علم سماج کو زندگی بخشتا ہے.اسی لیےسماج کی تعلیم وتربیت کابندوبست کرنا بهی حکومتوں کا اولین فریضہ بنتاہے.
مگر پاکستان میں جتنی بهی حکومتیں وفاق اور صوبوں میں براجمان ہوئی ہیں تعلیم وتربیت کے شعبےمیں پاکستانی عوام کو سوایے محرومیوں کےکچه نہیں دیاہے.خصوصا خطےگلگت بلتستان کوتعلیم وتربیت کے شعبے میں اس قدر محروم رکهاہواہےکہ جہاں پرگورنمنٹ سکولوں کی تعداد ویسے بهی بہت کم ہیں اور انهیں میں سے بهی جوسکول مشروف اورذرداری کے دور میں منظور ہوئے تهے ان کی عمارتیں تو خوبصورت بنی تهیں مگرذرداری حکومت کے کچه وفاقی وزیروں نےمحکمہ تعلیم گلگت بلتستان کے کچه بابووں کے ذریعےسرے عام فی سیٹ ڈهائی لاکه سے پانچ لاکه روپے تک کےلئے فروخت کرواکرنئےاسٹاپ لگادیا جوگلگت بلتستان کے تعلیمی نظام پرایک قسم کا کاری ضرب ثابت ہوا.

اس کے علاوہ وفاق نے اپنابوجه ہلکا رکهنے کےلئے گلگت بلتستان کے اکثر سکولوں کوسیمی گورنمنٹ این.جی.اوز.کے حوالےکر رکهاہے تاکہ عوام کسی قسم کے تعلیمی مراعات براہراست صوبائی اور وفاقی حکومت سے نہ مانگ سکے.اور زیادہ عوامی دباو کی صورت میں ان سکولوں سے لاتعلقی کااظہارکرکے اپنے کو برئ زمہ قراردیے سکیں.
نیز یہ سیمی گورنمنٹ سکول محترمہ بینظیر بهٹونے گلگت بلتستان میں متعارف کیاتهاجو کہ اس دور کے مطابق شرح خواندگی کوبڑهانے کےلئے توزیادہ موثر ثابت ہوگئے مگر اس کے بعد آنےوالی صوبائی اوروفاقی حکومتوں نے انهیں نظرانداز کیاہواہے جس کہ وجہ سے اس ادارے سے منسلک بیوروکریٹس نے اساتذہ کی مجبوری سے فائدہ اٹهاتے ہوےریگولرکرنے کاجهانسہ دےکر صرف ایک ہزارپانچ سو روپے تنخواہ دیتے رہےمگرڈوپتےکو تنکے کاسہاراغریب اساتذہ کرتےتو کیاکرتےنوکری پکاہونے کی آس لگائے اسی کم اجرت پربهی راضی رہے اوراپنی زمہ داریوں کو مسلسل نبهاتےآرہےہیں. جن کاآج تک کوئی پرسان حال نہیں ہے.
اوراس وقت بهی ان اساتذہ کی تعداد چودا سو پچاس تک بتائی جاتی ہے اور ان کی تنخواہ اب بهی صرف پانچ ہزار ہی چل رہی ہے.
مہنگائی کے اس دورمیں قوم کےمربیوں کی اجرت صرف پانچ ہزاررکه کر ان سے اچهی تعلیم وتربیت کا تقاضاکرنالوہے کےعوض سونے کاتقاضاکرنے کے مترادف ہی ہوسکتاہے.
اس حوالے سے مجهےتعجب اس وقت ہواکہ جب موثق ذرایعے کے مطابق معلوم ہواکہ یہ سیمی گورنمنٹ سکول اقوام متحدہ کے کسی ذیلی ادراے کے تحت چلتے ہیں جوایک استادکو مہینےکے پاکستانی ایک لاکه بیس ہزار روپے پیے کرتاہے. مگرقوم کے مربیوں تک پہنچاتے پہنچاتے صرف پانچ ہزاربچ جاتے ہیں باقی سب کن کے جیبوں میں جاتاہے یہ تو نیب کا ادارہ ہی بہتر جانتاہے.
ستم بالاے ستم یہ ہےکہ گلگت بلتستان کےاکثر سکولوں کوسیمی گورنمنٹ رکهنے کے ساته ساته تعلیمی نظام کے دو مهم شعبے ،میڈیکل اور ٹنیکل میں بهی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا کام صفررہاہے اس کے باوجود علما،دانشور اور عوامی رد عمل بهی کہیں دیکهنے کو نہیں ملا.حتی کہ کچه سیاستدان اوردانشور صوبائی اوروفاقی حکومتوں سے کچه لینےکی بات کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کے تمام سیمی گورنمنٹ سکولوں کو بهی ان این.جی.اوز کے سپرد کرنےکے خواہاں رہے جو آج کل آزادی اورحقوق کےنام سے ناچ،گانا،ڈیسکو اورڈائنس کو معاشرے میں پرموٹ کرنے کے سوا کچه اور تعمیری کام نہ کرنے کی قسم دلاکر وہاں پر لایی گئی ہے.
ایسی صورت حال میں غریب والدین آخرکرتے تو کیاکرتے؟
اب گورنمنٹ سکول گهرکی دہلیز سے دورہونےاورگهر کی دہلیز کے قریب سیمی گورنمنٹ سکولوں کی خستہ حالی کودیکه کر والدین بهی مجبورہوگئے کہ اپنے بچوں کا داخلہ قریبی پرائیوٹ سکولوں میں کریں.
جس کی وجہ سے پرائیوٹ سکولوں کے مالکان کے حوصلے بهی اس قدر بلندہوگئےکہ اپنی مرضی کی بهاری فیس والدین کے جیبوں سےآسانی سےنکالیتے ہیں.
مگر دیر آید درست آید سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں چهپنے والی خبروں کے مطابق وزیراعلی گلگت بلتستان نے یہ نوید سنادی ہے کہ "تمام سیب اساتذہ کو ریگولرکردینگے،اورگلگت بلتستان کے تمام پرائیوٹ سکولوں کو ماتحت کرئنگے،اورمحکمہ تعلیم کے ملازمین کے بچوں کاداخلہ گورنمنٹ سکولوں میں لازمی قرار دینگے"کیا گلگت بلتستان کے محکمہ تعلیم کو اس زبو حالی سے نکالنے کےلئےایسے بیانات کو عملی بنادیاجائے تویہ خوش آیند نہیں ہے؟

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه