تجربہ طولانی پکار پکار کر یہ اعلان کررہا ہے کہ امریکہ کسی ملک کا خیر خواہ ہرگز نہیں ـ اس نے جس ملک کے ساتھ بھی دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے بالآخر اسے سر اٹھانے کے قابل نہیں رکھا  جس کا موجودہ آشکارا نمونہ سعودی عرب ہے ـ امریکہ کی دوستی وقتی اور عارضی ہوتی ہے ، وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے مختلف ملکوں کے سربراہوں سے  اظہار محبت ضرور کرتا ہے مگر مفادات حاصل کرنے کے بعد یا اپنا مقصد پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ انہیں نابود کرنے کو اپنا مسلمہ حق گردانتا ہے ـ

 امریکہ کے بارے میں یوں کہنا بے جانہ ہوگا کہ پوری دنیا میں جس ملک کی پہچان شرپسندی ہے وہ امریکہ ہے جو فقط مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دیرینہ دشمن ہے ـ یہ کرہ ارض پر موجود وہ بدنصیب ملک ہے جو دہشتگردی سے لیکر تمام انسانی فطرت کے خلاف کاموں کی سرپرستی کرنے میں نظیر نہیں رکھتا ـ یہ تمام شرپسند عناصر کا علمبردار ہے جو زندہ ضمیر انسانوں کے ہاں اس وقت ام الفساد کے نام سے معروف ہے ـ بلا تردید آج یمن شام عراق سمیت پوری دنیا میں ہونے والی جنگہوں اور قتل عام کا سرخیل امریکہ ہے ، جس نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کا دشمن بنایا، مسلمانوں کے درمیاں مذہبی نفرت ایجاد کی ، اتحاد مسلمین پر ضربہ لگایا، مسلم معاشرے میں اسلامی پاکیزہ ثقافت کی جگہ اپنی ناپاک رسومات کو عام کرکے جوانوں کے شفاف ذہنوں کو آلودہ کیا ، روشن خیالی کے نام سے ہماری تعلیمی درسگاہوں میں پڑھنے والے طلبہ وطالبات سے حقیقی آذادی کی نعمت چھین لی ، ہماری جدید نسل کو بے ہودہ کاموں میں مصروف رکھ کر ان کے ارتقاء اور تکامل کی راہ میں روڑے اٹکائےمختصر یہ کہ دنیا میں امریکہ لڑاؤ اور حکومت کرو کی غلط پالیسی کے مطابق چل کر اپنے مفادات حاصل کرنے میں پیش پیش ہے ـ

مگر افسوس ! پوری دنیا میں انسانیت کے خون سے ہولی کھیلنے والے بدنام زمانہ ملک امریکہ کے بارے میں آج ہمارے بصیرت کی قوت سے عاری کچھ نام نہاد مغربی تعلیم یافتہ لوگ تعریف کرتے نہیں تھکتے ـ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ سے بڑھ کر کوئی ترقی یافتہ ملک نہیں ، علم اور ٹیکنالوجی سے لیکر زندگی کے تمام شعبوں میں پیشرفت کے حوالے سے امریکہ اپنی مثال آپ ہے ، اس کا اقتصاد اس قدر مضبوط ہے کہ ہر سال وہ دنیا کے مختلف ممالک کی مدد کرتا ہے ، اگر کوئی سکون اور مسرت سے لبریز زندگی گزارنے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے امریکہ کا رخ کرنا چاہئے یا کم از کم اس کے افکار کا خوگر بننے کی کوشش کرنا ضروری ہے ، تعلیمی میدان میں استحکام کی چوٹی پر قدم رکھنے کے لئے امریکی نظام تعلیم کے مطابق پڑھنا واجب ہے، جب تک انسان امریکی زبان میں مہارت حاصل نہیں کرتا ہے تب تک وہ علمی قابلیت اور استعداد  کا حامل ہونا ممکن نہیں وغیرہ...

 پاکستان کے اندر اس طرح کی توہمات کا نہ فقط عام معاشرے کے پڑھے لکھے افراد کی اکثریت شکار ہے بلکہ ہمارے حکمران سمیت کالجز اور یونیورسٹیز  کے فعال لوگوں کی اکثریت

 کایہ پکا عقیدہ بنا ہوا ہے کہ پاکستان کے معاشرے کی ترقی وپیشرفت کا منحصر راستہ یہ ہے کہ لوگ انگریزی زبان پرمسلط ہوجائیں اور اسی زبان میں ہی اداروں میں فعال رہتے ہوئے کارکردگی دکھائیں ـ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستانی معاشرے میں حکمرانوں سے لیکر عام طبقے کے لوگ اپنی قوم زبان میں دوسروں سے ہمکلام ہونے کے بجائے ٹوٹے پھوٹے انگریزی کے الفاظ جوڑ کر بات کرنے اور گفتگو کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، وہ اپنی قومی زبان اردو میں بات کرنے سے احتیاط کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو کہیں ان کے غیر تعلیم یافتہ ہونے کا احساس نہ ہوجائے ـ جب کہ یہ سارا وہم وخیال کے سوا کچھ نہیں ـ حقیقت سے اس کا دور کا  بھی تعلق نہیں ـ ایسے افراد کو توہم پرستی کے بجائے حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ـ حقیقت پر مبنی بات یہ ہے کہ ایسی ذہنیت کو غلامانہ ذہنیت کہلاتی ہے ، یہ طے ہے جس قوم پر غلامانہ ذہنیت حاکم رہے وہ کھبی بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوسکتی ـ درست ہے امریکہ کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں نکلتا کہ ہم ترقی کا خواب دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کرکے اس کی اندہی تقلید کریں اور اس کا غلام مطلق بن جائیں بلکہ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی ترقی وپیشرفت کے رازوں کا کھوج لگائیں اور ان عوامل پر غور کریں جن کا امریکہ سمیت مغربی ممالک کی پیشرفت میں بنیادی کردار ہے جب اس کی ترقی کے رازوں اور اسباب کو پالیں گے تو انہیں بروئے کار لانے کی کوشش بھی کریں ـ

 غور کرنے والے جانتے ہیں کہ امریکہ کی ترقی کا اہم راز یہ ہے کہ اس نے نہ فقط اپنانظام تعلیم اپنی زبان میں استوار کررکھا ہے بلکہ قومی اداروں میں کام کرنے والوں سے لیکر عام پبلک کو اپنی زبان میں ہی گفتگو کرنے پر پابند کررکھا ہے ، اس کے باسی غیر ملکی زبان میں بات کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں ، یہی وجہ ہے  کہ امریکہ جن امور پر پوری توجہ سے شب وروز ایک کرکے کام کررہا ہے، ٹھیک ٹھاک خرچ کررہا ہے ان میں سے ایک اپنی زبان کی اشاعت ہے ـ وہ پوری دنیا میں اپنی زبان رائج کروانے کی کوشش کررہا ہے چنانچہ اس ہدف میں اسے بہت زیادہ کامیابی ھاتھ آئی ـ آج کچھ ملکوں کو چھوڑ کر جگہ جگہ امریکی زبان استعمال کرنے پر لوگ افتخار کرتے ہیں ـ اس حقیقت سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ انگریزی زبان ایک پیشرفتہ زبان ہے جس کی وجہ سے اسے ضرور سیکھ لینی چاہئے لیکن ترقی کا اصلی راز اسی کو قرار دینا زیادتی ہے ـ

 ترقی کا حقیقی راز علم اور خود اعتمادی ہے ـ جو قوم خود اعتمادی کے ساتھ علمی میدان میں جتنا آگے جائے گی ترقی اس کا مقدر بنتی چلی جائے گی اور وہی قومیں خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال ہوکر علمی میدان میں کمالات حاصل کرسکتی ہیں جو غلامانہ ذہنیت کے ذندان سے آذاد رہ کر اپنی زبان میں ہی علمی مدارج طے کریں گی ـ عالم خارج میں جس کی بہترین مثال چین ، جاپان،  روس اور ایران ہے ـ ان ترقی یافتہ ممالک نے عملی طور پر دنیا کی قوموں کو یہ ثابت کردکھایا کہ کامیابی اور ترقی انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی بہتر طریقے سے کی جاسکتی ہے ـ اسلامی جمہوریہ ایران کے پرائمری سکولز سے لیکر کالجز ویونیورسٹریز تک میں نصاب تعلیم کی کتابیں فارسی میں ہیں جنہیں اساتذہ فخر سے پڑھاتے ہیں اور شاگرد احساس فخر سے پڑھتے ہیں ـ اس ملک کی پارلیمنٹ کے ارکان سے لیکر دوسرے تمام اداروں میں لوگ فارسی میں ہی فخر سے گفتگو کرتے ہیں ـ فارسی زبان میں ہی علم کی روشنی سے منور ہوکر طالب علم انجئنر ، ڈاکٹر ، سیاستدان ، مفکر و.... بنتے ہیں ـ ان کے حکمران دوسرے ملکوں کے دورے کے موقع پر جہاں بھی خطاب کرنا پڑے اپنی زبان میں خطاب کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے اور سرکاری سرپرستی میں ایرانی دانشمند اپنی قومی زبان کی ترویج کے لئے وسیع پیمانے پر محنت کررہے ہیں ـ وہ جدید چیزوں کے لئے فارسی الفاظ اختراع کرکے ان کے استعمال کو معاشرے میں عام کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ـ مثلا جب کمپیوٹر آیا تو فارسی میں اس کا نام رایانہ اور موبائل کے لئے گوشی رکھ دیا گیا ، اسی طرح ہر نئی ایجادات مارکیٹ میں آنے سے پہلے وہ فارسی میں ضرور ان کے لئے نام وضع کرتے ہیں ـ لیکن پاکستانی حکمران ابھی تک احساس کمتری کا شکار ہیں ـ وہ اپنی قومی زبان کو دوسرے ملکوں میں رائج کروانے کی سوچ تو کجا خود اپنے ملکی اداروں میں اسے رسمی کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں ـ وہ اردو زبان میں تعلیمی اداروں کی نصابی کتابیں تیار کرکے بچوں کو پڑھوانے کو اپنی خفت سمجھتے ہیں ـ  کانفرنسوں اور اپنی قوم سے خطاب وہ انگریزی میں کرنے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے آج پاکستان کے ذھین بچوں کی صلاحیتیں پراوان چڑھ کر شکوفا ہونے میں بہت وقت لگتا ہے ـ بہت سارے بچے ضایع ہوجاتے ہیں ـ ان میں بے اعتمادی اور احساس کمتری کی بیماری بڑھتی جارہی ہے در نتیجہ ملک اور قوم کی ترقی کا پہیہ جام ہے ـ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران ، قوم، خصوصا پڑھے لکھے افراد امریکہ کو سمجھیں اور تعلیمی میدان میں نظام تعلیم اپنی قومی زبان میں استوار کرنے کا حکومت سے مطالبہ کریں ـ فی الوقت پاکستانی قوم اور حکمرانوں پر غلامانہ ذہنیت حاکم ہے!

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه