مقدمہ
پروردگار عالم کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ایک بہترین ہمسر ہے جس کے ساتھ انسان پوری زندگی گزارتا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ کا بھی فرمان ہے کہ صالح بیوی انسان کی سعادتمندی ہے ۔ جو نہ صرف دنیا میں باعث سعادت ہے بلکہ آخرت میں بھی باعث نجات ہے اور نہ صرف اس سے جسمانی لذتیں اٹھاتا ہے بلکہ معنوی لذتیں بھی اٹھاتا ہے۔ اور اپنے منزل حقیقی کی جانب بڑھنے میں ایک دوسرے کے مددگار بھی ہے۔
ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئےاسلام نے میاں اور بیوی پر ایک دوسرے کے لئے کچھ فرائض معین کیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی خاندانی زندگی کو پر سکون بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی نسبت اپنے فرائض کو انجام نہ دیں تو ایسی صورت میں خاندان نہ صرف باعث سکون نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے برعکس باعث آزار و اذیت اور بے چینی ہے۔


عام طور پر یہ جو کہا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے بارے میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ شوہر کے گھر میں بیوی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے نہ کھانہ پکانا، نہ کپڑے دھونا اور نہ صفائی کرنا یہاں تک کہ بچے کو دودھ دینا ہو تو بھی بیوی شوہر سے اجرت لے سکتی ہے۔ اور دوسری طرف بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی اور اسے کہیں بھی جانے کے لئے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ واقعا یہ اسلام کے احکام ہیں، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب میاں بیوی کے درمیان باہمی رضیایت کی زندگی نہ ہو۔ لیکن اگر میاں اور بیوی باہمی رضایت اور خوشی سے اپنے امور کو آپس میں تقسیم کریں تو اسلام اس سے منع نہیں کرتا بلکہ یہ مرحلہ پہلے اور مذکورہ بالا مرحلہ بعد کا مرحلہ ہےکیونکہ اسلام نے بیوی کو شوہر کے گھر میں کام کرنے سے منع نہیں کیا ہے اور شوہر کو بھی بیوی کی عفت کا خیال رکھتے ہوے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینے سے منع نہیں کیا ہے۔
لہٰذا یہ جو حکم کہ میاں بیوی اپنی آزادی اور خوشی سے اگر اپنے امور کو آپس میں تقسیم کریں عین عدالت اور فطرت کے مطابق ہے۔ جیسا کہ حضرت علیؑ اور حضرت زہرا ؑ کی زندگی میں یہی ملتی ہے کہ جہاں پیغمبر اکرمؐ نے اسی طرح کاموں کو تقسیم کیا کہ گھریلو امور کو فاطمہ انجام دیں گی اور گھر سے باہر کے امور کو حضرت علی انجام دیں گے۔
میاں بیوی کے فرائض
انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور ترقی و کمال میں معاشرے کے افراد کااپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے ذاتی اور اجتماعی فرائض کو بحسن و خوبی انجام دینے کا بڑا کردار ہے کیونکہ اسی کے ذریعے انسانی معاشرہ منظم رہتا ہے۔ اسی طرح ازدواجی زندگی میں منسلک ہونے کے بعد مرد اور عورت کے کاندھوں پر کچھ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں جن میں سے کچھ خود مرد اور عورت کی ایک دوسرے کی نسبت ذمہ داریاں ہیں جنہیں انجام دے کر ایک بہترین اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہم پہلے شوہر کے فرائض کی طرف اشارہ کرینگے۔
شوہر کے فرائض
۱۔ بیوی کی سرپرستی
مردجسمانی اور عاطفی اعتبار سے عورت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اسی لئے اسلام نے سنگین حقوق کو مرد کے حوالے اور احساسات سے مربوط حقوق کو عورت کے ذمے لگا دیا تاکہ دونوں اپنی ذمہ داریوں سے بطور احسن عہدہ برآ ہوں۔ لہٰذا عورت کے ذمہ اولاد کی تربیت جیسی نازک ذمہ داری کو سونپا جس میں احساسات اور عطوفت درکار ہے البتہ مرد بھی اس کار میں شریک ہے لیکن اصل اور بنیادی ذمہ داری عورت کی ہے۔ جبکہ مرد کی بنیادی ذمہ داری اہل وعیال کی مادی ضروریات کو پوری کرنی ہے جس میں زیادہ تر جسمانی اور مادی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔
۲۔ خوش اخلاقی
یوں تو خوش اخلاقی ہر ایک کے لئے ایک بہترین صفت ہے لیکن شوہر کو بیوی کی نسبت خوش اخلاق ہونا زیادہ پسندیدہ ہے تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت اور الفت کا رشتہ باقی رہے اور خاندانی بنیادیں کمزور نہ ہوں۔ قرآن کریم اس بارے میں کہتا ہے : "اور اُن کے ساتھ اچھے انداز میں زندگی بسر کرو اب اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہےکہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور خدا اسی میں خیر کثیر قرار دےدے۔" جس طرح تلوار کے ذریعہ انسانی جسموں پر حکومت کی جاتی ہے اسی طرح اخلاق کے ذریعہ دلوں پر حکومت کی جاتی ہے اور میاں بیوی اچھے اخلاق کے ذریعے اپنی خاندانی زندگی کو شیرین بنا سکتے ہیں۔ روایات میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہوا ہےکہ بیوی کے ساتھ اچھائی، محبت اور خوش خلقی انبیاء کے اخلاق میں سے ہے۔
احادیث میں بھی خوش اخلاق انسان کے ساتھ شادی کرنے اور بداخلاق کے ساتھ شادی نہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ بہت سارے خاندانی مسائل بد اخلاقی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ بعض افراد اپنے آپ کو آقا اور بیوی کو نوکر تصور کرتے ہیں اور کسی صورت میں وہ بیوی کی بات یا عذر قبول کرنے پر تیار نہیں، اس کے برعکس بعض اوقات بیوی کی طرف سے اس طرح کی بداخلاقی عمل میں آتی ہے جن کی وجہ سے خاندانی زندگی کا نظام متزلزل ہوجاتا ہے۔
۳۔ پیار و محبت کا اظہار
میاں اور بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کے بغیر زندگی درحقیقت زندگی نہیں بلکہ اسیری ہے کیونکہ جس زندگی کی بنیاد پیار و محبت، مہربانی، اخلاص اور وفا پر نہ ہو وہ زندگی دیرپا نہیں ہوگی ۔ پیار و محبت ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے جس کے بغیر یہ زندگی ایک وبال کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ خاندان کوئی ہوٹل یا رسٹورنٹ وغیرہ نہیں ہے جن میں انسان بعض اوقات چند دن گزارنے پہ مجبور ہوتا ہے ، بلکہ خاندان انسان کے لئے باعث سکون اور امن ہے جو کہ محبت اور الفت کے بغیر میسر نہیں ہوتی۔ اور قرآن نے بھی اس رشتے کی بنیاد کو مال و دولت قرار دینے کے بجانے مودت و رحمت قرار دینے کی تاکید کی ہے۔
بعض لوگ اپنی بیویوں سے محبت تو کرتے ہیں لیکن اپنی بیوی سے اس کا اظہار نہیں کرتے ہیں یہ محبت اتنا مفید نہیں ہے اس محبت کے مقابلے میں جس کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ عورت جب اپنے شوہر کو خود سے اظہار محبت کرتے ہوئے سنتی ہے تو یہ بات ہمیشہ کے لیے اس کے دل میں اترتی ہے اور کبھی نہیں‌نکلتی ہے۔ کیونکہ عورت اظہار محبت کو زبان سے سنا زیادہ پسند کرتی ہے۔لہٰذا مرد کو چاہئے کہ گاہے اپنی زبان سے بھی بیوی کے ساتھ اظہار محبت کرے ۔ ایک اور حدیث میں‌آیا ہے کہ مرد کا اپنی بیوی سے محبت پیغمبروں کے اخلاق اور ایمان کی علامات میں سے ہے۔
۴۔ بے جا غیط و غضب سے اجتناب
انسان کے لئے پروردگار کی طرف سے عطاکردہ قوتوں میں سے ایک اہم قوت غیظ و غضب کی قوت ہے کہ اگر اس کا کنٹرول عقل کے ہاتھوں نہ رہے تو انسان نہ صرف انسان نہیں رہتا بلکہ درندہ سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ غصہ اور غضب کی حالت میں انسان کومعلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اور کیا کہ رہا ہے؟لہٰذا غصہ کا پی جانا بہت بڑی بہادری ہے۔
انسان چونکہ معصوم نہیں ہے لہٰذا بعض اوقات غلطی ہوجاتی ہے اور اگر خاندانی زندگی میں بیوی سے کوئی خطا ہوجائے شوہر کو داد و فریاد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے آپس کی محبت اور الفت متأثر ہوجاتی ہےجس سے ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہےحتی کہ بعض اوقات معمولی معمولی باتوں پر طلاق بھی ہوجاتی ہے۔ جس سے نہ صرف دو افراد بلکہ کئی خاندان متأثر ہوتے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے شوہر اپنے آپ کو آقا اور بیوی کوغلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور عورت کو ایک کم درجے کی مخلوق تصور کرتا ہے۔ جب کہ ازدواجی زندگی کو بہترین طریقے سےگزارنے میں مرد اور عورت دونوں کا برابر حصہ ہے، ان دونوں میں سے ایک کے بغیر یہ زندگی درحقیقت وبال جان ہے۔
اسحاق بن عمار کہتا ہے کہ میں نے امام صادقؑ سے کہا: عورت کا حق اس کے شوہر پر کیا ہے جس کے ادا کرنے سے وہ اچھا انسان کہلائے گا؟ تو فرمایا: (اسے اتنا کھانہ دے کہ) سیر ہوجائے، اس کے لیے لباس مہیا کرے اور جب بھی جہالت کی وجہ سے اس سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو اسے معاف کردے۔ پھر حضرت نے فرمایا: میرے بابا کے پاس اذیت دینے والی ایک عورت تھی لیکن آپؑ اُسے معاف فرماتے تھے۔
۵۔ توہین کرنے سے اجتناب
دین اسلام میں ایک دوسرے کی توہین اور اہانت کسی کے لئے بھی جائز نہیں؛ کیونکہ اسلام نے بنی نوع انسان کو عزت دی ہے لہٰذا کسی کو حق نہیں کہ وہ دوسرے کی آبروریزی کرے۔ اسی لئے قرآن کریم میں پروردگار نے دوسروں کے بارے میں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت کو حرام قرار دیا ہے۔
میاں بیوی کے درمیان بھی مضبوط رشتے کے لئے ایک دوسرے کی توہین اور آبروریزی کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے خاص طور پر شوہر کو اس بات کا زیادہ خیال رکھنا ہوگا۔ کیونکہ ایک طرف سے مرد حضرات جلدی غضبناک ہوتے ہیں تو دوسری طرف سے عورت کا مزاج نازک اور دل کمزور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ عورت کی آبروریزی درحقیقت مرد کی ہی آبروریزی ہے لہٰذا ایک دوسرے کی اہانت کرنے کے بجائے ضروری ہے ایک دوسرے کی عزت و آبرو بچانے کا باعث بنیں۔اور قرآن نے بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس کہا ہے کہ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے عیوب کو چھپانے کا سبب بنیں۔
روایات و احادیث میں اس طرح آیا ہےکہ عورتوں کی عزت و حترام سوائے کریم اور شریف شخص کے نہیں‌کرے گا اور اہانت نہیں کرے گا مگر پست اور گٹھیا انسان۔ اور واقعا ایسا ہی ہے کہ جو انسان خود عزت و احترام کے قابل ہو وہی دوسروں کی عزت اور احترام کرے گا۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ خدا کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ بلند مرتبہ اس کا ہے جو سب سے زیادہ اپنے ہمسر کی عزت و احترام کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح اسلام نے ہر ممکن کوشش اور سعی کی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کا رشتہ مضبوط ہو اور اس کی بنیاد محبت و الفت پر ہوں تاکہ ایک بہترین خاندان پھر ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے جو ایک عالمی اور الٰہی حکومت کے قیام کا زمینہ ہوں۔
۶۔ گھریلو کاموں میں تعاون
بہت سارے مرد حضرات اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جو کام کرتے ہیں اسی کو بہت کچھ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے جب دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد جب گھر پہنچ جاتے ہیں تو معمولی باتوں پر گھر والوں پر برس پڑتے ہیں جب کہ یہ(گھر کی ضروریات کا مہیا کرنا) اس کے واجبات میں سے ہیں اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ خدا کے ہاں مسؤول ہیں لیکن گھر کے تمام امور خاص طور پر بچوں کے دیکھ بال کو بیوی بہترین طریقے سے انجام دیتی ہے، اس کا احساس انہیں نہیں ہوتا۔ اور اگر تھوڑی دیر کے لئے ان حضرات کو بچے سنبھالنا پڑے تو خود بھی سنبھل نہیں‌پائیں گے چہ جائیکہ بچوں کو بھی سنبھالیں۔ ایسے میں مرد حضرات کے فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ گھریلو کاموں میں بھی اپنے ہمسروں کے ساتھ تعاون کریں اور مل کر ان امور کو انجام دیں کیونکہ گھریلو امور زیادہ اور سخت ہیں جس کا اندازہ صرف وہی کرسکتا ہے جو ان اور کو انجام دیتا ہے۔
۷۔ عفت و پاکدامنی کا خیال
شوہر کو نہ صرف اپنی عفت و پاکدامنی کا خیال رکھنا چاہئے بلکہ اسے بیوی کی عفت اور پاکدامنی کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ بعض اوقات گھر میں مختلف افراد کا آنا جانا میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا سبب بنتا ہے کیونکہ دنیا میں کتنے ہی عیب ہے جو پس پردہ انجام دیے جاتے ہیں اور کتنے ہی بھیڑئیے ہیں جو انسانوں کے بھیس میں نظر آتے ہیں لہٰذا انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے اور ظاہر پر اعتماد کر کے ہر قسم کے افراد کو گھر میں نہیں لانا چاہئے۔ مولائے کائنات فرماتے ہیں:
"عورتوں کو پردہ میں رکھ کر ان کی نگاہوں کو تاک جھانک سے محفوظ رکھو کہ پردہ کی سختی ان کی عزت و آبرو کو باقی رکھنے والی ہے اور ان کا گھر سے نکل جانا غیر معتبر افراد کے اپنے گھر میں داخل کرنے سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو کہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو نہ پہچانیں تو ایسا ہی کرو ۔"
یہ ایک سماجی نکتہ ہے کہ بعض لوگ عورتوں کو گھر سے باہر جانے نہیں دیتے لیکن گھر میں ہر قسم کے افرادکو داخلہ کی اجازت دے دیتے ہیں ظاہر ہے کہ اس طرز عمل کا خطرہ باہر نکلنے سے کم نہیں ہے۔اور ظاہر ہے اس کے لئے شوہر خود کا پاکدامن اور عفت دار ہونا ضروری ہے ورنہ جو شخص خود پاکدامن نہ ہو وہ نہ تو اپنے ہمسر کی عفت کا خیال رکھے گا اور نہ ہی اسے برائی سے روک سکے گا۔
بیوی کے فرائض
۱۔ شوہر کی اطاعت
جائز اور مشروع کاموں میں شوہر کی اطاعت کے بارے میں بہت ساری احادیث و روایات آئی ہیں لیکن معصیت اور برے کاموں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے کیونکہ خالق کی نافرمانی کر کے کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ چونکہ سربراہ کے بغیر گھریلو امور بد نظمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور مرد جسمانی طاقت کے اعتبار سے عورت سے قوی ہوتا ہے تو اسلام نے خاندان کی سربراہی مرد کے حوالے کی ہے تاکہ گھریلو امور بطور احسن انجام پائیں۔پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں ایک مرد کسی کام سے گھر سے نکلا اور بیوی سے کہا کہ جب تک میں واپس نہ آؤں گھر سے نہ نکلنا۔ بیوی کا باپ بیمار ہوگیا تو بیوی نے کسی کو پیغمبر اکرمؐ کے پاس اجازت لینے کے لئے بھیجا تاکہ باپ کی عیادت کے لئے جائے تو پیغمبر نے اجازت نہیں دی اور شوہر کی اطاعت کا حکم دیا جب اُس کا باپ مر گیا تو باپ کی تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے قاصد کو پیغمبر کے پاس بھیجا تو پیغمبر نے فرمایا: گھر میں بیٹھی رہو اور شوہر کی اطاعت کرو ۔ جب اُس کا باپ دفن ہو گیا تو پیغمبر نے کسی کو اُس عورت کے پاس بھیجا اور کہا: خداوند عالم نے شوہر کی اطاعت کرنے پر تمہیں اور تمہارے باپ کو بخش دیا ہے۔
۲۔ شوہر داری
اسلام نے جس طرح ایک مرد کا اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر اسلام کی بقا کی خاطر لڑنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے اسی طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کی خدمت، اس کا احترام ، استقبال اور اس کی بداخلاقی پر صبر کرنے کو بھی جہاد سے تعبیر کیا ہے ۔ کیونکہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو شوہر کو پیش آنے والی زندگی کے مسائل اور مشکلات میں اُسکا ہمدرد اور اُس کی پشت پناہ ہےجس کی تسلی اور ہمدردی سے شوہر کا جینا آسان ہوجاتا ہے جیسا کہ حضرت علیؑ اور حضرت زہراؑ کی زندگی میں یہ چیزیں نظر آتی ہیں کہ جب بھی حضرت علیؑ جنگوں سے تھک کر اور زخموں سے چور ہوکر گھر پہنچتے تو آپؑ کی تھکاوٹ دور ہو جاتی تھی اورآرام و سکون ملتا تھا کیونکہ حضرت زہراؑ گھر کے ماحول کو کچھ اس طرح بنا کے رکھتی تھی۔ لیکن آج جب ہم اپنے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو بعض خاندان ایسے بھی نظر آتے ہیں کہ جہاں مرد حضرات جانے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کے لئے گھر سے باہر زیادہ سکون ملتا ہے اور گھر کے اندر ایک بے چینی کی فضا ہوتی ہے یہ مشکل معمولا ایسے خاندانوں میں پیش آتی ہے جہاں مادیات کا غلبہ ہو اور ازدواجی زندگی کے اصلی اہداف (جو کہ ایک اچھی نسل کی پرورش، ایک مثالی معاشرے کی تشکیل اور ایک الٰہی حکومت کا قیام ہے) سے غافل ہوں ۔
حدیث میں ہے کہ صالح بیوی ہزار غیر صالح مرد سے بہتر ہے اور کوئی بھی عورت جو اپنے شوہر کی سات دن خدمت کرے پروردگار جہنم کے سات دروازے اس کے لئے بند اور جنت کے آٹھ دروازے اس کے لئے کھول دیتا ہےکہ جس سے چاہے وہ داخل ہوں۔ لہٰذا بیوی کا اپنے شوہر کی بداخلاقیوں اور سختیوں پر صبر و تحمل در حقیقت اس کے اپنے حق میں ہےاور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس لئے بڑا اجر و ثواب ہے۔ جو کبھی ضائع نہیں ہوگا ۔ دنیا کی چند دن کی زندگی میں آنے والے مصائب اور مشکلات کو برداشت کرکے وہ اپنی اخروی اور جاودانہ زندگی کو آباد کرسکتی ہے۔
۳۔ خوش اخلاقی
گھریلو نظام کا زیادہ تر حصہ عورت کے ذریعے ہی چلتا ہے یہی وجہ ہے جس گھر کے اندر اگر عورت نہ ہو تو وہ گھر پراکندہ اور نامرتب نظر آتا ہے۔اسی طرح ازدواجی زندگی کو خوبصورت بنانے میں بھی زیادہ تر عورت کا ہی حصہ ہے چنانچہ اگر عورت گھریلو نظام یا ازدواجی زندگی کے دیگر امور میں اپنی ذمہ داریوں کو بطور احسن انجام نہ دیں تو خاندانی نظام بہت ساری مشکلات سے دچار ہوجاتی ہے۔ اور ان تمام امور میں بہترین انداز سے چلانے میں عورت کے اندر جس صفت کا ہونا ضروری ہے وہ خوش اخلاقی ہے ۔لیکن اگر عورت بد خلاق ہوں تو نہ صرف شوہر کی زندگی بدمزگی کا شکار ہوں گی بلکہ پورے خاندان کے افراد اس سے متأثر ہوتے ہیں۔
پیغمبر اکرمؐ فرماتےہیں: مسلمان مرد کی خوشبختی اس میں ہے کہ اس کے پاس صالح بیوی ، وسیع گھر، اچھی سواری اور فرزند صالح ہوں۔ امیر المؤمنین ؑ نے بھی رحم دل اور خوش اخلاق عورت کو بہترین عورتوں میں سے قرار دیا ہے۔ عورت جب اس طرح سےخوش اخلاقی کے ساتھ گھریلو امور کو انجام دے گی اور خاندان کو ہر قسم کے مسائل ،مشکلات اور انحرافات سے دور رکھے گی تب جا کر اس کا یہ عمل خدا کی راہ میں جہاد قرار پائے گا۔
۴۔ شوہر کا احترام
بیوی پر شوہر کا ایک اہم حق اس کا احترام ہے جو عام طور پر ہمارے معاشرے میں بہت کم دیکھنےمیں آتا ہےاور یہ حال مردوں کا بھی ہےجو بعض اوقات اختلافات کا باعث بنتے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سارے دیگر مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایک بہترین ہمسر وہ ہے جو اپنے شوہر کے احترام کا قائل ہوں اور یہ تب ممکن ہے جب وہ دل سے اپنے شوہر کو چاہتی ہو۔ پیغمبر اکرمؐ فرماتےہیں: عورت پر مرد کا حق یہ ہے کہ وہ اس کے لئے چراغ روشن کرے، بہترین غذا تیار کرے، گھر کے صحن تک اس کے استقبال کے لئے جائے، اسے خوش آمدید کہے، طشت و تولیہ اس کے لئے لائے ، اس کا ہاتھ دھولے اور سوائے کسی عذر کے اس کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے سے منع نہ کرے۔
اگر بیوی اس طرح سے اپنے شوہر کا احترام کرے تو کیا کوئی شوہر ہے جو اپنی ایسی بیوی کو چھوڑ کر کسی اور عورت کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھے مگر بعض ہوس پرست لوگ جو صرف ہوس اور خواہشات کے دلدل میں پھنس چکے ہوں۔ اس طرح میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت پروان چڑھے گی اور ایک خوبصورت زندگی گزاریں گے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ ایک قوم رسول خداؐ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے سولؐ ہم نے بعض لوگوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کو سجدہ کر رہے تھے، تو رسول اللہؐ نے فرمایا: اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو (سب سے پہلے) بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر ک لئے سجدہ کرے۔ کسی کی عزت و احترام کرنے کی آخری حد یہ ہے کہ اسے کے سامنے سجدہ ریز ہوں یہی وجہ ہے کہ انسان صرف پروردگار کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ احترام اور عبادت کے قابل ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ جائز نہیں‌ہے۔ اور اگر احترام کی یہ حد کسی اور کےلئے جائز ہوتی تو وہ ذات پروردگار کے بعد شوہر ہوتا جس کے لئے بیوی سجدہ کرے، لیکن یہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔
۵۔ پیار و محبت
جس طرح شوہر پر ضروری ہے دل سے بیوی کے ساتھ محبت کرے اور اس کا اظہار بھی کرے اسی طرح بیوی پر بھی لازم ہے کہ شوہر کو دل سے چاہتی ہو۔ اور شوہر سے اس کا اظہار بھی کرے۔ کیونکہ محبت دوطرفہ رشتہ ہے لہٰذا اگر ایک طرف سے محبت ہو اور دوسری طرف سے نہ ہو تو یہ محبت پائدار اور دیرپا نہیں ہوسکتی۔
ایک شخص رسول خداؐ کی خدمت میں آکر کہنے لگا میری ایک بیوی ہے جب بھی میں گھر میں داخل ہوتا ہوں میری استقبال کے لیے آتی ہے ، جب میں گھر سے باہر نکلتا ہوں تو مجھ سے وداع کرتی ہے اور جب مجھے پریشان دیکھتی ہے تو کہتی ہے کس چیز کے بارے میں پریشان ہو؟ اگر رزق و روزی کی پریشانی ہے تو یہ کسی اور(خداوند) کے ذمہ ہے اور اگر آخرت کے بارے میں فکرمند ہو تو پروردگار تیری پریشانی میں اضافہ فرما۔ تو پیغمبرؐ نے فرمایا: پروردگار کے کچھ مأمور بندے ہیں اور یہ انہیں میں سے ہے اس کے لئے شہید کے اجر کا آدھا ہے۔
اگر مرد اور عورت اسی طرح زندگی گزاریں جو مندرجہ بالا حدیث میں‌ذکر ہوا تو نہ صرف دنیا میں ایک اچھی زندگی بلکہ آخرت میں بھی فھو فی عیشۃ الراضیہ کے مالک ہونگے۔
میاں بیوی کےدرمیاں محبت و الفت یا عداوت و دشمنی کے اثرات اولاد پر بھی مرتب ہوتے ہیں چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن والدین کے درمیان محبت و الفت پائی جاتی ہیں ان کی اولاد میں بھی محبت و الفت دیکھتے ہیں جبکہ اس کےبرعکس اگر والدین ہمیشہ اختلافات کا شکار ہوں تو ان کی اولاد بھی ان سے یہی سیکھتی ہیں۔ اور نہ صرف دنیا میں ایک وبال جان زندگی گزاریں گے بلکہ آخرت میں بھی خسارہ اٹھائیں گے۔
۶۔ زینت صرف شوہر کے لئے
عام طور پر مرد اور عورت کو جب کسی پروگرام میں جانا ہوتا ہے یا کسی نہ کسی کام سے گھر سے نکلنا ہوتا ہے تو بن ٹھن کے جاتے ہیں لیکن جب گھر میں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں تو یہ عمل انجام نہیں پاتا یعنی عام طور پر میاں بیوی کی بناؤ سنگھار ایک دوسرے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ دوسروں کے ہے ہوتی ہے جبکہ عورت کا اپنے شوہر کے لئے بناؤ سنگھار عبادت اور شوہر کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ کام حرام ہے یہ اس لئے ہے کیونکہ جب بیوی کی توجہ فقط شوہر پر ہوگی اور بیوی جذاب ہوگی تو شوہر کی توجہ بھی بیوی پر ہوگی اور آپس میں پیار و محبت ہوگی جس سے خاندانی نظام مظبوط ہوگا جبکہ دوسروں کے لئے زینت کرنے سے میاں اور بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوگا اور یہیں سے عورت کی بدکاری شروع ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ بے حیائی کی انتہا کا باعث بنتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ "جو عورت شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے عطر لگائے خدا اسکی نمازوں کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ غسل نہ کرلے جس طرح جنابت کے لئے غسل کیا جاتا ہے۔" اسی طرح شوہر بھی جب اپنی شکل و صورت عجیب و غریب بنا کے رکھتا ہے اور اصلاح و نظافت وغیرہ کی رعایت نہیں کرتا ہے تو بیوی کی توجہ دوسروں کی طرف ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس طرح آیا ہےکہ جس طرح مرد حضرات چاہتے ہیں‌کہ عورتوں کو مزیّن اور آراستہ دیکھیں اسی طرح عورتیں چاہتی ہیں کہ مرد حضرات کوپاکیزہ و آراستہ اور صاف ستھرا دیکھیں۔
امام رضاؑ کی ایک حدیث ہے جس میں اسی اہم نکتے کی طرف بہتر انداز میں اشارہ کیا ہے فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کی عورتیں عفت و پاکدامنی سے فسق و فجور کی طرف گئیں انہیں اس (عفت و پاکدامنی)سے نہیں نکالا مگر ان کے شوہر حضرات کی عدم زینت نے(یعنی وہ لوگ اپنے آپ کو بنا سجا کے نہیں رکھتے تھے)۔ اس کے بعد فرمایا: عورت بھی مرد سے وہی توقع رکھتی جو مرد عورت سے رکھتا ہے۔ پس زیب و زینت اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے ہو تو عبادت ہے لیکن اگر کسی نامحرم کی خاطر ہو تو نہ صرف خدا کی لعنت بلکہ تمام مخلوقات کی لعنت اس پر ہے کیونکہ یہ کام حرام ہے جس کی وجہ سے خاندانی زندگی کا نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔
۷۔ اپنی عفت اور پاکدامنی کا خیال
عفت و پاکدامنی انسان کی بہترین صفات میں سے ہےاس صفت کا مالک انسان نہ صرف دنیا میں سرخرو اور سراٹھا کر چلتا ہے بلکہ آخرت میں بھی جس دن دوسروں کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اس کا سر بلند ہوگا۔اور نہ صرف دنیا میں عزت و آبرو کا مالک ہوگا بلکہ قیامت کے دن بھی خدا کے حضور عزیز اور آبرومند ہوگا۔ایک بے داغ ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں اپنی عفت اور پاکدامنی کا خیال رکھیں۔ جس کے اثرات نہ صرف ان کی اپنی زندگی پر مرتب ہونگے بلکہ ان کی آنے والی نسلوں یہاں تک کہ معاشرے کے باقی افراد پر بھی مرتب ہونگے۔
پیغمبر اکرمؐ فرماتے ہیں کہ بہترین عورت ہوہے جو زیادہ بچہ دینے والی، محبت اور عطوفت والی، عفیف و پاکدامن، اپنے خاندان میں عزیز و محترم، شوہر کی نسبت زیادہ متواضع اور مزاحگر، دوسروں (مَردوں) کی نسبت باپردہ اور پاکدامن، شوہر کی باتوں پر کان دھرنے والی اور فرمانبردار، تنہائی میں شوہر کے اختیار میں دینے والی اور مردوں ترک زینت نہ کرتی ہو۔
ایسی بہت ساری احادیث ہیں جن میں عفت و پاکدامنی کو ایک بہترین ہمسر کی صفات میں سے قرار دی ہے جن پر عمل کرکے نہ صرف آپس کے اختلافات سے بچ سکتے ہیں بلکہ آپس میں محبت و الفت کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ کیونکہ اکثرمیاں بیوی کے درمیان اختلافات اور جدائی دوسروں کے ساتھ نامشروع روا بط اور غیر اخلاقی کاموں کی وجہ سے پیش آتی ہیں۔ لیکن اگر نامحرموں کے ساتھ ناجائز روابط کے بجائے آپس کے رابطے کو مضبوط کریں تو بہت ساری مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔
حرف آخر
آج ہمارے معاشرے کے تمام مسائل اور مشکلات کا حل صرف اور صرف تعلیمات اہلبیت پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ جب تک ہم ان تعلیمات کو کتابوں سے نکال کر معاشرے میں نہیں لائیں گے اور اس پر عمل نہیں کریں گے تب تک معاشرہ ظلمت و تاریکی اور جہالت کا شکار رہےگا۔ اور جب تک ایک دوسرے کا احترام نہیں کریں گے ،حقوق اور فرائض کا خیال رکھتے ہوئے انہیں ادا نہیں کرے گا تب تک ہمارے مسائل اور مشکلات اور آپس کے اختلافات ختم نہیں ہونگے۔
بدقسمتی سے دین اسلام کی حقیقت اور معارف الٰہی و سیرت ائمہ اہلبیت سے ناآشنائی کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے اندر روز بروز ایک دوسرے کی غیبت، توہین و اہانت، عدم اعتماد اور دیگر اخلاقی برائیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ خاص طور پر آج کے اس ماڈرن دور میں جہاں لوگوں کے دینی اور مذہبی اعتقادات کو کمزور کرنے کےلئے نئی نئی شبہات پیدا کئے جارہے ہیں اور صراط مستقیم سے ہٹانے کے نئے نئے طریقے دشمن کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو ایسے میں ایک بہترین ازدواجی زندگی گزارنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ان تمام مشکلات کا مقابلہ کیا جاسکے اور بہترین خاندانی زندگی اس وقت ممکن ہے جب خاندان کے افراد خصوصاً میاں بیوی اپنے اپنے فرائض پر عمل کریں۔پروردگار سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔
نتیجہ
ایک مثالی خاندانی زندگی گزارنے کےلئے ضروری ہے کہ معارف الٰہی اور سیرت ائمہ اہلبیت پر عمل پیرا ہوں اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں خاص طور پر میاں بیوی اگر اپنے فرائض پر عمل کریں تو وہ گھر درحقیقت بہشت ہے۔ لیکن اگر اپنے فرائض پر عمل نہ کریں توخاندانی زندگی دراصل عذاب ہے۔
میاں بیوی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر کے خاندانی زندگی کو بہت ساری مشکلات ، مسائل اور اختلافات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ خصوصاَ عورت کا کردار گھر کی فضا کو خوشگوار اور خوشحال بنانے میں بہت اہم اور ضروری ہے۔
منابع
کتابیں:
1. قرآن کریم
2. جوادی، ذیشان حیدر، ترجمه و تفسیر قرآن کریم
3. نهج البلاغہ ترجمہ و تشریح ذیشان حیدر جوادی
4. کلینی، یعقوب، اصول کافی باترجمہ و شرح فارسی، ناشر انتشارات اسوه(وابستہ بہ سازمان اوقاف و امور خیریہ) ۱۳۸۱ھ،ش
5. مجلسی، محمد باقر" قدس الله سره "بحار الانوار، مؤسسۃ الوفاء بيروت - لبنان الطبعۃ الثانيۃ المصححۃ 1403 ه‍ - 1983 م
6. ری شهری، محمد، میزان الحکمہ، الناشر دار الحدیث، الطبعہ الاولی، عام النشر۱۴۲۲ھ ق
7. مصطفوی، سید جواد، بهشت خانواده، قم انتشارات دار الفکر، چاپ بیست و دوم۱۳۸۶
8. طبرسی، مکارم الاخلاق، مطبعہ مؤسسہ النشر الاسلامی، البطعہ الثانی۱۴۱۶ھ ق
9. محمودی، امیر ملک، راہنمای خانواده(ویرایش جدید با اضافات)، چاپ ۳۹، ناشر منشور وحی۱۳۸۸
10. سادات، محمد علی، راہنمای ہمسران جوان، چاپ ۱۵، نشر فرہنگ اسلامی۱۳۷۶
11. اہل قلم کی ایک جماعت، تاریخ اسلام، ناشر انتشارات انصاریان قم۱۴۱۸ھ ق
12. دستغیب، عبد الحسین، ازدواج اسلامی، چاپ دوم، دفتر انتشارات اسلامی۱۳۷۸
13. بهبهانی حائری، محمود، فرهنگ تربیت فرزند در اسلام، چاپ اول، ناشر انتشارات پیام مهدی۱۳۸۷
14. سپهری، محمد، ترجمہ و شرح رسالۃ الحقوق امام سجاد، چاپ یازدهم، ناشر اتشارات دار العلم۱۳۹۰ھ ش
15. منقی الهندی، کنزالعمال، مؤسسۃ الرسالة، بیروت لبنان۱۳۹۹ھ ش
سوفٹ وئیر:
1. جامع التفاسیر
2. المکتبۃ الشاملۃ
3. جامع احادیث الشیعہ

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه