سکردو() جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید احمد رضوی نے جی بی آرڈر 2018 کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کو صدارتی احکامات کے ذریعے چلانے کے بجائے پاکستان کا حصہ تسلیم کیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد کے زیر انتخام قبائلی علاقے (فاٹا) کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جاسکتاہے تو گلگت بلتستان کو یہ آئینی حق کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارا پاکستان سے تعلق زمینی اور روحانی ہے پاکستان ہماری منزل ہے حکومت ستر سالوں سے محروم گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیون کا ازالہ کریں۔

گلگت بلتستان کے عوام نے بزور بازو اپنے علاقے کو فتح کرکے پاکستان کے حوالے کردیا اگر گلگت بلتستان کے عوام یہ کارنامہ سرانجام نہیں دیتے تو آج پاکستان کا بارڈر چین کے بجائے بشام میں ہوتا پھر نہ سی پیک ہوتا اور نہ ہی کوئی معاشی ترقی ہوتی ۔

گوادر سی پیک کا اختتامی پوائنٹ ہے جبکہ گلگت بلتستان انٹری پوائنٹ ہے اس تناظر میں گلگت بلتستان کو گوادر سے زیادہ حصہ اور ترقیاتی منصوبے دیئے جائے۔

انھوں نے کہا گلگت بلتستان کی وسیع تر مفاد کے خاطر عوام کا میدان میں حاضر ہونا قابل تحسین ہے،جامعہ روحانیت بلتستان عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلی قانون اور آئینی حدبندیوں کی خلاف ورزی کرسکتاہے لیکن گلگت بلتستان کی باشعور عوام اس کا جواب قانون اور آئینی طریقے سے دینگے اور احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور ریاستی دھشت گردی قابل مذمت ہے۔

انھوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے اس سے ہمیں کوئی روک نہیں سکتا لیکن عوام ہوشیار رہیں کہ کہیں ہمارا پرامن احتجاج اور جلوس دشمن اپنے نا پاک مقاصد کے لئے استعمال نہ کرے۔

Share this post

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn

Choose Language

جامعه روحانیت کی خبریں

حسینیہ بلتستانیہ قم

مشاہدات

آج609
کل1185
اس هفته609
اس ماه32906
ٹوٹل مشاهدات656475

11
Online

پیر, 25 جون 2018 14:01
.Copyright © jrbpk Institute. All rights reserved
Designed by Islamic Medias Software Team