11فروری 1979ء کو ایران کی سرزمین پر انقلاب اسلامی کا سورج طلوع ہوا، اسی وقت سے آج تک استعماری طاقتیں اس کے خلاف پر سر پیکار ہیں، اسے کمزور کرنے کے لئے وہ مختلف طریقوں سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی آئی ہیں، کیونکہ انقلاب اسلامی ان کے مفادات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہےـ اس سے پہلے امریکہ اور اسرائیل شتر بے مہار کی طرح آزاد تھے، وہ اپنی مرضی سے پوری دنیا پر بالواسطہ یا بلاواسطہ حکمرانی کررہے تھے، وہ دنیا کے ممالک کے حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر بعض کو لالچ اور طمع دلاکر اپنے قبضہ قدرت میں لیتے، پھر ان ملکوں کے قیمتی زخائر سے ناجائز استفادہ کرتے، ان کے تیل، معدنیات سمیت دوسرے منافع بخش منابع کی ثروتوں کو غصب کرکے لے جاتےـ دنیا کے کسی بھی ملک میں جب وہ اپنے خلاف مزاحمت کا ذرہ برابر احساس کرتے تو فوری طوری طور پر اس ملک کے لوگوں کو آپس میں لڑاتے اور انہیں آپس میں متحد ہونے نہیں دیتے تھے۔

درنتیجہ ان کے خلاف ابھری ہوئی مزاحمت دب جاتی، چنانچہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے دن تک وہ "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر پوری دنیا کے کمزور ممالک کو اپنا غلام بنا کر ان پر حکومت کرتے رہے لیکن انقلاب اسلامی نے ان کی اس غلط پالیسی پر خط بطلان کھینچا، اس کے خلاف آواز بلند کی، دنیا کے محکوم قوموں کو بیدار کیا، انہیں یہ بتلا دیا کہ امریکہ اور اسرائیل غاصب اور ظالم ہیں، جن کے خلاف قیام کرنا ضروری ہے، سپر طاقت امریکہ نہیں خدا کی ذات ہے، یوں انقلاب اسلامی نے ان کے ظلم اور فسادات کا راستہ روکا، ان کے انسانیت کے خلاف مروجہ اقدامات کی کھل کر مخالفت کی، دنیا کے مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ یاد دلائی، انہیں یہ بات پر باور کروائی کہ اگر مسلمان متحد رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کا بال بھیکا نہیں کرسکتی، دنیا کے مسلمانوں کے سامنے استعماری طاقتوں کی کوئی حیثیت نہیں، اس انقلاب کے بانی امام خمینی رح نے یہ واضح طور پر اعلان کیا کہ اگر دنیا کے مسلمان جمع ہوکر ایک ایک بالٹی پانی گرادیں تو اسرائیل صفحہ ہستی سے بہ جائے گا اور یہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گاـ

بانی انقلاب اسلامی کا یہ فرمان اور اس طرح کے دوسرے حکیمانہ فرمودات نے استعماری طاقتوں پر لرزہ طاری کردیا، انہیں یقین ہوا کہ ایران کا انقلاب دنیا کے دوسرے انقلابوں کی طرح نہیں ہے۔ لہذا یہ ہمارے گلے کا پھندہ ثابت ہوگا، اس خوف سے بزعم خود وہ اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح منصوبہ بندی کرنے پر مجبور ہوگئے، جس کے لئے انہوں نے غیر معقول اور غیر منطقی روش اپنائی۔

شروع میں استعماری طاقتوں نے متحد ہوکر ایران کے خلاف اپنی دشمنی کا مظاھرہ کیا، مختلف اقدامات کے ذریعے ایران کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا کوئی فائدہ ظاہر نہیں ہوا ،کیونکہ پوری دنیا کے علم میں تھا کہ امریکہ اور اسرائیل باطل کے علمبردار ہیں اور ان کے مدمقابل ایران ہے جو ایک اسلامی ریاست ہے، چنانچہ اسلام کے ماننے والوں کا جھکاؤ بہر حال ایران کی طرف رہا۔لہذا ایران کی عظمت بڑھتی گئی اور سپر طاقت کے دعوے دار امریکہ اور اسرائیل کی رسوائی عیاں ہوتی گئ۔ انہوں نے دیکھا کہ ہماری کوششیں رائیگان ہوتی جا رہی ہیں، ہماری زحمتوں پر پانی پھیرا جا رہا ہے، ہمیں اپنا مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے میں کامیابی کی بجائے ناکامی کا شکار ہونا پڑ رہا ہے، ہم تو ایران کو پسماندہ رکھنے کے لئے کوشش کررہے تھے مگر وہ تو مسلسل زندگی کے تمام شعبوں میں روبہ پیشرفت ہے ـ یوں وہ پریشانی کے عالم میں ایک بار پھر سرجوڑ کر بیٹھ گئے، کافی سوچ بچار اور تبادلہ خیالات کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ ایران کو کمزور کرنے کے لئے مؤثر طریقہ خود مسلم ممالک کا استعمال ہے اس ہدف کے حصول کے لئے شیطان بزرگ امریکہ نے مسلم ملکوں کا سروے کروایا، تحقیقی ماہرین کی ٹیم اعزام کرکے ان کی نفسیات کا مطالعہ کروایا ، یہ سب کچھ کرنے کے بعد امریکہ نے بعض اسلامی ممالک کے ذریعے اپنے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اگر دیکھا جائے تو آج سعودی عرب امریکہ واسرائیل کے عزائم کی تکمیل میں ذیادہ کردار ادا کررہا ہے جب کہ سعودی عرب کو دیگر اسلامی ملکوں کے لئے رول ماڈل ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں بیت الحرام اور روضہ نبی ہونے کی وجہ سے اسے اسلامی مرکزیت حاصل ہےـ وہاں سال میں ایک بار حج جیسا امت مسلمہ کا عظیم اجتماع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عمرہ کی عبادات اور روضہ نبی کی زیارت کا معنوی سلسلہ سارا سال چلتا رہتا ہےـ مختصر یہ کہ یہ ملک چاہتا تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرسکتا تھا‛ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو امت واحدہ بنانے کے لئے کردار ادا کرسکتا تھا اور حجاج کرام کے جم غفیر کو عالم اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متفق کرسکتا تھاـ ان اقدامات کے لئے سعودی عرب میں بہترین زمینہ فراہم تھا۔ مگر اس حقیقت کا ادراک سعودی عرب کے بجائے امریکہ کو ہوچکا لہذا ان اقدامات کا راستہ روکنے کے لئے بھر پور کردار ادا کیا ـ امریکہ نے دیکھا کہ سعودی عرب میں جمہوریت کے بجائے بادشاہت کا نظام نافذ ہےـ جس میں عوامی رائے کے بجائے آل سعود کی رائے کے مطابق ملک کا قانون بنتا اور نافذ ہوتا ہے، آل سعود کی مرضی کے بغیر کوئی اس ملک میں پتہ تک ہلانے کی سکت نہیں رکھتا ہےـ اس نے یہ بھی بھانپ لیا کہ یہ خاندان عیاش پرستی میں اپنی ثانی نہیں رکھتاـ لہذا اس خاندان سے اپنی دیرینہ دوستی اور تعلقات کے دائرے کو مزید بڑھا دئیے، اسے پہلے سے ذیادہ اہمیت دی اور سعودی عرب نے بھی امریکہ واسرائیل پر بھر پور اعتماد کیا ، ان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے لئے تیار رہنے کا عملی مظاہرہ کرتا رہا ـ اس خاندان نے نہ حرمت حرمین کا خیال رکھا اور نہ ہی اپنے ملک اور قوم کی عزت کا۔ اس نے نہ آئین اسلام کے تحفظ کا سوچا اور نہ ہی امت مسلمہ کی آبرو کاـ سب کچھ داؤ پر رکھ کر آل سعود نے گھاٹے کا سودا ہے۔ آج سعودی عرب کے حکمران ارض خدا پر ظالموں کی جنایتوں میں حصہ لے رہیں ہیں، امریکہ اور اسرائیل کا بغل بچہ بن کر خادم الحرمین کے دعوے دار شاہ سلمان مسلمانوں کے قتل و غارت میں سرگرم ہیں ـ انہوں نے امریکہ کے ایماء پر یمن پر جنگ کو مسلط کیا، آیت اللہ نمر کو شہید کروایا، معروف قلمکار قاشقجی کو بے دردی سے قتل کروایا، پاکستان سمیت پوری دنیا میں دہشتگری کو پروان چڑھایا، اسلام کا چہرہ مسخ کرنے میں داعش کی کھل کر مدد کی، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غاصب اسرائیل کی حمایت کی، مسلمانوں کے خلاف علانیہ طور پر تکفیریت کے فتوے جاری کروائے، سرزمین وحی پر ٹرمپ جیسے نابکار انسان کو مدعو کرکے ایسا رقص کیا جسے دیکھ اور سن کر شرمائے یہود۔ اس کے علاوہ ڈکٹیٹر شاہ سلمان نے امریکہ کی دوستی اور اس کی فرمانبرداری کا لاج رکھنے کے لئے ہر طرح سے ایران کی مخالفت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ ہر سال حج جیسی عظیم عبادت کے اجتماع میں ایران کے خلاف پمفلٹ، مجلے اور کتابچے تقسیم کرکے اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ایران کو خوفزدہ کرنے کے لئے امریکہ‛ اسرائیل اور سعودی عرب نے مل کر اس کے اطرافی ملک شام اور عراق میں جنگ کی آگ بھڑکائے رکھی، جس میں بہت سارے بے گناہ مسلمانوں کو جلاکر خاکستر کیا گیا، تاریخ نے سعودی عرب کا یہ کارنامہ بھی اپنے سینے میں ثبت و ضبط کیا کہ اس نے مسلم ملک ایران کے خلاف اسلامی ملکوں کے اتحاد کی کمیٹی تشکیل دی ہے،

ایران دشمنی میں امریکہ کی خوشنودی مول لینےکے لئے سعودی عرب کے اقدامات کی داستان طویل ہےـ دامن کالم کی گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے بن سلمان کے حالیہ پاکستان اور ہندوستان کے دورے کے حوالے سے چند جملے لکھنے پر اکتفاء کروں گا۔ سعودی شہزادے کا یہ دورہ ہرگز اتفاقی نہیں تھا۔ بظاھر اپنے اس دورے کے دوران میں پاکستان اور ہندوستان دونوں کو بن سلمان نے خطیر رقم دے کر بڑی شہرت کمائی۔ ہمارے تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بن سلمان کی تعریف و تمجید کی، اس کے عطا کردہ رقوم کو اپنے ملک کے اقتصاد کی مضبوطی کے لئے سنگ بنیاد قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ بن سلمان نے یہ دورہ اپنے آقا امریکہ و اسرائیل کے حکم پر کیا تھا اور جو ڈالرز سعودی شہزادے پاکستان اور ہندوستان کو دے گئے ہیں وہ بھی شیطان بزرگ نے کچھ اہداف کے حصول کے لئے بن سلمان کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔ ایک ہدف یہ تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ایران کا دشمن بننے کی ترغیب دلایا جائےـ چنانچہ زاھدان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بس پر حملہ کرویا ـ جس میں ۲۵ سے ذیادہ جوان شھید ہوئے۔ اس حملے کے ذریعے دشمنوں کا مقصد ایران کو پاکستان کے خلاف بھڑکانا تھا۔ تاکہ رد عمل میں پاکستان بھی ایران سے مخاصمانخ رویہ اپنا کر ہمسایہ ملک سے دوستی ہی ختم کردے، مگر ایران اور پاکستان کی دوستی کافی پرانی ہے۔ انہوں نے نہ صرف ایک دوسرے کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ اس موقعے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دونوں نے ملکر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اسی طرح پاکستان اور ہندوستان کو آپس میں لڑانا بھی اس کا مقصد تھا۔ ہم نے دیکھا کہ بن سلمان کے انڈیا کا دورہ کرکے جاتے ہی ایک طرف سے ہندوستان کا جنگی جہاز پاکستان کے حدود میں بم گرانے کے لئے داخل ہوا، لیکن پاکستانی غیور فوج نے نہ فقط مودی جنگجو کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ انڈیا سے آنے والے جنگی جہاز کو ہی مارگرایا، اسی طرح ایک ہدف یمن جنگ کے لئے پاکستانی حکمرانوں سے فوج کی مدد طلب کرنا تھا۔ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مگر یہ طے ہے کہ اگر انصاف حکومت یہ غلطی کربیٹھے تو پاکستانی قوم ہرگز اسے نہیں بخشے گی۔ بن سلمان کے دورے کے اصل اہداف کو ہمارے کالم نگاروں نے قوم سے ابھی تک چھپا رکھے ہیں لیکن بقول شاعر کے حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔ حقائق سے پردہ چاک کرنا ہی دانشمندی اور دانشوری کا تقاضا ہے۔ چلتے چلتے یہ بات بھی اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ لگتا ہے بن سلمان کے ڈالروں کا ایک حصہ پاکستان کے کرایے کے لکھاریوں میں بھی تقسیم ہوچکا ہے۔ کیونکہ بن سلمان کے دورے کے بعد سے بعض نام نہاد قلمکار پاکستان کے اخبارات میں ایران کے خلاف دھڑادھڑ ایسے کالمز لکھتے نظر آرہے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر لکھنے والے کی ناقص عقل‛ فہم اور معلومات پر ماتم کرنے کا دل کرتا ہے۔ نمونے کے طور پر اس سلسلے میں ایک کالم صبح انقلاب سے شام امروز تک کے عنوان سے آئی بی سی پر چھپا تھا۔ جو انقلاب ایران کے حوالے سے من گھڑت اور بے بنیاد باتوں سے لبریز تھا۔ یہاں ضمنا اس بات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ آئی بی سی اردو ویب سائٹ کے مالکان نے اس پر عرصے سے یک طرف مواد چھاپ کر صحافت کا مزاق اڑارہے ہیں۔ خصوصا ایران کے خلاف مواد وہ دیکھے بغیر شایع کرتے ہیں۔ جس کی ہم بھر پور مزمت کرتے ہیں۔ یہ حقیقت مسلم ہے کہ جب تک وہ تعصب سے بالاتر ہوکر اپنی سائٹ پر مواد کی اشاعت کو یقینی نہیں بناتے تب تک اس کا اعتبار تنزلی کا شکار ہی رہے گا۔ اسی طرح نوائے وقت کی 28 فروری اور یکم مارچ کی اشاعت میں جناب محی الدین بن احمد الدین نے ’’امارات پالیسی مرکز‘‘ کی خاتون صدر کے حوالے سے پورے 2 کالم ایران کے خلاف لکھ ڈالے۔ ہم ایسے قلمکاروں کو اتنا ہی عرض کرسکتے ہیں کہ دوستو! جان لیں کہ صحافت ایک مقدس شعبہ ہے۔ اس کے تقدس کو پامال نہ کریں۔ قلم کی عظمت بہت بلند ہے۔ اس کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش نہ کریں۔ عمر انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اسے بے بنیاد باتیں لکھنے میں ضائع نہ کریں اور قلم کو ہمیشہ عبادت سمجھ کر استعمال کرنے کی کوشش کریں تاکہ دونوں جہاں میں یہ سعادت کا سبب بن سکے۔

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه