مسلم ریاستوں میں خواہ ان کا کردار اسلامی نہ بھی ہو، مگر ان میں لفظ اقلیت کی بڑی ’’اسلامی اور فقہی باریکیوں" سے مزین تشریع کی جاتی ہے۔ آئین و قانون سازی میں اس ایک لفظ اور اس کے اطلاق کے حوالے سے نامور علمائے کرام اور گرامی قدر آئینی و قانونی ماہرین سے رائے لی جاتی ہے، کالم مگر ریاست اور ’’ذمی‘‘ کے حقوق و فرائض کے حوالے سے تو نہیں، البتہ فرقہ وارنہ کشیدگی اور اس کے بطن سے پھوٹنے والے فکری مغالطوں کی پردہ دری ضرور کر رہا ہے۔

دنیا بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑے منظم انداز میں پھیلائی جا رہی ہے، اور اس فرقہ وارانہ نسل کشی کا نشانہ شیعہ بن رہے ہیں۔ موضوعات کی ایک فہرست ہے، جس پر حاشیہ پیمائی کی جاسکتی ہے، لیکن ایک برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ نے رونگھٹے کھڑے کر دیئے۔ اس میں جہاں پاکستان میں منظم شیعہ نسل کشی کا ذکر ہے، وہاں لفظ اقلیت نے کئی ایک تکفیریوں کے لئے’’جنت روی‘‘ کا نیا در بھی وا کیا ہے۔ یہ برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس، یعنی اقلیتیوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ خیال رہے کہ ’’مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نامی تنظیم ہر سال پیپلز انڈر تھریٹ رپورٹ شائع کرتی ہے، جس میں ان ممالک کا ذکر کیا جاتا ہے اور درجہ بندی کی جاتی ہے، جہاں پر اقلیتوں کا یا تو بڑے پیمانے پر قتل کیا جا رہا ہو یا پھر نسل کشی۔ 2014ء کی رپورٹ میں اس تنظیم نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے، جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے 2014ء کی رپورٹ میں کہا ہے بین الاقوامی میڈیا کی زیادہ توجہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ حکومتی تصادم کی جانب ہے، اور اس وجہ سے پاکستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو لاحق خطرات پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی پاکستان میں اہلِ تشیع اور بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک لیٹیمر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد بڑا مسئلہ ہے اور ان دو ممالک میں حکومتیں اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2013ء میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر تھا جبکہ 2012ء میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا۔

شورش زدہ افغانستان بھی مسلسل کئی سال سے اس فہرست میں پہلے دس ممالک میں شامل رہا ہے۔ 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران طالبان شدت پسندوں نے اپنے حملوں میں انتہائی اضافہ کر دیا تھا۔ جیسا کہ افغانستان کو ممکنہ طور انتشار کا سامنا ہے، پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ کے درمیان نسلی کشیدگی کا خدشہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق برما نے جو حال میں پانچ دہائیوں تک فوج کی حکمرانی میں رہنے کے بعد جمہوریت کی طرف آیا ہے، نسلی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی، لیکن گذشتہ سال کے مقابلے وہ اس فہرست میں ساتویں نمبر سے آٹھویں پر آگیا ہے۔ برما کی حکومت نے مسلح نسلی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو بڑھایا، لیکن ملک کی شمالی ریاستوں کچین اور شان میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ دریں اثنا برما میں مسلم اقلیت بالخصوص روہنجیا مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز اور نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال بدھ بھکشوں کی طرف سے روہنجیا مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرپور اظہار رائے کی وجہ سے ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل 2005ء سے پیپلز انڈر تھریٹ کے نام سے سالانہ رپورٹ شائع کر رہی ہے۔‘‘

اس امر میں کلام نہیں کہ ایسی رپورٹس حقیقت کے قریب قریب ہوتی ہیں، جس میں اقلیتیوں اور ان کے حقوق کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کئے جاتے ہیں، بلاشبہ برما میں مسلم اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مگر اس رپورٹ میں تنظیم کے ڈائریکٹر نے جس طرح پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کی تصویر کشی کرکے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اقلیتیوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں اور پھر پاکستان کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا کہ شیعہ بھی اقلیت ہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس ایک لفظ سے ان شدت پسندوں اور تکفیریوں کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے، جو شیعہ کو کافر اور اقلیتی تصور کرتے ہیں، اور جن کا ایجنڈا یہ ہے کہ اقلیتیں یہ ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسیں۔ یہ امر بھی واقعی ہے کہ اگرچہ شیعہ پاکستان میں اکثریت میں نہیں، لیکن یہ اقلیت بھی نہیں ہیں۔ ممکن ہے تنظیم نے لفظ اقلیت کو تعداد میں کم بسنے والوں کے لیے استعمال کیا ہو، لیکن پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ملک ہے اور اسلامی مملکت میں اقلیت کا لفظ غیر مسلموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور ان غیر مسلموں کو ’’جذیہ‘‘ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔
 
اسی طرح جب کوئٹہ میں ہزارہ برادی کی نسل کشی سمیت ملک بھر میں شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ شیعہ چونکہ اقلیت ہیں، اس لیے اکثریت انھیں ٹارگٹ کر رہی ہے، بلکہ حقیقت تو یہی ہے کہ جن کے ہاتھ میں بندوق ہے اور جو انسانوں کے خون کے پیاسے ہیں، وہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقلیت میں ہیں، کیا دہشت گرد اکثریت میں ہیں؟ ہمیں یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے ایسی خبریں تواتر کے ساتھ گردش کرتی ہیں کہ وہاں کے ہندو اور دیگر غیر مسلم خاندانوں کو زبردستی شادیوں کے ذریعے مسلمان کیا جا رہا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ مجھے اس امر میں کلام نہیں کہ پاکستان میں شیعہ برادری دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، لیکن شیعہ پاکستان میں اقلیت نہیں بلکہ ’’اقلیت میں ہیں‘‘ یعنی 25 سے 30 فی صد ایسی مسلم کمیونٹی جو اس وقت دہشت گردوں اور تکفیریوں کے نشانے پر ہے اور جنھیں ریاست تحفظ فراہم کرنے میں اپنی آئینی و اخلاقی کردار ادا کرنے میں ہنوز کامیاب نہیں ہے۔ جہاں تک شیعہ نسل کشی کی بات ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ برطانوی تنظیم کو شام سے بحرین، بحرین سے لبنان اور لبنان سے ملائیشیا کی طرف بھی اک نگاہ ڈالنی چاہیے کہ وہاں شیعہ کمیونٹی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

اگرچہ بحرین میں شیعہ تعداد کے حوالے سے اقلیت میں نہیں بلکہ اکثریت میں ہیں، اس کے باوجود ایک اقلیت اپنی سفاکانہ ریاستی طاقت کے بل بوتے پر شیعہ کمیونٹی پر ستم ڈھا رہی ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ عالمی استعماری طاقتیں شیعیت سے خوفزدہ ہو کر فتویٰ کاری کی فیکٹریوں میں خام مال سپلائی کئے جا رہی ہیں اور اس خام مال سے ایسے ایسے فتوے جنم لے رہے ہیں جو بالآخر ’’جہاد النکاح‘‘ ایسے شرمناک جنسی جہاد کے ذریعے جنت کا راستہ تلاش کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔ پاکستان میں شیعہ اقلیت نہیں ہیں بلکہ اپنے اہلِ سنت بھائیوں (اصلی والے) کے بعد دوسری بڑی مسلم کمیونٹی ہیں۔ پاکستانی ریاست جو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے، اس میں اقلیت کا لفظ غیر مسلموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ پس منظر ہی اس کالم کا محرک بنا، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ برطانوی تنظیم نے پاکستان میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ شیعہ کمیونٹی کو بھی اقلیت لکھا ہے تو سمندر پار سے ریال و فتویٰ کو یکجا کرکے شیعہ نسل کشی کی مہم کو تیز کر دے۔

تحریر: طاہر یاسین طاہر

 

 

 

 

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه