بقیع جو ظہور اسلام سے پہلے "بقیع غرقد" کے نام سے مشہور تھا جو کانٹے دار درخت کے معنا میں ہے
آنحضرت ص کے مکہ سے مدینہ کیطرف ھجرت کے بعد آپکے حکم سے اسمیں موجود کانٹے کی درختوں کو کاٹ کر دوسرے درختوں سے آباد کیا گیا چناچہ جنت البقیع (یعنی درختوں سے بھرا ہوا باغ) کے نام سے معروف ھوا اور رسول اکرم ص نے اسے مسلمانوں کا قبرستان قرار دیا, چنانچہ اس بقعہ مبارکہ میں, ائمہ ھدی, اصحاب کرام, زوجات اور ذریہ رسول اکرم ص, شھدا اور حافظان قرآن جیسی ھزاروں شخصیات مدفون ہیں جنکی تفصیل یوں ہے

اصحاب پیامبر اکرم ص:
مرآہ الحرمین اور آثار المدینہ البقیع کے نقل کے مطابق 10 ھزار اصحاب پیامبر اکرم ص اس بقعہ مبارکہ میں مدفون ہیں, سب سے پہلے
اسعد بن زرارہ انصاری انصار سے
عثمان بن مظعون برادر رضاعی پیامبر اکرم ص مہاجرین سے
عبد اللہ بن مسعود
صہیب رومی,
مقداد, اور سعد بن ابی وقاص... اسی مکان مقدس میں دفن ہیں
قبور رشتہ داران پیامبراکرم ص:
درجہ ذیل شخصیات اس مقدس جگہ پر مدفون ہیں :
عباس بن عبدالمطلب عموی پیامبر,
عقیل بن ابی طالب,
عبداللہ بن جعفر,
صفیہ اور عاتکہ....
قبور فرزندان پیامبر اکرم ص
آنحضرت ص کا فرزند ارجمند حضرت ابراہیم اسی طرح بعض نقل کے مطابق آپکی اکلوتی بیٹی سیدہ کونین س بھی اسی مکان مقدس میں آرام فرما ہیں
ازواج پیامبر ص
حضرت خدیجہ س کے علاوہ آپکی تمام زوجات بھی اسی بقعہ مبارکہ میں مدفون ہیں
روضات ائمہ طاہرین ع
ائمہ طاھرین میں سے :
● حضرت امام حسن مجتبی,
● حضرت امام زین العابدین,
● حضرتامام محمدباقر
اور حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام کی روضات نے اس بقعہ مبارکہ کی شرافت اور عظمت کو چار چاند لگادی اور واقعی معنوں میں جنت البقیع کہلانے کے قابل بنایا کیونکہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنکی طہارت, صداقت اور سخاوت کی گواہی خود رب ذوالجلال نے اپنی لاریب کتاب میں بالترتیب
سورہ احزاب 33,
آل عمران 61
ھل اتی 8
اسی طرح
سورہ مائدہ 55
شوری 23 میں انکی مودت, محبت اور ولایت کا حکم دیا ہے
قبور شھدا اسلام:
شھدا احد, شھدا واقعہ حرہ اور صدھا حافظان قرآن نیز اس متبرک جگہ پر مدفن ہیں
جنت البقیع انھدام سے پہلے:
ابن جبیر ساتویں صدی میں پھر 100سال بعد ابن بطوطہ نے اپنے اپنے سفرنامہ میں بقیع کی توصیف کرتے ھوے لکھتے ہیں
" _جنت البقیع میں چار ائمہ طاھرین اور دیگر کچھ اصحاب کرام کے قبور پر گنبد اور قبے بنے ہوے تھے ان میں سے _بالخصوص
_امام حسن مجتبی علیہ السلام
کی قبر مطہر کا گنبد سب_ سے زیادہ بلند اور مرتفع تھا اور عقیدتمندان ان کا طواف اور زیارت کیا کرتے تھے "
خاندان سعود کی اسلام دشمنی کا آغاز
وہابیت کا پہلا حملہ
سعود بن عبدالعزیز بن محمد بن سعود (امیر نجد) جو قدرت کے نشہ میں اپنے باپ کو قتل کرکے 1218 میں قدرت کو اپنے ہاتھ لیا
اور بر سر اقتدار آتے ہی سال 1218 اور 1221ق میں دوبار مکہ و مدینہ پر حملہ آور ہوے اور بقیع کی روضات کو مکمل طور پر منھدم کرکے ان مقامات مقدسہ کے اموال اور اشیا نفیسہ کو غارت کرلیا گیا
مدینہ پر کیے جانے والے ان دو حملوں کو تاریخ میں, بقیع پر "وہابیت کا پہلا حملہ " کے نام سے معروف ہے
تجدید بناء
حسین بن علی شریف بادشاہ نے حجاز پر لشکر کشی کرکے وہابیت کو شکست دی اور سلطان محمود عثمانی کے حکم سے دوبارہ بقیع کی تجدید نو کی گئی
وہابیت کا دوسرا حملہ:
عبدالعزیز بن عبدالرحمن (جو شریف بادشاہ کے حملہ کے وقت کویت میں پناہ گزین تھا) حملہ کرکے ایک بار پھر طاقت کو ہاتھ میں لیا اور خود کو حجاز, نجد اور احسا کا بادشاہ معرفی کیا اور ان مقامات کو ملاکر ایک سلطنت بنام "م العربیہ السعودیہ" تشکیل دی
جو آج تک اسی نام سے موسوم ہے

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه