انسان جب تک زندہ ہے اور اس کے بدن میں طاقت ہے ہر کوئی اس کے ساتھ ہے لیکن جس دن آنکھ لگی یا بدن میں طاقت نہ رہی تو سارے رشتے اسے بھول جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں دو مثالیں پیش خدمت ہیں کہ کیسے انسان کی بےبسی اسے مجرم بناتی ہے اور معاشرے میں اس کا وقار ختم ہوتا ہے اور دوست سے دشمن بن جاتا ہے، امیر سے غریب اور اچھے سے برے میں بدل جاتا ہے۔
ٹریفک حادثات میں کسی گھر کا اجڑھ جانے کے بعد وہ گھر اب آلام و سمت کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور اسی طرح شباب کے ختم ہوتے ہی بدن میں کام کرنے کی طاقت ختم ہوتی ہے اور گھر پر فاقے پڑتے ہیں تو وہ شخص معاشرے کی نظروں سے گر جاتا ہے اور بعض دفعہ تو بھکاری بن سکتا ہے۔ ان دونوں

کسی بھی ٹریفک حادثے میں انسانی جان کا ضیاع یا کم سے کم اس پر شدید قسم کی چوٹ آنا یقینی ہے۔ اس حادثے کے تناظر میں بعض دفعہ کئی گھر اجڑ جاتے ہیں اور کئی خواتین بے آسرا اور بہت سارے بچے اپنے باپ کے سائے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ مالی نقصانات بھی انسان کی بس سے باہر ہوتی ہیں۔
اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ کڑیل جوان کی حادثاتی موت سے پورا سماج دھاڑیں مار مار کر روتا ہے لیکن کچھ عرصہ بعد اسے بھول جاتے ہیں اور ایسا بھول جاتے ہیں کہ اس کے یتیم بچوں پر ہر قسم کا ستم ڈھاتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے ہیں کہ یہ میرے بیٹے یا بھائی کی اولاد ہے۔
ایسے سماج میں جہاں سرپرست مرنے کے بعد مرحوم کے بہن بھائی اور بعض دفعہ اس کے والدین ہی مرحوم کے بچوں اور بیوہ کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں تو ایسے میں ایک سرپرست کا سایہ سر سے اٹھ جانا موت سے کم نہیں اور ایسے بےسہارا بچے بعض دفعہ تو معاشرے کے مجرموں اور دہشتگردوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں اور وہ بھی معاشرے کے مجرم اور دہشتگرد بن جاتے ہیں۔
یا بعض پاکدامن بچیاں اور بیوہ خواتین زمانے کے جبر و ستم کے پیش نظر خودفروشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
یہ سب کے سب کیوں اور کیسے ہوا؟
ان سب کی بنیادی وجہ سر سے سرپرست کا سایہ اٹھنے کے بعد کے حالات ہیں جن میں انسان کا کوئی سہارا نہ رہا، سرپرست کے جانے کے ساتھ ساتھ اس بے یار و مددگار بچے کے سر پر ظلم و جبر کے بادل منڈلانے لگے اور جس سکول میں بیٹھ کر پڑھنے کا وقت تھا یہ بچہ یا یہ بیوہ گھر کا چولہا جلانے کے لیے دوسروں کے ہاں محنت مزدوری کرنے لگے اور ایسے میں خود غرض اور شیطان صفت انسان نے ان کے کردار اور عزت پر ہاتھ ڈال دیا اور ان کے مستقبل کو تباہ تو کردیا اور ساتھ ہی ساتھ ایسے افراد کو معاشرے کے حوالے بھی کردیا جس سے معاشرے میں بھی خود بخود بگاڑ آگئی۔
اس کا بنیاد راہ حل کیا ہوسکتا ہے؟
🔹اگر ہم دینا کی ترقی یافتہ ممالک کی طرف ایک نظر دوڑائیں تو اس آفت کا بھی حل ممکن ہے۔ جب کبھی کوئی ٹریفک حادثہ ہوتا ہے اور اس میں انسانی قیمتی جانوں کو ضیاع ہوجاتا ہے یا دیگر نقصانات آجاتے ہیں مثلا ایکسیڈنٹ میں ایک گاڑی بری طرح خراب ہوچکی ہے اور فی الوقت مالک کے پاس اتنی مالی گنجائیش نہیں کہ اسے جلدی تعمیر کرائی جاسکے یا اس کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے جو 5 لوگ مارے گئے ہیں ان سب کا دیہ دینا اس کے بس میں بھی نہیں ہے تو ایک پل کی غفلت اور ایکسیڈنٹ سے 6 گھرانے برباد ہوگئے۔ اگر پاکستان کی بڑھتی ہوئی آباد کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہر کسی کے 4 بچے ہونگے یوں 24 بچے بےسہارا ہوگئے اور 6 خواتین بےسرپرست۔ اگر ایک چھوٹے سماج میں یہ 30 افراد کا مجموعہ اگر فقر میں مبتلا ہوجائے اور خدانخواستہ کسی مجرم صفت انسان کے ہتھے چڑھ جائے تو پل بھر میں پورا سماج متاثر ہوگا۔ اور یوں اس کے اثرات ملک بھر میں پھیل سکتے ہیں۔
🔹لہذا بجائے اس کے کہ ہم یہ کہیں «مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے» قبل اس کے کہ کوئی دشمن بنے اور پھر اس کے بچوں کو پڑھائے عاقلانہ کام یہ ہے کہ ہم کسی کو دشمن ہی بننے نہ دیں، دشمن بننے کے علل اور عوامل کو روک دیں۔ ان بےسہارا انسانوں پر منت کا سہارا بننے کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا دیا ہوا حق ان تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
🔹اب ایک شخص جو ٹیکسی چلاتا ہے اس کے بس میں نہیں کہ وہ 5 انسانوں کا دیہ ادا کرسکے۔ ایسے میں اگر گورنمنٹ آف پاکستان پالیسی بنا لے اور ہر گاڑی والے کو انشورنس کرنے پر مجبور کرے اور قانون سازی کرے تو اگرچہ اس سے بعض لوگوں کا نقصان بھی ہوگا مثال کے طور پر وہ ڈرائیور جو نہایت محتاط ہیں اور زندگی بھر میں ان سے ایک حادثہ بھی رونما نہیں ہوا ہے لیکن اس کے مقابلے میں اتنے سارے حادثات جو ہو رہے ہیں اور کئی لوگ انہی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زمین‌گیر ہوچکے ہیں، پاوں ٹوٹ گیا ہے۔۔۔ اور اب کچھ کرنے کی ان میں سکت نہیں ہے اور فقر میں مبتلا ہوچکے ہیں ان کو اگر انشورنس پالیسی سے کم از کم شریعت میں معین «دیت» یا «ارش» مل جاتی ہے تو وہ کافی عرصے تک خود کو سنبھال سکتے ہیں۔
🔹اسی طرح پرائیوٹ کمپنیوں پر بھی لازمی قرار دیا جائے کہ وہ انشورس پالیسی میں شریک ہوں اور ان کا عملہ جو سالہا سال سے خدمت کر رہا ہے اور اب بڑھاپے میں قدم رکھنے کے بعد وہاں سے فارغ کیا جارہا ہے تو بیمہ پالیسی کے تحت اس کو پینشن ملے اور مرتے دم تک وہ اور ان کے بچے کسی پر بوجھ نہ بنیں اور جوانی کی بہار جس کے لئے دیا ہے اسی سے خزاں اور موسم سرما میں بھی استفادہ کر سکے۔
🔹🔸لہذا یہ دو قسم کی پالیسیز کو قانونی شکل دیکر معاشرے سے غربت کو کم کرنے میں مدد کی جائے تاکہ معاشرے میں غربت آہستہ آہستہ خود بخود ختم ہوجائے اور غربت کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف جرائم کا ریشو بھی کنٹرول ہوگا اور کسی حد تک جرائم کی شرح کم ہوگی۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه