خلقت انسان سورہ دھر میں

سورہ دھر کے زیادہ تر مباحث قیامت اور جنت کی نعمتوں کے بارے میں ہیں، لیکن اس کی ابتدا میں گفتگو انسان کی خلقت کے بارے میں ہے، کیونکہ اس زمینہ ساز خلقت کی طرف توجہ کرنا ہے۔
فرماتاہے ’’کیا ایسا نہیں کہ انسان پر ایک طویرل زمانہ ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا۔(هل اتی علی الانسان حین۔۔۔۔۔۔ )
ہاں اس کے وجود کے ذرات میں سے ہر ذرہ سی گوشہ میں بکھرا پڑا تھا۔ مٹی، دریا اور ہوا میں اس کے وجود کا اصلی مود ر ایک ان تینوں وسیع محیطوں کے کسی گوشہ میں پڑا ہوا تھا ور وہ حقیقت میں ان کے درمیان گم شہد اور بالکل قابل ذکر نہیں تھا۔

’’قابل ذکر نہیں تھا‘‘۔ کے جملہ کی تفسیر میں دوسرے نظریات کا بھی اظہار ہوا منجملہ ان کے یہ ہے کہ : انسان جب عالم نطفہ میں تھا اور جنین تھا تو وہ کوئی قابل ذکر وجود نہیں تھا، لیکن بعد میں جب اس نے تکامل و ارتقا کے مراحل طے کرلیے تو وہ ایک قابل ذکر وجود میں تبدیل ہوگیا۔
اور ’’انسان‘‘ کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ علما و دانش مند جو علم حاصل کرنے سے پہلے قابل ذکر نہیں تھا لیکن بعد قابل بنا۔۔۔۔
انسان سے مراد جنس انسان بھی مراد لیا ہے۔
بہرحال اس مرحلہ کے بعد انسان کی خلقت اور اس کے قابل ذکر موجود ہونے کی بات آتی ہے، فرماتا ہے: ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے اور ہم اس کو آزمائیں گے لہذا ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا قرار دیا ہے۔ (انا خلقنا الانسان من نطفة۔۔۔۔۔۔۔)
’’امشاج‘‘، مخلوط اور ملی جلی چیز معنی میں ہے۔ نطفہ مخلوط سے انسان کی خلقت ممکن ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ کے ملنے اور اسپر اور اوول کی ترکیب کی طرف اشارہ ہے۔
’’نبتلیہ۔۔‘‘ کا جملہ انسان کے تکلیف و ذمہ داری اور آزمائش و امتحان کے مقام تک پہنچنے کی طرف اشارہ ہے کہ اسے تکلیف و ذمہ داری اور مسئولیت کیلئے شائستہ اور اہل قرار دیا۔
چونکہ انسان کی تکلیف و ذمہ داری اور آزمائش ، علم و آگاہی اور آلات شناخت کے علاوہ دو اور عوامل کی مختاج ہے۔ یعنی مسئلہ ہدایت و اختیار۔ اس لیے بعد والی آیت میں ان دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ : ہم نے اسے راستہ کی نشاندھی کردی ہے اب چاہے وہ شاکر ہوجائے اور اسے قبول کرلے، یا کفران کرکے قبول نہ کرنے والا بن جائے۔ (ان هدیناه السبیل اما شاکر و اما کفورا)
’’ہدایت‘‘، یہاں ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے جو ’’ہدایت تکوینی‘‘ ، ’’ہدایت فطری‘‘ اور ’’ہدایت تشریعی‘‘ کو شامل ہے اگرچہ آیت کا سیاق زیادہ تر ہدایت تشریعی کی طرف ہے۔
مجموعی طور پر یہ آیت انسانی زندگی میں تین اہم اور سرنوشت ساز مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مسئلہ تکلیف و مسئلہ ہدایت اور مسئلہ آزادی ارادہ و اختیار جو اک دوسرے کے لازم و ملزوم اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔
آخری زیر بحث آیت میں ان لوگوں کی سرنوشت کی طرف جو کفروکفران کا راستہ طے کرتے ہیں ایک مختصر اور پر معنی اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ہم نے کفار کیلئے زنجیریں طوق اور جلانے والے شعلے تیار کر رکھے ہیں۔(انا اعتدنا للکافرین سلاسلا و اغلالا و سعیرا)
اعتدنا، سزائے حتمی و یقینی ہونے کے مسئلہ پر ایک تاکید ہے۔
سلاسل، زنجیر، ’’اغلال‘‘ حلقہ (طوق) کے معنی میں ہے جسے گردن یا ہاتھوں میں ڈال دیتے ہیں اس کے بعد اسے زنجیر سے باندھ دیتے ہیں۔
یہاں کی شہوات میں آزادی ان کیلئے وہاں کی اسارت کا سبب بن جائے گی اور وہ آگ جو انہوں نے اس دنیا میں بھڑکائی ہے وہ وہاں جسم اختیار کرے گی اور وہ ان کے دامن گیر ہوجائے گی۔
-------
برگزیدہ تفسیر نمونہ

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه