بچے کسی بھی ملک، شہر اور علاقے کے تابناک مستقبل کی امید ہوا کرتے ہیں، عقلمند لوگ سب سے زیادہ اپنے بچوں کو اہمیت دیتے ہیں، وہ انہیں اپنا حقیقی سرمایہ سمجھتے ہیں، ان کی تعلیم اور تربیت کا انتظام کرتے ہیں،ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے بچے تعلیمی میدان میں نام کمائیں اور جلدی تعلیمی مراحل طے کرکے اپنے شہر یا علاقے کی ترقی کے لئے کردار ادا کریں-


 مگر کھرمنگ کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی معیار ناقص ہونے کی وجہ سے بہت کم بچے اپنے تعلیمی مراحل طے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں- سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے پرائمری حد تعلیمی درسگاہ ہر جگہ بنی ہوئی ہے اور ان میں ٹیچر سمیت محدود وسائل ولوازمات بھی گورنمنٹ فراہم کررکھی ہوتی ہے، اس کے باوجود ان اسکولوں میں تعلیمی معیار ناقص کیوں ہے؟

اس کا سرسری اور سادہ جواب یہ ہے کہ بے شک تقریبا تمام علاقوں میں سکول کے نام سے گورنمنٹ کی چھوٹی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور ان میں بچوں کو پڑھانے کے لئیے گورنمنٹ کچھ افراد کو باقاعدہ تنخواہ بھی دیتی ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں تعلیم یافتہ، قابلیت اور صلاحیت کے حامل اساتذہ، انگشت شمار  دکھائی دیتے ہیں، اکثر سیاسی اثر ورسوخ اور رشوت وسفارش کے بل بوتے پر استاد بنے ہوئے ہوتے ہیں جو سکولوں میں فقط حاضری دینے جاتے ہیں، وہ بچوں پر ڈنڈا مارنے یا انہیں مرغا بنوانے جیسی قبیح حرکتوں کا سہارا لیتے ہوئے ٹائم پاس کرتے رہتے ہیں، جس سے پسماندہ علاقوں کے بچوں کی قیمتی عمر ضائع ہونے کے ساتھ ان کا مستقل بھی خراب ہو جاتا ہے، یوں کچھ مدت کے بعد بچے تعلیم کو خیر باد کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے علاقوں کے مکینوں کے لیے ترقی خواب بن کر رہ جاتا ہے، چونکہ ترقی اور تعلیم لازم و ملزوم ہے، ترقی کا سورج وہاں طلوع ہوتا ہے جہاں تعلیم کی روشنی ہو-

 کھرمنگ میں حالیہ اساتذہ کا تبادلہ ہوا، جس سے کچھ مثبت تبدیلیاں یقینا رونما ہوں گی، لیکن ہماری نظر میں صرف اساتذہ کا تبادلہ کرنا ہرگز کافی نہیں، بلکہ ذیلی چار تجاویز پر عمل کرنا ضروری ہے

پہلی تجویز یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ دار افراد اساتذہ کی علمی قابلیت بھی چیک کریں اور دیکھیں کہ ان میں بچوں کو پڑھانے کی صلاحیت کتنی ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی تشخیص کرسکیں، فقط تعلیمی اسناد پر اعتماد کرکے افراد کو بچوں پر مسلط کرنا سراسر ظلم ہے، چونکہ تعلیمی ڈگری رکھنے سے ضروری نہیں ان میں ٹیچنگ کی مہارت بھی موجود ہو-

 دوسری تجویز یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے مسئولین ایک نگران کمیٹی تشکیل دی جائے، جو وقتا فوقتاً اسکولوں کا دورہ کرکے قریب سے تعلیمی صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ کرتی رہے

تیسری تجویز یہ ہے کہ اساتذہ کے اندر احساس مسئولیت کو پروان چڑھانے کے لیے ذمہ دار ان ٹھوس نظام وضع کریں، چونکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب تک اساتذہ احساس مسئولیت کا خوگر نہیں بنتے وہ کماحقہ بچوں کی تعلیم وتربیت پر عمیق توجہ نہیں دیں گے-

چوتھی تجویز یہ ہے کہ وہ اساتذہ کو پیار ومحبت شفقت اور مہربانی سے تدریس کرنے کو الزامی قرار دیں، چونکہ محبت بچوں کے شاداب ذہنوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لئے کیمیائی نسخہ کی حیثیت رکھتی ہے، اگراستاد دوستانہ ہو گا اور طلباء کے لیے ایک بہترین معاون ہو گا تو طلباء اس سے اپنے مسائل بھی شیر کریں گے اور کوئی بات کرنے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ دوسری طرف اگر استاد اپنا رویہ دوستانہ نہیں رکھے گا تو کلاس میں موجود طلباء بھی ڈرے رہیں گے اور یکسوئی کے ساتھ  پڑھ بھی نہیں سکیں گے اور نہ ہی تعلیمی مسائل موزوں طریقے سے استاد کے ساتھ شئیر کر سکیں گے۔ بہرحال یہ طلباء کا حق بنتا ہے کہ ان کو ایک اچھا تعلیمی ماحول دیا جائے اور انہیں دوستانہ ماحول میں پڑھایا جائے کیونکہ تعلیم بہرحال ان کے مستقبل کی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ کامیابی کے زینے طے کے سکتے ہیں۔ 

جن کے کردار سے آتی ہو

صداقت کی مہک

 ان کی تدریس سے پتھر بھی

 پگھل سکتے ہیں

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
0 Characters
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه