کل کے اسمبلی اجلاس میں وزیر اعلی نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے جلسے میں جن سرکاری ملازمین نے شرکت کی ہے وہ برطرف ہونگے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ملازم تو ملازم ہوتا ہے اسے وزیر اعظم, .... اور وزیر اعلی کے خلاف بولنے کا حق نہیں ہے!!!!!
ابھی تک وزیر اعلی یہ نہیں سمجھ پائے کہ سرکار کسے کہتے ہیں اور سرکاری ملازم کسے کہا جاتا ہے!


اگر اساتذہ وزیر اعلی کے ملازم (غلام) ہیں اور اس کے گھر کا کھاتے ہیں تو بات بالکل صحیح ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں بلکہ ان لوگوں کو تو تنخواہ سرکار کے خزانے سے ملتی ہے اور سرکاری ملازم ہیں اور عوام بھی سرکار کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ حکمرانوں کی بلکہ صرف کرپٹ حکمرانوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس میں عوام غیر عوام کی تقسیم بندی صحیح نہیں
اگر کسی نے سرکاری جاب لی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنے ضمیر کو فروخت کیا ہو اور ہر کس و ناکس اور ہر اچھائی اور برائی کے مقابلے میں خاموش رہے!
یہ تو حضرت زھرا کے نور نظر امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن ابن سعد کی فوج سے مخاطب ہو کر فرمایا:(إن لم يكن لكم دين وكنتم لاتخافون المعاد.. فكونوا أحراراً في دنياكم) یعنی : اگر تمهارا کوئی دین نہیں اور قیامت سے نہیں ڈرتے ہو تو کم از کم اپنی دنیا میں تم آزاد رہو (کسی کے غلام مت بنو) یہ شاید اس لئے فرمایا تھا کہ ابن سعد کی فوج تماشائی بنی تھی اور حسین ابن علی علیہما السلام ذبح ہو رہا تھا تو آپ نے ان سے کہا کہ اپنی دنیا میں آزاد جیئو. کسے کے غلام مت بنو.
میرا مقصود ہرگز یہ نہیں کہ وزیر اعلی کو ابن سعد ملعون سے تشبیہ دوں کبھی نہیں لیکن اس حدیث سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کہیں ملازمت کرتا ہے تو کبھی اپنا وجدان اور ضمیر غلام نہیں بناتا بلکہ وہ تو اس آفس ٹایم پر اس کام کے انجام دینے کا ذمہ دار ہے نہ اینکہ 24 گھنٹے کسی کے تابعدار ہوں.
لہذا یہ بین الاقوامی قوانین میں بھی حق دیا گیا ہے کہ دھرنے اور مطالبات ہر کوئی کرسکتا ہے اور یہ اسکا حق ہے کوئی اسے نہیں روک سکتا.
دوسری بات پاکستا میں سرکاری ملازمت کرنے والے کو جو نام دیا ہے وہ ایک استعماری لفظ ہے (ملازمت, یا نوکری) یہ الفاظ کسی سوچی سمجھی سازش کے مطابق اس کام کیلئے منتخب کئے ہیں. وگرنہ تو حضرت علی علیہ السلام جہاں فرماتے ہیں : من علّمنی حرفاً فقد صیّرنی عبداً یعنی جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنایا. تو کیا مقام استاد جو کہ انبیا علیہم السلام کا مقام ہے استاد کسی شخص کے وہ بھی مہدی شاہ اور نواز شریف جیسوں کے غلام ہونگے!!
لہذا جی بی کے وزیر اعلی کو سوچ سمجھ کر اور اخلاقی اور قانونی دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیئے.
اور اگر نوکر ہی ہیں تو وزیر اعلی تو عوام کا سب سے بڑا نوکر ہے اور اسے چاہیئے کہ اپنے آقا کی خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار رہے. وزیر اعلی کو تو پھر غریب اور امیر سب کا نوکر ہونا چاہیئے جب 12 دنوں سے عوام روڑ پر تھی تو یہ نوکر کہاں تھا.اور اب تو گلگت بلتستان میں ایک چھوٹے سے مطالبے کو بھی دھرنے کے بغیر گوش شنوا نہیں ملتا. اور یہ تو اب ایک قانونی شکل اختیار کر رہا ہے کہ کوئی معقول بات بھی منوانی ہو تو دھرنا دو وگرنہ حکمران ان حقوق اور مطالبات کو ماننے کیلئے تیار نہیں.
تو وزیر اعلی کو ان اساتذہ اور عوام سے معافی طلب کرتے ہوئے مقام استاد کی توھین سے باز آنا چاھئیے وگرنہ وہ دن دور نہیں کہ استاتذہ کو بحال کرنے کیلئے دوبارہ سے ایک اور دھرنا سامنے آئے گا!!!!!

بقلم: مشتاق حسین حکیمی

 

 

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه