زائرین حضرت سید الشھداء کی عظمت اور مقام بہت بلند ہے، مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے والے لوگ اللہ تعالی کے محبوب اور مقرب بندے ہوتے ہیں ،ان کا یہ عمل خدا کے نذدیک پسندیدہ اعمال میں سرفہرست شمار ہوتا ہے ،جس کے عوض پروردگار نےعظیم اجر عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہےـ اس حوالے سے نمونے کے طور پر کچھ روایات ملاحظہ فرمائیں ـ
اگر امام حسین علیہ السلام کا زائر جانتا ہے کہ اس زیارت کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام اور سید فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ہم اہل بیت کے شہداء کو کس قدر خوش اور مسرت ملتی ہے اور اگر جانتا کہ اس زیارت کے توسط سے ـ

جب وہ واپس آتا ہے ـ ان کی طرف کی کس قدر دعائیں اس کے حصے میں آتی ہیں، اور کس قدر اجر و ثواب دنیا اور آخرت میں اس کو ملتا ہے اور کس قدر اجر و ثواب اللہ کے ہاں اس کے لئے ذخیرہ ہوجاتا ہے، تو یقینا وہ پسند کرتا کہ وہاں (کربلا میں) گھر بنا کر اپنی باقیماندہ زندگی وہیں بسر کرنا پسند کرتا؛ اور جب امام حسین علیہ السلام کا زائر اس سفر سے پلٹ آتا ہے، تو جس چیز پر اپنا قدم رکھتا ہے، وہ اس کے لئے دعا کرتی ہے اور جب سورج اس پر چمکتا ہے تو اس کے گناہوں کو ختم کرکے رکھ دیتا ہے جس طرح کہ آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے اور سورج اس کے گناہوں میں سے کچھ بھی باقی نہيں چھوڑتا؛ چنانچہ وہ واپس آتا ہے جبکہ اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہے اور اس کے لئے اتنے بلند درجات ہیں جن تک اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا شہید بھی نہیں پہنچ پاتا؛ اور اس کے لئے ایک فرشتہ مُوَکَّل کیا جاتا ہے جو اس کے لئے طلب مغفرت کرتا ہے؛ حتی کہ دوبارہ زیارت کے لئے پلٹ آتا ہے، یا یہ کہ تین سال کا عرصہ گذر جائے یا اس وقت تک، جب تک کہ وہ مر جائے"۔(۱)
محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا، کہ قبر حسین علیہ السلام کی زیارت کی کیا فضیلت ہے تو وہ شوق کے مارے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ان کی سانسیں حسرت کی بنا پر رک جاتیں۔میں نے عرض کیا: زیارت امام حسین علیہ السلام کی فضیلت کتنی ہے؟امام(ع) نے فرمایا: جو بھی شوق و اشتیاق کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو آئے، خداوند متعال ایک ہزار حج مقبول اور ایک ہزار مقبول عُمرے، شہدائے بدر جیسے ایک ہزار شہیدوں کا ثواب، ایک ہزار روزہ داروں کا ثواب، ایک ہزار قبول شدہ صدقات کا ثواب، اور اللہ کی رضا کے لئے آزاد کردہ ایک ہزار غلاموں کا اجر و ثواب اس کے عمل نامے میں لکھ دیتا ہے"۔ (۲)
امام موسی بن جعفر «علیه السلام» فرماتے ہیں:جو کوئی میرے فرزند علی( امام رضا) «علیه السلام» کی زیارت کرے اسکا ثواب ستّر مقبول حج کے برابر ہوگا۔مازنی کہتے ہیں میں نے تعجب بھرے لہجے میں پوچھا: ستّر حج ؟ فرمایا: ستّر ہزار حج۔میں نے عرض کیا : انکی زیارت کا ثواب ستر ہزار حج کے برابر ہے ؟ فرمایا: ہاں بیشک! بہت سارے حج بارگاہ خدا میں قبول نہیں ہوتے، جو کوئی میرے بیٹے علی کی زیارت کرے اور ایک رات وہاں ٹھہرے گویا ایسا ہی ہے کہ اس نے خدا کی عرش پر زیارت کی ہے (۳)
جو لوگ اخلاص سے مقامات مقدسہ کی زیارت کی نیت سے گھر سے نکلتے ہیں در حقیقت انہوں نے دنیا کی مادی وقتی لذتوں کو چھوڑ کر جاوید اور لازوال معنوں لذتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے عملی اقدام کر چکے ہوتے ہیں ، وہ توبہ واستغفار کےصابن سے اپنے گناہوں کی آلودگیوں کو صاف اور پاک کرنے کے لئے پاکیزہ سرچشموں کی طرف قدم بڑھا چکے ہوتے ہیں ، وہ اس معنوی سفر میں مشکلات برداشت کرتے ہیں ، اپنے اماموں سے تجدید عہد وپیمان کرتے ہیں اور پرچم ولایت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں ـ
پرانے زمانے میں زیارت کی اہمیت اور فضیلت سے آگاہ نہ ہونے اور مالی استطاعت کی کمی کے باعث زائرین کی تعداد بہت محدود ہوتی تھی ، وہ دو تین نفر ہمسفر بن کر مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے نکلتے تھے ، لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مالی استطاعت بہتر ہوتی گئی ، زیارت کے حوالے سے ان کی معرفت اور شناخت میں اضافہ ہوتا گیا جس کے نتیجے میں آج تقریبا ہر گھر سے کوئی نہ کوئی زیارت کے لئے جاتا ہے ،یقینا یہ مایہ سعادت اور قابل افتخار ہے ، اربعین حسینی کے مراسم میں شرکت کرنے کے لئے پوری دنیا سے مسلمان کربلا پہنچ جاتے ہیں، وہاں حج کے اجتماع سے زائرین کا اجتماع ذیادہ ہوتا ہے ،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ مفاد پرست ٹولے میر کارواں بن کر زائرین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں، انہوں نے زیارت کو باقاعدہ نفع بخش کاروبار کا ذریعہ قرار دے رکھا ہے ،وہ اربعین کے ایام میں زائرین سے مختلف بہانوں سے پیسے نکال نکال راتوں رات امیر بن جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج کل سالاری کی اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی فارسی اور عربی کا تھوڑا شدبد رکھنے والے افراد کاروان کا سالار بن کر لوگوں کو زیارت کے لئے عراق اور ایران لے جانے کا بیڑا اٹھاتے نظر آتے ہیں جس سے ان کی پیٹ بھری کا انتظام تو ہوجاتا ہے مگر زائرین کو وہ بے پناہ صعوبتوں اور مشکلات سے دوچار کراکے اپنے اوطان واپس پہنچادیتے ہیں ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قافلہ سالار بننے کے لئے بھی کوئی شرط ہے ؟ کیا عربی فارسی زبانوں کا سمجھنا کافی نہیں ؟ جواب یہ ہے کہ اخلاقی نقطہ نظر سے جو میر کاروان بننے کا متمنی ہے اسے کم از کم ان دو شرطوں کا حامل ہونا ضروری ہے ـ سب سے پہلے سالار قافلہ کو زیارت کی فضیلت اہمیت اور زائرین کے مقام ومنزلت سے اجمالی طور پر آگاہ ہونا چاہئے تاکہ اس سفر عشق میں اس سے زائرین کی خدمت کرنے میں کوتاہی سرزد نہ ہو ـ دوسری شرط یہ ہے کہ سالار قافلہ پوری ذمہ داری سے زائرین کو مقامات مقدسہ کی زیارت کروائے ـ ہم نے دیکھا ہے کہ بہت سارے کاروان کے ذمہ دار افراد زائرین کو ایران اور عراق پہنچاتے ضرور ہیں مگر وہ توجہ نہیں دیتے کہ زائرین کو مقدس مقامات کی زیارت ہورہی ہے یانہیں ؟ وہ یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کو مناسب کھانا مل رہا ہے یانہیں؟ ان کی رہائش گاہ پر ضروری لوازمات کی فراہمی پر بھی ان کی توجہ نہیں رہتی ـ اس کے علاوہ عالم مسافرت میں زائرین سے مختلف بہانے تراشتے ہوئے وہ زائد رقم وصول کرتے ہیں، اگر سفر میں کوئی مریض ہوتا ہے تو ان کے علاج ومعالجے کا بندوبست نہیں کرتے ہیں، یہ سلوک زائرین کے ساتھ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ـ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ زائرین خود زیرک ہوجائیں ـ وہ سوشل میڈیا پر ہر اشتہار دینے والے پر ہرگز اعتماد نہ کریں ، بلکہ کسی بھی کاروان میں شامل ہونے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں ، سالار کاروان کے ساتھ سفر شروع ہونے سے پہلے ہی رقم کی مقدار طے کریں اور ایسے کاروان کا انتخاب کریں جس کا سالار متدین ہو ـ
.............................................
حوالہ جات
۱ـ حسین نوری طبرسی، مستدرک الوسائل، ج10، ص343۔
۲- حُرّ العاملي، وسائل الشیعۃ، ج14، ص453
۳ ـکافی، ج 4، ص 585؛ تهذیب، ج 6، ص 85؛ بحارالانوار، ج 101، ص 43

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه