پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے کوئی بھی سکیم کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ جب کاغذوں میں بننا شروع ہوجاتا ہے تو وزیراعلیٰ کے حواری فیلڈ میں کام شروع کرتے ہیں یہ پیپرا کا قانون یہ نیب کا ادارہ،یہ اینٹی کرپشن کا ادارہ یہ سارے ہمیں ڈرامہ لگتے ہیں اس وزیراعلیٰ کو اسقدر چھوٹ دی گئی اوربے لگام چھوڑاگیا تو یہ گلگت بلتستان کا بھی سودا کریں گے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اور اپوزیشن ممبران سے الگ الگ ملاقاتوں

 وزیرقانون و تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے مرکزی انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں سے مذاکرات کے دوران کوئی وعدہ کیا ہے نہ کوئی تاریخ دی ہے انجمن تاجران اورعوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوںنے ازخود ہڑتال انیس نومبر تک ملتوی کرنے کی بات کی تو ہم نے صرف یہ کہا کہ 19نومبر تک ملتوی کرنے کی بجائے 23نومبر تک ملتوی کریں تاکہ اس حوالے سے قانون سازا سمبلی کے اجلاس میں بھی بحث ہوانہوںنے منگل کے روز کاچو امتیازحیدر کے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان میں شٹرڈائون ہڑتال کے دوران ہم نے تاجر برادری اورعوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں سے مذاکرات کئے اس دوران ان رہنمائوں نے کہاکہ 2012کے ایڈاپٹیشن ایکٹ کو واپس لینے تک ہم ہڑتال کریں گے ہم نے ان رہنمائوں کو صاف صاف بتادیا کہ ہم 2012کے ایڈاپٹیشن ایکٹ کے خاتمے کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں دوسرے دن دوبارہ مذاکرات ہوئے ان مذاکرات میں بھی ہم نے کوئی ضمانت اور تاریخ نہیں دی تاجروں کے نمائندوں نے خود کہا کہ وہ 19نومبر تک ہڑتال ملتوی کررہے ہیں تو ہم نے صرف اتنا کہا کہ جب آپ 19نومبر تک ملتوی کررہے ہیں تو تاریخ تھوڑاسا آگے کردیں تاکہ اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میںبھی بات ہوسکے ان مذاکرات میں ہم نے 2012کے ایکٹ کو ختم کرانے کا نہ کوئی وعدہ کیا ہے نہ کوئی بات کی ہے انہوںنے کہا کہ انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل کچھ لوگ نیک نیتی اورخلوص سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ٹیکس کے نام پر سیاست کرنے میں لگے ہوئے ہیں اگر یہ مسئلہ حل ہوا تو یہ لوگ ایک نیا مسئلہ لے کر آئیں گے۔انہوںنے کہا کہ یہ مسائل اس لئے پیدا ہورہے ہیں کہ ہمیں آئینی حقوق حاصل نہیں ہیں آئینی حقوق کا مسئلہ اخبارات میں سرخیاں لگوانے سے حل نہیں ہوگا اگر ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں میں خلوص ہے اور بدنیتی نہیں ہے تو یہ لوگ آئینی حقوق کا ایک نکاتی ایجنڈا لے کر سامنے آئیں سب سے پہلے میں ان کا ساتھ دونگا یہ لوگ آئینی حقوق کیلئے جہاں کہیں بھی دھرنا دیں گے ہم ان کے ساتھ ہونگے۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس 2012میں لگا ہے اور 2012میں مسلم لیگ (ن) کی نہیں پی پی کی حکومت تھی ٹیکس مسلم لیگ ن نے نہیں پی پی نے لگایا ہے مگر آج جن لوگوںنے ٹیکس لگایا ہے وہ شور مچارہے ہیں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری اورنگ زیب ایڈووکیٹ نے کہا کہ تاجر رہنما ایک مطالبہ پورا ہوتا ہے تو دوسرا مطالبہ سامنے لاتے ہیں انہوںنے کہا کہ انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کا شروع میںصرف ایک مطالبہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے تک تھا جب ہم نے ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرایا تو ان لوگوںنے 2012کے ایکٹ کے خاتمے کا مطالبہ سامنے رکھ دیا اور اس مطالبے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوںنے 2012کا ایکٹ منظور کرایا انہوںنے کہا کہ گزشتہ دنوں انجمن تاجران کے رہنمائوںسے مذاکرات کے دوران ہم نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے ان رہنمائوں نے خود کہا کہ وہ 19نومبر تک ہڑتال ملتوی کررہے ہیں تو ہم نے صرف اتنا کہا تھا کہ 23نومبر تک ملتوی کردیں تاکہ ہم اسمبلی اجلاس میں اس حوالے سے بات کرسکیں ہم نے اسمبلی میں ٹیکس کے حوالے سے قرارداد جمع کرادی ہے 22نومبر یا 23نومبر کو اس قرارداد پر تفصیلی بحث ہوگی انہوںنے کہا کہ ٹیکس کا مسئلہ صرف کسی ایک فرد کا نہیں ہم سب کا مسئلہ ہے اور ہم اس مسئلے کو نیک نیتی سے حل کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے 20نومبر کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے اور علاقے کی صورتحال سے آگاہ کیا ہے وزیر اعظم نے ٹیکسوں کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے وزیر قانون کو طلب کیا تھا ٹیکس کے مسئلے پر وزیراعلیٰ کی موجودگی میں بحث ہوگی اس سے قبل وقفہ سوالات کے دوران کاچو امتیاز نے کہاکہ علاقے میں ٹیکسوں کا نفاذ بڑا مسئلہ ہے ٹیکسوں کے خلاف پورے علاقے میں ہڑتال ہوئی تھی اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو مزید ہڑتال کاخطرہ ہے اورہڑتال سے سب سے زیادہ عوام متاثر ہونگے حکومتی ٹیم نے مذاکرات کے دوران23نومبر تک تاریخ دی ہے اس حوالے سے ایوان میں بحث ہونی چاہیے ۔نواز خان ناجی نے کہاکہ گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کا نفاذ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے نہیں بلکہ وفاق نے کیا ہے مگر عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے رہنمائوںنے اراکین اسمبلی پر الزام لگایا ہے کہ اسمبلی نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ٹیکس لگایا ہے اس پر بھی بات ہونی چاہیے ۔

قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی

گلگت( چیف رپورٹر)سپیکر قانون سا زاسمبلی حاجی فدامحمد ناشاد نے قانون ساز اسمبلی کا کورم پورا نہ ہونے پر اسمبلی اجلاس آج تک ملتوی کردی بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آدھا گھنٹے تاخیر سے تین بجے کے بجائے ساڑھے تین بجے شروع ہوا جس میں صرف پانچ اراکین اسمبلی شریک ہوئے تلاوت کے بعد سپیکر فدا محمد ناشادنے وزیرتعلیم ابراہیم ثنائی سے اسمبلی کورم کے حوالے سے پوچھا جس پر ابراہیم ثنائی اور وزیر خوراک محمد شفیق نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی جس کے بعد سپیکر نے اسمبلی کا اجلاس آج دن گیارہ بجے تک ملتوی کردیا بدھ کے روز اسمبلی اجلاس میں پانچ حکومتی اراکین وزیراتعلیم ابراہیم ثنائی ،وزیر خوراک محمد شفیق،وزیر ترقی نسواں ثوبیہ جبین مقدم ،رکن قانون سازاسمبلی رانی عتیقہ اور رکن قانون ساز اسمبلی شیرین اختر شریک ہوئے بدھ کے روز اجلاس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ اجلاس میں شریک ہونے کی وجہ سے ایوان میں نہ آسکے۔

 گلگت(خصوصی رپورٹ)پارلیمانی سیکرٹری برقیات میجر(ر) محمد امین نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ون مین شو چل رہاہے صوبائی وزیروں کی بات کوئی بھی نہیں سنتا ہے ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے ہم بے بس ہیں کچھ نہیں کرسکتے ہیں انہوں نے پیر کے روز ایک سوال کے جواب میں ایوان کوبتایا کہ میں واٹر اینڈ پاور کا پارلیمانی سیکرٹری ضرور ہوں مگر محکمے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے میرے اختیارات اپنی گاڑی میں ڈیزل ڈلوانے تک محدود ہیں اس کے علاوہ میرے پاس کسی بھی قسم کے کوئی اختیارات نہیں ہیں ممبران کے کسی سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ واٹر اینڈ پاور پی سی ون بنانے ٹینڈر کرا کے کمیشن کھانے تک محدود ہے اس محکمے کو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عوام لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں جبکہ تمام سرکاری آفیسروں کو بجلی کی سپیشل لائنیںدی گئی ہیں ان آفیسروں کے دفاتر اور گھروں میں بجلی کے ہیٹر اور گیزر لگے ہوئے ہیں حتیٰ کہ محکمے کے چوکیدار اور چپڑاسی کو بھی سپیشل لائنیں دی گئی ہیں انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں وی آئی پی کلچر ہے جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ اتنا ہی کرپٹ ہے تمام آفیسران اپنے اپنے مفادات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں یہ لوگ عوام سے مخلص نہیں ہیں انہیں عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے انہوںنے کہا کہ مجھے بجلی کی ذمہ داری سونپی جائے میں ایک ہفتے میں گلگت بلتستان سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر کے دکھادونگا۔اس موقع پر وزیر زراعت حاجی جانبازخان نے کہا کہ وزراء ایوان میں بات کرنے کی بجائے کابینہ اجلاس میں بات کریں صوبائی وزراء کابینہ میں اپنے مسائل حل کرانے کی بجائے ایوان میں اپوزیشن کا کردارادا کررہے ہیں ان وزراء کی موجودگی میں ایوان میں اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر یہ وزراء ابھی اپنے مسائل حل نہیں کراسکتے ہیں تو استعفیٰ دے کرگھر چلے جائیں ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے کہا کہ وزیرں اور پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے بے بسی کے اظہار سے حکومت کی ناکامی ظاہرہوتی ہے اس لئے جو وزراء اورپارلیمانی سیکرٹریز کام نہیں کرسکتے ہیں وہ ایک دوسرے سے سوالات کرنے کی بجائے استعفیٰ دیدیں۔اس سے قبل وقفہ سوالات کے دوران رانی عتیقہ غضنفر نے کہاکہ مسگر میں تین میگاواٹ پاورہائوس مکمل ہوا ہے ایک میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے ۔باقی دو میگاواٹ بجلی کب دی جائیگی جس پر سپیکر فدا محمد ناشاد نے کہا کہ وزیربرقیات حاجی اکبر تابان ایوان میں موجود نہیں ہیں ان کی غیر موجودگی میں برقیات کے پارلیمانی سیکرٹری میجر(ر) محمد امین اس سوا ل جواب دیں گے ۔

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه