comintour.net
stroidom-shop.ru
obystroy.com

آسمان ولایت کے ساتویں ستارے حضرت موسی کاظم علیہ السلام 7 صفر 128ھ کو مقام ابواء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تھے اور مادر گرامی حمیدہ تھیں۔

ان کا تعلق ایک بافضیلت غیر عرب بزرگ خاندان سے تھا۔ امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا " حمیدہ خالص سونے کی طرح پاک ہیں ہمارے اوپر اور ہمارے بعد والے امام  پر یہ خدا کا لطف ہے کہ ان کے قدموں کو اس نے ہمارے گھر تک پہونچایا "۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی ولادت کی خبر معلوم ہونے کے بعد فرمایا میرے بعد امام  اور خداوند کی بہتریں مخلوق نے ولادت پائی۔ اس نومولود کے لئے جس نام کا انتخاب کیا گیا وہ موسی تھا آپ کے مشہور القاب میں کاظم، عبد صالح، باب الحوائج اور آپ کی سب سے مشہور کنیت ابوالحسن ہے۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے بچپن ہی سے باپ کی نگرانی اور خاص تربیت کے تحت اور مہربان ماں کی نوازشوں کے سایہ میں مراحل کمال و رشد طے کئے اپنے زندگی کے بیس سال آپ نے اپنے پدر عالی قدر کی بافیض خدمت اور حیات کی تعمیر کرنے والے دبستان فکر میں گزارے اور تمام مدت میں تمام جگوں پر اپنے والد بزرگوار کے بلند اور بیش قیمت کاموں سے الھام حاصل کرتے اور ان کے علوم و دانش سے بہرہ ور ہوتے رہے۔

ابن حجر عسقلانی اہل سنت کے ایک بڑے دانش مند اور محدث لکھتے ہیں کہ موسی کاظم ( ع ) اپنے باپ کے علوم کے وارث اور صاحب فضل و کمال تھے آپ نے جب بہت زیادہ بردباری اور درگزر کا اظہار کیا تو کاظم کا لقب ملا۔ آپ کے زمانے میں معارف علمی اور علم و بخشش میں کوئی بھی شخص آپ کے پایہ کو نہیں پہونچ سکا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آپ کے بڑے بیٹے اسماعیل کو خاندان کا چشم و چراغ شمار جانے کی بنا پر آئندہ کے لئے اپنا پیشوا اور امام سمجھتے تھے لیکن جوانی میں ہی اسماعیل کی موت نے انتظار کرنے والوں کو ناامید کر دیا۔ 

چھٹے امام ( ع ) نے بھی ان کی موت کی خبر کا اعلان کیا یہاں تک کہ بزرگان قوم کو ان کا جنازہ بھی دکھایا تاکہ ( ان کی امامت والے ) عقیدہ کی جڑوں کو خشک کر دیں۔ علی ابن جعفر نقل کرتے ہیں کہ میرے والد امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت سے کہا ’’ میرے بیٹے موسیٰ کے بارے میں میری وصیت قبول کرو اس لئے کہ میرے تمام بیٹوں اور ان لوگوں سے جو میرے بعد میری یادگار رہ جائیں گے، برتر ہیں اور میرے بعد میرے جانشین اور خدا کے تمام بندوں پر اس کی حجت ہیں "۔

موسی بن جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد کی رحلت کے بعد 148 میں 20 سال کی عمر میں اسلامی معاشرہ کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی آپ اپنے امامت کے زمانہ میں جو 25 سال کی طویل مدت پر محیط ہے۔ اپنے عہد کے خلفاء منصور دوانقی، مھدی، ہادی اور ہارون الرشید کے معاصر رہے۔ اپنے والد بزرگوار کی رحلت کے بعد امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس عظیم دانشکدہ کی علمی اور فکری رہبری کو اپنے ذمہ لیا جس کی بنیاد مدینہ میں پڑ چکی تھی اور آپ  نے بہت سے محدثین، مفسرین، فقہا، متکلمین اور تمام اسلامی دانشمندوں کی اپنے تربیتی مکتب فکر میں پرورش کی اور وسیع فقہ اسلامی کو اپنے جدید خیالات و نظریات سے غنی اور مالا مال کر دیا۔ 

امامؑ  کے شاگردوں کی روحانی عظمت اور ان کی علمی اور مجاہدانہ شخصیت نے مخالفین، خصوصا حکومت وقت کی آنکھوں کو خیرہ کردیا۔ ان کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ یہ کہیں اپنی اس حیثیت و محبوبیت کی بنا پر جو لوگوں کے درمیان ہے انقلاب برپا نہ کر دیں اس لئے وہ ہمیشہ ایسے افراد کو معین کرتے رہتے تھے جو ان کی کارکردگی کی نگرانی کر تے رہیں۔ خدا کی خصوصی معرفت آپ کو مزید عبادت اور پروردگار سے عاشقانہ راز و نیاز کی طرف کھینچتی تھی اس وجہ سے اجتماعی کاموں سے فراغت کے بعد آپ عبادت میں اپنا وقت گزارتے تھے۔

جب ہارون کے حکم سے آپ کو زندان میں ڈال دیا گیا تو آپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا پروردگارا ’’ مدتوں سے میں یہ چاہتا تھا کہ تو اپنے عبادت کے لئے مجھے فرصت دے دے اب میری خواہش پوری ہوگئی لہذا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔ جب آپ قید خانے میں تھے اس وقت جب کبھی ہارون کوٹھے کے اوپر سے زندان کی طرف دیکھتا تھا تو یہ دیکھتا تھا کہ لباس کی طرح کوئی چیز زندان کے ایک گوشے میں پڑی ہے ایک بار اس نے پوچھ لیا کہ یہ کس کا لباس ہے؟ ربیع نے کہا یہ لباس نہیں ہے یہ موسی ابن جعفر ہیں جو زیادہ تر سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں۔ ہارون نے کہا سچ ہے وہ بنی ہاشم کے بڑے عبادت گزار میں سے ہیں۔ ربیع نے پوچھا تو پھر اتنی سختی کیوں کرتا ہے؟ ہارون نے کہا افسوس اس کے سواء کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ 

امام کاظم علیہ السلام اس دعا کو بہت پڑتے تھے ’’ اللهم انی اسئلک الراحۃ عند الموت والعفو عندالحساب: خدایا میں تجھ سے موت کے وقت آرام اور حساب کے وقت بخشش کا طلبگار ہوں امام موسی کاظم علیہ السلام کا درگزر اور ان کی بردباری بے نظیر اور دوسروں کے لئے نمونہ عمل تھی۔ مدینہ میں ایک شخص تھا وہ ہمیشہ امام ؑکو دشنام اور توہین کے ذریعے تکلیف پہنچاتا تھا امام کے کچھ صحابیوں نے یہ پیشکش کی اس کو درمیان سے ہٹا دیا جائے۔ امام ؑنے ان لوگوں کو اس کام سے منع کیا پھر اس کے بعد اس کے گھر کا پتہ پوچھ کر جو مدینہ سے باہر ایک کھیت میں تھا آپ تشریف لے گئے اور اسی حالت میں کہ آپ چوپائے پر سوار تھے اس کے کھیت میں داخل ہوئے وہ شخص چلانے لگا کہ ہمارے کھیت کو پامال نہ کریں جب آپ اس کے پاس پہنچے تو سواری سے اترنے کے بعد اس سے ہنس کر پوچھا " اس زراعت کے لئے کتنے پیسے تم نے خرچ کئے ہیں؟ اس نے کہا سو دینار آپ نے فرمایا کتنا فائدہ کی امید ہے اس نے جواب دیا دو سو دینار آپ  نے اس کو تین سو دینار مرحمت فرمائے اور کہا زراعت بھی تیری ہے۔ جس کی امید لگائے تھے خدا تجھ کو اتنا ہی دے گا، وہ شخص اٹھا اور اس نے امام موسی کاظم ( ع ) کے سر کو بوسہ دیا اور اس نے اپنے گناہوں سے در گزر کرنے کی خواہش ظاہر کی امام ( ع ) مسکرائے اور پلٹ گئے۔ 

جود و کرم، ساتویں امام ( ع ) کی صفتوں میں ایک بڑی نمایاں صفت تھی آپ  اپنے مالی امکانات کو جو کھیتی باڑی کے ذریعہ آپ نے حاصل کئے تھے اس طرح ضرورت مندوں کے حوالہ کر دیتے تھے کہ مدینہ میں ضرب المثل کے طور پر لوگ آپس میں کہا کرتے تھے ’’ اس شخص پر تعجب ہے جس کے پاس موسی ابن جعفر  کی بخشش و عطا کی تھیلی پہنچ چکی لیکن وہ پھر بھی تنگ دستی کا اظہار کرتے "۔ آپ کی سخاوت و کرم کے بارے میں ابن صباغ مالکی تحریر فرماتے ہیں " موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے لوگوں میں عابد ترین، دانا ترین سب سے زیادہ اور پاک نفس شخص تھے آپ پیسے اور کھانے پینے کا سامان مدینہ کے ستم رسیدہ افراد تک پہونچاتے اور کسی خبر بھی نہیں ہوتی تھی کہ یہ چیزیں کہاں سے آئی ہیں مگر آپ کی رحلت کے بعد پتہ چلا"۔

امام موسی کاظم علیہ السلام ایک دفعہ  کریہ النظر شخص کے پاس سے گزرے آپ  نے اس کو سلام کیا اور باتیں کیں پھر حاجت پوری کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار فرمایا آپ سے کہا گیا کہ اے فرزند رسول کیا آپ ایسے شخص کے پاس بیٹھتے ہیں اور اس کی حاجتیں پوچھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا " وہ خدا کے بندوں میں ایک بندہ ہے اور خدا کی کتاب میں وہ ایک بھائی اور خدا کے شہروں میں وہ ہمسایہ ہے حضرت آدم جو بہتر پدر ہیں اس کے باپ ہیں اور آئین اسلام جو تمام دینوں میں بہتر دین ہے اس نے ہم کو اور اس کو باہم ربط دیا ہے "۔

ہارون کے جبر کے مقابل امام موسی کاظم علیہ السلام کے رویہ اس کو اس بات پر اکسایا کہ وہ امام کو نظر بند کرے اور لوگوں سے رابطہ کو منقطع کردے اس وجہ سے اس نے امام  کو گرفتار کیا اور زندان بھیج دیا لیکن مدینے سے باہر لے جانے کے لئے ہارون مجبور ہو کہ وہ کجاوے بنائے جائیں ور ہر کجاوہ کو مدینہ کے الگ الگ دروازوں سے باہر نکالا جائے اور ہر ایک ساتھ کچھ شہ سوار فوجی چلیں۔ 

حضرت موسی کاظم علیہ السلام پہلے بصرہ کے زندان میں لے جائے گئے اور ایک سال کے بعد ہارون کے حکم سے بغداد منتقل کر دیے گئے اور کسی کو ملاقات کی اجازت دئیے بغیر کئی سال تک قید میں رکھے گئے۔ آخرکار 25 رجب 183 ھ کو سندی بن شاہک کے قید خانے میں ہارون کے حکم سے زہر دیا گیا، تین دن کے بعد شھید ہوئے اور بغداد میں قریش کے مقبرہ میں سپرد لحد کئے گئے یوں آسمان ولایت کے اس درخشان ستارے کو بھی گل کردیا اور دنیا ایک عظیم دانشور و مفکر و سکالر اور عابدسے محروم ہوگئے۔ لیکن اس امام کے در سے جو بھی کوئی چیز مانگے امام اسے عطا فرماتا ہے اور خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا چونکہ آپؑ  باب الحوائج ہیں۔ 

( درود وسلام ہو آپ پر اے خدا کے محبوب )

 

Share this post

Submit to DeliciousSubmit to DiggSubmit to FacebookSubmit to Google PlusSubmit to StumbleuponSubmit to TechnoratiSubmit to TwitterSubmit to LinkedIn

Choose Language

جامعه روحانیت کی خبریں

حسینیہ بلتستانیہ قم

مشاہدات

آج356
کل1646
اس هفته5479
اس ماه27612
ٹوٹل مشاهدات593229

16
Online

جمعہ, 27 اپریل 2018 05:54
.Copyright © jrbpk Institute. All rights reserved
Designed by Islamic Medias Software Team