تمام شیعه سنی مؤرخین اس بات پر متفق هیں که عورتوں میں سب سےپهلے نبی اکرم ص پر ایمان لانے والی حضرت خدیجه کی ذات گرامی تھیں.حضرت خدیجه ع دختر مکه آپ کے چچا زاد بھائی ورقه بن نوفل مذهب عیسائیت کے بهت بڑے نامور پادری تھے .اسی وجه سے حضرت خدیجه ع کا گھرانه عیسائیت کے بڑے مذهبی خاندان میں شمار هوتا تھا .اور حضرت عیسی مسیح پر مکمل ایمان رکھنے والا خاندان سے آپ کا تعلق تھا .اسی وجه سےآپ ع نے پهلے سے هی نبی آخر الزمان کے بارے میں سن رکھی تھی . بهت سارےعیسائی خاندانوں کی طرح آپ بھی مکه میں صرف اس لئے ره رهی تھی تاکه آخر ی نبی دنیا میں تشریف لائیں پھر ان کے ساتھ ازدواجی زندگی تشکیل دیں.آپ مال ومتاع اور حسن صورت وسیرت هرحوالے سے کسی سے کم نه تھی. اسی وجه سے مکه کے بهت سارے افراد آپ ع سے ازداج کرنے کا اظهار کرنے کے باوجود آپ ع نے ان سب کو ٹھکرا کر متوقع واقعه عظیم کا انتظار کرنے لگی .


ایک دن حضرت ابو طالب ع نے حضرت خدیجه سے تجارت کرنے کچھ مال قرض کیے تاکه اس کے ذریعے سے تجارت کرسکیں. گویا حضرت خدیجه ع پهلے سے باخبر تھی که کیا واقعه رونما هونے والا هے. اسی لئے نبی اکرم ص کے ساتھ اپنے خزینے کے مسؤول میسره کو بھی آپ ص کے ساتھ تجارتی سفر پر روانه کیا تاکه پل پل کے واقعات اور اتفاقات سے آپ کو آگاه کر سکے.اس بابرکت سفر میں نبی اکرم ص نے آپ ع کے اصل مال کے دو برابر واپس کیئے ( کشف الغمه ج 2 ص 121) اور یه تجارتی میدان میں ظاهرا ایک نا تجربه کار شخص سے معجزه سے کمتر نه تھا .میسره نے جو گزارشات پیش کی که جس میں کچھ ایسی گزارش بھی تھی جو اهل کتاب کے عقیدے کے مطابق کسی پیغمبر کی نمایان علامت سمجھی جاتی تھی.[1]( الخرائج والجرائح ج1 ص 140)حضرت خدیجه ع کو یه گزارش ملتے هی ایک شخص کو حضرت ابو طالب کے گھر محمد بن عبد الله سے ازدواجی آفر کے ساتھ روانه کیا.حضرت محمد ص بھی اس بات سے بخوبی واقف تھے که حضرت خدیجه اب تک کیوں کنواری ره رهی هے .کیونکه آپ ع سے هی نسل امامت آگے بڑھنی تھی .یه اس دور کے عرب ماحول میں اجنبی اورناقابل قبول رسم تھی که خود لڑکی ازدواجی معاملے میں پهل کریں .لهذا جن جن افراد کو حضرت خدیجه نے ناں کا جواب دیا تھا وه سب آپ ع کی تحقیر اور تذلیل کے لئے مراسم عقد میں حاضر هوئے . اور حقارت آمیز لهجے میں حق مهرسے متعلق باتیں کرتے رهیں، لیکن جو دل عشق مصطفی کا خیمه گاه بن چکا هو وه کس طرح برداشت کرتے ، آپ ع کھڑے هوکر خطبه عقد خود پڑھنے لگی . قَدْ زَوَّجْتُكَ‏ يَا مُحَمَّدُ نَفْسِي وَ الْمَهْرُ عَلَيَّ فِي مَالِي.(الکافی ، ج 5 ، ص 375. وسائل شیعه ج،20، ص 264) نه فقط حق مهر اپنے مال سے ادا کیا بلکه عجیب بات یه هے ولیمه کا پورا خرچه بھی اپنے مال سے دیا. (فَأْمُرْ عَمَّكَ فَلْيَنْحَرْ نَاقَةً فَلْيُولِمْ بِهَا وَ ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ) ( ایضا375)
جب یه آسمانی مبارک جوڑے اس مقدس بندھن میں جڑ چکے تو قریش کے نامور شاعر عبد الله بن غنم نے ان اشعار کےذریعے آپ دونوں کی یوں توصیف کرتے هوئے بارات لے گئے .
هَنِيئاً مَرِيئاً يَا خَدِيجَةُ قَدْ جَرَتْ‏
لَكِ الطَّيْرُ فِيمَا كَانَ مِنْكِ بِأَسْعَدِ
تَزَوَّجْتِهِ خَيْرَ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا
وَ مَنْ ذَا الَّذِي فِي النَّاسِ مِثْلُ مُحَمَّدِ
وَ بَشَّرَ بِهِ الْبَرَّانِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ‏
وَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فَيَا قُرْبَ مَوْعِدِ
أَقَرَّتْ بِهِ الْكُتَّابُ قِدْماً بِأَنَّهُ‏
رَسُولٌ مِنَ الْبَطْحَاءِ هَادٍ وَ مُهْتَدٍ[2]
یوں آپ ع نے ازدواجی زندگی کا پهلا دن هی اس پاک اور مقدس خاندان کی آبرو داری سے شروع کیا .اور اسی رسم عقد میں حضرت ابو طالب ع نے بھی جس انداز سے نبی کریم ص کی دفاع کی (الکافی ج 5 ،ص 375)که اگر کوئی منصف اسی دفاعیه کو ان کے ایمان کی دلیل کے طور پر پر پیش گریں تو کوئی گزافه گوئی نهیں کی . حضرت خدیجه نے روز اول سےهی تمام مال ومتاع حضور کریم ص کےقدموں پر نچھاور کیئے. یوں انقلاب اکبر کےلئے خدیجه کبری نے پهلی قربانی دے دیں.اور یهی قربانی بعثت سے قبل اور بعثت کےبعد مرحلے کے لئے بهت هی کار ساز اور راه گشا ثابت هوئی .بعثت سے پهلے انهی اموال کے ذریعے تهی دست اور فقراء کی مدد فرماتےجبکه بعد از بعثت اسی مال سے تجارت کرتے تھے.یوں حضرت خدیجه بهت سارے فضائل میں اونچے مقام پر فائز تھیں جن میں سے کچھ یوں هے.
بصیرت اور ژرف اندیشی
سب سے بڑی فضیلت ان کی یه تھی که آپ ع عرب معاشرے میں سب سے بڑی بلند فکر اور عمیق اندیشه کے مالکه تھیں.خاص کر عقل عملی میں کیونکه آپ ع نے مکه کے تمام مالدار اور نامدار خواستگارون میں سے نبی اکرم ص کو شریک حیات انتخاب کیا .ازدواجی رشتے میں منسلک هوتے وقت آپ ع یوں فرماتی نظر آتی هے:يَا ابْنَ عَمِّ إِنِّي‏ قَدْ رَغِبْتُ‏ فِيكَ لِقَرَابَتِكَ مِنِّي وَ شَرَفَكَ فِي قَوْمِكَ وَ سَطَتِكَ فِيهِمْ وَ أَمَانَتِكَ عِنْدَهُمْ وَ حُسْنِ خُلُقِكَ وَ صِدْقِ حَدِيثِكَ ثُمَّ عَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا.[3]( اربلى، ‏ كشف الغمة ج‏1 / 509.سیره ابن هشام چ1 ، ص 201). مذکوره جملات اس بات کی بخوبی عکاسی کرتے هیں که نبی اکرم ص سے حضرت خدیجه کے عشق و محبت مجازی یا خواهشات نفسانی کی بنیاد پر نهیں بلکه معرفت کامل اور گهری شناخت کی بناپر تھے.اس کے بر خلاف جن زنان عرب میں ایسی بصیرت نهیں تھی انهوں نے حضرت خدیجه ع کی ملامت کرنا شروع کردیں.یهاں تک کهنے لگیں خدیجه اتنے بڑے مقام ومنزلت اور جاه حشم رکھتے هوئے ابو طالب کے فقیر جوان سے شادی کرلی هے.اس سےبڑی ننگ وعار کیا هوسکتی هے.لیکن ان عورتوں گے جواب میں حضرت خدیجه فرماتی تھیں: اے عرب کی عورتیں میں تم سے یه پوچھنا چاهتی هوں کیا مکه اور شام اور اس کے اطراف وکنار میں محمد ص جیسی کوئی دوسری شخصیت موجود هے جو تمام فضائل اور کمالات کے مالک کے آخری درجے پر فائز هو .میں نے ان کی کمالی بر جسته صفات کی وجه سے شادی کرلی هے.(بحار ،ج16، ص 81 ) اسی وجه سے آپ ع کی رحلت کے بعد بھی نبی اکرم ص آپ کے غم مناتے تو بعض همسران حسادت سے کهتی تھیں : یا رسول الله وه بوڑھی عورت تھی چلی گئی هم جوان همسر آپ کے ساتھ هیں .آپ کوکوئی فکر کرنے کی ضرورت نهیں .تو ان کے جواب میں حضور ص فرماتے : خَدِيجَةُ وَ أَيْنَ‏ مِثْلُ‏ خَدِيجَةَ صَدَّقَتْنِي‏ حِينَ كَذَّبَنِي النَّاسُ وَ آزَرَتْنِي عَلَى دِينِ اللَّهِ وَ أَعَانَتْنِي عَلَيْهِ بِمَالِهَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبِ الزُّمُرُّدِ لَا صَخَبَ فِيهِ. (كشف الغمة في معرفة الأئمةج‏1 360) خدیجه نے تب میرےساتھ دیا جب کوئی ساتھ دینے والا نهیں تھا. خدیجه کی مانند کوئی بھی میرے لئے
نهیں هوسکتا هے . خدیجه وه هے جس کے لئے جنت کی بشارت ملی هے. اور شب معراج جبرائیل امین نے سلام بھیجا هے. رَبِّی هُوَ السَّلَامُ وَ مِنْهُ السَّلَامُ وَ إِلَیهِ یعُودُ السَّلَا مُ. (کافی ج 1ص 279)
ایمان وعقیدے میں مضبوط
جس بصیرت اور فکر عمیق کی وجه سے نبی اکرم ص کو اپنے لئے شریک حیات انتخاب کیا تھا .یهی سبب بنی آپ ع کے مضبوط عقیدے اور پخته ایمان کا اور یوں اولین مؤمنه کا لقب حاصل کیا.جیسا که ابی رافع سے منقول هے پیر کے دن آپ ص مبعوث به رسالت هوکر نماز پڑھی اور حضرت خدیجه اسی دن کے آخر میں آپ ص کے ساتھ نماز پڑھی .( . استیعاب، ج 2 ، ص 419 ، ش 13.)اور حضرت خدیجه کا ایمان اس نهج پر پهنچا که حضور ص فرماتے هیں : وَ خَدیجَةَ وَ اَنَا ثالِثُهُمْ. اَری نُورَ الْوَحْیِ وَ الرِّسالَةِ وَ اَشُمُّ ریحَ النُّبُوَّةِ؛ ) . تاریخ طبری، ج 2 ،ص 208) نبوت کی خوشبو سونگھتی تھی. آپ ع کے ایمان کامل پر واضح ایک دلیل آپ ع کے وصیت نامه هے .جس میں آپ زندگی کے مختلف شعبوں میں پهنچنے والی آزار و اذیت سے شکوه شکایت کرنے کی بجائے پیغمبر اکرم ص سے کوتاهیوں پر معافی مانگتے هیں اور اس حد تک مقام نبوت کے احترام کے قائل هے که کامل وصیت کر نهیں پاتی .کیا مقام ومنزلت هے اس خدیجه کبری کا جس نے اپنا سب دار ندار نبوت اور اسلام پر قربان کردیا پھر بھی پیغمبر اکرم ص سے ایک عبا مانگنے میں شرماتی هے.
السَّابِقُونَ، کا مصداق کامل
الله تعالی سوره واقعه میں فرماتاهے .وَ السَّابِقُو نَ السَّابِقُو نَ، أُولئِکَ الْمُقَرَّبُون.(واقعه 10) یه سابقون هیں جو الله کے سب مقرب بندے هیں. حضرت خدیجه مختلف صفات میں آگے آگے، آیه سابقون کے کامل کے مصداق هے.یه سابقون میں سے هونا خود ایک امتیاز هے.جیسا که روزمره زندگی کے مختلف شعبوں میں پهلے یعنی سابقون بننے کی وجه سے قابل احترام ٹهرتے هیں.بلکه بعض فیلڈ میں یهی تنها معیار و ملاک هے .
جن جن چیزوں میں ملیکه عرب ام المؤمنین حضرت خدیجه پیش پیش تھیں ان میں سے ایک سب سے پهلی راوی اور حدیث نقل کرنےوالی آپ ع تھی .یعنی سب سے پهلےنبی اکرم ص سےاحادیث نقل آپ ع نے کیں .اسی طرح اسلام کے راه میں سب سے پهلے مال دینے والی حضرت خدیجه تھی .اسی لئے الله نے بھی آپ کے مال میں برکت ڈالی اور اسلام کی آبیار ی هوئی . اور نسل امامت آپ سے جاری هوئی .وگرنه پیغمبر اکرم ص کی تو بهت ساری بیویاں تھیں ان سے کو چھوڑ کر آپ ع سےنسل امامت کا سلسله جاری خود محکم دین هےکه الله تعالی نے بھی آپ کی قربانیوں کو اپنی در گاه میں قبول شرف بخشا هے.جس طرح صدر اسلام میں دو مسجدیں قابل ذکر هیں .ایک مسجد اور دوسری مسجد ضرار .لیکن ایک مسجد ماندگار هوئی کیونکه خلوص وصدق دل سے بنیاد ڈالی تھی .جبکه دوسری مسجد تاسیس هی اسی لئے کی گئی تھی تاکه نور اسلام کوبھجایا جائے .لیکن هوتا وهی هے جو منظور خدا هو . آپ ع کی انهی قربانیوں کی خاطر هے هر ایک آئمه ع نے آپ کو احترام سے یاد فرماتے اور آپ پر فخر کرتے جیسا که امام حسین ع کربلا میں فوج اشقیاء سے مخاطب هوکر فرمایا: هل تعلمون ان جدتي خدیجه الکبري. یا امام سجاد ع شام کے دربار میں خطبه دیتے هوئے فرمایا: منا خدیجة الکبری....
الله تعالی سے دعاگو هوں اس عظیم خاتون ام الائمه کی صحیح شناخت حاصل هوجائے
[1] .مثلا ایک مقرر وقت پر جو بھی فلاں درخت کے نیچے بیٹھ جائے فلاں حادثه رونما هوتا جو کسی نبی یا وصی کی علامت تھی
[2] . الكافي (ط - الإسلامية) / ج‏5 / 375 / باب خطب النكاح ..... ص : 369
[3] . اربلى، على بن عيسى‏ كشف الغمة في معرفة الأئمة (ط - القديمة) / ج‏1 / 509)

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه