علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت آج پوری دنیا میں قومیں بیدار ہوچکی ہیں ،اس دور میں مذہبی، سیاسی اور سماجی پریپیگنڈوں اور سازشوں کو چھپانا ممکن نہیں ـ مگر ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت کون سمجھائیں؟ وہ تو بدستور اپنی قوم کو سازشوں کی جال میں پھنسانے پر زور لگارہے ہیں ـ

ستر سال پر محیط عرصہ پاکستان کے حکمران اس کے باسیوں کو بے وقوف بناکر ان پر حکمرانی کرتے رہے ،انہوں نے حق حکمرانی کو دو خاندانوں کی میراث قراردے رکھا ، وہ باری باری حکومت کرتے رہے، اس خاندانی گندی سیاست کے دلدل سے نکلے ہوئے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر پستی اور محرومی کا شکار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ـ

ان کی حکمرانی کے ادوار میں مثبت کارناموں پر ان کے منفی اقدامات کا غلبہ رہا، انہوں نے انصاف کو اپنی حکومت کی شناخت بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے فرعون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ناانصافی کو اپنی پہچان بنارکھی ،جس کی بے شمار مثالوں میں سے ایک گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق سے محروم رکھنا ہے ـ انہوں نے مختلف حیلے اور بہانے تراشتے ہوئے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا، اس کے باشندوں کو آئینی حقوق سے دور رکھا، ان کے سامنے جھوٹ ،دھوکہ دہی اور مکر وفریب کے پاپڑ بانڈھتے رہےـ اس خطے میں وہ منافقانہ سیاست کرکے کامیاب رہے ـ

مخفی نہ رہے کہ گلگت بلتستان میں حکمرانوں کی منافقانہ سیاست کی کامیابی میں خود اس خطے کے چند مفاد پرست افراد نے بڑا کردار ادا کیا ہے ، انہوں نے مذہبی اور لسانی تعصب میں گرفتار ہوکر خطے کے اجتماعی مفادات کے بارے میں سوچنے کو اپنے لئے شجرہ ممنوعہ قرار دے رکھا اور جس رخ سے ان کی ذاتی مفادات کی ہوا چلتی وہ اسی طرف مڑتے رہے ـ اس مفاد پرست طبقے نے گلگت بلتستان کی قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے لئے مخالفین کی پوری مدد کی ـ

خطہ امن گلگت بلتستان کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس کے عوام کو مذہبی اور لسانی تفریق کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کرنے میں موجودہ وزیر اعلی حفیظ الرحمن نے سب سے ذیادہ کردار ادا کیا ہے ـ انہوں نے اس منفی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے خفیہ طور پر کتنی جدوجہد کی ہے خدا جانتا ہے، لیکن یہ ہمارے علم میں ہے کہ موصوف نے گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام کو تقسیم کرنے کے لئے اپنے ناپاک عزائم کا کھل کر تین بار اظہار کیا جو خطے کے مقامی اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہےـ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کچھ لوگ گلگت بلتستان کو لبنان بنانے چاہتے ہیں ـ ایک مرتبہ یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ بلتستان والے بھارت کے ایجنٹ ہیں ـ غالبا" سن ۲۰۱۶ میں ان کی ایک ویڈیو میڈیا وسوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی تھی جس میں وہ کھل کر یہ کہرہے تھے کہ گلگت ،غزر ،نگر، دیامر اور ہنزہ پر مشتمل صوبہ بنے گا، مگر بلتستان، استور ،سکردو کھرمنگ گنگچھے مسئلہ کشمیر کے فریق ہونے کے ناطے متنازعہ حیثیت سے نہیں نکل سکتے ـ یہ اور اس طرح کے دوسرے بیانات کے ذریعے حفیظ اپنے برے عزائم کا اظہار کرتے رہے ہیں ـ

اب تو گلگت بلتستان کے سارے باشعور افراد جان چکے ہیں کہ موصوف وزیر اعلی ہونے کی حیثیت سے خطے کے عوامی مسائل پر توجہ دینے سے کہیں ذیادہ گلگت بلتستان میں مذہبی اور لسانی نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکانے پر توجہ دے رہے ہیں ـ جس پر شاہد یہ ہے کہ چند روز قبل گلگت میں حفیظ کے بعض ایلچی نے ان کی منفی سوچ کا ایک بار پھر اعلان کیا ـ انہوں نے پریس کانفرس کی جس میں یہ مطالبہ کردیا کہ استور اور بلتستان کو متنازعہ رکھا جائے مگر گلگت سمیت غزر نگر ہنزہ اور دیامر کو آئینی صوبے کی حیثیت دی جائے ـ اس پریس کانفرس نے گلگت بلتستان کے غیور عوام پر یہ آشکار کردیا کہ حفیظ الرحمن اپنے برے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں ، بلکہ پوری منصوبہ بندی کے تحت وہ انہیں عملی کرنے کے لئے شب وروز کوشش کررہے ہیں ـ وہ گلگت بلتستان کے باسیوں کی اتحادی قوت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مگن ہیں ـ وہ عوامی ووٹ سے حاصل ہونے والے اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں ـ

ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور افراد بیدار رہیں ـ آپ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں حفیظ کی زیر نگرانی سراٹھانے والے سازشی عناصر کے خلاف آواز بلند کریں ـ خطہ امن گلگت بلتستان کے عوام کو تقسیم کرنے والی سازشوں کو نقش برآب کرنے میں کردار ادا کریں اور حفیظ کے غلط اقدامات کو برملا کرکے آپس میں الفت ،اخوت، محبت اور اتحاد ویکپارچگی کو فروغ دینے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں ـ حفیظ سمیت پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کے عوام میں پھوٹ ڈالکر اپنا غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں ،لیکن یہ ان کی بھول ہے ـ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہوچکے ہیں ـ وہ تمہاری سازشوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ـ وہ متحد تھے اور رہیں گے ـ

ایک اسرائیلی لڑکی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو" جاری کی ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ دنیا میں بعض ممالک ایسے ہیں جن کو شکست دینا مشکل ہے۔ ان میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔ اس نے کہا کہ 5 وجوہات ایسی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان پر قبضہ کرنا ناممکن ہے۔ اگر سنجیدگی سے ان پانچ وجوہات کا تجزیہ کیا جائے تو گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان میں یہ پانچ وجوہات مکمل نہیں ہوتیں ـ پہلی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ پاکستان میں صحرابلندوبالاپہاڑ موجودہیں جس کی وجہ سے اسے فتح کرنا بہت مشکل ہے۔ کیا کے ٹو سے بلند پہاڑ پاکستان میں کہیں ہے؟ دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے لڑکی نے کہا کہ پاکستان میں مختلف تہذیبوں کے لوگ رہتے ہیں اور پاکستانی عوام جنگجو ہے اور جنگجو ہونا ان کے خون میں شامل ہے۔ کیا گلگت بلتستان کی تہزیب اور فداکار فوجی جوانوں کے بغیر اس کا مصداق مکمل ہے؟ تیسری وجہ پاکستان کے لوگوں کااپنے ملک سے پیارہے جب بھی کوئی باہرسے ان پرحملہ کرتاہے تو پوری قوم اکٹھی ہوجاتی ہے۔ کیا گلگت بلتستان والوں سے ذیادہ پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں ؟ پاکستان سے محبت ہی کی وجہ سے اہلیان گلگت بلتستان اپنی مرضی اور اختیار سے پاکستان سے ملحق ہوئے ہیں ـ کیا گلگت بلتستان بھارت کے سامنے ڈھال بنے ہوئے نہیں؟ تو کیا گلگت بلتستان کے بغیر یہ وجہ مکمل ہے؟ پاکستانیوں میں قومی اتحادہے اور یہ قومی اتحاد کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاررکھتاہے۔جب کبھی جنگ ہوجائے توشہری اپنی فوج کےساتھ مل کردشمنوں کے خلا ف لڑتے ہیں۔ کیا گلگت بلتستان کی قوم کی وحدت کی مثال پاکستان کی دوسری جگہوں پر ملتی ہے؟ پانچویں وجہ پاکستان کی فوج ہے جوکہ دنیاکی چھٹی بڑی فوج جدیدہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایٹمی ہتھیار ہونے کی وجہ سے دشمن حملہ کرنے کی جرات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاکستانی فوج میں شہادت کا جذبہ ہوتا ہے جو کہ باقی کسی بھی غیر مسلم فوج کے پاس نہیں۔ اس اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے بغیر یہ وجہ مکمل نہیں ـ

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه