3جنوری 2020 کو ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کی سرزمین پر ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو اپنے ساتھوں سمیت بڑی بے دردی سے شھید کروایا، پوری دنیا کے انصاف پسند لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق امریکہ کے اس بہیمانہ اقدام کی بھرپور مزمت کی ،انہوں نے مختلف طریقوں سے وائٹ ہاوس تک یہ پیغام پہنچادیا کہ امریکہ نے اس ناروا اور احمقانہ حرکت کے ذریعے اپنے لئے موت کا گڑھا کھودا ہے ،اس مجرمانہ اقدام نے اس کی بزدلی کو ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے عیاں کردیا ہے ، ہنر یہ نہیں ہے کہ کوئی دوسرے ملک کی سرزمین پر چڑ دوڑ کر اپنے حریف کو نشانہ بنائے ، اسے بہادری نہیں کہا جاتا ہے بلکہ عقلاء عالم کی نظر میں یہ ناتوانی اور لاچاری کی انتہا ہے ، اس پر مستزاد یہ بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ہے لہذا اس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہےـ

ایران اور امریکہ کی دشمنی کوئی نئی نہیں ،جب سے ایران کی سرزمین پر انقلاب اسلامی کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے تب سے آج تک ان کے درمیان دشمنی چلی آرہی ہے، اسی عداوت کے سبب 42 برس پر مشتمل عرصے میں امریکہ نے ایران کو مغلوب کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے آزمایا، ہر میدان میں اسے کمزور کرنے کے لئے اس نے اپنی جدوجہد جاری رکھی مگر نتیجہ برعکس نکلا ،ایران روز بروز قوی تر ہوتا گیا ،سائنس وٹیکنالوجی کی دنیا سے لیکر عسکری اور سیاسی میدان میں ایران نے بہت پیشرفت کی، اس سرزمین پر اسلامی حکومت قائم رہنے کی بدولت افراد کی تعلیم اور تربیت اسلامی زرین تعلیمات کی روشنی میں ہوتی رہی ـ
کوئی ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے نظام تعلیم کا اساسی فرق سمجھنا چاہے تو اس چیز پر غور کرنا ضروری ہے کہ ایران میں پرائمری اسکولز سے لے کر تمام کالج اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات عقائد، اخلاق، احکام ،منطق ،تاریخ فلسفہ اور کلام وغیرہ پر مشتمل کتابیں نصاب میں ضرور شامل ہوتی ہیں، البتہ نچلی سطح اور ہائی لیول کی کلاسوں کے لئے یکساں مواد نہیں ہوتا بلکہ ہر سطح کے بچوں کے لئے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق مطالب ترتیب دے کر کتابیں تیار کی جاتی ہیں جبکہ دوسرے اسلامی ملکوں میں مغربی نظام تعلیم ہی آئڈیل ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے ان کی نصابی کتابیں اسلامی تعلیمات سے تہی ہوتی ہیں ،ان کے نظام تعلیم میں دینی اصولوں کے مطابق فکری تربیت کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی تعلیمی درسگاہوں سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر فارغ ہونے والے طلباء کی بھی اکثریت فکری حوالے سے پستی کا شکار رہتی ہے ، صحیح خطوط پر سوچ کر مسائل کو سلجھانے کی صلاحیت سے عاری ہوتی ہے، دین امور کی طرف توجہ کم دیتی ہے ، نجی معاملات اور سیاسی پیچیدگیوں کو منطقی انداز میں سمجھ کر حل کرنے سے قاصر رہتی ہے ـ ایران کا نظام تعلیم مستحکم ہونے کی وجہ سے جب طلباء تعلیمی مدارج طے کرکے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو وہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوتے ہیں ، علمی طور پر مضبوط ہونے کے علاوہ وہ فکری صلاحیت کا حامل بھی بن جاتے ہیں ـ بات بہت دور نکل گئی مقصود فقط یہ کہنا تھا کہ علمی ،تربیتی میدان سمیت تمام میدانوں میں ایران مسلسل ترقی کی طرف رواں دواں ہے ـ
قاسم سلیمانی کی شہادت کا واقعہ دنیا بھر کے کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی توجہ کا مرکز بنا ،ہر کسی نے اپنی معلومات کے مطابق اس پر لکھنے اور تجزیہ وتحلیل کرنے کی کوشش کی یقینا یہ لائق تحسین کام ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ ضمیر فروش کرائے کے لکھاریوں نے اپنی پرانی عادت کے مطابق اس سانحے کو غلط رنگ دے کر لوگوں کی نگاہ میں اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی گئی، وہ کھل کر امریکہ کو داد دینے کی تو جرات نہ کرسکے مگر دبے الفاظ اور اپنے غیر منطقی تجزئے کے ذریعے شھید کی مظلومیت اور امریکہ کے ظالمانہ اقدام کو چھپانے کی جدوجہد کی جو قابل مذمت ہے ،اس حوالے سے انہوں نے دوچیزوں کا سہارا لیا، بعض نے اس پر فرقہ واریت کا غلاف چڑھایا، انہوں نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر چھوڑنے کی کوشش کی کہ قاسم سلیمانی فقط امریکہ کی آنکھ کا کانٹا نہیں تھا بلکہ عراق وشام میں اس نے امریکی داعشی کارندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے ساتھ سنی مسلمانوں کا بھی قتل عام کیا تھا، اسے صرف ایران کا دفاع عزیز تھا، مشرق وسطی میں اس نے صرف ایران کو طاقتور بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے جس کے لئے اس نے بہت سارے سنی مسلمانوں کو بھی مارا قتل کیا و.... کچھ مغرض افراد نے یہ لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال کر خود کو ہلکا کرنے کی کوشش کی کہ قاسم سلیمانی اپنی ٹیم کو لیکر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ عراق میں موجود امریکہ کے فوجی اڈے پر حملہ کرنے کے لئے بغداد پہنچے تھے ،اگر وہ اپنے ہدف میں کامیاب ہوتا تو ایران وامریکہ کے درمیان جنگ کی آگ بھڑک اٹھتی جس کی لپیٹ میں عراق کے قرب وجوار کے سارے ممالک کا آنا یقینی تھا ، یہ بھی عین ممکن تھا کہ جنگ ہونے کی صورت میں امریکہ دباؤ ڈال کر پاکستان کی سرزمین استعمال کرتا درنتیجہ پورا پاکستان جنگ کی زد میں آجاتا چنانچہ امریکہ نے حفظ ماتقدم کے لئے قاسم سلیمانی پر حملہ کیا گیا و.....
جب کہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ قاسم سلیمانی فقط ایران کا نہیں اسلام کا مدافع تھا ،عراق وشام میں اس کا حریف داعشی ٹولہ تھا، اس کے لئے جتنا شیعوں کی جان مال اور آبرو کی حفاظت عزیز تھا اتنا ہی وہ سنی مسلمانوں کی جان ان کے املاک اور ناموس کو تحفظ فراہم کرنا ضروری سمجھتے تھے ،وہ زندگی بھر اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں جہاد کرتے رہے، فلسطین کی آذادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے ،اس نے اسرائیل کے مظالم کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کو مقاومت کرنے کا سلیقہ سکھایا، ان میں شہادت اور جہاد کا جزبہ پیدا کیا، انہیں شجاع اور نڈر بنایا، اسی طرح لبنان میں اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کی ہونے والی ۳۳ روزہ جنگ کی کامیابی میں بھی آپ کا بڑا رول تھا، بنابرایں قاسم سلیمانی اسلام کا ہیرو تھا اسے مسلکی رنگ دے کر فقط ایران کا ہیرو قرار دینا اس کی شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہے، اسی طرح حفظ ماتقدم والے پریپیگنڈے کے ذریعے امریکہ کے ظلم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنا ہی ظلم ہے ـ
بعض یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ بالفرض امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو کون کس پر بھاری ہوگا؟ ہماری نظر میں یہ کوئی نیا اور انوکھا سوال نہیں بلکہ بہت پرانا سوال ہے، اس پر پہلے بھی لوگ تبصرہ کرتے رہے ہیں، اپنی رائے دیتے رہے ہیں، لیکن پاکستان کے ایک معروف چینل پر اس حوالے سے آج ایک نادان شخص کی تازہ رپورٹ سننے کو ملی جسے سن کر اس کی جہالت پر بہت افسوس ہوا، اس کی رپورٹ کا موضوع امریکہ اور ایران کی طاقت کا مقائیسہ تھا! اس نے تسلسل کے ساتھ امریکہ کی بری وبحری فوج کی تعداد جدید اسلحوں کی تعداد وتوانائیوں سمیت ان تمام مقامات کو ایک ایک کرکے اپنی رپورٹ میں بیان کیا جہاں امریکی فوج طاقتور ہتھیار سے لیس الرٹ رہتی ہے، پھر اسی طرح ایران کی فوج اور اس کی دفاعی توانائی کا تذکرہ کرکے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر حوالے سے ایران امریکہ کے مقابلے میں ناچیز اور کمزور ہے، لہذا ان کے درمیان جنگ کا تصور ہی درست نہیں ،کیونکہ جنگ کا امکان وہاں رہتا ہے جہاں طاقت کے اعتبار سے فریقین مساوی یا نذدیک ہوں ... ہم اتنا عرض کرنا چاہیں گے کہ جناب آپ نے اس رپورٹ کو پیش کرکے اپنی جہالت سے پردہ اٹھایا ہے، یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جناب مادیات کے تاریک ذندان میں محبوس ہے، ارے نادان ایران کی اصل طاقت تو ایمان ہے، ایمانی طاقت کے بل بوتے پر ہی ایران نے ۴۲ سال کا عرصہ امریکہ سے مقابلہ کیا اور ہر میدان میں سرخرو نکلا ہے، اگر مادی طاقت ہی کامیابی کی علامت ہوتی تو امریکہ کب سے ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کا گلا گھونٹ کر صفحہ ہستی سے مٹاچکا ہوتا، اگر مادی طاقت ہی سب کچھ ہوتی تو اسرائیل حزب اللہ اور فلسطینی مسلمانوں کو کب سے شکست دے کر فتح اور کامیابی کا سہرا اپنے سرسجا چکا ہوتا، ان کو کس نے بچا رکھا ہے بلکہ وہ کونسی چیز تھی جس نے ۳۳ روزہ جنگ میں اسرائیل جیسی مادی بڑی طاقت پر حزب اللہ کی مادی اعتبار سے کمزور فوج کو غلبہ عطا کیا، کیا وہ ایمانی طاقت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی؟ آج دنیا کے نام نہاد سپر طاقت امریکہ کو اگر ایران رلاتا ہے ،اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے، اس کی اینٹ کا جواب پھتر سے دیتا ہے ،ایک جنرل کی جان کے عوض اس کی فوجی بڑے اڈے پر حملہ کرکے ۸۰ فوج کو واصل فی النار کرتا ہے تو ایمانی طاقت کی بنیاد پر ہی یہ سب کچھ کرتا ہے البتہ مادی طاقت کے لحاظ سے بھی ایران پڑا طاقتور ملک ہےـ توجہ رہے کسی بھی میدان میں کامیابی کے حصول کے لئے کثرت معیار نہیں کیفیت اہم چیز ہوتی ہے ، یہاں یوں کہنا بجا ہوگا کہ ایران امریکہ کے مقابلے میں نور ہےاور وہ ظلمت واضح سی بات ہے کہ نور اور ظلمت کا مقائسہ ہی غلط ہے ـ

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه