عدالت و جدان اور قیامت صغری/ تحریر: احمد علی جواہری
قرآن مجید سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ روح اور نفس انسانی کے تین مراحل ہیں۔
1. نفس امارہ: یعنی سکرش نفس، جو انسان کو ہمیشہ برائیوں اور بدیوں کی دعوت دیتاہے اور شہوات اور فجور کو اس کے سامنے زینب بخشتا ہے، یہ وہی چیز ہے کہ جب اس ہوس باز عورت ، عزیز مصر کی بیوی نے اپنے بُرے کام کے انجام کا مشاہدہ کیا تو کہا (وما ابرئ نفسی ان النفس لامارة بالسوء ) میں ہرگز اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی کیونکہ سرکش نفس ہمیشہ برائیوں کا حکم دیتا ہے۔

2. نفس لوامہ: جس کی طرف زیر بحث آیات میں اشارہ ہوا ہے، وہ بیدار اور نسبتا آگاہ و با خبر نفس ہے اگرچہ اس سے گناہ کے مقابلہ میں مصوبیت حاصل نہیں کی ہے لہٰذا اس سے بعض اوقات لغزش ہوجاتی ہے۔ اور وہ گناہ کر بیٹھتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے بعد بیدار ہوجاتاہے اور توبہ کر لیتا ہے اور سعادت کی راہ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے کہ جسے اخلاقی وجدان کے عنوان سے یاد کرتے ہیں اور بعض انسانوں میں بہت قوی اور طاقتور ہوتاہے بعض میں بہت ضعیف و ناتواں لیکن اس کے باوجود یہ ہر انسان میں موجود ہوتاہے یہ اور بات ہے کہ کثرت گناہ کی وجہ سے اسے بیکار بنادیا جائے۔
3. نفس مطمنہ: یعنی تکامل
4. اور ارتقاء کو پہنچی ہوئی روح، جو اطمینان کے مرحلہ تک پہنچی ہوئی ہو، جس نے سرکش نفس کو رام کرلیاہو اور تقوائے کامل اور احساس مسئولیت کے مقام پر پہنچ گئی ہو کہ اب اس کیلئے آسانی کے ساتھ لغزش کرنا ممکن نہ ہرہے ۔یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں قرآن میں فرمایا (یا ایتها النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة) اے نفس مطمنہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ، جبکہ تو بھی اس سے راضی ہے اور وہ بھی تجھ سے خوش ہے۔
یہ نفس لوامہ انسان میں ایک چھوٹی سی قیامت ہے اور نیک یا بد کام انجام دینے کے بعد، جان کے اندر اس کا محکمہ بلا فاصلہ قائم ہوجاتا ہے اور وہ اس کا حساب کتاب کرتاہے۔
یہ عجیب و غریب اندرونی عدالت، قیامت کی عدالت کے ساتھ بلا کی مشابہت رکھتی ہے۔
۱۔ حقیقت میں یہاں قاضی و شاہد اور حکم کا جرا کرنے والا ایک ہی ہے جیسا کہ قیامت میں بھی اسی طرح ہے۔
۲۔ یہ وجدانی عدالت سفارش، رشوت، پارٹی بازی اور انسانوں میں رائج سفارشی خطوں کو قبول نہیں کرتی، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی یہی آیا ہے۔
۳۔ عدالت وجدان: اہم ترین اور ضخیم ترین اعمال ناموں کی مختصر ترین مدت میں جانچ پڑتال کرلیتا ہے اور اپنا آخری فیصلہ بڑی تیزی کے ساتھ صادر کردیتا، نہ اس میں نئے سرے سے درخواست دینے کی ضرورت ہے۔ نہ تجدید نظر کی، اور نہ ہی مہینوں اور سالوں تک چکر لگانے کی، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی یہی بات ہے۔
۴۔ اسکی سزا اور کیفر کردار: اس جہاں کی رسمی عدالتوں کی سزاوں کے برخلاف ، اس کے اولین شعلے اس کے دل وجان کی گہرائیوں میں بھڑکتے ہیں اور وہاں سے باہر کی طرف سرایت کرتے ہیں، پہلے وہ انسان کی روح کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور اس کے بعد اس کے آثار جسم، جیسا کہ قیامت کے عدالت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ (نارالله الموقدة التی تطلع علی الافئدة)
۵۔ اس وجدان کی عدالت کو دیکھنے والوں اور گواہوں کی ضرورت نہیں، بلکہ خود مہتمم انسان کی معلومات اور آگاہیوں کو، اس کے نفع میں یا اس کے بر خلاف گواہیوں کے عنوان سے قبول کرتا ہے۔ (حتی اذا جاءوها شهد لیهم سمعهم و ابصارهم و جلودهم)
-------------
سوره یوسف 53
همزه ۶، ۷
حم سجده ۲۰
------------
برگزیدہ تفسیر نمونہ/تفسیر سورہ قیامت

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه