حق اور باطل کی جنگ ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہ بھی ایک حقیقت اور الہی وعدہ ہے کہ استقامت اور پائیداری کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں فتح ہمیشہ حق والوں کی مقدر ہے۔
ایران میں ۱۹۷۹ء کے انقلاب اسلامی کے بعد سے دشمنوں کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس انقلاب کو ختم کیا جائے۔ ایران کے انقلاب اسلامی کے اس چار دہائیوں میں شاید ہی کوئی سال ایسا ہو کہ جس میں امریکہ اور اس کے حواریوں نے ان پر کوئی پابندی نہ لگائی ہو۔ آئے روز ان پابندیوں میں شدت آتی چلی جارہی ہے اور امریکی صدر کے بقول" ایران پر جو اقتصادی پابندی عائد کردی گئی ہے وہ تاریخ کی سخت ترین پابندی ہے۔" امام جمعہ تہران آیت اللہ خاتمی کے بقول "اقتصادی پابندیاں ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہم پر سب سے پہلی اقتصادی پابندی ۷محرم الحرام ۶۱ہجری کو لگی تھی اور آج تک اسی کا تسلسل ہے۔ اب بھی خدا کی تدبیر دشمن کی تدبیر پر غالب ہے"۔

اس کام کے لیے اربوں کھربوں ڈالر بھی خرچ لیے کیے جاچکے ہیں۔ یہود و ہنود تو پہلے ہی سے اس انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے کمر بستہ تھے لیکن انہیں استعماری طاقتوں نے مسلمانوں کے درمیان بھی پھوٹ ڈالنے کے لیے اس انقلاب کو مسلکی رنگ دیکر بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہےاور بدقسمتی سے بہت سارے مسلمان بھی اس حوالے سے دھوکہ کھاچکے ہیں اور بعض نےتو عناد کی بنیاد پر دشمن کے اس ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہیں اور ابھی بھی رہے ہیں۔ انقلاب کے بانی امام خمینی ﴿رح﴾ سے لیکر آج تک جب یہ انقلاب اپنا چالیس سال مکمل کرکے کامیابی کے ساتھ دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہےاور اس کشتی انقلاب کے ناخدا اس وقت آیت اللہ خامنہ ای ہیں۔ اس مدت مدید میں ان کے کسی بھی سربراہ نے اس کو مسلکی انقلاب قرار نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایران میں موجود شیعوں کے علاوہ نہ فقط دیگر مسالک پہلے سے کہیں زیادہ پر امن اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں بلکہ یہاں کے غیر مسلم باسی بھی مکمل طور پر بین الاقوامی شہری حقوق سے بہرہ مند ہیں۔
دنیا بھر کے مظلوموں کی داد رسی اور ظالموں کی بھرپور مخالفت ان کی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل اہل سنت برادری کی آبادی پر مشتمل فلسطین کو سب سے زیادہ سپورٹ کرنے والا ایران ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ فلسطین میں ایک چھوٹی سی شیعہ ذیلی تنظیم وجود میں آئی تھی تو اس کے سربراہ کو بھی حماس نے گرفتار کردیا اور انہیں کام کرنے روک دیا پھر بھی وہاں کی مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ ایران کا تعاون بھرپور طریقے سے اب بھی جاری و ساری ہے۔کیا اسرائیل کے ساتھ ایران کا کوئی سرحدی نزاع ہے؟ ہر گز ایسا نہیں؛ کیونکہ ان کی ایک انچ بھی آپس میں نہیں ملتی۔ پس معلوم ہوا کہ یہ کوئی مسلکی معاملہ نہیں اور نہ ہی کوئی ملکی سرحدی معاملہ ہے بلکہ یہ پورے عالم اسلام کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس وجہ سے مزاحمتی تحریک حماس کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو غاصب اسرائیل کے ہاتھوں سے نجات دلا سکے اور اسرائیل کے نیل تا فرات کے نعرے کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکا جاسکے۔ ۷۰فیصد سے زیادہ اہل سنت برادری پر مشتمل یمنی مسلمانوں کی یہ لوگ بھرپور حمایت کررہے ہیں، سنی اکثریتی ملک شام میں داعش اور اس کی سہولت کاروں کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے، امریکی فوج کو افغانستان سے نکالنے کے لیے بھی ایران بھرپور کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ہم سے زیادہ ایران کے لیے خطرناک ہے کیونکہ پوری دنیا میں یہ دونوں ممالک برسرپیکار ہیں اور افغانستان کے ساتھ ایران کی طویل سرحدیں ملی ہوئی ہیں جس کے باعث امریکہ کا افغانستان میں ہونا ان کے لیے ہر وقت خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کے تحت کشمیر کے مسلمانوں کی حمایت ایک لازمی امر ہے۔ اسی طرح ایران بھی ان کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس سال ۵فروری کو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں ہماری طرح ایران کے اندر بھی باقاعدہ بین الاقوامی پروگرامز منعقد ہوئے۔ جس کی مثال ہمیں کسی اور اسلامی ملک میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ خلاصہ یہ کہ جہاں کہیں بھی ایران نے مسلمانوں کی حمایت کی ہے تو عراق کے علاوہ سب کے سب اہل سنت اکثریتی ممالک ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی دشمن نے یہ پروپیگنڈا کیے رکھا ہے کہ ایران ہر جگہ مسلکی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی تعجب آمیز ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ شیعہ ملک ہونے کے اعتبار سے برسرپیکار ہے تو یہاں شیعہ ۴۰سال پہلے بھی آباد تھےاور یہی مذہبی مراسم اس وقت بھی انجام دیتے تھے لیکن اس وقت امریکہ ان کا نہ فقط دشمن نہیں تھا بلکہ شاہی دور میں امریکہ ایران کا بہت ہی قریبی دوست شمار ہوتاتھا۔ لہذا امریکہ ایران کے لوگوں کے مذہب کی بنیاد پر دشمن نہیں بلکہ پوری دنیا میں تسلط جمانے کے امریکی خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے روکنے کی وجہ سے ہے۔ امریکہ عالم اسلام میں کہیں بھی کوئی ظلم کرتا ہے تو ایران سب سے پہلے اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ امریکہ کے جنگی جنون میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے القدس برگیڈ ، لبنان میں ۳۳روزہ جنگ میں اسرائیل کو شکست فاش دینے والی اور حماس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے والی حزب اللہ اور فلسطین کی سب سے مضبوط مزاحمتی تحریک حماس کو تو پہلے ہی دہشتگرد قرار دیا جاچکا ہے،گزشتہ سال تمام تر بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کو پامال کرتے ہوئے اپنی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الخلافہ اورگزشتہ ماہ شام کے جولان کے پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیاہے۔
ایک طرف ایرانی قوم قدرتی آفات کا بھرپور مقابلہ کررہی ہے اور ایک باغیرت ملک ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ابھی تک ان کے کسی بھی ذمہ دار نے کسی سے بھی مدد طلب نہیں کی تو دوسری طرف سے ان کی حمایت اور مشکل کی اس گھڑی میں انسان دوستی کی بنیاد پر دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں آگے بڑھنے کے بجائے اب ان کے لیے مزید مشکلات میں اضافہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے ہلال احمر کے بنک اکاونٹ کو بھی امریکا نے منجمد کردیا ہے۔ امریکہ جس کو امام خمینی﴿رح﴾ نے سب سے بڑا شیطان قرار دیا تھا اور یہ نعرہ بلند کیے تھے کہ ہم امریکا کی ناک زمین پر رگڑ کے دم لیں گے، آج بھی ان کے تمام جامع مساجد کے محراب و منبر پر امریکہ کے خلاف نعرے درج ہوتے ہیں۔ اسی نعرے نے ان کے بچہ بچے کے اندر امریکی مخالفت کا شعور پیدا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک امریکہ کو مشرق وسطی میں کہیں بھی کامیابی نہیں ملی۔ ہر جگہ وہ رسوا ہوتا جارہا ہے۔ لبنان میں اسے شکست سے دوچار ہونا پڑا اور غاصب اسرائیل کو لبنانیوں کی زمینیں خالی کرنا پڑی، افغانستان میں کہیں بھی اسے کامیابی نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا سرمایہ لگانے کے بعد اب امریکی صدر نے وہاں سے بھی دم دبا کر فرار کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ عراق میں ۷ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اب وہاں اس کا راستہ مکمل بند ہوچکا ہے اور گزشتہ ماہ امریکی صدر کے چوری چھپےاپنی فوجیوں سے ملاقات کے لیے آنے پر وہاں کی پارلینمٹ نے ہنگامی جلسہ بلاکر تمام پارلینمٹ اراکین نے متفقہ طور پر اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ان کے ملک کی توہین قرار دے کر مذمتی قرارداد منظور کردیں اور وہاں کے وزیر اعظم نے امریکی صدر سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیااور اس کے بعد جب ایرانی صدر حسن روحانی نے وہاں کا دورہ کیا تو ان کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ یہ ہے ایران کی کامیابی۔ شام میں مدت مدید تک امریکہ اور اس کے ۸۰سے زیادہ حلیف ممالک نے وہاں کے قانونی صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانے اور وہاں داعش کی حکومت قائم کرکے اسرائیل کو محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہاں سے بھی ایرانی القدس کے برگیڈ کے سربراہ کی دور اندیشی اور جنگی مہارت نے انہیں مار بھگایا اور ایران کے وزیر خارجہ نے جب شام کا حال ہی میں دورہ کیا تو وہاں پر ایک ملک کے وزیر اعظم سے بھی زیادہ ان کا شاندار طریقے سے استقبال کیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ ماہ شام کے صدر بشارالاسد کو تہران کا دورہ کراکر انھوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شام اور عراق میں استعماری طاقتوں کے برخلاف جمہوری اسلامی ایران نے فتح حاصل کر لی ہے۔ وہ اسرائیل جو پہلے ببانگ دہل یہ اعلان کرتا تھا کہ تمام اسلامی ممالک کا ذرہ ذرہ اسرائیل کے جدید اسلحوں کی رنیج پر ہے، آج وہی اسرائیل ہر طرف سے محاصرے میں ہےاور ابھی تک دنیا میں اپنی قانونی حیثیت کو منوانے سے قاصر ہے۔
اب جب عنقریب نام نہاد اسرائیل کے اندر انتخابات ہونے جارہے ہیں اور ہر جگہ اسرائیل کی پسپائی کے باعث نتیان یاہو بری طرح بدنام ہوچکا ہے۔ اب متوقع الیکشن میں اسے پھر آگے لانے کے لیے امریکی صدر نے ایک بار پھر یہودیوں کے اشارے پر ایران کی سب سے پروفیشنل فوج سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔ اس موقع پر بہت ہی تعجب آور بات یہ ہے کہ اسی وقت ملت ایران نے اتحاد و ہمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ اراکین سمیت دیگر تمام عہدیداروں نے بھی سپاہ پاسداران انقلاب کی وردی پہن کر ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا، ان کا یہ کہنا تھا کہ ہماری ملت کا ہر فرد پاسدار اور انقلاب کا محافظ ہے اور جواب میں ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی باقاعدہ طورپر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی دہشگرد اور ان کی فوج کو دہشتگرد فوج قرار دیا۔ممکن ہے کہ اگر اسے بے لگام چھوڑ کے رکھا گیا تو ایک وقت ایسا آجائے کہ وہ ہماری پاک فوج کے خلاف بھی زبان درازی سے باز نہ رہے۔لہذا ہماری وزارت خارجہ کو بھی اس موقع پر امریکہ کے اس آمرانہ فیصلے کی بین الاقوامی سطح پر بھرپور مذمت کرنا چاہیے۔
اب امریکہ کے اس احمقانہ فیصلے کے بعد سے سپاہ پاسداران کی ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر مقبولیت میں مزید اضافہ سامنے آرہا ہے۔ یاد رہے کہ سپاہ پاسداران کے القدس برگیڈ اور اس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو جب امریکہ نے دہشگرد قرار دیا تھا تو اس کے بعد دنیا کے کوش و کنار میں رہنے والے بھی قاسم سلیمانی کی شخصیت اور القدس برگیڈ کی کارکردگی سے پہلے سے کہیں زیادہ آشنا ہوگئے تھے اور ان کی مقبولیت میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ سامنے آیاتھا۔علاوہ ازیں اسی القدس برگیڈ نے شام اور عراق سے امریکہ اور اس کے حواریوں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کر دیے۔ اب اس نے پورے سپاہ پاسدان کو اپنی من مانی کے تحت بین الاقوامی قوانین کے برخلاف دہشتگردی کا عنوان دیا ہے، یہ بھی پوری دنیا میں سپاہ پاسداران کی مقبولیت کا سبب بنے گا۔ امریکہ اپنی ایسی حرکتوں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اس کے اپنے مظالم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانا چاہتا ہے۔ ایسی نامعقول حرکتوں سے مزاحمتی تحریک مزید مضبوط، سپاہ پاسداران انقلاب مزید سروخرو اور امریکہ و اسرائیل اپنی ان حماقتوں کے باعث دنیا بھر میں مزید رسوا ہوتے رہیں گےاور آخر میں نابودی ان کی مقدر ہے۔ آخر میں ہم سپاہ پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں:
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه