گلگت بلتستان سے متعلق آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ آج ہونے کا قوی امکان ہے۔

  تسنیم خبررساں ادارے نے علاقائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کیلئے قائم آئینی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس آج متوقع ہے۔

 آج ہونے والے اجلاس میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرنے اور قومی اسمبلی، سینٹ اور دیگر تمام آئینی اداروں میں دیگر صوبوں کے طرز پر نمائندگی دینے یا نہ دینے سے متعلق حتمی فیصلہ کرکے سفارشات وزیر اعظم کو پیش کرے گی۔

 

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس بات کا قومی امکان ہے کہ اصلاحات کمیٹی گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ اور آئینی صوبہ تسلیم کرنے کی سفارش کرے گی جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح خود مختاری کے ساتھ آبادی کے تناسب سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی نمائندگی مل جائے گی۔

 واضح رہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حیثیت بالکل مختلف ہے،گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہے جبکہ کشمیر ایک علٰحیدہ ریاست ہے۔

گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر کو نہ تو صوبائی حیثیت دی جاسکتی ہے اور نہ ہی پارلیمان میں مستقل نمائندگی دی جاسکتی ہے تاہم اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ آزاد کشمیر کو بھی بطور مبصر قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دی جائے اور این ایف سی میں شامل کیا جائے۔

خیال رہے کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی کی تین سے چار سیٹیں مختص کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ خواتین کیلئے مخصوص نشست بھی دی جاسکتی ہے۔

زرائع نے مزید بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات کابینہ سے منظور ہونے کی صورت میں آئندہ عام انتخابات کے موقع پر گلگت بلتستان میں بھی قومی اسمبلی کی نشستوں کیلئے انتخابات ہو سکتے ہیں اور حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر نشستوں اور حلقوں کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے باعث گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کیلئے قائم اصلاحات کمیٹی تحلیل ہوچکی تھی جسے گذشتہ ہفتے دوبارہ نوٹیفائی کردیا گیا تھا۔

 

 

شکریہ: تسنیم نیوز

سکردو مختلف جگھوں پر سیلاب ڑگیول تباہی  حسین آباد سیاچن رو بند/ علامه شیخ محمد حسن جعفری موقع پر پهنچ گئے

روحانیت نیوز(ترجمان)بلتستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی ڑگیول تباہی  حسین آبادسیاچن روڈ بھی بند اهم پل مکمل تب ہوگئے ،علاقے کے چند گھروں کو بھی خالی کروایاانتظامیه,پولیس ریسکیو ٹیم اور علامه شیخ محمد حسن جعفری موقع پر پهنچ گئے ۔آبپاشی نظام درهم برهم پانی نے الگ راستے بنائے، پینے کا پانی میسر نهیں ،خواتین بچے اور مسافرین کو سخت پریشای اور مشکلات کا سامنا۔صدپاره اور رگه یول میں بھی سیلاب کی وجه سے تباه کاریاں.

 

غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی کے امیدوار جاوید حسین نے میدان مار لیا، 6888 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے تحریک اسلامی 6051 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔ پی پی پی جیالوں نے جشن منانا شروع کردیا

 

آسمانی بجلی گرنے کے باعث آنے والے سیلابی ریلے نے اسکردو گیول میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے جس کی وجہ سے ایک گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیاہے اور 50 سے زائد گھر تباہ ہو گئے ہیں۔

کمشنر بلتستان ڈویژن عاصم ایوب نے میڈٰیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ متاثرین مایوس نہ ہوں ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی، متاثرہ علاقے کی تعمیر نو اور آباد کاری کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

جمعرات کی شام گیول نالے میں آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بڑا ریلہ آبادی کی طرف امڈ آیا۔

سیلاب نے  چھنی گیول نامی گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ ریلے کی زد میں آکر پچاس سے زائد گھر بھی تباہ ہوگئے ہیں۔

 نالے میں دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی لوگ اپنے گھروں سے باہر نکلے اور بھاگ کر جانیں بچائیں، مگر ان کے گھر، باغات، درخت، کھڑی فصلیں، ان کی نظروں کے سامنے سیلابی ریلے میں دب گئے۔

 واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

 مقامی لوگوں نے فوری طور پر ریسکیو کرکے لوگوں کو بحفاظت گھروں سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دئیے۔

 رپورٹ کے مطابق کئی جانور لوگوں کی آنکھوں کے سامنے سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے، سیلابی ریلے کی وجہ سے علاقے کی مسجد کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری طرف سیلابی ریلے نے حسین آباد، برگے نالہ اور سدپارہ میں بھی تباہی مچادی ہے۔ کئی کنال اراضی، درخت اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں۔ حسین آباد میں ایک پل بھی سیلابی پانی کی زد میں آگیا ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر بلتستان ڈویژن عاصم ایوب نے کہا ہے کہ متاثرین مایوس نہ ہوں ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

 متاثرہ علاقے کی تعمیر نو اور آباد کاری کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسکردو ڈاکٹر فہد ممتاز نے کہا ہے کہ گیول میں سیلاب کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور میں خود بھی گلگت سے اپنا پروگرام مختصر کرکے اسکردو واپس آرہا ہوں۔

نقصانات کی پوری تفصیلات تیار کی جائیں گی اور متاثرین کو تمام سہولیات دی جائیں گی۔ فوری طور پر انہیں خوراک اور ٹینٹ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ضلع دیامر میں بھی طوفانی بارشوں اور خطرناک سیلاب نے تباہی مچا دی ہے،سیلاب کے سبب دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئےہیں۔

 سیلاب کی زد میں آکر سینکڑوں گھر، مساجد، سکولز، کھڑی فصلیں، باغات اور سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔

 ضلع بھر میں تقریباََ 2 سو سے زائد گھرانے مکمل طور پر متاثر ہوچکے ہیں۔ ضلع دیامر میں سب سے زیادہ سیلابی تباکاریاں تھک بابوسر میں ہوئی ہیں۔ تھک گھوٹوم، کھن، لوشی، کھومل اور کزت کے مقام پر موسلا دھار بارش کے بعد سیلاب آیا جس کی وجہ سے بابوسر کاغان روڈ مختلف مقامات پر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

 مقامی ذرائع کے مطابق تھک لوشی میں سیلابی ریلے نے متعدد مویشی خانوں میں موجود مال مویشی کو ہلاک کردیا ہے۔

 بابوسر کاغان روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافر تھک بابوسر میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

گلگت بلتستان میں اسسٹنٹ کمشنرز اور سیکشن آفیسرز سمیت دیگر انتظامی آفیسرز کی خالی اسامیوں پر ٹیسٹ کرانے کے لئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی درخواست کو عدالت عالیہ چیف کورٹ کے رجسٹرار یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ٹیسٹ کو روکنے کی رٹ پٹیشن پر حکم عدالت کے دو معزز ججز نے دیا ہے۔ جمعرات کے روز اسسٹنٹ رجسٹرار جس کے پاس رجسٹرار چیف کورٹ کی بھی اضافی ذمہ داری سونپ دی ہے انہوں نے آئندہ پیشی پر سکریٹری سروسز و دیگر کو حاضری یقینی بنانے کانوٹس جاری کردیا ہے۔ ایف پی ایس سی سے گلگت بلتستان میں اسسٹنٹ کمشنرز ، سیکشن آفیسرز اور دیگر اسامیوں کے مشتہر ہونے کے بعد اس میں رکھی گئی عمر کی حد کو وکیل محمد باقر ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا اور اس کے تحریری ٹیسٹ کو روکنے کے لئے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔ جس پر جمعرات کے روز فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے نمائندہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ضمیرالدین نے رجسٹرار آفیس عدالت عالیہ میں ایک درخواست گزاری جس میں ایف پی ایس سی نے تحریری امتحان کرانے کی استدعا کی۔ لیکن رجسٹرار نے یہ کہہ کر واپس کیا کہ ان اسامیوں پر ٹیسٹ کو روکنے کا حکم عدالت عالیہ کے ڈویثرنل پنچ پر مشتمل دو ججز جسٹس شکیل احمد اور جسٹس محمد عمر نے دیا ہے اور ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ بھی عدالت نے ہی دینا ہے۔ رٹ پٹیشن دائر کرنے والے وکیل محمد باقر نے کے پی این کو بتایا کہ میں نے رٹ پٹیشن میں محکمہ سروسز اور محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کو بھی فریق بنایا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے جس پر رجسٹرار آفس نے ایف پی ایس سی کی درخواست کو واپس کیا اور ان اسامیوں پر ٹیسٹ کو روکنے کیعدالت کے حکم کو برقرار رکھا۔ ایڈووکیٹ محمد باقر کے مطابق رجسٹرار آفیس نے محکمہ سروسز اور دیگر فریقین کو 9 جولائی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔

 

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه