ہماری نظر میں امتیازی سلوک سے بالاتر ہوکر عوام کے ساتھ مساوات اور انصاف کا برتاؤ کرنا کسی بھی خطے اور علاقے کے نمائندے کی ذمہ داریوں میں سرفہرست شامل ہے ،انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں انصاف کی رعایت کرنا ہی وہ اعلی وصف ہے جو انسانیت کی پہچان قرار پاتا ہے ،گھر ،رشتہ دار ،کوچے، محلے، حلقہ احباب غرض تمام انسانی معاشرے میں انسان کی محبوبیت انصاف پسندی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جو افراد منصف نہیں ہوتے انہیں لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،

اجتماع اور معاشرے میں ان کی کوئی وقعت نہیں رہتی ، لوگ ان کی قربت اور دوستی پر دوری کو ہی ترجیح دیتے ہیں،وہ انہیں نہ قابل اعتبار واعتماد سمجھتے ہیں اور نہ ہی امین ، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنی فیملی اور گھر والوں سے لیکر معاشرے کے لوگ انصاف سے تہی افراد کو گھر اور معاشرے میں جزء زائد تصور کرتے ہیں ،وہ انہیں غیر مفید مغرض انسانوں کی صف میں گردانتے ہیں، معاشرتی زندگی میں لوگ ایسوں کے ساتھ معاملات تک کرنے کے لئے حاضر نہیں ہوتے ، اسی طرح وہ اپنے اجتماعی کاموں اور سرگرمیوں میں ایسے لوگوں کی مداخلت اور مشارکت کو اپنے لئےخطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں، پھر اگر انصاف کو پس پشت ڈال کر زندگی کی گاڑی چلانے والا شخص کسی قوم کا نمائندہ ہو تو اس کی بے توقیری ، منفی پوزیشن اور بری حیثیت قابل بیان نہیں رہتی ـ عوام کی نمائندگی کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس کی بنیاد انصاف ہے ، عوامی نمائندوں کا اخلاقی اور منصبی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں ،ان کے مسائل کو حل اور مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ریاست سے فلاحی امور اور ترقیاتی کاموں کے لئے وصول کرنے والی رقوم کو سفارشات ،چہرہ شناسی اور سیاسی رنگ کو معیار بناکر تقسیم کرنے کے بجائے انصاف کی عینک سے دیکھ کر ضرورت اور حاجت کی تشیخص کرکے خرچ کریں ـ جناب اقبال حسن صاحب نے ضلع کھرمنگ میں مجموعی طور پر اچھے کام کئے ہیں ،ہم اس حوالے سے ان کی تعریف کرتے ہیں ،لیکن وہ پورے کھرمنگ کا نمائندہ ہونے کے ناتے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ضلع کھرمنگ کے تمام علاقوں کو ان کی ضرورتوں کے مطابق سہولیات بہم پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں؟ کیا وہ ریاست سے ضلع کھرمنگ کے عوام کو ملنے والے حقوق مساوات کی بنیاد پر تقسیم کررہے ہیں ؟ کیا ترقیاتی فنڈز اور رقوم کو خرچ کرنے میں وہ عوام کی ضرورتوں کو ترجیح دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ضلع کھرمنگ کے تمام علاقوں کے مسائل حل کرنے کے درپے ہیں ؟ کیا چہرہ شناسی، سفارشات ،سیاسی رنگ، زبان دراز ثروتمند لوگوں کی باتوں اور دوستی جیسے غلط معیار کو نظر انداز کرکے علاقوں کی ضرورت کے مطابق ترقیاتی کاموں اور فعالیتوں کے اجراء کو یقینی بنارہے ہیں ؟ و..... زمینی حقائق ان سوالات کا جواب نفی میں دے رہے ہیں کیونکہ کھرمنگ کے کچھ علاقوں کے عوام آج بھی انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ،جن میں سے ایک کندرک کا علاقہ ہے ، یہ ضلع کھرمنگ کے بڑے علاقوں میں شمار ہوتا ہے جس میں لگ بھگ نو دس گاؤں ہیں ، جن میں عوام کی بڑی تعداد موجود ہے، مگر سہولیات اور ترقی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ علاقہ پسماندہ ہی ہےـ راقم نے متعدد بار اپنی تحریروں کے ذریعے اس علاقے کے موجودہ نمائندہ جناب اقبال حسن کی توجہ اس علاقے کے بنیادی مسائل کی طرف مبزول کرانے کی کوشش کی تھی، ہم نے ان سے دو اہم مطالبہ کیا تھا ،پہلا مطالبہ یہ تھا کہ کندرک میں آٹھ بیڈ پر مشتمل سہولیات سے لیس ایک اسپتال کے قیام کو یقینی بنائیں اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ جلد از جلد کندرک مڈل اسکول کو اپ گریٹ کرکے ہائی سکول کا درجہ دیا جائے ، یہ دو چیزیں کندرکی عوام کے لئے واجبی ضرورت تھی اور ہے، ہم نے اس کے دلائل کی بھی اپنی سابقہ تحریروں میں پوری وضاحت کی تھی مگر کجا ؟ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، وہ ٹسے مس نہیں ہوئے، خیر ہم پھر بھی مایوس نہیں ـ لیکن جناب اقبال حسن صاحب کو اپنے رویے پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہیے اور اسے یہ بات اچھی طرح نشین کرلینی چاہئے کہ آپ پورے کھرمنگ کے عوام کا نمائندہ ہے لہذا آپ کے لئے کھرمنگ کے تمام علاقوں کے عوام کے جائز مطالبات پر توجہ دینا ضروری ہے اور یہ تب ممکن ہوگا جب آپ انصاف کے دامن سے متمسک رہوگے ـ کل تبیان ویب سائٹ پر ایک مقالہ سرچ کرنے کے دوران بے وقوف بادشاہ کے عنوان سے ایک سبق آموز مختصر تحریر پر نظر پڑی جسے من وعن مناسبت کے پیش نظر یہاں نقل کررہا ہوں آپ بھی پڑھیں ـ کہتے ہیں، ایک بادشاہ رعیت کی نگہداری سے بے پروا اور بے انصافی اور ظلم پر دلیر تھا اور ان دونوں باتوں کا یہ نتیجہ برآمد ہو رہا تھا کہ اس کے ملک کے لوگ اپنے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ایک دن یہ کم فہم اور ظالم بادشاہ اپنے دربارمیں عہدے داروں اور ندیموں کے درمیان بیٹھا فردوسی کی مشہور زمیہ نظم شاہنامہ سن رہا تھا ۔ بادشاہ ضحاک اور فریدوں کا ذکر آیا تو اس نے اپنے وزیر سے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ ضحاک جیسا بڑا بادشاہ اپنی سلطنت گنوا بیٹھا۔ اور فریدوں ایک بڑا بادشاہ بن گیا۔ جب کہ اس کے پاس نہ لاؤ لشکر تھا اور نہ بڑا خزانہ ؟اس کا وزیر بہت دانا تھا ۔ اس نے ادب سے جواب دیا کہ حضور والا اس کی وجہ یہ تھی کہ فریدیوں خلق خدا کا بہی خواہ اور ضحاک لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف سے بے پروا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ضحاک کو چھوڑ کر فریدوں کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے اور وہ بادشاہ بن گیا۔ بادشاہی لشکر اور عوام کی مدد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ پھر وزیر نے بادشاہ کو نصیحت کی کہ سلطنت قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حضور اپنا رویہّ بدلیں ۔ لوگوں کو پریشان اور ہراساں کرنے کی جگہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔ احسان اور انصاف کرنے سے بادشاہ کی محبت دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ فوج کے سپاہی وفادار اور جاں نثار بن جاتے ہیں ۔یہ باتیں خیر خواہی کے جذبے سے کہی گئی تھیں لیکن بادشہ وزیر سے ناراض ہوگیا اور اسے جیل خانے بھجوا دیا۔ اس نے اپنا رویہّ بدلنے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔ کچھ ہی دن بعد، کرنا خدا کا کیا ہوا کہ بادشاہ کے بھائی بھتیجوں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور رعایا ان کی طرف دار ہوگئی۔ کیونکہ ہر شخص بے تدبیر بادشاہ کے ظلم سے پریشان تھا۔
سلطنت اور ظلم یک جا ہو نہیں سکتے کبھی
بھیڑیا بھیڑوں کی رکھوالی پہ کب رکھا گیا
ظلم سفاکی پہ جو حاکم بھی ہوجائے دلیر
جان لو قصر حکومت اس نے خود ہی ڈھا دیا
وضاحت: حضرت سعدی نے اس حکایت میں جہاندانی کا یہ زرین اصول بیان کیا ہے کہ بادشاہ کی اصل قوت رعایا کی خیر خواہی اور محبت ہے اور یہ قوت احسان اور انصاف کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے بصورت دیگر انتہائی قریب کے لوگ بھی مخالف بن جاتے ہیں۔ اور ظلم اور بے انصافی پر دلیر ہوجانے والا حاکم تنہا رہ جاتا ہے ایسی حالت میں اس کے دشمن اسے آسانی سے ختم کردیتے ہیں ۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه