اسلام آباد(جنرل رپورٹر+نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی مجوزہ قانون سازی کا مسودہ جمعہ کو طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق فراہم اورفنڈز بحال کئے جائیں گے۔

گلگت بلتستان کی حیثیت کے بارے میں قانون سازی میں وقت لگے گا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں قانون سازی کے بغیر مختص نہیں ہو سکتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے یہ یقینی بنایا جائے گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ میسر ہو۔ عدالت کا فوکس بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ کی فراہمی پر ہے۔پارلیمنٹ کو ہم ہدایات نہیں دے سکتے۔پارلیمنٹ کو صرف زیر غور لانے کا کہہ سکتے ہیں۔انشااللہ گلگت کے لوگوں کو یہ حق ضرور ملے گا۔گلگت بلتستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کر بتا یا کہ آئین میں گلگت بلتستان کا نام موجود ہے۔گلگت بلتستا ن کو فرسٹ کلاس شہری نہیں سمجھا جاتا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے وہی حقوق ہیں جو پاکستانی شہری کے ہیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو سیکنڈ کلاس شہری نہ کہیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو سیکنڈ کلاس شہری کہنے کے الفاظ واپس لیں۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا تو سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے معافی مانگ لی اور اپنے الفاظ واپس لے لیے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ الفاظ کے چناو میں احتیاط کریں۔ پاکستان کو شرمندہ نہ کریں۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ موحود ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے شہری ہیں۔گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ کیا چاہتے ہیں عدالت کیا حکم کرے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستانی شہری تسلیم کیاتو پھر قانون سازی میں کردار دیا جاے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت بھی یہی کہہ رہی ہے۔یہ بتائیں بہتری کی ضرورت کہاں ہے۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا ججز کو آپس میں مشاورت کیلئے وکیل سے اجازت لینا پڑے گی۔یہ بڑا حساس کیس ہے اس لئے عدالت احتیاط اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔وفاق نے گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا فیصلہ سازی کرنی ہے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو قانون سازی میں حق ملنا چاہئے۔چیف جسٹس نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نشستیں ملیں۔یہ حق آئینی ترمیم کے بغیر کیسے مل سکتا ہے۔کیا ہم مقننہ کو قانون سازی کا کہہ سکتے ہیں۔حکومت تو قانون سازی کرنے کیلئے تیار ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتاہے۔دوران سماعت عدالتی معاون اعتزاز احسن نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق اور تحفظ میسر ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے لوگ ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے بطور ریاست زیادہ سے زیادہ حقوق گلگت بلتستان کو ملنے چاہیں۔انڈیا نے گلگت بلتستان کو اپنے علاقے میں شامل کر کے غلط کیا۔ عالمی اور ڈومیسٹک ایشوز کو چھوئے بغیر گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان میں پانی گلگت بلتستان سے آتا ہے۔حکومت گلگت بلتستان کے فنڈز بحال کرنا چاہتی ہے۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملنے چاہئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیس میں غیر ذمہ دارانہ دلائل یا بات سے ریاست کے مفاد کو نقصان ہوگا۔کیا حکومت دو دنوں میں تیار کیا گیا ڈرافٹ تیار کر سکتی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تو بہت سی تبدیلیاں ہوں گی۔عدالت ایک ہفتے کی مہلت دے دے تو ڈروفٹ دینے پر اعتراض نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے اگر کوئی مشترکہ ڈرافٹ بن کر آ جائے تو اسکو حکم کا حصہ بنا دیں گے۔جمعہ کو ڈرافٹ لے آئیں۔ اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو بعد میں بھی کر سکتے ہیں۔عدالت نے حکومت کو گلگت بلتستان پر تیار کردہ ڈرافٹ پیش کرنے کی ہدایات کر تے ہو ئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه