ایک دن حضرت علی علیہ السلام گھر سے باہر تھے جبکہ موسم بھی بہت گرم تھا سعدابن قیس نے حضرت کو دیکھا اور پوچھا:
یاامیرالمومنین ! اس سخت گرمی میں کیوں گھر سے باہر آئے ہو؟؟
فرمایا: اس لئے کہ کسی مظلوم کی مدد کروں یا کسی دل شکستہ کو پناہ دے سکوں اسی وقت ایک سہمی ہوئی عورت اضطراب کی حالت میں آئی اور امام کے سامنے کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی : یاامیرالمومنین میرا شوہر مجھ پر ظلم وستم کرتاہے اور اس نے قسم کھائی ہے کہ مجھے مار دےگا۔


حضرت نے جب اس کی یہ گفتگو سنی تو سر نیچے کیا اور چند لمحہ غوروفکر کیا،،
اور پھر سر اٹھا کے فرمایا:
نہیں ،خدا کی قسم !بغیر تاخیر کے مظلوم کاحق لیکر رہوں گا!
یہ فرماکر پوچھا : تمہارا گھر کہاں ہے ؟! اس عورت نے گھر دکھایا
امام اس عورت کے ساتھ چل پڑے اور اس کے گھر تک پہنچے
آپ علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوکر اونچی آواز میں سلام کیا۔ایک جوان رنگین قمیص پہن کر گھر سے باہر آیا حضرت نے اس سے فرمایا:خدا سے ڈرو ! تم نے اپنی بیوی کو ڈرا کر گھر سے باہر کئے ہو۔۔
جوان بہت غصے میں بےادبی کرتے ہوئے کہا:
میری بیوی کامعاملہ تم سے کیا تعلق ہے( واللہ لااحرقنھابالنارلکلامک )
خدا کی قسم تیری ان باتوں کی وجہ سے میں اس کو آگ لگادوں گا!
علی علیہ السلام اس بےادب اور قانون شکن جوان کی باتوں سے بہت ناراحت ہوئے۔۔!
تلوار کو نیام سے نکالا اور
فرمایا:
میں تمھیں امربہ معروف ونہی از منکر کررہاہوں ،حکم الہی کو پہنچا رہا ہوں ،اب تم مجھے انکار کرکے فرمان الہی سے سرکشی کررہے ہو ؟ توبہ کرو
و گرنہ تجھے قتل کردوں گا۔۔۔
حضرت اور اس جوان کی تکرار چل رہی تھی اسی دوران وہاں سے گذرنے والے،حضرت کی خدمت میں آئے اور آپ کو یاامیرالمومنین کہکر سلام کررہے تھے اور امام سے اس جوان کو معاف کرنے کے لئے کہہ رہے تھے
جوان نے اس وقت تک حضرت کو پہچانا نہیں تھا لوگوں کا احترام کرنے پر پتہ چلا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کے آگے گستاخی کررہا ہوں ۔۔۔
حواس ٹھکانے پر آیا اور انتہائی شرمندگی کا اظہارکرتے ہوئے ہاتھ کو علی علیہ السلام کے ہاتھ میں رکھا اورکہا!
یاامیرالمومنین !میری خطا کو درگذر فرمائیں آپ کے فرمان کی اطاعت کروں گا اور اپنی بیوی کابہت خیال رکھوں گا۔۔
حضرت نے تلوار کو دوبارہ نیام میں رکھا اور جوان کی غلطیوں کو معاف فرمایا اور گھر میں داخل ہونے کا حکم فرمایا اور عورت کو بھی نصیحت کی کہ شوہر کے ساتھ اپنی رفتارکو بہتر کرئے کہ اس طرح کے سخت ناروا سلوک نہ کرے
====================
حوالہ :
داستانھائی بحارالانوار

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه