ان قلمکاروں اور تجزیہ نگاروں کی زندگی پر ترس آتا ہے جو قلمی طاقت کے ذریعے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بجائے اسے چھپانے کی کوشش میں وقت ضائع کرتے ہیں ـ جاوید چودھری صاحب کسی تعارف کا محتاج نہیں ، وہ کالم نگاری کی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں، فن تحریر میں اس کی نظیر کم ہے، لیکن اس کے باوجود موصوف کی تحریروں میں مغالطہ کاری کی باتیں، عصبیت پر مبنی جملے اور حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پڑھنے والوں کو سرگردان کرنے والے الفاظ فراون دکھائی دیتے ہیں ، بے شک ان کا مطالعہ وسیع ہے، لکھنے میں وہ طولانی تجربہ رکھتے ہیں، مگر ابھی تک اس حقیقت پر ان کا ایمان اور عقیدہ کمزور لگتا ہے کہ صداقت ہی کسی تحریر کی جان ہوتی ہے ، دانا کی نظر الفاظ سے ذیادہ مفاہیم پر ہوتی ہے ،حقیقت پر مبنی تخیل لفاظی کا حسن ہوتا ہے ، قلم کا تقدس حقائق کو نمایاں کرنے سے باقی رہتا ہے ، مغالطہ کاری دانشمند کو زیب نہیں دیتی ، پریپیگنڈہ پھیلانا تعلیم یافتہ انسانوں کا شیوہ نہیں ہوتا، عصبیت سے کام لینا کم ظرف گھٹیا آدمی کی نشانی ہوتا ہے ، مقیس ومقس علیہ میں پائدار نسبت کا پایا جانا ضروری ہے اور اسی طرح مشبہ ومشبہ بہ میں وجہ شبہ کا ہونا ناگزیر ہے ـ

مگر جناب جاوید چودھری صاحب کا اپنی تحریروں میں زیادہ زور خوبصورت الفاظ کے چناؤ ، جزاب جملوں کے انتخاب اور خیالاتی پلاؤ پکانے پر ہوتا ہے ، قیاس ،استحسان ، وجہ شبہ کے بغیر تشبیھات اور سماجی موضوعات خاص طور پر سیاسی مسائل پر کئے جانے تجزیات میں ان کے تمام پہلؤں کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کرنے کے بجائے ان کے کسی کمزور پہلو پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اس پر دلربا کلمات اور خوبصورت الفاظ کے قالب میں یوں تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پڑھنے والے یہ سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ تجزیہ نگار نے گویا موضوع کا جامع تجزیہ کرکے نتیجہ دیا ہے در حالیکہ یہ روش نہ فقط درست نہیں بلکہ یہ تجزیہ کرنے والے کی معلومات کی کمی ، موضوع پر احاطہ نہ ہونا اور اپنی من پسند باتوں میں مطلوبہ موضوع یا مسئلے کو مقید کرنے کا مترادف ہے جس سے عقلاء اور دانشمندوں کے ہاں ان کی شخصیت اور محبوبیت میں کمی واقع ہونا فطری اور یقینی ہے ـ
جمعرات 11 جولائی 2019 کو نیوز ایکسپیریس میں انقلاب کا کیڑا کے عنوان سے شایع ہونے والا جاوید چودھری صاحب کا کالم پڑھیں آپ کو معلوم ہوگا کہ محرر نے کس طرح انقلاب ایران کے ایک کمزور پہلو کو نمایاں کرکے اس کی تمام خوبیوں ، مثبت اثرات اور قابل تحسین نتائج پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ، آپ کو پتہ چلے گا کہ لکھنے والے نے ایران کی اقتصادی مشکلات کا سبب انقلاب کو قرار دے کر اس کی عظمت گھٹانے کی جدوجہد کی ہے اور آپ پر یہ بھی واضح ہوگا کہ موصوف نے انقلاب فرانس ، سویت یونین اور انقلاب ایران کو یکساں دکھانے والا آئینہ قرار دیا ہے ـ ہم جناب جاوید چودھری کو یہ بتانا چاہیں گے کہ بے شک اس وقت ایران استعماری طاقتوں کی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے جس کے سبب اس ملک کی معیشت کمزور ہوگئی ہے اور ایرانی عوام کو مالی اور اقتصادی مشکلات درپیش ہیں ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعتا اس وقتی اقتصادی مشکل سے ایران کمزور ہورہا ہے یا مضبوط ؟ یہ ایرانی قوم کے نفع میں ہے یا نقصان میں؟ اس سے مستقبل میں ایران کی معیشت ترقی کی راہ پر رواں دواں ہوگی یا تنزل اور پستی کا شکار رہے گی ؟ کیا اس وقتی اقتصادی مشکلات کو بیس بناکر انقلاب جمہوریہ اسلامی ایران کے درخشاں ثمرات کو نظر انداز کرنا معقول ہے ؟ یقینا جاوید چودھری جیسے ظاہر بین تجزیہ نگاروں کی نظر میں تو اقتصادی پابندی سے ایران کی کمر ٹوٹ چکی ہے، انقلاب ایران ہی کی وجہ سے ایرانیوں کی معشیت کمزور ہوچکی ہے ،ایرانی عوام کو مذہبی سوچ نے ہی مشکلات میں گرفتار کیا ہوا ہے ، انقلاب نے ایرانیوں کو ترقی کی راہ سے کوسوں دور کیا ہے ، لیکن انصاف کی عینک سے دیکھنے والے دانشمندان جانتے ہیں کہ انقلاب اسلامی نے ایران کو وہ عزت اور عظمت دی ہے جس کی مثال نہیں ملتی ـ یہاں ہم جناب جاوید چودھری سمیت انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور ثمرات کو مادی حصار میں محدود کرکے پڑھے لکھے لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرنے والے قلمکاروں کی معلومات کے لئے انقلاب اسلامی کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر رہبر مظلومین و محرومین جہان،علمدارِ ولایت آیت اللہ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کے جامع اور حکیمانہ خطاب سے ایک اہم اقتباس اردو سحر ٹی وی نٹ سے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ـ
انقلاب اسلامی کے فوائد وثمرات کے کچھ نمونے
ایک: سرزمینِ ایران کی مکمّل حفاظت اور امن و امان
انقلاب نے ملک کی مکمّل حفاظت، امن و امان، وحدت و ہم آہنگی اور دشمن کی طرف سے خطرے کی آماجگاہ بنی رہنے والی سرحدوں کی حفاظت کی ضمانت دی اور آٹھ سالہ جنگ میں اپنی فتح اور (عراق کی) بعثی حکومت اور اُس کے امریکی، یورپی اور مشرقی آقاؤں کی شکستِ فاش کا معجزہ رونما کر دیا۔
دو: معاشرتی، معاشی اور حیاتیاتی بنیادوں پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں مملکت کو آگے لے جانے والی مشینری
انقلاب نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں پیشرفت، اور اِسی طرح حیاتیاتی، معاشی اور عمرانیاتی بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں مملکت کو آگے لے جانے والے محرِّک کا کردار ادا کیا کہ جس کے قابل فخر ثمرات روز بہ روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ علمی بنیادوں پر قائم ہزاروں تجارتی مراکز، ذرائع آمدورفت ، صنعت، توانائی، معدنیات، صحّت، زراعت اور پانی جیسے میدانوں میں ہزاروں ضروری اور بنیادی منصوبے، لاکھوں کی تعداد میں یونیورسٹیوں میں مشغول یا فارغ التحصیل افراد، ملک بھر میں پھیلی ہوئیں ہزاروں یونیورسٹیاں؛ اور ایٹمی ایندھن سائیکل، اسٹیم سیل، نینو ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی وغیرہ کے دنیا بھر میں پہلے نمبر کے دسیوں بڑے منصوبہ جات، تیل کے علاوہ دیگر مصنوعات کی برآمدات کا ساٹھ گُنا تک بڑھ جانا، صنعتی یونٹس میں دس گُنا اضافہ، مصنوعات کے معیار میں دس گُنا اضافہ، اسمبلنگ انڈسٹری کا مقامی انڈسٹری میں تبدیل ہوجانا؛ انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں، جیسے کہ دفاعی صنعت میں قابلِ دید ترقّی، میڈیکل کے حسّاس اور اہم شعبوں میں چکاچوند ترقّی اور اُن میں مرکزی اور مستند مقام تک آ پہنچنا اور اِن کے علاوہ ترقّی کی دوسری دسیوں مثالیں۔
یہ سب اُس اجتماعی احسّاس، ہر میدان میں اپنی شرکت اور اُس جذبے کا نتیجہ ہے جو انقلاب نے مُلک کو عطا کیا۔ انقلاب سے پہلے کا ایران، سائنس اور ٹیکنالوجی میں صِفر تھا۔ جو انڈسٹری میں سوائے اسمبلنگ کے اور سائنس میں سوائے ترجمے کے اور کوئی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔
تین: عوامی شرکت، اور (شہری) خدمات کی فراہمی کی دوڑ کو عروج تک پہنچانا
انقلاب نے سیاسی مسائل، جیسے کہ انتخابات، داخلی فتنوں سے مقابلے اور داخلی میدانوں سمیت استکبار سے مقابلے کے میدانوں میں عوام کی شرکت کو عروج پر پہنچا دیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے اور لوگوں کی بھَلائی کے لیے کام کرنے جیسے سماجی امور جو کہ انقلاب سے پہلے ہی شروع ہو چکے تھے، اُن کو حیران کُن حد تک وسعت بخشی۔ انقلاب کے بعد سے لوگ قدرتی آفات اور معاشرتی ضروریات میں خدمت کی دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
چار:عوام کے سیاسی شعور میں حیرت انگیز ترقّی
انقلاب نے عوام کے سیاسی شعور اور بین الاقوامی معاملات پر اُن کی نگاہ کو حیرت انگیز حد تک ترقّی دی ہے۔ اُس نے مغرب خصوصاً امریکہ کے جرائم، فلسطین اور فلسطینیوں پر تاریخی ظلم و ستم کے مسئلے، مختلف ظالم و جابر حکومتوں کی دوسری اقوام کے امور میں مداخلت اور جنگ افروزیاں اور شرارت کرنے جیسے بین الاقوامی امور کے ادراک اور اُن کے سیاسی تجزیے کو روشن خیال نام کے ایک محدود اور (معاشرے سے) کنارہ کش طبقے سے نکال کر باہر رکھ دیا ہے۔ اور یوں روشن خیالی پورے ملک کے عوام میں اور زندگی کے تمام میدانوں میں پہنچ گئی اور اِس قسم کے مسائل، نوجوانوں، یہاں تک کہ بچوں کے لیے بھی قابلِ فہم ہو گئے۔
پانچ:ملک کے عوامی وسائل کی تقسیم میں انصاف کے پَلّے کو بھاری کرنا
انقلاب نے ملک کے عوامی وسائل کی تقسیم میں عدالت و انصاف کا نظام سخت کر دیا۔ مجھ حقیر کا ملک میں انصاف کی کارکردگی پر جو عدم اطمینان ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ اِس قیمتی اور بے مثال قدر کو اسلامی جمہوریہ کے نظام کے ماتھے کے تاج کا بے مثال گوہر ہونا چاہئے تھا جو کہ ابھی تک نہیں ہے، لیکن میری اِس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ملک میں انصاف کے قیام کے لیے ابھی تک سِرے سے کوئی اقدام ہوا ہی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ناانصافی اور بے عدالتی سے مقابلے کے جو ثمرات اِن چار دہائیوں میں ملے ہیں اُن کا دوسرے کسی بھی دورانیے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ طاغوتی دور میں ملک کی زیادہ تر آمدن اور وسائل، دارالحکومت میں رہنے والوں یا ملک کے دوسرے حصوں میں بسنے والے اُنہی جیسے افراد پر مشتمل ایک مختصر سے گروہ کے اختیار میں تھے۔ اکثر شہروں خصوصاً دورافتادہ علاقوں اور دیہاتوں کے لوگ تو فہرست کے آخر میں شمار کیئے جاتے تھے اور اکثر تو زندگی کی انتہائی بنیادی ضروریات اور سہولیات سے بھی محروم تھے۔ اسلامی جمہوریہ کا شمار اُن کامیاب ترین حکومتوں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے دولت اور عوامی خدمت کو مرکز سے نکال کر سارے ملک میں پھیلایا اور اشرافیہ نشین علاقوں سے نکال کر پسماندہ علاقوں تک پہنچایا۔ ملک کے دوردراز علاقوں تک سڑکوں اور گھروں کی تعمیر، صنعتی مراکز کا قیام، زرعی امور میں اصلاحات، پانی اور بجلی کی ترسیل، مراکزِ صحت کا قیام، یونیورسٹیاں، آبی بند اور توانائی کے مراکز ،کے بڑے اعداد و شمار حقیقت میں ہمارے لیے قابلِ فخر ہیں۔ یقیناً یہ ساری کی ساری کارکردگیاں نہ تو حکومتی عہدیداروں کی ناقص تشہیر سے عیاں ہوئی ہیں اور نا ہی داخلی اور خارجی بدخواہوں نے کبھی اِن کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن یہ سب موجود ہیں اور عوام اور خدا کے نزدیک، مجاہد اورمخلص انداز میں ملکی انتظامات چلانے والوں کے لیے حسنات ہیں۔ البتہ وہ عدل و انصاف جس کی اسلامی جمہوریہ کو توقع ہے کہ جس سے وہ مولا علیؑ کی حکومت کی پیروکار کے طور پر جانی جائے، وہ اِس سے کئی بہتر ہے اور اِس کے قیام کی امید آپ جوانوں سے ہے کہ جس کی میں آگے چل کر وضاحت کروں گا۔
چھ: معاشرے کی عمومی فضا میں روحانیت و اخلاق کی حیرت انگیز ترقّی
انقلاب نے معاشرے کی عمومی فضا میں روحانیت اور اخلاق کے معیار کو حیرت انگیز حد تک بڑھایا۔ اور اِس مبارک عمل کو سب سے زیادہ، خود امام خمینیؒ کے سلوک اور کردار ہی نے شاہی حکومت سے مقابلے کے دوران اور انقلاب کی کامیابی کے بعد رائج کیا۔ اُس معنوی، عارف اور مادی زینتوں سے پاک انسان نے ایسے ملک کی باگ ڈور سنبھالی کہ جس کے عوام کا ایمان کافی مضبوط اور گہرا تھا۔ اگرچہ پَہلَوی حکومت کے دوران فحاشی و فساد پر مشتمل مواد کی بے لگام تشہیر و ترویج نے اِس ایمان پر سخت ضرب لگائی اور مِڈل کلاس عوام بالخصوص جوانوں کو مغرب کی اخلاقی بے راہ رویوں کی دلدل میں دھکیل کر رکھ دیا تھا، لیکن اسلامی جمہوریہ کے اخلاقی و دینی رویے نے نورانی اور بیدار دلوں کو خصوصاً جوانوں کو اپنی طرف جذب کیا اور یوں پوری فضا دین و اخلاق کے حق میں تبدیل ہو گئی۔ جوانوں کا جہاد، دفاعِ مقدس جیسے کٹھن میدانوں میں ذکر، دعا، بھائی چارے اور ایثار کے احساس کے ساتھ مل گیا اور سب کی نگاہوں کے سامنے ابتدائے اسلام کے زمانے کا ماحول زندہ ہوگیا۔ باپ، ماؤں اور بیویوں نے دینی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جہاد کے مختلف محاذوں پر جانے والے اپنے عزیزوں کو اپنے دل سے جدا کیا اور پھر جب اُن کا خون آلود لاشہ یا زخمی جسم اُن کے سامنے واپس آیا تو اُنہوں نے اُس مصیبت پر شکر ادا کیا۔ مساجد اور دینی مقامات میں بے مثال رونق پیدا ہو گئی۔ اعتکاف کی صفیں، باری لینے والے ہزاروں جوانوں، استادوں، یونیورسٹی کے طلباء، عورتوں اور مردوں سے بھر گئیں۔ جہاد کے تربیتی دوروں پر جانے والوں کی صفیں ہزاروں رضاکار اور فداکار جوانوں سے بھر گئیں۔ نماز، حج، روزہ، پیدل زیارت، مختلف قسم کی دینی تقریبات، واجب اور مستحب صدقہ و خیرات کی سب جگہ خصوصاً جوانوں کے درمیان رونق بڑھ گئی اور آج تک پہلے کی نسبت اُن میں زیادہ وسعت اور ترقّی آچکی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے زمانے میں واقع ہوا ہے کہ جب مغرب اور اُس کے حواریوں کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی اخلاقی برائیوں اورعورتوں اور مردوں کو اِس گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے کے لیے اعلیٰ پیمانے پر تشہیر و ترویج نے دنیا کے ایک بڑے حصّے میں اخلاق و روحانیت کو زوال کا شکار کر دیا ہے۔ یہ انقلاب اور متحرّک و ترقّی یافتہ اسلامی نظام کا ایک اور معجزہ ہے۔
سات: دنیا کے بدمعاشوں، مستکبروں اور جابروں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت
دنیا کے غنڈوں، جابروں اور مستکبروں سمیت اُن سب کے سرغنہ یعنی سامراجی جرائم پیشہ امریکہ کے خلاف رعب دار، باعظمت اور قابلِ فخر مزاحمت روز بروز شدّت اختیار کرتی گئی۔ اِن تمام چالیس سالوں میں کسی کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کرنا، انقلاب اور اُس کی الٰہی ہیبت و عظمت کی حفاظت اور پاسداری کرنا، متکبر اور مستکبر حکومتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونا، ایران اور ایرانی قوم بالخصوص اِس سرزمین کے جوانوں کی ایک واضح اور معروف خصوصیت رہی ہے۔ دنیا کی وہ قابض قوّتیں جن کی بقا کا دارومدار، دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کے لیے، اُن کے بنیادی منافع کو پائمال کرنے پر ہے، وہ انقلابی اور اسلامی ایران کے سامنے اپنی ناتوانی اور عجز کا اعتراف کر چکی ہیں۔ ایرانی قوم کے لیے انقلاب کی حیات بخش فضا میں ہی یہ ممکن ہوسکا کہ سب سے پہلے امریکہ کے پٹّھو اور ایرانی قوم سے غدّاری کرنے والے عنصر (یعنی شاہ) کو اِس ملک سے نکال باہر کرے اور اُس کے بعد آج تک اِس ملک پر اُن ظالم و جابر حکمرانوں کے تسلط کی پوری طاقت اور شدّت سے روک تھام کرے۔ رہبر معظم انقلاب کے پورے خطاب کا مطالعہ کرنے کے خواہشمند حضرات اس لنک پر کلک کریں http://urdu.sahartv.ir/news/kalaame_rehbar-i347527

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه