کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بنیادی حقوق کاحل ہماری اولین ترجیح ہے لیکن ہمارے پاس قانون سازی کااختیار نہیں ہے اور جس کے پاس اختیار ہے انہیں وقت نہیں۔

کوئٹہ میں وکلا برادری سے خطاب کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات بہت زیادہ ہیں، 30،30سال سے کیس عدالتوں میں پڑے ہیں، عدالتوں میں پیش ہونے والا سائل ہر تاریخ پر جیتا مرتا ہے، وکلاء کو ججز کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے، وہ ہڑتال نہ کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے پاس قانون سازی کااختیار نہیں ہے، جس کے پاس قانون سازی کااختیار ہے وہ نہیں کرتے، ان  کے پاس قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کا وقت نہیں، بنیادی حقوق کاحل ہماری اولین ترجیح ہے، جولوگ بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی حالت نہیں بدل سکتی، ہمیں مل جل کر کوششیں کرنی ہیں، نظام عدل میں خامیاں ہیں اسے دور کرنے کے لیے میرا ساتھ دیں۔