مات الدین یا عاش الدین ؟

(دین زندہ ہے یامرگیا ہے؟)

 امیرالمؤمنین علیہ السلام نقل کرتے ہیں:

 حضرت داؤد علیہ السلام (بھترین قاضی تھے) جب کسی جگہے سے گزر رہے تھے تو چند بچوں  کو کھیلتے ہوئے دیکھا،ان میں سے

 بہت سارے بچے ایک بچے کو مات الدین (دین مرگیا) کے نام سے پکار رہے تھے،

 حضرت یہ نام سن کرحیران ھوئے اور اس بچے سے کہا تمھارا کیانام ہے ؟

 جواب دیا ، مات الدین،

 فرمایا یہ کس نے رکھا ہے ؟

 کہا ماں نے،

 

 اسکے ماں کو طلب کیا اور فرمایا تمھارے اس بیٹے کا کیا نام ہے ؟

 جواب دیا مات الدین،

اور کہا  یہ نام میں نے اپنے شوھر کی وصیت کے مطابق رکھا ہے،

 میرا شوھر اپنے ساتھیوں  کے ساتھ تجارت پہ گئے تھے،

 لیکن واپس نہیں آئیں،

راستے میں انکا انتقال ھوااور انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیغام بھیجتے ہوئے یہی وصیت کی تھی کہ میری  بیوی حاملہ ہے،

اس سے جو بچہ ھوگا  اسکا نام مات الدین رکھاجائے،

 حضرت سمجھ گئے،

 فرمایا کون کون ساتھ سفر میں تھا معلوم ہے ؟

 جواب دیا ہاں، نشاندھی کرانے کے بعد

 ان سب کو بلایا اور الگ الگ جگہے پہ بٹھایا اور فرمایا میں خود اپنے علم کے زریعے فیصلہ کروں یا سچ سچ بتاؤگے کہ اس بندے کے ساتھ کیا کیا ہیں؟ 

 بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی،

 لھذا سب نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے یہی کہا کہ حضرت اس شخص کے پاس مال ودولت بہت تھے،

 ھم نے اسکے اموال کو ھڑپ کرنے کے لیے   انکو قتل کیا ہے،

اس نے کافی سمجھایا تھا کہ مجھے قتل نہ کیاجائے،

 یہاں تک کہ سارے مال بھی ہمیں دینے کی پیش کش کیا تھا،

 لیکن نے اس خوف سے کہ ھم بعد میں پکڑے جائیں گے،

 اسکو قتل کیا،

 تو اس نے قتل سے پہلے یہی وصیت کی تھی،

 جب مجھے قتل کرنا ہی ہے تو میری بیوی سے کہو میرے ھونے والے بچے کا نام مات الدین رکھاجائے،

 حضرت نے قاتلوں کو پکڑنے کے بعد ان سے  دیۃ  لیا اور لوٹے ھوئے اموال کوبھی واپس لیے، اور اس خاتون کو انصاف دلایا،

 اس کے بعد آپ نے اس عورت سے کہا کہ اب اس بچے کانام مات الدین رکھنے کے بجائے عاش الدین (یعنی دین زندہ ہے) رکھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ

  دین  زندہ تھا،

زندہ ہے،

اور زندہ رہے گا، 

یہ کیسے ھوسکتا ہے کہ ھادیان دین کے ھوتے ھوئے بھی دین مرجائے ؟

 

 لیکن اھم بات یہ ہے کہ دین زندہ افراد کے ہاتھ آجائے، اگر دین مردہ چلتی پھرتی لاش، انسان نما جانوروں کے ہاتھ آئے تو امام حسین علیہ السلام کا یہ فرمان صدق آئے گا: 

وعلی الاسلام السلام اذ قد بلیت مثل براع یزید۔

 

  جب دین کے دعودار انسان طرح طرح کے فسق وفجور میں ملوث ھونے کے ساتھ ساتھ مکمل شہوت پرست بن جاتا ہے،

 تو یہ نہ فقط ھادیان دین کے لیے ننگ وعار کا باعث بنتا ہے،

 بلکہ اسکی وجہ سے دین کی مخالفت کرنے والوں کو دین پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اور دین کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

قرآن وحدیث نے ایسے لوگوں کو مردے سے تشبیہ دی ہے، جو دین اور دین کے اقدار کا دفاع نہیں کرتے،

اگرچہ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں، لیکن درحقیقت ایک چلتی پھرتی لاش ہے،

 قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے،

ماانت بمسمعٍ من فی القبور۔

 

حبیب  یہ مردے ہیں،

آپ ان مردوں کو پیغام نہیں سناسکتے،

 خدا نے اس آیت میں کفار کو مردوں سے تشبیہ دی ہے۔

اگرچہ یہ وہی لوگ تھے جو معمولی مادی چیز کے خاطر جنگ وجدل کرتے تھے،

دین کو پس وپشت ڈالتے تھے،

 

 تاریخ گواہ ہے،

 کئی مرتبہ لوگوں نے دین کو مارنے کی کوشش کی تھی،

لیکن زندہ لوگوں نے ہی دین کوبچایا ہے،

 

بدر وحنین واحد ونھروان  گواہ ہیں،

 مسجد کوفہ گواہ ہے، سن اکسٹھ ھجری میں 

کربلا کا میدان گواہ ہے،

واقعا دین کو مارنے کی کوشش کی تھی،

 

لعبت ھاشم بالملک فلاخبرجاء ولاوحی نزل،

نہ کوئی وحی آئی ہے نہ کوئی خبر،

 بنی ھاشم نےکھیل۔۔۔

گویا کہ دین کے گردن پہ چھری چلانے کی کوشش کی تھی،

توھادیان دین جو زندہ تھے انہوں روکا، 

زبان حال مولا حسین علیہ السلام یہی ہے،

 ان کان دین محمد لم یستقم الابقتلی فیاسیوف خذینی۔

 زندہ امام نے زندگی دیکر اپنے خون سے دین کی آبیاری کی اور دین کو زندگی بخشی۔

اور آخری زمان میں بھی دین پر سخت حملہ ھوگا،

 دین جان کنی  کے عالم میں ھوگا،

 دنیا ظلم وجور سے بھرجائے گی،

 یعنی دین حالت احتضار میں ھوگا،

  اس وقت فرزندزھرا سلام اللہ علیھا قیام کریں گے،

یملا الارض قسطاوعدلا کماملئت ظلماوجورا۔

 امام وقت  تشریف لاکر دین کو بچائے گے۔

  اور اس امام وقت کے ظھور میں تعجیل کے لیے صلوات۔

اللھم صل علی محمدوآل محمد۔