تجزیہ: سید محمد رضوی 

سعودی عرب نے اپنے ہی اتحادی ملک قطر پر بزعم خود دہشتگردوں کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے اپنی سرحد بند کردی ہے جس کے نتیجے میں قطر کے ہوائی جہاز ایران کی فضا استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: ایک اطلاع کے مطابق سعودی اور امارات نے قطر کی سرحد پر فوج پہنچا دی ہے اور جنگی حالات کے پیش نظر قطر کی حکومت نے اپنے عوام سے پرعزم رہنے کی اپیل کی ہے۔

سعودی عرب نے قطر کے لئے اپنی پروازیں بند کرنے کے علاوہ اپنی فضائی حدود کو بھی اس ملک کے جہازوں کی پروازوں کے لئے بند کردیا ہے۔

بحرین اور امارات نے بھی قطر کے لئے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔

3  ہمسایہ ممالک کی طرف سے فضائی حدود بند کرنے کے بعد قطر نے اپنی روزانہ 150 سے زیادہ غیرملکی پروازوں کے لئے ایران کی فضا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

واضح رہے قطر کی قومی ائیر لائن دنیا کی بڑی فضائی کمپنییوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی روزانہ 150 کے قریب بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ دوحہ ائیرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی اقدامات کے بعد قطر نے ایران سے مدد کی اپیل کی ہے۔

ادھر ایران کی بندرگاہوں بندر عباس، بوشہر اور بندر لنگہ سے قطر کے لئے غذائی اشیاء اور روزمرہ ضروریات کے دیگر سامان برآمد کئے جارہے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان اقدامات کے بعد سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد کی دھجیاں بھی بکیھرنا شروع ہوگئی ہیں۔

مبصرین کے مطابق جلد ہی ترکی بھی اس تنازعے میں حصہ لے سکتا ہے، کیوںکہ قطر میں ترکی کا فوجی اڈہ ہے اور دونوں ملک اخوان المسلمین اور حماس کے حامی ہیں جنہیں ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران سعودی عرب نے دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔

ایران کی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک رابطے کے ذریعے قطر کے خلاف سعودی اور دیگر ممالک کے اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ہندستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات میں کمی نہیں لائیں گے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور قطر کا تنازعہ 34 ممالک کے اتحاد کے بکیھرنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ قطر شام میں سعودیہ کے ساتھ تکفیری قوتوں کی امداد میں پیش پیش رہا ہے۔

نیز جنوری 2016ء میں شہید آہت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی پھانسی کی وجہ سے رونما ہونے والے حالات کے بعد جب سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑے تھے تو قطر نے بھی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کردی تھی۔

بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اجتماعی استعفی دیں۔ شیخ حسن جعفری 

سکردو روڈ منصوبہ کو سازش کے تحت سبوتاژکیا جا رہا ہے 

روحانیت نیوز(ترجمان)نامور  عالم دین حجت الاسلام والمسلمین شیخ حسن جعفری نے بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلی حفظ الرحمن کو سکردو روڈ کی تعمیرکے لئے ایک ماہ کی مہلت دیں۔اگر ایک ماہ میں سکردو روڈ کی تعمیرشروع نہ هوئی تو اجتماعی استعفی پیش کریں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ سکردو روڈ کی تعمیر ممکن ہوتی ہے یا نہیں۔نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھون نے کہاموجودہ حکومت بلتستان کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے اور اس بڑے ریجن کو تعمیر ترقی کے میدان میں پھچے دھکیلا جا رہا ہے ۔ سکردو روڈ بنتا نظر نہیں آرہا یہ میں نہیں خود حکومتی پارلمانی سیکرٹری کہہ رہے ہیں۔

 

ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان حاجی رضوان علی نے کہاہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے کرپشن ،میرٹ کی خلا ف روزی کے سابقہ تمام ریکارڑ توڑ دئیے ہیں ۔اخباری بیانات میں میرٹ کی باتیں کر کے تھکتے نہیں ہے حقیقت میں تمام کام میرٹ کے خلا ف کررہے ہیں۔حکومتی افراد کی بیانات دیکھ کر ایسے لگ رہاہے کی سب کچھ ٹھیک ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سرکاری اداروں کی صورتحال خراب ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہاکہ عوامی مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہورہاہے ۔حکومتی زمہ دار سیر وتفریح کرنے اور عیاشیاں کرنے میں مصروف ہے ۔عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ الیکشن سے قبل عوام سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے اب جب عوامی مسائل کو حل کرنے کا وقت آیاہے تو عوام کو مشکلات کے بھنور میں چھوڑ کر غائب ہوگئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومتی زمہ داروں کو اقداما ت اٹھانے ہوں گے۔

 

سکردو(چیف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدرراجہ جلال حسین مقپون اورسابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ نے کہا ہے کہ گلگت سکردوروڈاوربلتستان یونیورسٹی کووفاقی بجٹ سے نکال دینے کے بعدصوبائی حکومت کے جھوٹ کاپول کھل گیا۔اب بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کومجرمانہ خاموشی توڑکر وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کے خلاف کھل کرمیدان میں آناچاہئے۔کل تک وزیراعلیٰ اوران کے حواری دعویٰ کررہے تھے کہ سکردوروڈاوربلتستان یونیورسٹی کی تعمیر ہرصورت میں ہوگی لیکن وفاقی بجٹ میں دونوں منصوبوں کے لئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔جس سے ثابت ہوگیا کہ صوبائی حکومت اب تک بلتستان کے عوام کے ساتھ مذاق کررہی تھی۔کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وفاقی بجٹ میں سکردوروڈاوربلتستان یونیورسٹی کے لئے کوئی رقم ہی نہیں رکھی گئی ہے تو یہ منصوبے کیسے بنیں گے۔حکومت جھوٹ بولنابندکرے۔اورہتھیارڈال دے۔وفاقی بجٹ نے سب کچھ عیاں کردیا ہے اب بلتستان کے عوام صوبائی حکومت کے جھوٹے دعوئوں پر یقین نہیں کریںگے۔ بلتستان کے تمام اراکین اسمبلی استعفے پیش کریں۔اورعوام کے پاس آئیں ورنہ انہیں اقتدارمیںرہنے نہیں دیں گے۔کیونکہ عوام نے سکردوروڈ کی تعمیر اوربلتستان یونیورسٹی کے قیام کے لئے انہیں مینڈیٹ دیاتھا۔جب دھاندلی کے ذریعے ہم سے سیٹیں چھین لی گئی ہیں تواب سکردوروڈکی تعمیر بھی حکومت کوکرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان کے عوام کوپرامن اور شریف ہونے کی سزائیں دیجارہی ہیں۔حفیظ الرحمن علاقائیت کوہوادے رہے ہیں۔بلتستان دشمنی اورمفادات کی جنگ میں وزیراعلیٰ بہت حدتک آگے نکل چکے ہیں۔ حفیظ بلتستان کے بارے میں صرف بیانات دیتے ہیں کام اپنے حلقے کے لئے کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن بتائیں کہ انہیں بلتستان سے ایسی کیادشمنی ہے کہ وہ اس علاقے کوتعمیروترقی کے میدان میں پیچھے دھکیلنے کے لئے ہرحربے استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلتستان کے عوام اب حفیظ کی ساری سازش بھانپ گئے ہیں اوروہ بلتستان دشمن وزیراعلیٰ کے خلاف میدان میں نکل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلتستان کو تعمیروترقی کے میدان میں کئی سال پیچھے دھکیل کرحفیظ الرحمن اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہم نے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ سکردوروڈکی تعمیر میں حفیظ رکاوٹ ہیں آج وفاقی بجٹ نے ہمارے موقف کوسچ ثابت کردیا

گلگت بلتستان کی وکلاء تنظیموں کو سپریم کورٹ میں آئینی حیثیت کے لئے پٹیشنز پروکالت کی اجازت

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.  Etaa

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه