صدر پاکستان و چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان محبت ‘ اخوت اور خو بصورتی کے جھنڈے کو پوری دنیا میں لہرائے گا پوری دنیا گھو ما ہوں مگر گلگت بلتستان جیسا خو بصورت علاقہ پوری دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا ہے دنیا کے کسی خطے کو یہ اعزاز نصیب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان آنے والے تمام مندو بین کو گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت دیتا ہوں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نویںکانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ گلگت بلتستان میںماحول دوست سیاحت اور معدنیات اہم شعبے ہیں ان شعبوں کی ترقی کے لیے قراقرم یونیورسٹی اور نیوٹیک کے اشتراک سے نوجوانوں کو فنی لحاظ سے تیار کرنے کے لیے تربیتی ٹریننگ شروع کررہے ہیں ۔طلباء اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلباء مارکیٹ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کریں تاکہ تعلیم فائدہ مند ثابت ہوسکے ۔تعلیم کا مقصد روزگار کمانا نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنا اور معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے ہو۔ اس علم کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو انسانی خدمت اور ہمددری کے بنیاد پر نہ ہو۔ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو سمجھنا اوراچھے فیصلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ طلباء کو بروقت روزگار اور کار مند بنانے کے حوالے سے کا م ہورہاہے ۔اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کے تحت مصنوعی ذہانت کے منصوبہ پر کام شروع ہے جس کا آغاز کراچی سے کیاہے جبکہ دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں جاری ہے ۔کیونکہ موجودہ جدید دور میں دنیا مصنوعی زہانت کی طرف گامز ن ہے ۔ہمیں بھی دیگر اقوام کی طرح اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔جو قومیں زمانے کو جان کر اپنی زندگی نہیں گزارتی ہیں وہ زمانے سے پیچھے رہ جاتی ہیں ۔صدر مملکت نے کہاکہ ہم آنے والے دور کی تیاری کررہے ہیں ۔ملکی مسائل اپنی جگہ لیکن ان مسائل کے باوجو د اپنے نوجوان نسل کی مدد سے ہم ترقی اور جدید ٹیکنالوجی دوڑمیں دیگر اقوام کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں ۔آپ طلباء بھی اپنے آ پ کو اس حوالے سے تیار رکھیں ۔۔انہوںنے کہاکہ قوم قراقرم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات کے والدین کا مشکور ہے جنہوںنے اپنے بچوں کی فکری وتعلیمی تربیت کے ذریعے ملک وقوم کی خدمت کے لیے اپنی زمہ داریوں پر پورے اترے ہیں۔قراقرم یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے تین سب کیمپسز ہنزہ ،غذراور چلاس دیامر کیمپس بلتستان کیمپس جو بعد میں بلتستان یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہوا ہے ۔صدر و چانسلر قراقرم یونیورسٹی نے فارغ التحصیل طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی محنت ملک و قوم کے لیے اہمیت کی حامل ہے ۔ آپ کی یہ محنت معاشرے میں علوم کے دروازے کھولتی ہے ۔ہمیںاندازہ کرلینا چاہیے کہ قومیں دوبارہ زوال پذیر کیوں ہوتی ہیں۔دنیا میں سب سے پہلے قدیم طرز زندگی میں علم زبانی اور سینہ بہ سینہ آگے بڑھتا تھا۔اس کے بعد علم پرننٹگ کی طر ف آیا جبکہ دور جدید میں پرنٹنگ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا گیا۔وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے کہاکہ قراقرم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء تعلیمی سفر کے عظیم صحرا کو عبور کر چکے ہیں۔ شاندار مستقبل آپ کے سامنے کھڑا ہے ۔ اب سے کچھ دیر بعد آپ کی شبانہ روز محنت اور ذہنی مشقت کا صلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس کامیاب سفرکی تکمیل پر میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اب تک اس درسگاہ سے 12ہزار طلبہ و طالبات فارغ التحصیل ہوچکے ہیں ۔ جبکہ 7ہزار طلبہ اس وقت زیر تعلیم ہیں ۔ KIUکے قیام سے قبل 80فیصد نوجوان بالخصوص طالبات پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند تھے ۔ کیونکہ اس دور میں اکثر طلبہ محدود مالی وسائل کے سبب کراچی ، لاہور یا اسلام آباد کے تعلیمی اداروں تک رسائی سے محروم رہتے تھے ۔ آج قراقرم یونیورسٹی ان تمام طلبہ اور والدین کی امیدوں کے مطابق کام کررہی ہے۔یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے ۔جس کے تین کیمپس غذر ، ہنزہ اور چلاس میں کھل چکے ہیں۔جبکہ چند ایک اضلاع میںبھی بہت جلد کھل جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ KIU کا نصب العین محض اعلیٰ تعلیم کے حصول کو آسان اور یقینی بنانانہیں ہے بلکہ معیاری تعلیم کی آبیاری کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کی ذرخیزی میں اضافہ کرنا ہے ۔ جس کیلئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے طے شدہ نصاب اور معیار کی روشنی میں سالانہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ KIUکی افرادی قوت کی استعداد کار میں اضافے کیلئے انہیں مختلف تربیتی کورس سے گزرا جاتاہے ۔ تدریس کے شعبے سے منسلک افراد کو ملکی اور بین الا قوامی جامعات PhD, M Philکرنے کے مواقع بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔ KIUکا مستقبل شاندار ہے بہت جلد KIUکا شمار ملک کی صف ِ اول یونیورسٹیز میں ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ دنیا بھر کے تیزی سے بدلتے معاشی ، سماجی ، سیاسی اور موحولیاتی منظر نامے کو سامنے رکھ کر جامع تعلیمی منصوبہ بندی کی ہے ۔ تاکہ نئی نسل ملک اور علاقے کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کر سکے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ KIUمیں شعبہ انجینئرنگ کے کی بلڈنگ پر تعمیراتی کام زور وشور سے جاری ہے اگلے سال سے کلاسز ہے ۔ جس میں سول ، الیکٹریکل ، مکینکل اور مائننگ کے شعبوں میں تعلیم دی جائے گی ۔ تاکہ مستقبل قریب میں مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے درکار افرادی قو ت اس ادارے کی وساطت سے تیارہو سکے ۔ انہوںنے کہاکہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہنزہ کیمپس میں سیاحت و میزبانی کا شعبہ قائم کیا گیا ہے ۔ اور گزشتہ روز ایکوٹوریزم ،مونٹیزنگ اینڈ ہوسپیٹیلٹی منیجمنٹ پر پہلی عالمی کانفرنس بھی کرایا گیا۔جس میں صدر مملکت نے خصوصی طورپر شرکت کی۔وائس چانسلر نے طلباء کو مخاطب کرکے کہاکہ آج آپ کا دن ہے ۔ یہ پنڈال آپ کے اعزاز میں سجایا گیا ہے ۔ آپ کی دو ،چار سالہ محنت کا صلہ سند کی شکل میں ملنے والا ہے ۔ یہ سند جہاں آپ کی متوازن فکر اور اعلیٰ استعداد کا ر کا تصدیق نامہ ہے ۔ وہاں اس کے حصول کے بعد آپ قراقرم یونیورسٹی کے المونائی کی صف میں شامل ہونگے ۔ آپ اس ادارے کے پہچان ہیں ۔ ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ متنوع خیالات و افکار کے حامل معاشرے میں صبر و برداشت ، ایک دوسرے کے خیالات ، جذبات اور عقائد کا احترام ، مختلف نظریات کے ساتھ زندگی کی شاہراہ پر گامزن لوگوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کے علمبردار بنیں گے اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی ، قومی حتیٰ کہ بین الاقوامی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔ امید ہے کہ آپ انسانوں کے ہجوم میں گم نہیں ہونگے ۔ بلکہ دوسروں کو بھی زندگی کے روشن رخ سے آشنا کریں گے ۔کے آئی یو کے نویں کانووکیشن میں710 ڈگریاں اور 106گولڈ اور سلور میڈلزطلبہ و طالبات میں تقسیم کی گئیں۔ جبکہ15مختلف شعبہ جات کے 115طلبہ و طالبات نے گولڈ اور سلور میڈل حاصل کئے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کے مہمان خصوصی و صدر اسلامی جمہوریہ ڈاکٹر عارف علوی نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی نویںکانوکیشن میں طلباء و طالبات میں گولڈ میڈل تقسیم کئے۔ جبکہ سلور میڈل اور ڈگریاںگورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن ، وائس چانسلر پر وفیسر ڈاکٹر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے تقسیم کئے۔قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے کانو و کیشن میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے طلباء و طالبات اور مہمانوں کو واک تھرو گیٹس سے گزارا جاتا تھا اور کیمرہ یا موبائل فون لے جانے پر سختی سے پابندی عائد تھی کا نوو کیشن میں گورنر ‘ وزیر اعلی’صوبائی وزراء ‘ چیف سیکریٹری ‘ آئی جی پی ‘ سیکریٹریز سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی تقریب 11 بجے شروع ہوئی اور دو پہر ساڑھے بجے ختم ہوئی

 

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه