جب سے پاکستان میں میاں نو از شریف بطور وزیراعظم پاکستان برسراقتدار آئے ہیں، اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پر عرب شہزادوں اور بادشاہوں کے لیے بچھا ریڈ کارپٹ اُٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔

کبھی سعودی وزیر داخلہ، کبھی سعودی ولی عہد تو کبھی بحرین کے بادشاہ اور آنے والے دنوں میں UAE کے بادشاہ بھی میاں صاحب کو اپنی دست بوسی کا شرف بخشنے کے لیے اسی ریڈ کارپٹ پر قدم رنجا ہونے والے ہیں۔ عرب سلاطین اور میاں صاحب کے درمیان تعلق یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے، البتہ اس دوطرفہ ربط میں ایک طرف میاں صاحب کی طرف سے عقیدت اور گدائی کا عنصر پایا جاتا ہے، تو دوسری طرف عرب سلاطین کی طرف سے مرشدانہ شفقت اور ڈالرانہ فیاضی کا عنصر عیاں ہے۔ مختصر الفاظ میں اگر اس تعلق کی تعریف کی جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں کا تعلق بالکل ایسا ہے جیسا ایک امیرِ شہر اور گداگر، ایک مرشد اور مرید یا ایک جان بخشنے والے آقا اور غلام کا تعلق ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ میاں صاحب کا مقام ان تینوں تماثیل میں مؤخر الذکر ہے۔
 
15 فروری کو جب سعودی ولی عہد اور آل سعود کے چشم و چراغ سلمان بن عبدالعزیز پاکستان آئے تو میاں صاحب نہ صرف خود اپنی کابینہ کے ساتھ ان کا استقبال کرنے کے لیے نور خان ائیربیس تشریف لے گئے بلکہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی اس یاترا کے لیے مدعو کیے گئے تھے۔ پھر اگلے تین دن تک پوری پاکستانی مشینری اس شہزادے کے لیے آنکھیں بچھائے، ان کی راہ تکتی رہی اور اس دورے کا لب لباب اس وقت عیاں ہوا جب دونوں ممالک کی مشترکہ پریس کانفرنس میں شام کی بابت پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کی نوید سنائی گئی۔ ابھی سعودی ولی عہد کے دورے کی مہک پھیکی نہ ہونے پائی تھی کہ 18 مارچ کو بحرینی بادشاہ حمد بن خلیفہ بحرین میں بسنے والے نہتے عوام کے خون سے ہاتھ رنگتے ہوئے اپنے "بابرکت" وجود کے ساتھ نور خان ائیربیس پر جلوہ افروز ہوئے۔ اس بار بھی میاں صاحب اپنی عقیدت کا اظہار کرنے خود ائیر پورٹ پر تشریف لے گئے۔ گذشتہ 40 سال میں یہ پاکستان میں کسی بحرینی بادشاہ کا پہلا دورہ قرار پایا ہے۔ اس طرح میاں صاحب کی عرب سول سروس کی وردی کے کندھے پر دو پھول تو لگ گئے ہیں اور اب آنے والے دنوں میں UAE کے سربراہ کی آمد کے بعد اس وردی کے کندھے پر تیسرا پھول بھی اُگنے والا ہے۔ جونہی یہ تیسرا پھول لگے گا میاں صاحب کی عرب سول سروس کے عہدے میں سب انسپکٹر سے بطور فل انسپکٹر ترقی کے امکانات بھی روشن ہیں اور اگر میاں صاحب 5 سال پورے کرگئے تو اس سروس کے نتیجے میں ان کے کندھے پر پھولوں کے بجائے گملے لگنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

اگر میاں صاحب کی یہ عقیدت ذاتی حد تک محدود ہوتی تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا، لیکن بطور وزیراعظم پاکستان اُن کا منصب اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ کسی ایسے عمل کو انجام نہ دیں، جس سے پاکستان کا وقار مجروح ہو، یا پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر آنچ آئے۔ کیا یہ بات پاکستان کا وقار بڑھاتی ہے کہ ایک چھوٹی سی عرب ریاست جس کا رقبہ 780 مربع کلومیٹر ہو اور مقامی آبادی محض 5،66،000 ہو اور اس کا خائن، ظالم اور جابر حکمران جب پاکستان آئے تو 18 کروڑ نفوس پر مشتمل ملک اور دنیا کی چھٹی بڑی فوج کا سربراہ مملکت خود چل کر ائیر پورٹ جائے اور تین دن تک اس ناجائز حکمران کے صدقے واری ہوتا رہے۔

ہمارے لیے یہ بات عیاں ہے کہ عرب سلاطین کی آمد اور پاکستانی حکومتی مشینری کا ان کے آگے بچھنا، عرب عوام کی دولت پر قابض حکمرانوں کا پاکستان کے کشکول میں ٹھیکرے ڈالنا اور پاکستانی فوج کی خدمات ان ناجائز حکمرانوں کے دفاع کے لیے پیش کرنا درحقیقت ایک گریٹر گیم کا حصہ ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ عرب آمر حکمرانوں کا بلاک امریکہ کے دم سے قائم ہے اور جو ربط میاں صاحب اور عرب حکمرانوں میں قائم ہوتا نظر آرہا ہے، وہی ربط عرب حکمرانوں کا امریکہ کے ساتھ پچھلی کئی دہائیوں سے قائم ہے، یعنی یہاں میاں صاحب غلام اور عرب حکمران آقا تو وہاں عرب حکمران غلام اور امریکہ آقا ہے، لیکن مؤخر الذکر ربط میں امریکہ آقا تو ہے لیکن اپنے ڈالر ان کے کشکول میں نہیں ڈالتا بلکہ ان عرب حکمرانوں کی تجوریوں میں جمع عرب عوام کے معدنی ذخائر کی دولت سے الٹا اپنا خالی کشکول بھرتا رہتا ہے، یعنی عرب حکمران غلامی بھی کرتے ہیں اور اپنی ناجائز حکمرانی کی بقا کی قیمت بھی امریکہ کو دیتے ہیں۔
 
دنیا بھر کے مبصرین اس حقیقت کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ اپنی جارح جنگی پالیسیوں کی وجہ سے زوال کا شکار ہے اور امریکہ کے زوال کا مطلب یہ ہے کہ اس کی حلیف تمام قوتیں زمین بوس ہوجائیں گی، اور اس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی سعودی عرب ہے، اب سعودی حکمران اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے بے چین نظر آرہے ہیں۔ پاکستان کی طرف دورے اور ڈالرانہ فیاضی بھی اس مقصد کے لیے جاری ہے۔ امریکہ کی طرح سعودی عرب بھی مسلم ممالک کی طرف اپنی مکارانہ پالیسیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی ہی اس کے گلے کا پھندہ بنتی نظر آرہی ہے۔ ایک عرب مبصر Nicoler Nasser نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اب دو ہلالوںTwo Crescents سے خطرہ ہے۔ ہمیں یاد رہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ نے چند برس پہلے یہ ٹرم Shia Crescent یعنی شیعہ ہلال (پہلی رات کا چاند) کے نام سے استعمال کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ عرب خطے کو بحرین، ایران، عراق، شام اور لبنان میں بسنے والی شیعہ آبادی کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک بلاک کی صورت میں مضبوط ہونے سے خطرہ ہے۔
 
اب اس مبصر کے بقول سعودی عرب کو اپنے دائیں اور بائیں دونوں اطراف میں بننے والے "ہلال" سے خطرہ ہے۔ ان کے بقول ان کے دائیں جانب پہلے سے شیعہ ہلال ایک خطرے کی شکل میں موجود تھا، لیکن اب اوپر اور بائیں جانب سے بھی اخوان المسلمون سے منسلک عوامی آبادی سے خطرہ ہے۔ اگرچہ مصر میں اخوان کی حکومت قائم ہونے اور ترکی اور قطر کی مصر سے قربت کے بعد صدر مرسی کی حکومت ختم کر دی گئی اور اب وہاں سعودی عرب کی من پسند فوجی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے، لیکن مصر میں موجود عوام کا اخوان المسلمون کے ساتھ ربط اور اخوان کے لیے نرم گوشہ سعودی عرب کے لیے ایک خطرے کی علامت ہے، پھر اردن میں موجود عوام بھی اخوان سے قربت اور حکومت سے نفرت اور فلسطین میں حماس کی شکل میں اخوان کی شاخ، یہ سب عوامل مل کر سعودی عرب کے لیے دوسرا "ہلال" تشکیل دیتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کی حکومتیں تو سعودی عرب نواز ہیں لیکن ان حکومتوں کو عوامی تائید کا حاصل نہ ہونا، حکمرانوں اور بالخصوص آل سعود کے خلاف نفرت کا وہ خطرات ہیں جو کسی بھی وقت خطے کا نقشہ تبدیل کرسکتے ہیں۔

تیسرا خود سعودی عرب کو دو محاذوں پر داخلی خطرہ بھی ہے، جن میں ایک بحرین اور اس کے قرب میں موجود مشرقی علاقے الحاسہ، دہران، دمام، قطیف میں جاری شیعہ عوام کی بغاوت اور دوسری طرف یمنی بارڈر پر الحوثی قبائل کی موجودگی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی اپنی سرزمین پر موجود شیعہ قبائل میں بغاوت کے اثرات بھی عیاں ہیں۔ بحرین کے قرب میں موجود قطر کے ساتھ بھی سعودی تعلقات آج کل کشیدہ ہیں، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب داخلی اور خارجی دونوں خطرات سے گھرا ہوا ہے۔ پہلے ہلال کو توڑنے کے لیے جو پالیسی سعودی عرب نے تین سال پہلے وضع کی تھی اور اس کا بنیادی مورچہ شام قرار پایا تھا، وہ بری طرح ناکامی کا منہ دیکھ چکی، شام میں غیر ملکی دہشت گرد ہزیمت و پسپائی کا شکار ہیں، اور شامی فوجوں کا پلڑا ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ بھاری ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ شام میں اپنی ناتوانی کا اقرار کرچکا ہے لیکن سعودی عرب کسی طرح شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اب دنیا بھر سے مایوس ہونے کے بعد وہ پاکستان کا رُخ کیے کھڑا ہے۔ شہزادہ طلال بن ولید ایک مغربی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اقرار کرچکے ہیں کہ نواز شریف پاکستان میں سعودی عرب کا بندہ (غلام) ہے۔ لہٰذا پاکستان کوکے طور پر 1.5 ارب ڈالر مہیا کر دیئے گئے اور آنے والے دنوں میں ایسی کئی قسطیں آئیں گی، جواب میں پاکستان کی دو ڈویژن آرمی سعودی عرب کے مشرقی محاذ پر (شیعہ نشین علاقوں میں) اور مغربی محاذ (یمن کی سرحد کے ساتھ شیعہ آبادی) پر اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کیلئے تیار کھڑی ہے۔
(جاری ہے)

 پاکستان، امن کی خزاں میں عرب سلاطین کی بہار(2)

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه