حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے تین ماہ کی خاموشی کے بعد ہفتہ 26 جنوری کی رات لبنان کے نیوز چینل المیادین کے نمائندے سے تین گھنٹے سے زیادہ تفصیلی بات چیت کی۔ اس انٹرویو میں انہوں نے ترکی، یمن، سعودی عرب، شام اور اسرائیل کے بارے میں اہم نکات بیان کئے ہیں۔ سید حسن نصراللہ کے انٹرویو کا اہم ترین حصہ اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں اسرائیل کی مسلسل ناکامیوں اور شکست پر مشتمل تھا۔ درحقیقت حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اپنے اس انٹرویو میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی اسٹریٹجی واضح کی ہے۔ تحریر حاضر میں اس انٹرویو کے چند اہم نکات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

شام سے ایران کو نکال باہر کرنا گذشتہ چند برس کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے اہم ترین اہداف میں سے ایک رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ اور اسرائیل نے دمشق پر شدید دباو ڈال رکھا ہے۔ درحقیقت اسرائیل گولان ہائٹس تک ایران کی رسائی کو تل ابیب کے گرد سکیورٹی گھیرا مزید تنگ ہو جانے کے مترادف قرار دیتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد بہت سے اسرائیلی حکام نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایران کے مقابلے میں اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دینے کے مترادف قرار دیا۔ مزید برآں، گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل نے شام میں جتنے بھی ہوائی حملے انجام دیے ہیں ان کا مقصد شام میں ایران کے مبینہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بیان کیا ہے۔ درحقیقت اسرائیل دمشق پر دباو ڈال کر شام سے ایران کی حمایت یافتہ قوتوں کے انخلا کا مقدمہ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ اس بارے میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا: “صہیونی دشمن شام سے ایران کو نکال باہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن ان کی بھاگ دوڑ کا نتیجہ کیا نکلا؟ انہیں شکست کا سامنا ہوا۔ شام میں اسرائیل کی تمام امیدوں پر پانی پھر چکا ہے اور 2011ء سے شروع ہونے والی اس کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ شام سے ایران کو نکال باہر کرنے کا مقصد بھی سیاسی اور فوجی دونوں میدانوں میں ناکام ہو چکا ہے۔”

اسی طرح گذشتہ چند سالوں کے دوران اسرائیل کا ایک اور اسٹریٹجک ہدف حزب اللہ لبنان کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر تباہ کرنا تھا۔ اسرائیل ٹی وی کے چینل نمبر 2 نے حال ہی میں حزب اللہ لبنان کی میزائل طاقت کے بارے میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے پاس اس وقت 150000 میزائل موجود ہیں۔ یہ امر اسرائیل کیلئے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں اور بہت بڑا سکیورٹی خطرہ محسوب ہوتا ہے۔ لہذا گذشتہ چند برس میں اسرائیل نے بارہا ایسی فوجی کاروائیاں انجام دی ہیں جن کا مقصد حزب اللہ لبنان کی لاجسٹک سپورٹ کاٹنا اور اسلحہ کی سپلائی روکنا بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اسرائیل اپنے اس مقصد میں بھی بری طرح ناکام رہا ہے۔ اس بارے میں سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: “تم نے لاجسٹک سپلائی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاکہ گائیڈڈ میزائل اور جدید اسلحہ حزب اللہ تک نہ پہنچے۔ آئزنکوت نے اعلان کیا ہے کہ ہم نے اس مقصد کیلئے دو سو کاروائیاں انجام دی ہیں۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ تم لوگ ہماری ضرورت کا سامان لبنان تک پہنچنے سے نہیں روک سکے۔ پس تمہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”

سید حسن نصراللہ کے انٹرویو کے اہم ترین نکات میں سے ایک اسرائیل کے نارتھ شیلڈ آپریشن اور حزب اللہ لبنان کی سرنگوں کو تباہ کرنے کے دعوے سے متعلق تھا۔ انہوں نے اس موضوع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح طور پر تصدیق کئے بغیر ان سرنگوں کی موجودگی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ امر سب سے پہلے اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیز کی شکست اور ناکامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ ان میں سے بعض سرنگیں ایسی تھیں جو گذشتہ 13 برس سے موجود تھیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نارتھ شیلڈ آپریشن کے ذریعے یہودی آبادکاروں کے دل میں خوف اور وحشت پیدا کر دی ہے اور نفسیاتی جنگ کے میدان میں ہماری خدمت کی ہے کیونکہ یہودی بستیوں کے باسیوں کے دل میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے اور اب وہ ہر آواز سن کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کے اس انٹرویو کا دو پہلووں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ حزب اللہ لبنان کی جانب سے اسرائیل کو کسی قسم کے جارحانہ اقدام کی صورت میں شدید ردعمل کی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں اسرائیل کو بالواسطہ طور پر کنٹرول کرنے کی ایران کی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایران اسرائیل سے براہ راست ٹکر لئے بغیر اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں عراق کے جہادی گروہوں نے بھی اسرائیل کو کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں شدید نتائج کی دھمکی دی ہے۔ دوسرا پہلو یہ کہ سید حسن نصراللہ کے بیان کردہ نکات درحقیقت اسلامی مزاحمتی بلاک کی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا اہم ترین نکتہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں اسرائیل کی حتمی شکست اور ناکامی ہے۔ شاید سید حسن نصراللہ کے انٹرویو کا اہم ترین نکتہ جو درحقیقت اسلامی مزاحمتی بلاک کی نئی حکمت عملی بھی قرار دیا جا سکتا ہے ان کا یہ جملہ ہو کہ “آج تک دشمن کہتا آیا ہے کہ ہمارے تمام آپشنز ٹیبل پر موجود ہیں لیکن آج اسلامی مزاحمت یہ کہنے کی پوزیشن میں ہے کہ ہمارے تمام آپشنز ٹیبل پر موجود ہیں۔”

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه