کرہ ارض پر موجود انسانوں کو ایک اعتبار سے ہم دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں، بعض ہدف زندگی کو سمجھ کر اس کے حصول کی راہ میں اپنی زندگی کے لمحات گزار رہے ہیں جب کہ بہت سارے انسان اپنی زندگی کے ہدف سے کوسوں دور رہ کر زندگی بسر کررہے ہیں ، درنتیجہ وہ افراد جو ہدف زندگی سے آگاہ ہوکر جی رہے ہیں ان کی زندگی کامیاب اور وہ لوگ جو ہدف زندگی سے ناداں رہ کر حیوانوں کی طرح کھا پیکر موت کی طرف رواں دواں ہیں ان کی زندگی قطعی طور پر  ناکامی سے دوچار ہوچکی ہوتی  ہے.

 اس حقیقت میں شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات میں انسان کی زندگی کا ہدف شفاف طور پر بیان ہوا ہے یہ اور بات ہے کہ کچھ نام نہاد مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے مادی مفادات تک رسائی حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا ہدف قرار دے رکھا ہے، چنانچہ وہ اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے فطرت، انسانیت ،ضمیر اور حکم عقل کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس کرنے کی صورت میں بلاجھک وہ ان اقدامات کو عملی کر بیٹھتے ہیں  جس کی زندہ مثال آل سعود ہےجس نے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر امریکہ واسرائیل کے اشارے سے اہل یمن پر جنگ مسلط کررکھی ہے ـ

اہل یمن پر خادم حرمین کے دعویدار آل سعود کے مظالم روز بروز بڑھتے جارہے ہیں ـ ستم کی کوئی ایسی نوعیت باقی نہیں رہی ہے جس سے سعود آل یہود نے یمن کے مظلوم مسلمانوں کو نہیں آزمایا ہوـ

 حیرت آل سعود کی بربربیت اور مظالم پر نہیں ہونی چاہیے ،کیونکہ جو چیز انسان کو دوسروں پر ظلم اور ناروا سلوک کرنے سے روکتی اور منع کرتی ہے وہ ایمان ہے، جو لوگ اپنی فطرت کی آواز اور ندائے عقل پر لبیک کہتے ہوئے دائرہ اسلام میں قدم رکھتے ہیں اللہ اور اس کے برحق رسولوں نیز اس کی کتاب پر دل وجان سے ایمان لاتے ہیں انہیں ان کا دین دوسرے بے گناہ افراد کو ستم کا نشانہ بنانے سے روکتا ہے ،آل سعود مسلمان ہونے کے دعویدار تو ہیں مگر اسلام اور ایمان کی کوئی نشانی اور علامت ان کی عملی زندگی میں دکھائی نہیں دیتی، چونکہ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں تو دوسروں پر رحم وکرم اور دوسروں سے پیار و محبت کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، دین مبین نے تو مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد اور نصرت کرنے پر زور دیا گیا ہے، اسلام کی نظر میں تو مسلمانان خواہ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی رہتے ہوں ایک ہی جسم کے اعضاء کی مانند ہیں، دنیا کے مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کے اندر اللہ تعالی کا یہ حکم ہے کہ تم لوگ آپس میں متحد رہیں، ایک دوسرے سے مربوط رہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں، اے مسلمانو: تم اپنے دشمن یعنی کفار اور مشرکین  کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر رہیں، اللہ اور رسول کے دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں بلکہ ان سے دوری، بیزاری اور برائت کا اظہار کرتے رہیں ،تم ہر وقت یک زبان ہوکر اپنے دشمنوں کی سرکوبی اور سرنگونی کے لئے آواز بلند کرتے رہیں ـ

خادم حرمین شریفین کے دعویدار آل سعود نے اسلام کی ان زرین تعلیمات کو یکسر طور پر نظر انداز کیا بلکہ وہ کھل کر اسلامی اصولوں کی مخالفت کرنے پر کمر بستہ ہوگئے، انہوں نے یمنی مسلمانوں کو عرصہ دراز سے اپنے وحشانہ ظلم وبربریت کا نشانہ بنا کر دنیا والوں پر یہ واضح کردیا کہ حقیقی اسلام کے اصولوں، تعلیمات ،قوانین اور احکامات سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، ہمارے لئے جو چیز عزیز ہے وہ اپنے مادی مفادات ہیں اور ہماری اس راہ میں جو لوگ یا قوم مانع بن جائے گی ہم اسے صفحہ ہستی سے مٹاکر ہی دم لیں گے، ہم اپنے آبا واجداد سے وراثت میں ملی ہوئی اس منطق پر باور قلبی رکھتے ہیں کہ مادی منافع نقد ہیں اور  اسلام کے اصول وقوانین پر عمل کرنے کے نتیجے میں مرنے کے بعد ملنے والے اجر وثواب ادھار ہیں عاقل انسان کھبی بھی ادھار کو نقد پر ترجیح نہیں دیتاـ

 انہوں نے عملا یہ ثابت کردکھایا کہ ہم تو اسلام کا فقط نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن میدان عمل میں ہم آزاد ہیں ـ ہماری مرضی ہے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جیسا سلوک رکھیں ، ہمارا اختیار ہے کہ ہم کفار سے دوستی کریں یا مسلمانوں سے ـ دوستی اور دشمنی کرنے کے لئے ہمارا ملاک اور معیار اپنے مفادات ہیں ـ

 چنانچہ اسی معیار کے مطابق آج آل سعود یمن سمیت ایران کے سخت دشمن اور مسلمانوں کے حقیقی دشمن امریکہ واسرائیل کے صمیمی دوست بنے ہوئے ہیں ـ اب تو پوری دنیا جان چکی ہے کہ آل سعود اسلام کے لباس میں چھپ کر اسلام کے اصلی دشمن امریکہ واسرائیل کے اہداف ومقاصد پورا کرنے کے لئے شب وروز کوشش کررہے ہیں ، آل سعود نے یمنی مسلمانوں پر جنگ مسلط کرکے اپنا مکروہ منافقانہ چہرہ دنیا والوں کے سامنے عیاں کردیا ہے۔ اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس بات پر یقین ہوگیا ہے کہ مسلم دنیا کو امریکہ واسرائیل سے زیادہ خطرہ آل سعود سے ہے  چونکہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ صدر اسلام میں بھی دین مقدس اسلام کو جتنا نقصان منافقین نے پہنچایا ہے کفار ومشرکین نے نہیں پہنچایا لہذا آل سعود سے جارحیت وحشت اور ظلم وبربریت کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی ـ

 تعجب ان بے ضمیر آل سعود کے ریال پر پلنے والے نام نہاد مسلمانوں پر کرنا چاہیے جو آل سعود کی منافقت اور یمنی غریب مسلمانوں کو مسلسل تین سالوں سے خون ناحق کے سمندر میں ابدی نیند سلانے کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں ، وہ آل سعود کے اس قبیح عمل کی مزمت تک کرنے کو روا نہیں سمجھتے ہیں ـ  تعجب ان مولویوں کی کج فہمی و فکری پر ہونا چاہیے جو یمنی مسلمانوں پر جارح سعودی عرب کی طرف سے ہونے والے مظالم کو فرقہ واریت کا رنگ چڑھا کر اس برے اقدام کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ـ 

حیرت ان تجزیہ نگار اور قلمکاروں پر ہونی چاہیے جو برما ،کشمیر اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم دکھائی دیتے ہیں ، وہ ان مقامات پر ستم کے شکار مظلوموں کے مسلمان ہونے پر یقین رکھتے ہیں ،  وہ ان کے حق میں اپنی قلمی طاقت کے زریعے آواز بلند کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے لکھتے ہیں لیکن افسوس ! انہیں بھی یمنی مسلمانوں پر ہونے والے سعود آل یہود کے مظالم نظر نہیں آتے ہیں، وہ بھی کچھ ناداں اور جاہل سعودی ریال پر پلنے والے مولویوں کی طرح یمن کے مظلوم مسلمانوں کو مسلمان سمجھ کر اپنی قلمی طاقت ان کے حق اور حمایت میں چلانے کو حرام سمجھتے ہیں !!

 انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ سعودی عرب اتنے وسیع پیمانے پر اہل یمن پر ظلم کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں تو کم از کم پڑھے لکھے اہل قلم کو تو بلاتعصب اس پر قلم اٹھانا چاہیے تھا اندازہ لگالیجیے کہ تسنیم خیالی کی نقل کے مطابق یمن میں 3سال سے جاری جنگ میں اب تک 14291یمنی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں مردوں کی تعداد 9148، خواتین کی تعداد 2086 جبکہ بچوں کی تعداد 3057ہے اور اس جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 22537 تک جاپہنچی ہے، 21ملین یمنیوں کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہوچکی ہے اور 9ملین سے زائد یمنی بھوک کا شکار ہیں، علاوہ ازین 2ملین یمنی بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے جن میں سے نصف ملین بچے موت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، یہ ہے یمنی مظلوم مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالات ہم  فقط اتنا عرض کریں گے کہ اہل یمن نرغہ اعداء میں .... امت مسلمہ کہاں ہے؟

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه