راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو
کھل گیا جس دم تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں
تاریخ اپنے زمانے کی روح پرور اور بلند ہمت ہستیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔25نومبر 1948کے روز اذان صبح کے وقت لا الہ الا اللہ کا حقیقی عارف اپنی ماں کی گود میں جلوہ گر ہوا ۔شہید قائد ابھی بچہ تھا لیکن ان کی فکر اور سوچ ہر وقت اس خالق سے مربوط ہوتی کہ میں خالق حقیقی کے قرب اور بلند مقامات کو کیسے حاصل کروں۔ اسی مقصد کو لے کر دینی علوم حاصل کرنے میں محو ہوئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عارف صرف طالب علم ہی نہیں تھےبلکہ وہ معنوی طور پر ایک بلندمقام پر فائز ہو چکے تھے ۔
علوم دینی کو صحیح معنوں میں حاصل کرنے اور مختلف بزرگ اساتذہ سے کسب فیض حاصل کرنےکی غرض سےنجف اشرف اورقم المقدسہ کا انتخاب کیا۔ وہاں علمی وعرفانی معرفت کے اعلی مراتب طے کرنے کے بعد وطن عزیز کی محبت نے انہیں ایک دفعہ پھر پاکستان کھینچ لایا ۔

پاکستان میں اس مرد قلندر نے ترویج اسلام کا ایک نیا باب کھول دیا ۔ان کا موضوع سخن اتحاد بین المسلمین ہوا کرتا تھا۔زندگی بھر مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا درس دیا وہی درس جو آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کو دیا کرتے تھے اسی درس کو شہید قائد نے اپنا موضوع سخن بنا لیا اور عملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ شہید قائد نے پاکستان میں مسلمانوں کے درمیان یک جہتی اور اتحاد کے عملی اظہار کی ضرورت پر خوب زور دیا ۔ جب مسلمانوں کے درمیان اختلافات ختم ہونے لگے تو وقت کے شیطان صفت ، ملک دشمن عناصر اورباطل قوتوں کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجتی گوارا نہ ہوا ۔ یوں سازشیں شروع ہو گئی لیکن شہید قائد نے اپنے مشن کو جاری رکھا اور ظالم حکومت کے خلاف بھی آواز بلند کرنا شروع کیا ۔وقت کے شیاطین ،اتحاد بین المسلمین کے داعی کے چراغ کوخاموش کرنے کے لئے کمر بستہ ہوگئے لیکن شہید قائدکے لئے راہ اسلام میں جان قربان کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ اپنے جد امجد امام حسین علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے جان دینے کو وہ آسان سمجھتے تھے۔شہید قائد بھی اپنے دور کے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے تھے۔آپ ہمیشہ فرماتےتھے کہ شہادت ہماری میراث ہے جو ہماری ماوں نے ہمیں دودھ میں پلایا ہے۔کس قدر عظیم ہستیاں ہیں وہ مائیں جن کی گود اور آغوش میں ایسی ہستیاں جنم لیتی ہیں جو اسلام پر قربان ہو جاتی ہیں ۔
5اگست کی منحوس صبح طلوع ہوئی ۔ظلمت پرست یزیدی و شیطانی ہاتھوں نے اپنے چمگاڈر صفت کارندوں کو ہدایت کے اس روشن چراغ کو خاموش کرنے پر مامور کر رکھا تھا۔شہید قائد آدھی رات سے اپنے معشوق حقیقی سے راز و نیاز میں مصروف تھے۔ نماز صبح کے بعد ایمان و عمل کی روشنی پھیلانے کے لئے معاشرے کے افق پر طلوع ہوہی رہا تھا کہ شقی القلب اوروقت کے ابن ملجم کا نشانہ بن گئے۔وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زمین پر گر گئے ۔ارض پاک سے ایک دفعہ پھرہدایت اوراتحاد بین المسلمین کے ایک روشن چراغ کو بجھا دیا گیا وہ بھی صرف اس لئے کہ اس نے افتراق پرور،باطل پرست اورظالم حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کیں۔ یہ جابر و ظالم افراد اتنا بھی علم نہیں رکھتے تھے کہ شہید قائد کی جسمانی موت سے ان کے بلند افکار و کردار کوختم نہیں کر سکتے۔
چھری کی دار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا
ایک دفعہ شہید قائد کسی سفر پر جا رہے تھے ۔اہل سنت کا ایک عالم دین بھی گاڑی میں آپ کے ساتھ اور دروازے کی طرف بیٹھے ہوئے تھے۔شہید قائد نے کہا خدا ناخواستہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو گولی سب سے پہلے آپ کو لگی گی اس لئے آپ درمیان میں تشریف لائے اور میں دروازے کی طرف بیٹھتا ہوں ۔شہید قائد اس عالم کی احترام میں خود دروازے کی طرف بیٹھ گئےیہ شہید قائد کا کردار تھا۔آپ ظاہری کردار کے ساتھ ساتھ کشف و کرامات کے مالک بھی تھے۔جب حساس مواقع آتے تو یہی مرد بزرگوار آسانی سے ہر مشکل معمے کو حل فرماتے تھے۔ رہبر کبیر امام خمینی قدس سرہ کی عارفانہ نگاہوں نے ان کہ ہمہ گیر شخصیت کو خوب سمجھ لیا تھا۔جب آپ کی شہادت کی خبر امام خمینی قدس سرہ نے سن لیا تو فرمایا: میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوا ہوں ۔ عارف حسین الحسینی ایک پاکیزہ عاشق خدا تھےجو صبح و شام بغیر کسی رکاوٹ کے کفر و شرک کے خلاف راہ خدا میں سراپا مبارزہ و قیام بنے ہوئے تھے۔ اس شخصیت(عارف حسینی) کی فکر کو زندہ رکھو! شیطان کے چیلوں کو اسلام ناب محمدی کی راہ میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہ دو۔
پاکستان میں آج پھر ایک عارف الحسینی کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے درمیان اتحاد اوربھائی چارگی کو فروغ دے کر نفرتوں کو مٹا دے اورمسلمانوں کے دلوں کو نزدیک کر کے اپنے اصلی دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار کریں۔ آج عالمی استعماری طاقتیں پاکستانی مسلمانوں کو ان کی اسلام دوستی کی سزا دینے پر تلی ہوئی ہیں جن کے لئے وہ طرح طرح کی سازشیں کررہے ہیں۔آج استعماری طاقتیں تکفیری گروہ اورداعش جیسے درندہ صفت انسانوں کی تربیت کر کےمسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو ختم کر ا رہے ہیں۔اگر ہم آج بھی بیدار نہ ہوئے تو ملک عزیز پاکستان کی حالت بھی عراق اور شام جیسے ملکوں کی طرح ہوگی جہاں امریکا و اسرائیل اور کچھ عرب ممالک نے درندہ صفت تکفیری گروہ اور داعش جیسی شیطان صفت تنظیموں کو وجود میں لا کر ہزاروں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطان کر دئے ہیں اور ہزاروں بے گناہ معصوم بچوں اورعورتوں کو نہایت سفاکیت اوربربریت کے ساتھ ابدی نیند سلا دئے۔
شہید راہ حق علامہ سید عارف حسین الحسینی ہمیشہ پاکستان میں استعماری سازشوں کو بے نقاب کرتے رہتے تھے۔ ہم یہاں آپ کے بعض تاریخی کلمات نقل کرتے ہیں :
1۔اگر آپ دل سے اللہ اکبر کہتے ہیں، تو پھر جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔جب اکبر، اللہ ہے جب وہ بڑا ہے تو جو بھی اس بڑے کے مقابلے میں آئے گاوہ انسان کو چھوٹا اور حقیر نظر آئے گا،پھر ان کی نظر میں امریکہ اور روس و اسرائیل کیوں اتنے بڑے ہیں؟ یہاں تک کہ اگر کوئی بات ہوجائے تو یہ اپنے لحاف کے نیچے بھی امریکہ کہ خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے۔
2۔جس کا ارتباط خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ امریکہ کو ایک چوہے کی مانند سمجھتا ہے جیسے ایک چوہا اپنے سوراخ سے نکل کر آپ کو دھمکی دے تو کیا آپ اس چوہے کی پرواہ کریں گے؟ نہیں !! اس لئے کے آپ چوہے کو کچھ بھی نہیں سمجھتے لہٰذا وہ لوگ جن کا رابطہ خدا سے ہوتا ہے وہ
امریکہ جیسی طاغوتی طاقتوں کو چوہا بھی نہیں سمجھتے۔
3۔جو چیز ہمارے لئے بہت ضروری ہے وہ مسلمانوں کاآپس کا اتحاد ہے کیونکہ ہمارے دشمن امریکہ اور اسرائیل ہیں جو ہر جگہ مختلف سازشوں میں لگے ہوئے ہیں اور وہ مسلمانوں کو سرکوب کرنا چاہتے ہیں۔
4۔میں(عارف حسین الحسینی) اپنا گھر بار سب کچھ حتی کہ جان تک قربان کر سکتا ہوں لیکن ناب محمدی اسلام و نظریہ ولایت فقیہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
5۔عزاداری سید الشہداء ہماری شہہ رگ حیات ہے اس مین رکاوٹیں اوراس کے عوض ہمارے نوجوانوں پر حکومتی مظالم ناقابل برداشت ہیں ۔ یہ ظلم یہ جبر ہماری جد و جہد کا راستہ نہیں روک سکتے۔ہم اتحاد بین المسلمین کا علم لے کر اٹھے ہیں اور اپنا پیغام اخوت پہنچا کے رہیں گے۔ ہمارے خلاف پروپیگنڈا سامراجی قوتوں کے ایجنٹوں کی طرف سے ہے جو مسلمانوں کے اتحاد سے خائف ہے۔
6۔ہم سیاست میں عملی کردار اختیار کرنے سے قبل اپنی قوم کو منظم کریں گے اوراسے سیاسی شعور دین گے تا کہ ہماری قوم سیاست کے ہر پہلو میں ہمارا ساتھ دے تاکہ کوئی سیاسی موڑ مرنے پر ہماری قوم ہم سے پیچھے نہ رہ جائے۔
روشنی تیرے سفیروں کا نشان باقی ہے
دامن شب میں چراغوں کا دھواں باقی ہے
مسکرائیں بھی کسی رات میں تو کیسے عارف
آنکھ میں تیری جدائی کا سماں باقی ہے
آخر میں اس عظیم ہستی کی برسی کی مناسبت سے تمام عاشقان ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کی خدمت میں تسلیت و تعزیت عرض کرتاہوں ۔
موت آ ئے بھلاتجھ کو کیسے
تو، تو زندہ ہے تا صبح محشر
اےمفکر، اے معلم، اے مجاہد
حشر تک کا تجھ کو بھولےہم نہ شاید
والسلام علیہ یوم یموت و یوم یبعث حیا۔

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه