن کثیر، مکتبہ قدسیہ پاک، ۲۰۰۶ء

5.    عرب کھن در آستانہ بعثت، موسستہ انتشارات امیر کبیر ، ۱۳۸۴ھ،ق

6.    ترجمہ قرآن، علامہ ذیشان

 

 

 

 

 



[1]           سورہ نساء ۲۲

[2]           تفسیر نمونہ ج۳، ص ۲۳۶

[3]           سورہ مائندہ ۵۰

[4]           تفسیر نمونہ ج۳، ص ۲۰۴ (سورہ مائدہ)

[5]           سورہ بقرہ ۱۹۸

[6]           تفسیر نمونہ ج۲، ص ۳۹

[7]           سورہ بقرہ ۲۰۰

[8]           تفسیر در منثور ص ۲۰۰

[9]           سورہ بقرہ ۱۹۷

[10]          عرب کھن در آستانہ بعثت ۳۱۳، ارزوقی ج۲، ص ۲۲۱

[11]          عرب کھن در آستانہ بعثت ص ۳۰۵

[12]          ابوداود ج۲، ح ۵۰۲

[13]          تفسیر خرائن و العرفان

[14]          سورہ احزاب ۳۳

[15]          تفسیر نمونہ ج۹، ص ۶۲۲

[16]          سورہ آل عمران ۱۵۴

[17]          اسلام و جاہلیت ۶۹۲

[18]          سورہ انعام ۱۴۰

[19]          ترجمہ من لا یحضر الفقیہ ج۵، ص ۲۲۳، باب ظہار

[20]          تفسیر نمونہ ج۱، ص ۸۳

[21]          نہج البلاغہ خطبہ ۲۶، ص ۹۹

[22]          سورہ بقرہ ۱۵۱

[23]          تفسیر ابن کثیر پارہ ۲۰، ص ۲۳۹

[24]          نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷، ص ۲۷۱

[25]          سورہ حجر ۹۴

[26]          نہج البلاغہ خطبہ ۲، ص ۳۷

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه