سوال :پیغمبر اسلام نے کس طرح مباھلہ کیا؟
جواب : مباہلہ “ در اصل ” بھل“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ”رہا کرنا “ اور کسی کی قید و بندکو ختم کردینا ۔ اسی بناء پر جب کسی جانور کو اس کے حال پر چھوڑ دیں اور اس کے
پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تاکہ اس کا نو زائیدہ بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے تو اسے ” باھل “ کہتے ہیں ۔ دعا میں ” ابتھال“ تضرع و زاری اور کام خدا کے سپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔
کبھی کبہار یہ لفظ ہلاکت ، لعنت اورخدا سے دوری کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اس کے حال پر چھوڑدینا منفی نتائج کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ تو تھا ” مباہلہ “ کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو اوپر والی آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو اشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ ببھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسئلے میں اختلافَ رائے رکھتے ہوں ، ایک جگہ جمع ہو جائیں ، بار گاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے ۔

مندرجہ بالا آیت میں خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی کو ئی شخص تم سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے ” مباہلہ کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچو ں ، عورتوں او ر نفسوں کو لے آئے اور تم بھی اپنے بچوںاور عورتوں اور نفسوں کو بلا وٴ پھر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کردے ۔(» (فَمَنْ حَاجَّکَ فیهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْکاذِبینَ).
اسلامی روایات میں ہے کہ “ مباہلہ “ کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبر اکرم کے پاس آئے اور آپ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کرلیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرلیں ۔ مشورے کی یہ بات ان کی نفساتی حالت کی چغلی کھاتی ہے ۔ بہر حال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد شو ر و غل ، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ ” مباہلہ“ کے لئے آئیں تو ڈرا نہ جائے اور مباہلہ کرلیا جائے کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور وغل کا سہارا لیا جائے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیں بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جالینا چاہئیے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صور میںان سے ”مباہلہ “ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطر ناک ہے ۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسائی میدان مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر اپنے بیٹے حسین (علیه السلام) کو گود میں لئے حسن (علیه السلام) کا ہاتھ پکڑے اور علی (علیه السلام) و فاطمہ (علیه السلام) کو ہمراہ لئے آپہنچے ہیں اور انہیں فرمارہے ہیںکہ جب میں دعا کرو ، تم آمین کہنا ۔
عیسائیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہائی پریشان ہوئے اور مباہلہ سے رک گئے اور صلح و مصالحت کے لیے تیار ہو گئے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہو گئے ۔
دلیل حقانیت
سوال :مباهله کس طرح پیغمبر(صلى الله علیه وآله وسلم) کی حقانیت کی دلیل هے ؟
جواب : خداوندمتعال سوره «آل عمران» کی آیت نمبر ۶۱ میں اپنے پیغمبر (صلى الله علیه وآله وسلم) کو حکم دیتا ہے
کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی کو ئی شخص تم سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے ” مباہلہ کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچو ں ، عورتوں او ر نفسوں کو لے آئے اور تم بھی اپنے بچوں اور عورتوں اور نفسوں کو بلا وٴ پھر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کردے ۔
" مباہلہ “ کی یہ صورت شاید قبل از این عرب میں مروج نہ تھی اور ایک ایسا راستہ ہے جو سوفی صد پیغمبر اکرم کے ایمان اور دعوت کی صداقت کا پتہ دیتا ہے ۔
کیسے ممکن ہے کہ جو کامل ارتباط کے ساتھ خدا پر ایمان نہ رکھتا ہو اور ایسے میدان کی طرف آئے اور مخالفین کو دعوت دے کہ آوٴ ! اکھٹے درگاہ خدا میں چلیں ، اس سے درخواست کریں اور دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا کردے اور پھر یہ بھی کہے کہ تم عنقریب اس کا نتیجہ دیکھ لو گے کہ خدا کس طرح جھوٹوں کو سزا دیتا ہے اور عذاب کرتا ہے ۔
یہ مسلم ہے کہ ایسے میدان کا رخ کرنا بہت خطر ناک معاملہ ہے کیونکہ اگر دعوت دینے والے کی دعا قبول نہ ہوئی اور مخالفین کو ملنے والی سزا کا اثر واضح نہ ہو اتو نتیجہ دعوت دینے والے کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ہوگا ۔
کیسے ممکن ہے کہ ایک عقلمند اور سمجھ دار انسان نتیجے کے متعلق اطمنان کئے بغیر اس مرحلے میں قدم رکھے ۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی طرف سے دعوتِ مباہلہ اپنے نتائج سے قطع نظر ، آپ کی دعوت کی صداقت اور ایمان قاطع کی دلیل بھی ہے ۔
اسلامی روایات میں ہے کہ “ مباہلہ “ کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبر اکرم کے پاس آئے اور آپ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کرلیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرلیں ۔ مشورے کی یہ بات ان کی نفساتی حالت کی چغلی کھاتی ہے ۔ بہر حال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد شو ر و غل ، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ ” مباہلہ“ کے لئے آئیں تو ڈرا نہ جائے اور مباہلہ کرلیا جائے کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور وغل کا سہارا لیا جائے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیں بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جالینا چاہئیے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صور میںان سے ”مباہلہ “ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطر ناک ہے ۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسائی میدان مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر اپنے بیٹے حسین (علیه السلام) کو گود میںلئے حسن (علیه السلام) کا ہاتھ پکڑے اور علی (علیه السلام) و فاطمہ (علیه السلام) کو ہمراہ لئے آپہنچے ہیں اور انہیں فرمارہے ہیںکہ جب میں دعا کرو ، تم آمین کہنا ۔
عیسائیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہائی پریشان ہوئے اور مباہلہ سے رک گئے اور صلح و مصالحت کے لیے تیار ہو گئے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہو گئے ۱
1. تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 674.
مباھلہ ایک عام حکم
سوال :کیا مباھلہ ایک عام حکم ہے ؟
جواب : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مباھلہ کی آیت تمام مسلمانوں کو مباھلہ کی دعوت دینے کے لئے ایک عام حکم نہیں ہے بلکہ اس آیت میں مخاطب صرف اور صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں ، لیکن یہ موضوع اس بات سے منع نہیں کرتا کہ مخالفین کے سامنے مباھلہ ایک عام حکم ہوجائے اور ایماندار لوگ جو کہ کامل طور پر تقوی اور خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ اپنے استدلال پیش کرتے وقت دشمن کی لجاجت کی وجہ سے ان کو مباھلہ کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
اسلامی کتابوں میں جو روایات نقل ہوئی ہیں ان سے بھی اس حکم کا عام ہونا سمجھا جاتا ہے : تفسیر نور الثقلین کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ٣٥١ پر امام صادق (علیہ السلام) سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے :
اگر مخالفین تمہاری حق بات کو قبول نہ کریں تو تم ان کو مباھلہ کی دعوت دو ! ۔
راوی کہتا ہے : میں نے سوال کیا کہ ان سے کس طرح مباھلہ کریں؟
فرمایا : تین دن تک اپنی اخلاقی اصلاح کرو !
میں خیال کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : روزہ رکھو، غسل کرو اور جس سے مباھلہ کرنا چاہتے ہو اس کے ساتھ صحرا میں جائو ، پھر اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالو اور تم خود شروع کرو اور کہو : خدایا ! تو ساتوں آسمانوں ا ور ساتوں زمینوں کا پروردگار ہے اور ان کے اندر چھپے ہوئے اسرار سے آگاہ ہے ، تم رحمان و رحیم ہے ، اگر میرا مخالف حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے !
اور ایک مرتبہ پھر اس دعا کو دہرائے اور کہے :
اگر یہ شخص حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے !
پھر فرمایا : کچھ دیر نہیں گزرے گی کہ اس کا نتیجہ ظاہر ہوجائے گا ،خدا کی قسم ! کوئی بھی شخص اس طرح سے میرے ساتھ مباھلہ کرنے کو تیار نہیں ہوا (١) ۔ (٢) ۔
١۔ جواهر الکلام»، جلد 5، صفحه 40، دار الکتب الاسلامیة، چاپخانه خورشید؛ «المیزان»، جلد 4، صفحه 410، انتشارات جامعه مدرسین؛ «کافى»، جلد 2، صفحه 513 و 514، دار الکتب الاسلامیة؛ «وسائل الشیعه»، جلد 7، صفحه 134، چاپ آل البیت؛ «بحار الانوار»، جلد 92، صفحه 349؛ «عدّة الداعى»، صفحه 214 و 215، دار الکتاب الاسلامى، 1407 هـ ق؛ «نور الثقلین»، جلد 1، صفحه 351، مؤسسه اسماعیلیان، طبع چهارم، 1412 هـ ق.
٢۔ اقتباس از کتاب: تفسیر نمونه، آيت الله العظمي مکارم شيرازي، دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهل و هفتم، ج 2، ص 684.
مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق
سوال :اگر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مباھلہ کے واقعہ میں فقط حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام)، حسنین (علیہما السلام) اور امام علی (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے کر گئے تو پھر آیت میں عورتوں، بچوں اور نفسوں کے لئے جمع کا لفظ کیوں استعمال ہوا ہے ؟
جواب : علمائے اسلام کا اجماع، اور وہ بہت سی حدیثیں جو شیعہ اور اہل سنت کی معتبر اور اسلامی کتابوں میں اس حدیث کے شان نزول کو اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہونے کو بیان کرتی ہیں ،ان میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اپنے ساتھ علی علیہ السلام، فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حسنین علیہما السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں لے گئے اوریہ خود آیت کی تفسیر کے لئے بہترین قرینہ ہے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے لئے جو قرائن استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک سنت اور شان نزول ہے ۔
اس بناء پر مذکورہ اعتراض صرف شیعوں پر نہیں ہے بلکہ تمام اسلامی علماء کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔
ثانیا : صیغہ جمع کا مفرد یا تثنیہ پر اطلاق ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور قرآن وغیر قرآن اور ادبیات عربی بلکہ غیر عرب میں بھی اس پر بہت سی دلیلیں ہیں ۔
تفصیل کے ساتھ وضاحت :
بہت زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ کس قانون کو بیان ، یا کسی عہدنامہ کو تنظیم کرتے وقت حکم عمومی طور پر یا جمع کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے ،مثلا عہدنامہ میں اس طرح لکھتے ہیں : اس کو جاری کرنے والے ذمہ دار ، دستخط کرنے والے اور ان کے بچے ہیں جبکہ ممکن ہے کہ دونوں طرف سے ان کے صرف ایک یا دو بچے ہوں ، یہ موضوع کبھی بھی جمع کے صیغہ کے ساتھ قانون اور عہدنامہ لکھتے وقت غلط نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس کے دو مرحلہ ہیں : قرار داد کا مرحلہ اور اس کو جاری کرنے کا مرحلہ ۔ قرار داد کے مرحلہ میں کبھی الفاظ جمع کی صورت میں ذکر ہوتے ہیں تاکہ تمام مصادیق پرتطبیق کریں ، لیکن جاری کرنے کے مرحلہ میں ممکن ہے کہ مصداق صرف ایک آدمی میں منحصر ہو اور مصداق میں یہ انحصار ، مسئلہ کے عمومی ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتا ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) نے نجران کے نصاری کے ساتھ جو قرار داد کی تھی اس کے مطابق آپ کی ذمہ داری تھی کہ اپنے خاندان کے خاص بچوں ، عورتوں اور تمام ان لوگوں کو جو آپ کی جان کی طرح تھے ، مباھلہ میں لے جاتے ،لیکن دو بچوں ، ایک مرداور ایک عورت کے علاوہ کوئی دوسرا مصداق نہیں تھا (غور کریں) ۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر لفظ جمع استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مصداق صرف ایک فرد میں منحصر ہے : مثلا اسی سورہ کی ١٧٣ ویں آیت میں بیان ہوا ہے : الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ ِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ ۔
یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہاکہ لوگو ں نے تمہارے لئے عظیم لشکر جمع کرلیا ہے لہذا ان سے ڈرو۔
اکثر مفسرین کی رائے کے مطابق یہاں پر :الناس (لوگوں) سے مراد نعیم بن مسعود ہے جس نے مسلمانوں کو مشرکین کی طاقت سے ڈرانے کے لئے ابوسفیان سے کچھ مال لیا تھا (١) ۔
اسی طرح ١٨١ ویں آیت میں ملتا ہے : لَقَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّذینَ قالُوا ِنَّ اللَّہَ فَقیر وَ نَحْنُ أَغْنِیاء۔ اللہ نے ان کی بات کوبھی سن لیا ہے جن کا کہنا ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔لہذا اس نے ہم سے زکات دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جب کہ آیت میں الذین سے مراد حُیی بن ا خطب یا فنحاص ہے (٢) ۔
کبھی کبھی مفرد کے لئے لفظ جمع کا استعمال احترام کے لئے بھی ہوتا ہے جس طرح سے ابراہیم علیہ السلام) کے لئے ملتا ہے : اِنَّ ِبْراہیمَ کانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّہِ حَنیفاً وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکینَ۔ بیشک ابراہیم علیہ السّلام ایک مستقل امّت اور اللہ کے اطاعت گزار اور باطل سے کترا کر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے(٣) ۔
یہاں پر لفظ امت جو کہ اسم جمع ہے ایک شخص کے اوپر اطلاق ہوا ہے(٤) ۔
١۔ تفسیر «قرطبى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «فخر رازى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «آلوسى»، ذیل آیه 173 سوره «آل عمران».
٢۔ تفسیر «طبرى»، جلد 4، صفحه 129، ذیل آیه 181 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «قرطبى»، ذیل آیه 181 سوره «آل عمران»؛ تفسیر «ابن کثیر»، جلد 2، صفحه 155، ذیل آیه 188 سوره «آل عمران».
٣۔ سوره نحل، آیه 120.
٤۔ اقتباس از کتاب: تفسیر نمونه، آيت الله العظمي مکارم شيرازي، دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهل و هفتم، ج 2، ص 680.
بشکریہ https://ur.abna24.com

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه