ہر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی زندگی کو کسی ہدف کے تعاقب میں گزارتا ہے، لیکن ہدف سب کا یکساں نہیں ہوتا بلکہ مختلف ہوتا ہے- ہدف کی تعیین وتشخيص انسان کی اپنی صوابدید پر موقوف ہوتی ہے، جتنا انسان پڑھا لکھا، تعلیم وتربیت یافتہ اور صاحب بصیرت ہوگا اتنا ہی وہ اپنی زندگی کو بلند ہدف کے پیچھے صرف کرے گا - لیکن اس کا برعکس اگر انسان علم وآگاہی سے تہی ہو، اس کی فکری تربیت میں نقص ہو یا وہ بصیرت کا مالک نہ ہو تو بلاشبہ اس کی زندگی کا ہدف پست، محدود اور بے ثمر ہوگا-

 پاکستان میں 20018 کا الیکشن پورے جوش وجزبے سے اختتام پزیر ہوئے- پاکستانی غیور عوام کی توقع سے زیادہ تعداد نے اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر مقررہ دن معینہ مقامات پر ووٹ دینے کے لئے اپنی حاضری کو یقینی بنایا، عوام نے رای دہی کو فریضہ ملی سمجھتے ہوئے اپنی پسند کے امیدوار کو رای دی اور نتیجہ یہ نکلا کہ اکثریت کی رائے سے جناب عمران خان منصب وزارت کے لیے منتخب ہوئے اور کپتان کی جیت سے وطن عزیز پاکستان میں موروثی سیاست کی کمر ٹوٹ کر زمین بوس ہوگئی، جس پر پاکستانی قوم جتنا بھی جشن منائے ہماری نظر میں کم ہے کیونکہ صاحبان فکر ونظر سے یہ پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کے داخلی و خارجی لاینحل مشکلات ومسائل کا سبب اصلی موروثی سیاست کا وجود ہے- عرصے سے پاکستانی عوام موروثی سیاستدانوں کے کھیل سے اپنی جان چھڑانے کا خواب دیکھ رہے تھے اور روایتی وموروثی منحوس سیاست کے بت کو پاش پاش کرنے والے کسی بت شکن کا منتظر تھے- اس سال عمران خان کی شکل میں انہیں وہ بہادر موروثی سیاست شکن انسان ملا جس نے بھاری اکثریت سے ووٹ لے کر موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا اور اسے قصہ پارینہ کا حصہ بنانے میں اپنی ساری توانائیوں کو صرف کرکے عوام کے دل جیت لئے-

 اس سے یہ حقیقت سمجھنے میں بھی دیر نہیں لگتی کہ پاکستانی عوام بیدار ہوچکے ہیں، وہ موروثی سیاستدانوں سے سخت متنفر ہوچکے ہیں، وہ چور لٹیروں کو اپنے ملک میں دیکھنا  تک نہیں چاہتے، وہ سیاست کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا کر حرام خوری کرنے والوں کو اقتدار دینا روا نہیں سمجھتے ہیں-

 ہمارے سیاسی وغير سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ عمران خان وزیراعظم بننے سے کیا پاکستان میں خوشحالی آئے گی؟ نئے وزیراعظم کیا داخلی اور خارجی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ کیا عمران خان، نواز شریف، زرداری اور دوسرے ایک ہی کھیت کے مولی نہیں اور بہت سارے سوالات.... ان سوالات کے جوابات کے بارے میں متعدد آراء و نظریات تجزیہ نگاروں کے قلم سے اخبارات کی زینت بن چکے ہیں- ہماری نظر میں اس حوالے سے پاکستانی عوام کو ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے، ان شاء اللہ پاکستان میں خوشحالی آئے گی - عوام کے مسائل کم ہوں گے اور انہیں سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا، کیونکہ بدحالی کے اسباب جس قدر کم ہوتے جائیں گے اتنا ہی لوگ خوشحالی سے قریب ہوتے جائیں گے- پاکستان اور اس کے باسیوں کی بدحالی کا اصلی سبب موروثی سیاست کے بل بوتے پر نااہل افراد اقتدار کی کرسی پر براجمان رہنا تھا، اس سال کے الیکشن میں عوام نے عمران خان کو ووٹ دے کر اس سلسلے کا خاتمہ کردیا ہے-

 نئے وزیراعظم کا شعار نیا پاکستان ہے- وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن، مساوات اور انصاف کا بول بالا کریں یقینا ان کی تصمیم گیری عوام کی چاہت کے عین مطابق ہے، فقط ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن سے قبل اور بعد وہ عوام سے کئے ہوئے وعدے کو عملی کرکے دکھائیں- اگر چہ رسمی طور پر حلف برداری سے پہلے ہی نئے وزیراعظم جناب عمران خان نے اپنے پہلے غیر سرکاری خطاب میں ایسے اہم نکات کی جانب اشارہ کیا گیا جو یقیناً عوام کے دل کی آواز تھی- اس خطاب میں عمران خان صاحب نے اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا گیا جسے پاکستانی عوام سمیت خارجی ممالک کی طرف سے بڑی پزیرائی ملی اور اس سے پاکستانی انصاف پسند لوگوں کے دل ودماغ میں عمران خان کی محبت میں اضافہ ہوا-

 اب نئے وزیرِ اعظم کو چاہیے کہ آئندہ سوچ سمجھ کر ایسی پالیسیاں مرتب کردیے جائیں جن سے اپنے پہلے خطاب میں کی ہوئی بنیادی باتوں کو عملی جامہ پہناسکیں - اپنی ساکھ اور مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم صاحب زیلی امور پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں

1_ملک کے اندر وباہر آپ سے دشمنی رکھنے والوں کی کمی نہیں ہوگی، وہ آپ کی شخصیت کشی کے لئے ہر حربہ استعمال کریں گے، وہ آپ کی مقبولیت کو کم رنگ کرنے کے لیے چاروں جوانب سے ہاتھ پاؤں ماریں گے، وہ آپ کے بلند عزم وارداے کو پست کرنے کے لیے اپنی توانائیاں خرچ کریں گے، وہ نیا پاکستان بنانے کی راہ میں ضرور کانٹے بچھائیں گے لیکن آپ کو چاہیے پھتر کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے ان کی مخالفت اور دشمنی کی پروا کئے بغیر اپنے بلند عزم کے مطابق استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھیں -

2_سابقہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ادوار حکومت میں اقتدار کی قدرت سے بہت زیادہ سوء استفادہ کیا ہے بطور مثال اس نے وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردوں کا جال بچھا دیا، ہزاروں مدارس میں سعودی عرب کے اشارے سے وسیع پیمانے پر تکفیری دہشتگردوں کی تربیت کروائی گئی، پاکستان میں داعش اور طالبان جیسے انسان نما درندوں کو پالا، انہیں باقاعدہ حکومت کی طرف سے فنڈ دیتے رہے در نتیجہ طالبان، القاعدہ داعش اور تکفیری وسلفی درندوں کے ہاتھوں لاتعداد پاکستانی بے گناہ مسلمان شہری ذبح، قتل اور شھید ہوئے، ان دہشتگردوں نے پاکستان اور اس کے باشندوں کی امنیت اور سالمیت کو خطرے میں ڈالا، انہوں نے پاکستانی معاشرے پر ایک خوفناک فضا قائم کی یہاں تک کہ وہ مختلف جلسوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات میں دھماکے اور خودکش حملے کرکے پوری جرات کے ساتھ ان کی ذمہ داری بھی قبول کرتے رہے اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ نواز حکومت نے نہ فقط ان دہشتگردوں کو گرفتار  کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ جو دہشتگرد پہلے سے جیل میں بند تھے انہیں بھی رہائی دلاتی رہی اور ان کی جگہ اپنے کارندوں کے ذریعے نواز حکومت نے بے گناہ پاکستانی شہریوں کو مختلف مقامات سے اٹھوا کر غائب کرواتی رہی اور آج تک غائب ہونے والوں کی اکثریت کے بارے میں یہ تک معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مرچکی ہے- ایسے میں نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ ملک کے چپے چپے میں موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کروادیں اور ان کا خاتمہ کرکے پاکستان کی سالمیت اور پاکستانی قوم کی امنیت کو یقینی بنائیں-

3- نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ پاکستان کے اندر نظام تعلیم کو مضبوط بنانے کے ساتھ غریب اور امیر دونوں کے لیے یکساں طور بھی تعلیم حاصل کرنے کو ممکن بنایا جائیں-

4- عمران خان کو چاہیے جب بھی کوئی پالیسی بنانی ہو تو ضرور تعلیم یافتہ، روشن فکر اور اعلی دماغ والوں کی شناخت حاصل کرکے ان کے مشورے سے پالیسیاں مرتب کردیے جائیں-

4- نئے وزیراعظم کو چاہیے چاپلوس اور شمع مفادات کے گرد گھومنے والے پروانوں پر حد سے ذیادہ اعتماد کرنے کے بجائے ملت اور قوم کی فکر رکھنے والوں پر زیادہ اعتماد کرکے ان کی رای کے مطابق امور حکومت کو ترتیب دیے جائیں-

5-سابقہ حکومتوں نے سرزمین گلگت بلتستان پر زندگی بسر کرنے والے  پاکستان سے حقیقی محبت کرنے والوں کو یکسر طور پر نظر انداز کرکے انہیں انسانی، بنيادی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جو یقیناً ظلم کی انتہا تھی- اب نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دے کر اہلیان گلگت بلتستان کو رسمی طور پر قومی دھارے میں شامل کردیے جائیں-

 6- نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں رشوت، سفارش اور دوسرے غلط معیاروں کی جگہ فقط لیاقت، صلاحیت اور قابلیت کو معیار قرار دئیے جائیں-

7- نئے وزیراعظم کو چاہیے کہ پاکستان کے اندر جزا وسزا کے نظام کو مؤثر بنایا جائے اور امور مملکت چلانے کے لئے آغیار کی غلامی قبول کرکے ان کے اشارے سے ملک کا نظام بنانے کے بجائے استقلال اور آزادی سے خود اپنے پاکستانی صالح مفکروں اور دانشوروں کے صلاح و مشورے سے ملک کا نظام تشکیل دئیے جائیں-

اگر نئے وزیراعظم جناب عمران خان مذکورہ نکات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے تو نیا پاکستان بننے میں کوئی دیر نہیں لگے گی

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه