اسی طرح خارجہ پالیسی کو ناکامی سے بچانے کے لیے بحرین میں بسنے والی شیعہ آبادی کے خلاف ریٹائرڈ فوجیوں کی خدمات سے لے کر بحرینی فورسز کی تربیت کے لیے انسٹرکٹر بھی درکار ہونگے۔ شام کے محاذ پر پاکستانی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ اب اسلحہ بھی درکار ہوگا۔

اس مقصد کے لیے اگر پاکستان میں ہونے والے واقعات کی کڑیوں کو ملانا شروع کریں تو نقشہ واضح ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ آج سے چند ماہ پہلے تک طالبان کا جارحانہ رویہ اظہر من الشمس تھا اور پاکستان آرمی کی طرف سے آپریشن کے لیے آمادگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، لیکن پھر حالات میں تبدیلی آنے لگی۔ جونہی سعودی شہزادوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا، اسی آن میں پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے رہنماؤں کی سعودی یاترا بھی شروع ہوگئی، کبھی ملک اسحاق، مولانا احمد لدھیانوی تو کبھی جمعیت علماء اسلام (ف) اور بالآخر مولانا سمیع الحق کی سعودی عرب کے دورے کے فوراً بعد اس بات کی یقین دہانی کہ طالبان کے ساتھ سیز فائر یقیناً ہوجائیگا اور مذاکرات بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

پھر ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں دیوبندی مسلک کے تمام علماء اور میاں صاحب کی حکومت ایک پچ پر نظر آنے لگے۔ البتہ عمران خان صاحب کی غیر مشروط حمایت پہلے سے موجود تھی۔ اب پاک فوج بھی خاموش ہے اور طالبان پرسکون نظر آتے ہیں۔ ہمار اخیال یہ ہے کہ طالبان کی سعودی امداد کو اس بات سے مشروط کیا گیا ہوگا کہ اب طالبان وقتی طور پر پاکستان میں کارروائیاں نہیں کریں گے اور ایک نئے محاذ شام جس پر وہ unofficially پہلے سے جا رہے تھے، اب کھل کھلا کر جائیں گے اور ان کو پاکستانی اسلحے سے لیس کیا جائے گا اور جواب میں پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے خلاف جو آپریشن ناگزیر ہوگیا ہے (اور اس کے لیے عوامی فضا بھی آمادہ ہے) موخر کر دیا جائے گا اور پاکستان میں دیوبند اور وہابی مسالک کو معاشرے میں اثر و رسوخ کے لیے مزید زمینہ مہیا کیا جائے گا۔ اب آپ خود ملاحظہ کرلیجئے کہ طالبان کی سرپستی کرنے والے مدارس کے سربراہان کس فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا، چینلز کے ٹاک شوز میں براجمان نظر آتے ہیں اور آج انہی علماء کو قوم کا محسن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو کل تک اس طالبانی جرثومے کے پشت پناہ اور فکری رہبر ہونے کی وجہ سے عام عوام کی نگاہ میں منفور تھے۔

اگر خدانخواستہ میاں صاحب نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو چند ٹھیکریوں کے عوض فروخت کر دیا تو شام میں صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے اور نتیجتاً پاکستان جو فصل "افغان جہاد" کی صورت میں کاٹ رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کل کو ایک اور زہریلی فصل "شامی جہاد" کاٹنی پڑے گی۔ ہمیں یہ یاد رہے کہ گندم بیج کر چاول کی فصل نہیں کاٹی جاسکتی جو گڑھا ہم نے افغانستان کے لیے کھودا تھا، آج اس میں ہم خود ہی گرے ہوئے ہیں، ابھی اس گڑھے سے ہم باہر نکلے نہیں کہ کل کے لیے ایک اور گڑھا کھودنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ ہمیں سعودی، بحرینی اور اماراتی ڈوبتی کشتی کو بچانے کی تگ و دو کرنے کی بجائے اپنے داخلی و خارجی خطرات سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ہماری خام خیالی ہے کہ جو خود ڈوب رہا ہو وہ کسی دوسرے کو سہارا دے سکتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سعودی ٹھیکریاں صرف ہمارے کشکول میں نہیں گر رہیں بلکہ چاروں طرف سے خطرے میں گھری آل سعود اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر ڈالروں کی برسات کر رہی ہے۔ لبنان میں موجود حزب اللہ کی تاثیر کم کرنے کے لیے حال ہی میں اس نے لبنان کی عیسائی اور سنی قیادت کو 3 ارب ڈالر فوجی ساز و سامان خریدنے کے لیے دیئے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ امداد لبنان کے سالانہ دفاعی بجٹ سے دوگنی ہے۔ مصر کے فوجی حکمرانوں کے کشکول میں اب تک 12 ارب ڈالر ڈالے جاچکے ہیں، جبکہ عمان کی حکومت کو دی جانے والی اقتصادی امداد بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ہمارے خیال میں پاکستانی حکومت کے لیے یہ ایک تاریخ ساز فیصلے کا وقت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ عرب شہزادوں کے بریف کیس سے نکلنے والے پھول کہیں ہمارے مستقبل کے لیے انگارے تو ثابت نہیں ہونگے۔ جو قومیں اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتیں، وہ ہمیشہ زوال کا شکار رہتی ہیں۔ 80ء کی دہائی میں آنے والی امداد اور جواب میں دہشت گردوں کی میزبانی کے فرائض نے آج ہمارے ملک کو اس مقام پر لاکر کھڑا کر دیا ہے کہ پاکستان اس کمبل سے تو جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن یہ کمبل اسے نہیں چھوڑتا۔ پاکستان کا چپہ چپہ ان خونخوار درندوں کے ہاتھوں لہو لہو ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان درندوں جن کی فکر اور روٹیوں کو ہم نے امپورٹ کیا تھا، آج ایکسپورٹ کرنے کی بجائے ان کو فی النار کریں، کیونکہ یہ ہماری خام خیالی ہوگی کہ ان کی ایکسپورٹ سے ہمارے ملک میں اس فکر اور نسل میں کوئی کمی آئے گی، بلکہ اب یہ فصل اتنی زیادہ تیار ہے کہ لاکھ ایکسپورٹ کرلیں، اس کا اسٹاک ختم نہیں ہوگا۔ ہمیں یاد رہے کہ اگر گندگی کے ڈھیر سے گندگی کہیں اور منتقل کر دی جائے تو نئی جگہ کے ساتھ پرانی جگہ پر بھی مچھر مکھیاں موجود رہتی ہیں، کیونکہ گندگی کے اثرات ختم نہیں ہوتے اور ان مچھروں اور مکھیوں سے جان چھڑانے کا طریقہ یہی ہے کہ یا تو گندگی کو آگ لگا دی جائے اور یا اس گندگی کو زمین میں دفن کر دیا جائے۔

ہمیں چاہیے کہ سب مل کر حکومت، افواج پاکستان اور عوام بحیثیت ایک اکائی ان کا مقابلہ کریں اور اپنے سماج میں موجود ان کے پشت پناہوں، فکری راہبروں اور غیر ملکی و ملکی فنانشل اسپانسروں کا ناطقہ بند کریں، پاکستانی افواج ان کے خلاف آپریشن کریں اور پاکستانی حکومت اور عوام افواج پاکستان کی پشت پر ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کا حوصلہ بڑھائیں اور ہم سب کو من حیث القوم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری خارجہ و داخلہ پالیسی اسلامی اُصولوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ عرب شہزادوں سے دوا کی اب ہمیں ضرورت نہیں، کیونکہ ماضی میں ان سے لی گئی دوا ہمارے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے۔ اگر پاکستانی حکومت کو اس بات کا ادراک ہوگیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ کرپشن کو ترک کرکے ملکی وسائل پر انحصار کرنا سیکھیں اور ملکی وقار کی قیمت لینے کی بجائے ادا کرنا سیکھیں تو میاں صاحب کو ملک کے روشن مستقبل کے لیے آج کچھ مشکل فیصلے کرنا ہونگے۔ وقتی مالی مفاد کو ترک کرکے پائیدار خوشحالی کے لیے اس مشروط امداد کو ٹھوکر مارنی ہوگی۔ لیکن نہیں معلوم کہ میاں صاحب ایسا کر پائیں گے یا پاکستانی قوم کو ایک دفعہ پھر امن کی خزاں میں دھکیل کر خود جدہ کے محلات میں بہار لوٹنے چلے جائیں گے۔

تحریر: سلمان رضا

پاکستان، امن کی خزاں میں عرب سلاطین کی بہار(1)

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه