کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا
حضرت فاطمہ معصومہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام
القاب کریمہ اہل بیت. طاہرہ. حمیدہ برہ ۔ رشیدہ. تقیہ ۔ نقیہ ۔ رضیہ ۔ مرضیہ. سیدہ. اخت الرضا. معصومہ. شفیعہ روز جزا. عالمہ آل عبا. محدثہ آل طٰہٰ.
والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون
تاریخ ولادت یکم ذی القعد173 ہجری میں مدینہ منورہ میں تشریف لائیں
وفات 10 ربیع الثانی 201 ہجری ایران کے شہر قم مقدس میں مدفون ہیں

زندگی 28 سال
فضیلت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت منسوب ہے یہ روایت امام علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے اس دنیا میں آنے سے پہلے نقل فرمائی تھی
جان لو کہ خدا کا ایک حرم ہے وہ مکہ ہے اور پیغمبر خدا کا ایک حرم ہے وہ مدینہ اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کا ایک حرم ہے وہ کوفہ ہے آگاہ ہو جاؤ کہ میرے بعد میرا اور میرے بیٹوں کا حرم قم ہے جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے جان لو کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ان میں تین دروازے قم کی طرف کھلتے ہیں میرے فرزند حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک بیٹی بنام فاطمہ قم میں رحلت کرے گی اس فاطمہ کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوں گے1
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں
جس نے بھی قم میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی اس نے میری زیارت کی 2
اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے اور زیارت نامے میں بھی نقل ہے ہے
اے فاطمہ میں تم ہماری جنت میں شفا عطا فرمائیے گا3
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا ایران کی طرف سفر
آپ کی کچھ ہی زندگی گزری تھی کہ ہارون رشید نے آپ کے والد بزرگوار امام موسی کاظم علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا اور کچھ عرصے بعد امام علیہ السلام کو زہر دے کر شہید کردیا گیا۔ فقط امام رضا علیہ السلام جو اس امت کے مظلوم لوگوں کی فریاد رس تھے کہ جن پر ہارون کی طرف سے ہر روز نئے نئے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔
عصمت وطہارت کے گھرانوں میں خواتین اور بچوں کا آسرا امام رضا علیہ السلام تھے جن کو دیکھ کر دلوں کو سکون ملتا تھا۔
لیکن ایک دن ہارون کے بدکردار بیٹے مامون رشید نے اپنے باپ کی موت کے بعد امام علی رضاعلیہ السلام کے لئے حکم صادر کردیا کہ آپ کو مدینہ سے شہر خراسان لایا جائے۔ مامون ایک دھوکے باز انسان تھا اس کی کوشش یہی تھی کہ امام رضا علیہ السلام کو بظاہر ولی عہد بنایا جائے آئے لیکن پس پردہ ہدف یہ تھا کہ امام علیہ السلام کی جان لے لی جائےاور خاموشی سے امام علیہ السلام کو راستے سے ہٹایا جائے۔
امام علی رضا علیہ السلام کو مجبورا مدینہ چھوڑنا پڑا آپ اپنے چند اصحاب کے ساتھ خراسان میں تشریف لائے
حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے ایک سال اپنے بھائی کی جدائی برداشت کی جب آپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو آپ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیااپنے بھائی کی خاطر ایران کی طرف سفر شروع کیا۔ 4
سادات کی خواتین کی مذہبی بصیرت
عمومی طور پر امام علیہ السلام کی تمام اولادیں علم فقہ و حدیث کی عالم تھیں خواتین پرہیزگاری اور پاکدامنی میں شہرت رکھتی تھی۔ جب بھی مدینہ رسول میں علمی گفتگو ہوتی تو ان کی حاضری مسلم ہوتی تھی۔ اور یہ قرآن و حدیث سے استدلال کرتی تھی امام عالی مقام موسی کاظم علیہ السلام کی ایک زوجہ ام احمد کے نام سے تھیں جب حضرت علیہ السّلام کو بغداد لے جایا جا رہا تھا۔ حضرت نے کچه امانتیں ان کو دیں اور فرمایا۔ میں شاید واپس نہ آ سکوں یہ امانتیں امام علی رضا علیہ السلام کو دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔5 حضرت کی بیٹیوں نے بھائی کے ساتھ ولایت و امامت کا دفاع کیا۔ اور تبلیغ اسلام کی اس وقت کے امام کا مکمل طور پر ساتھ دیا ان میں سب سے نمایاں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا تھیں ۔ اپنے اجداد خصوصاً حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح مدینے کی عورتوں میں تبلیغ کرتی تھیں ان کو درس قرآن و احادیث کی تعلیم دیتیں ولایت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر استدلال کرنا ان کا شیوہ تھا۔ دین مبین کی تبلیغ اور حکومت کے ظلم کی وجہ سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہجرت کی۔
کرامات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا
1 چوده سالہ لڑکی کو فالج سے شفایابی
یہ واقعہ پیر کی رات تین ذی الحجہ چودہ سو چودہ ہجری میں پیش آیا۔ ایک لڑکی جو کہ کے چودہ سال کی تھی اس کا نام رقیہ تھا وہ آذربایجان غربی سے تعلق رکھتی تھی 94 دن تک وہ پورے جسم کے فالج میں مبتلا رہی سب ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا یہاں تک کہ وہ لوگ مایوس ہو گئے تھے۔ اس کو دو تکلیفیں ہوتی تھیں
1 ایک تو یہ کہ پیروں پر فالج اس طرح تھا کہ بلکل حرکت نہ کر سکتی تھی
2 دوسری یہ کہ سخت کھانسی کا شکار تھی اور کئی کئی گھنٹے کھانستی رہتی تھی تھی.
اس کے گھر والے اس کو لے کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے ایران کے ایک سپیشلٹ ڈاکٹر سے طے ہوا تهران چیک اپ کا یہ لوگ تبریز سے سیدھا قم آئے تاکہ دوسرے دن ڈاکٹر کے پاس جا سکیں
اس لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ چند خواتین سفید پوش گھوڑے پر سوار تھیں اور ہم جہاں تھے وہاں سے ان کی سواری گزر رہی تھی ان میں سے ایک نے مجھے دیکھا اور فرمایا اے میری بیٹی میں حضرت معصومہ ہوں تمہاری شفا اور صحتیابی میرے پاس ہے ضروری نہیں کہ تم ڈاکٹر کے پاس جاؤ اور رقیہ کہتی ہے کہ میں فورا نیند سے بیدار ہوئی میں نے اپنے گھر والوں کو اپنا خواب سنایا۔ ہم سب کریمہ اہل بیت کے حرم کی طرف روانہ ہوئے مجھے دو عورتوں نے پکڑا ہوا تھا اور صریح کے نزدیک لائے میں زیارت پڑھنے میں مصروف تھی اسی اثناءمیں مجھے آواز آئی یہ آواز وہی آشنا آواز تھی بی بی مجھ سے فرما رہی تھیں رقیہ کھڑی ہو جاؤ چلو میں نے تم کو شفا دے دی ہے ۔ رقیہ کہتی ہے کہ میں زیارت نامہ پڑتی رہی دوبارہ یہ آوازسنی یہاں تک کہ تیسری مرتبہ یہ آواز سنی کے اٹھو چلو میں نے تم کو شفا دی ہے۔ میرے ساتھ جو عورتیں تھیں وہ نماز میں مشغول تھیں میں نے اٹھنے کی کوشش کی ایک خاتون نے کہا کہ صبر کرو گر جاؤ گی ابھی تمہارے ساتھ والوں کی نماز ختم ہو جائے تو پھر اٹھنا رقیہ کہتی ہے کہ میں خود اٹھی اور تیزی سے ضریع کی طرف جانے لگی ضریع سے لپٹ گئی گریہ و زاری کر رہی تھی بی بی کا شکریہ ادا کر رہی تھی سب زائرین خواتین جنہوں نے مجھے دیکھا تھا کہ مجھے دو عورتیں تھام کرلا رہی تھیں اور اب میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوں سب نے مجھے گھیر لیامجھے میرے رشتہ دارعورتوں نے بمشکل اس رش سے جدا کیا یہ وہ عظیم منظر تھا کہ جس کو سب عورتوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اورعظمت بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا کا مشاہدہ کیا۔6
2 آیت اللہ عبداللہ مجد فقہی کی بیٹی کی زندگی لوٹ آئی
آیت اللہ عبداللہ مجد فقہی جو قرآن و عترت ہاسٹل کے بانی ہیں اس کرامت کو سب کے لئے ایک محفل میں بیان کرتے ہیں کہ کہ جب ہم قم میں نئے نئے ساکن ہوئے تو میری چھوٹی بیٹی بیمار ہوگئی بہت علاج کرایا لیکن افاقہ نہ ہوا بسترِ مرگ پر آگئیکفن و دفن کے انتظام کرنے لگے میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا تھا کہ وہ آ کر اس کو چیک کر کے بتائے کہ وہ اب زندہ ہے یا فوت ہوچکی ہے
راستے میں حرم کریمہ اہل بیت علیہ السلام پر جیسے ہی نظر پڑی بڑی کریمہ اہل بیت سلام اللہ علیہا سے عرض کی اے بی بی دوعالم ہم آئے تھے آپ کی پناہ میں کہ آپ کے نزدیک زندگی گزاریں آپ کیسے راضی ہیں کہ ہم شروع زندگی میں ہم غمگین ہو جائیں اور یہ دکھ لگا لیں یہ دل میں کہتا ہوا ڈاکٹر کے پاس گیا اور ڈاکٹر سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ لیا گھر کی طرف چل دیا گھر جا کر دیکھا تو بچی کی زندگی دوبارہ لوٹ آئی تھی اس کے چہرے سے موت کے آثار بلکل ختم ہوگئے تھے وہی بچی آج ماشاء اللہ شادی شدہ ہے اور دو بچوں کے ساتھ خوش و تندرست و شاداب زندگی گزار رہی ہے7

منابع
1 بحار الانوار جلد 60 ص 21639 صفحہ 105
2 ناسخ التواریخ جلد 3صفحہ 68
3 امالی طوسی 280
4 بنت باب الحوائج ج صفحہ 72
5 بنت باب الحوائج ج صفحہ 72
6 کریمہ اہلبیت صفحہ 70
7 کریمہ اہل بیت 219


تحریر ظہیرعباس جٹ
This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه