امام علی نقی (ع) نے اس خاندان میں پرورش پائی جو لو گو ں کے ما بین ممتاز حیثیت کا حا مل تھا ان کا سلوک منور و روشن اور ان کے آداب بلندو با لا تھے،

ان کا چھو ٹا بڑے کی عزت اور بڑا چھو ٹے کا احترا م کر تا تھا ،مو رخین کے نقل کے مطابق اس خاندان کے آداب یہ ہیں: حضرت امام حسین اپنے بھا ئی امام حسن کی جلالت اورتعظیم کی خا طران کے سا منے کلا م نہیں کر تے تھے، روا یت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین سید السا جدین اپنی تر بیت کر نے وا لیوں کے سا تھ ان کے التماس کر نے کے با وجود کھا نا نوش نہیں فر ما تے تھے اور ان کو اس با ت کے ڈر سے منع کر دیتے تھے کہ کہیں میری نظر اس کھا نے پر نہ پڑجا ئے جس پر مجھ سے پہلے ان کی نظر پڑگئی ہو تو اس طرح اُ ن کے نا فر ما ن قرارپا ئیں گے دنیا میں وہ کو نسا ادب ان آداب کے مشا بہ ہو سکتا ہے جو انبیا ء کے آدا ب ان کے بلندو بالا سلوک اور ان کے بلند اخلا ق کی حکا یت کر رہا ہے ؟امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے والد بزر گوار حضرت امام محمد تقی ؑ کے زیر سایہ پر ور ش پائی جو فضا ئل و آداب کی کائنات تھے، آپ ہی نے اپنے فر زند پر اپنی رو ح اخلا ق اور آداب کی شعا عیں ڈالیں ۔
بچپن میں علم لدنی کے ما لک آپ کی غیرمعمولی استعداد حضرت امام علی نقی علیہ السلام اپنے عہد طفولیت میں بڑے ذہین اور ایسے عظیم الشان تھے جس سے عقلیں حیران رہ جا تی ہیں یہ آپ کی ذکا وت کا ہی اثر تھا کہ معتصم عبا سی نے امام محمد تقی ؑ کو شہیدکر نے کے بعد عمر بن فر ج سے کہا کہ وہ امام علی نقی ؑ جن کی عمر ابھی چھ سا ل اور کچھ مہینے کی تھی ان کے لئے ایک معلم کا انتظام کر کے یثرب بھیج دے اس کو حکم دیا کہ وہ معلم اہل بیت ؑ سے نہا یت درجہ کا دشمن ہو، اس کو یہ گمان تھا کہ وہ معلم امام علی نقی ؑ کو اہل بیت ؑ سے دشمنی کر نے کی تعلیم دے گا ،لیکن اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ائمہ طا ہر ین بندوں کے لئے خدا کاتحفہ ہیں جن کواس نے ہرطرح کے رجس و پلیدی سے پاک قراردیا ہے ۔جب عمر بن فر ج یثر ب پہنچا اس نے وہاں کے وا لی سے ملا قا ت کی اور اس کو اپنا مقصد بتایا تو اس نے اس کا م کیلئے جنیدی کا تعا ر ف کر ا یا چو نکہ وہ علوی سا دات سے بہت زیا دہ بغض و کینہ اور عدا وت رکھتا تھا ۔ اس کے پاس نمائندہ بھیجا گیاجس نے معتصم کا حکم پہنچا یا تو اس نے یہ با ت قبول کر لی اور اس کے لئے حکومت کی طر ف سے تنخواہ معین کر دی گئی اور جنیدی کو اس امر کی ہدا یت دیدی گئی کہ ان کے پاس شیعہ نہ آنے پائیں اور ان سے کو ئی را بطہ نہ کر پا ئیں، وہ امام علی نقی ؑ کو تعلیم دینے کے لئے گیا لیکن امام کی ذکا وت سے وہ ہکا بکا رہ گیا ۔
 محمد بن جعفر نے ایک مر تبہ جنیدی سے سوال کیا : اس بچہ (یعنی امام علی نقی ؑ )کا کیا حا ل ہے جس کو تم ادب سکھا ر ہے ہو ؟جنیدی نے اس کا انکار کیااور امام کے اپنے سے بزر گ و بر تر ہو نے کے سلسلہ میں یوں گو یا ہو ا: کیا تم ان کو بچہ کہہ رہے ہو !!اور ان کو سردار نہیں سمجھ ر ہے ہو، خدا تمہا ری ہدا یت کر ے کیا تم مدینہ میں کسی ایسے آدمی کو پہچا نتے ہو جو مجھ سے زیا دہ ادب و علم رکھتا ہو ؟ اس نے جوا ب دیا :نہیں سنو !خدا کی قسم جب میں اپنی پوری کو شش کے بعد ان کے سا منے ادب کا کو ئی با ب پیش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں جن سے میں مستفید ہوتا ہوں ۔ لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ میں ان کو تعلیم دے رہا ہوں لیکن خدا کی قسم میں خود ان سے تعلیم حا صل کر ر ہا ہو ں ۔زما نہ گذر تا رہا، ایک روز محمد بن جعفر نے جنیدی سے ملا قا ت کی اور اس سے کہا :اس بچہ کا کیا حا ل ہے ؟ اس با ت سے اس نے پھر نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور امام ؑ کی عظمت کا اظہا رکر تے ہو ئے کہا :کیا تم اس کو بچہ کہتے ہو اور بزر گ نہیں کہتے جنیدی نے انھیں ایسا کہنے سے منع کر تے ہوئے اس سے کہا : ایسی بات نہ کہو خدا کی قسم وہ اہل زمین میں سب سے بہتراور خدا کی مخلوق میں سب سے بہترہیں،میں نے بسا اوقات ان کے حجرے میں حاضرہوکران کی خدمت میں عرض کیا!یہاں تک کہ میں ان کوایک سورہ پڑھاتا تو وہ مجھ سے فرماتے :’’تم مجھ سے کون سے سورہ کی تلاوت کرانا چاہتے ہو؟‘‘،تومیں ان کے سامنے ان بڑے بڑے سوروں کاتذکرہ کرتاجن کوانھوں نے ابھی تک پڑھا بھی نہیں تھاتو آپ ؑ جلدی سے اس سورہ کی ایسی صحیح تلاوت کرتے جس کو میں نے اس سے پہلے نہیں سناتھا،آپ داؤدکے لحن سے بھی زیادہ اچھی آواز میں اس کی تلاوت فرماتے ،آپ قرآن کریم کے آغاز سے لے کر انتہا تک کے حافظ تھے یاآپ کوسارا قرآن حفظ تھااورآپ اس کی تاویل اور تنزیل سے بھی واقف تھے ۔جنیدی نے مزیدیوں کہا:اس بچہ نے مدینہ میں کالی دیوارروں کے مابین پرورش پائی ہے اس علم کبیر کی ان کوکون تعلیم دے گا؟اے خدائے پاک وپاکیزہ ومنزہ!!جنیدی نے اہل بیت ؑ کے متعلق اپنے دل سے بغض وکینہ وحسد وعدوات کونکال کرپھینک دیااوران کی محبت وولایت کادم بھرنے لگا۔اس چیزکی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں بیان کی جاسکتی کہ مذہب تشیع کاکہنا ہے کہ خدا نے ائمہ طاہرین ؑ کوعلم وحکمت سے آراستہ کیااوران کو وہ فضیلت وبزرگی عطاکی جودنیامیں کسی کونہیں دی ہے۔
آپ کاجودوکرم
حضرت امام محمد تقی ؑ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اورسب سے نیکی و احسان کرنے والے تھے۔آپ کے جودوکرم کے بعض واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:۱۔اسحاق جلّاب سے روایت ہے:میں نے یوم الترویہ (۸ ذی الحجہ)امام علی نقی ؑ کے لئے بہت زیادہ گوسفندخریدلے جن کوآپ نے تمام دوستوں واحباب میں تقسیم فرمادیا۔شیعوں کے بزرگ افراد کی جماعت کاایک وفدآپ ؑ کے پاس پہنچاجس میں ابوعمروعثمان بن سعید، احمد بن اسحاق اشعری اور علی بن جعفر ہمدانی تھے ،احمد بن اسحق نے آپ سے اپنے مقروض ہونے کے متعلق عرض کیا توآپ ؑ نے اپنے وکیل عمروسے فرمایا:’’ان کواورعلی بن جعفر کوتین تین ہزاردیناردیدو‘‘،آپ کے وکیل نے یہ مبلغ ان دونوں کوعطاکردی۔
ابن شہرآشوب نے اس علوی کرامت بیان پر یہ حاشیہ لگایا:(یہ وہ معجزہ ہے جس پر بادشاہوں کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور ہم نے اس طرح کی عطا وبخشش کے مثل کسی سے نہیں سنا ہے ۔امام ؑ نے ان بزرگ افراد پر اس طرح کی بہت زیادہ جودوبخشش کی اور انہیں عیش وعشرت میں رکھااور یہ فطری بات ہے کہ بہترین بخشش کسی نعمت کا باقی رکھناہے ۔
۲۔ابوہاشم نے امام ؑ سے اپنی روزی کی تنگی کا شکوہ کیا اور امام ؑ نے آپ پر گذرنے والے فاقوں کا مشاہدہ فرمایاتوآپ نے اس کے رنج وغم کودورکرنے کیلئے اس سے فرمایا!’’اے ابوہاشم! تم خودپر خدا کی کس نعمت کاشکریہ اداکرناچاہتے ہو؟اللہ نے تجھے ایمان کارزق دیااوراس کے ذریعہ تیرے بدن کوجہنم کی آگ پرحرام قراردیا،اس نے تجھے عافیت کارزق عطاکیاجس نے اللہ کی اطاعت کرنے پرتیری مددکی اور تجھے قناعت کارزق عطاکیاجس نے تجھے اصراف سے بچایا‘‘۔
پھر آپ ؑ نے اس کو سو درہم دینے کا حکم صادر فرمایا۔امام علی نقی ؑ نے لوگوں کو جو نعمتیں دی ہیںیہ وہ بہت بڑی نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کوعطا کی ہیں ۔امام ؑ کا اپنے مزرعہ (زراعت کرنے کی جگہ )میں کام کرنا امام ؑ اپنے اہل و عیال کی معیشت کیلئے مزرعہ میں کام کر تے تھے ،علی بن حمزہ سے روایت ہے : میں نے امام علی نقی ؑ کو مزرعہ میں کام کرتے دیکھا جبکہ آپ ؑ کے قدموں پر پسینہ آرہا تھا ۔میں نے آپ ؑ کی خدمت با برکت میں عرض کیا :میری جان آپ ؑ پر فدا ہو! کام کرنے والے کہاں ہیں ؟امام ؑ نے بڑے ہی فخر سے اس کے اعتراض کی تنقید کر تے ہوئے یوں فرمایا: ’’زمین پربیلچہ سے کام ان لوگوں نے بھی کیاجو مجھ سے اور میرے باپ سے بہتر تھے ؟‘‘۔وہ کون تھے ؟’’رسول اللہ ﷺ ،امیر المو منین اور میرے آباء سب نے اپنے ہاتھوں سے کام کیا ،یہ انبیاء مرسلین ،اوصیاء اور صالحین کا عمل ہے ‘‘۔ہم نے یہ واقعہ اپنی کتاب ’’العمل و حقوق العامل فی الاسلام ‘‘میں ذکر کیا ہے ۔اسی طرح ہم نے کام کی اہمیت پر دلالت کرنے والے دوسرے واقعات کا تذکرہ بھی کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ انبیاء اور صالحین کی سیرت ہے ۔
آپ ؑ کا زہد
حضرت امام علی نقی ؑ نے اپنی پوری زند گی میں زہد اختیار کیا ،اور دنیا کی کسی چیز کو کو ئی اہمیت نہیں دی مگر یہ کہ اس چیز کا حق سے رابطہ ہو ،آپ ؑ نے ہر چیز پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دی۔ راویوں کا کہنا ہے کہ مدینہ اور سامراء میں آپ ؑ کے مکان میں کو ئی چیز نہیں تھی ،متوکل کی پولس نے آپ ؑ کے مکان پر چھاپا مارا اور بہت ہی دقیق طور پر تلاشی لی لیکن ان کو دنیا کی زند گی کی طرف ما ئل کر نے والی کو ئی چیز نہیں ملی ،امام ؑ ایک کھلے ہوئے گھر میں بالوں کی ایک ردا پہنے ہوئے تھے ،اور آپ ؑ زمین پر بغیر فرش کے ریت اور کنکریوں پر تشریف فرما تھے ۔سبط احمد جوزی کا کہنا ہے : بیشک امام علی نقی ؑ دنیا کی کسی چیز سے بھی رغبت نہیں رکھتے تھے ، آپ ؑ مسجد سے اس طرح وابستہ تھے جیسے اس کالازمہ ہوں ،جب آپ ؑ کے گھر کی تلاشی لی تو اس میں مصاحف ، دعاؤں اور علمی کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا ۔حضرت امام علی نقی ؑ اپنے جد امیرالمو منین ؑ کی طرح زندگی بسر کر تے تھے جو دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے ،انھوں نے دنیا کو تین مرتبہ طلاق دی تھی جس کے بعد رجوع نہیں کیا جاتا ہے ،اپنی خلافت کے دوران
انھوں نے مال غنیمت میں سے کبھی اپنے حصہ سے زیادہ نہیں لیا ،آپ ؑ کبھی کبھی بھوک کی وجہ سے اپنے شکم پر پتھر باندھتے تھے،وہ اپنے ہاتھ سے لیف خرما کی بنا ئی ہو ئی نعلین پہنتے تھے، اسی طرح آپ ؑ کا حزام ’’تسمہ ‘‘ بھی لیف خرما کاتھا ،اسی طریقہ پر امام علی نقی ؑ اور دوسرے ائمہ علیہم السلام گامزن رہے انھوں نے غریبوں کے ساتھ زندگی کی سختی اور سخت لباس پہننے میں مواسات فرما ئی ۔
آپ کا علم
حضرت امام علی نقی ؑ علمی میدان میں دنیا کے تمام علماء سے زیادہ علم رکھتے تھے ،آپ ؑ تمام قسم کے علوم و معارف سے آگاہ تھے ،آپ ؑ نے حقائق کے اسرار اور مخفی امور کو واضح کیا ،تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ؑ ہی کے روشن و منور نظریے کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ ؑ اور آپ ؑ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا میں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ؑ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ ؑ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھاہم ذیل میں وہ مسائل پیش کررہے ہیں جن میں متوکل نے امام ؑ کی طرف رجوع کیا ہے :۱۔متوکل کا ایک نصرا نی کاتب تھا جس کی بات کو وہ بہت زیادہ مانتا تھا ،اس سے خالص محبت کرتا تھا ،اس کا نام لیکر نہیں پکارتا تھا بلکہ اس کو ابو نوح کی کنیت سے آواز دیا کر تاتھا، فقہا ء کی ایک جماعت نے اس کو ابو نوح کی کنیت دینے سے منع کرتے ہوئے کہا :کسی کافر کومسلمان کی کنیت دینا جا ئز نہیں ہے ، دوسرے ایک گروہ نے اس کو کنیت دینا جا ئز قرار دیدیا،تو اس سلسلہ میں متوکل نے امام ؑ سے استفتا کیا۔
امام ؑ نے اس کے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعدیہ آیت تحریر فرما ئی :(تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ وَتَبَّ )، ’’ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جا ئیں اور وہ ہلاک ہو جا ئے امام علی نقی ؑ نے آیت کے ذریعہ کافرکی کنیت کے جواز پردلیل پیش فرما ئی اور متوکل نے امام ؑ کی رائے تسلیم کر لی ۔
۲۔متوکل نے بیماری کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نذر کی کہ اگر میں اچھا ہو گیا تو درہم کثیرصدقہ دونگا ،جب وہ اچھا ہو گیا تو اُس نے فقہا ء کو جمع کر کے اُ ن سے صدقہ کی مقدار کے سلسلہ میں سوال کیا فقہاء میں صدقہ دینے کی مقدار کے متعلق اختلاف ہو گیا ،متوکل نے اس سلسلہ میں امام ؑ سے فتویٰ طلب کیا تو امام ؑ نے جواب میں ۸۳دینار صدقہ دینے کے لئے فرمایا ،فقہا ء نے اس فتوے سے تعجب کا اظہار کیا ، انھوں نے متوکل سے کہا کہ وہ امام ؑ سے اس فتوے کا مدرک معلوم کرے تو امام ؑ نے اُن کے جواب میں فرمایا : خداوند عالم فرماتا ہے :( لَقَدْ نَصَرَکُمْ اﷲُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَۃٍ )،’’بیشک اللہ نے کثیر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے ‘‘اور ہمارے سب راویوں نے روایت کی ہے کہ سرایا کی تعداد ۸۳ تھی ۔امام ؑ نے جواب کے آخر میں مزید فرمایا :’’حب کبھی امیر المو منین ؑ اچھے نیک کام میں اضافہ فرماتے تھے تو وہ اُن سب کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ منفعت آور ہوتا تھا ‘‘۔
۳۔اور جن مسا ئل میں متوکل نے امام ؑ کی طرف رجوع کیا اُن میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ متوکل کے پاس ایک ایسے نصرانی شخص کو لایا گیا جس نے مسلمان عورت سے زنا کیا تھا ،جب متوکل نے اُس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا تو وہ مسلمان ہو گیا ،یحییٰ بن اکثم نے کہا :اس کے ایمان کے ذریعہ اُ س کا شرک اور فعل نابودہو گیا ،بعض فقہا ء نے اُس پر تین طرح کی حد جاری کرنے کا فتویٰ دیا ،بعض فقہا ء نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ،تو متوکل نے یہ مسئلہ امام علی نقی ؑ کی خدمت میں پیش کیا،آپ ؑ نے جواب میں فرمایا کہ اس کو اتنا مارا جائے کہ وہ مرجائے ،یحییٰ اور بقیہ فقہاء نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا :ایسا کتاب و سنت میں نہیں آیا ہے ۔ متوکل نے ایک خط امام ؑ کی خدمت میں تحریر کیا جس میں لکھا : مسلمان فقہا اس کا انکار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کتاب خدا اور سنتِ رسول میں نہیں آیا ہے۔ لہٰذا آپ ؑ ہمارے لئے یہ بیان فرما دیجئے کہ آپ ؑ نے یہ فتویٰ کیوں دیا ہے کہ اس کو اتنا مارا جائے جس سے وہ مرجائے ؟امام ؑ نے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد یہ آیت تحریر فر ما ئی :(فَلَمَّاجَاءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوابِمَا عِنْدَہُمْ مِنْ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِہِمْ مَاکَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِءُون فَلَمَّارَأَوْا بَأْسَنَا قَالُواآمَنَّا بِاﷲِ وَحْدَہُ وَکَفَرْنَابِمَاکُنَّا بِہِ مُشْرِکِینَ )۔ ’’پھر جب اُن کے پاس رسول معجزات لیکر آئے تواپنے علم پر ناز کرنے لگے ،اور نتیجہ میں جس بات کا مذاق اڑارہے تھے اسی نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔پھر جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے یکتا پر ایمان لائے ہیں اور جن باتوں کا شرک کیا کرتے تھے سب کا انکار کررہے ہیں ‘‘۔اور متوکل نے امام ؑ کا نظریہ تسلیم کر لیا۔
 
متوکل کی ہلاکت
امام ؑ کے ذریعہ متوکل کی تین دن کے بعد ہلاکت کی خبر کے بعد متوکل ہلاک ہو گیا یہاں تک کہ اس کا بیٹا منتصر اس پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھا ،۴ شوال ۲۴۷ ؁ھ بدھ کی رات میں ترکیوں نے اُس پر دھا وا بول دیا جن کا سپہ سالار باغر ترکی تھا ،اُن کے پاس ننگی تلواریں تھیں ،حالانکہ متوکل نشہ میں پڑا ہوا تھا ،فتح بن خاقان نے اُ ن سے چیخ کر کہا :وائے ہو تم پریہ امیر المو منین ہے ،انھوں نے اس کی کو ئی پروا نہیں کی ،اُس نے خود کو متوکل کے اوپر گرا دیا کہ شاید وہ اس کو چھوڑ دیں لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہ کیا اور دونوں کے جسموں کے اس طرح ٹکڑے کر دئے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی لاش پہچا نی نہیں جا رہی تھی ،دونوں کے بعض گوشت کے ٹکڑوں سے شراب ٹپک رہی تھی ،دونوں کو ایک ساتھ دفن کر دیا گیا ،اس طرح اہل بیت ؑ کے سب سے سخت دشمن متوکل کی زند گی کا خاتمہ ہوا ۔ ابراہیم بن احمد اسدی نے متوکل کے بارے میں پڑھے :
ھَکذا فَلتکُن منا یا الکرامِ       بین نا يٍ وَمِزھَرٍ ومَدامِ
بَینَ کَاسَیْنِ أَرْوَتَاہُ جَمِیْعاً         کَأْسٍ لِذَاتِہِ وَکَأْسِ الحِمَامِ
یَقِظُ فِی السُّرُوْرِ حَتیّٰ اَتَاہُ         قدَّرَ اللّٰہُ حَتْفُہُ فِی المَنَامِ
وَالْمَنَایا مَراتب یتفاضَدْن  وَبِالْمُرْھَفَاتِ مَوْتُ الکِرَامِ
لَمْ یَدْرِ نَفْسُہُ رَسُوْلُ المَنَاَیا    بِصُنُوْفِ الْأَوْجَاعِ وَالاَسْقَامِ
ھَابَہ مُعْلِناًفَدَبَّتْ اِلَیْہِ     فِیْ سُتُوْرِ الدُّجیٰ یَدُالْحُسَامِ
بزرگوں کی موت اسی طرح بانسری ،باجے اور شراب کے درمیان ہونا چا ہئے ۔ایسے دو پیالوں کے درمیان ہو نا چا ہئے جنھوں نے اُس کو سیراب کر دیا ہو ۔ایک پیالہ لذّتوں کا ہو اور ایک پیالہ موت کا ہو ۔وہ خو شی کے عالم میں بیدار تھے ،یہاں تک کہ خدا کی مقدر کردہ موت نے اس کو نیند کے عالم میں آلیا ۔درد اور بیماری کی وجہ سے قاصد موت کے آنے پراس کو کچھ احساس تک نہیں ہوا اس کو علی الاعلان موت آگئی اور تا ریکیوں کے پردے میں دست شمشیر اس کی طرف بڑھ گیا ‘‘۔
شاعر نے اِن اشعار کے ساتھ اس کا مرثیہ پڑھا جو اُ س کی خواہش نفس کی عکا سی کر رہے ہیں ، اُس کی موت شراب کے جام ،مو سیقی کے آلات و ابزار طبل و ڈھول کے درمیان میں ہو ئی ،اس کو بیماریوں اور دردوں نے ذلیل و مضطرب نہیں کیا بلکہ ترکیوں نے اپنی تلواروں سے اس کی روح کو اس کے بدن سے جدا کر دیا ،اُس نے دردو آلام کا چھوٹا سا گھونٹ پیا ،اس سے پہلے شعراء بادشاہوں کا مر ثیہ پڑھا کر تے تھے جس کے فقدان سے امت اپنی معاشرتی اصلاحات اور عدل و انصاف کو کھو دیتی تھی ۔بہر حال علویوں اور شیعوں کو اس سخت بیماری سے نجات ملی ،اس کے بعد منتصر نے حکومت کی باگ ڈور سنبھا لی ،اس نے اپنے باپ کے بر عکس انقلاب کی قیادت کی ،اس نے حکومت قبول کی ، اُس کی حکومت کا خو شی سے استقبال کیا گیا ،حکومت کی باگ ڈور سنبھا لنے کے بعد اُس نے علویوں پر احسان کر نا شروع کیا اُس نے علویوں کے لئے مندرجہ ذیل چیزیں انجام دیں :۱۔دنیائے اسلام کے کریم رہبر و قائد امام حسین ؑ کی زیارت میں ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا ، اس نیکی کیلئے لوگوں کو ترغیب دلا ئی ،جبکہ اس کے باپ نے زیارت پر پابندی لگا رکھی تھی اور زائرین کی مخالفت میں ہر طرح کے سخت قوانین نافذ کئے تھے ۔
۲۔علویوں کو فدک واپس کیا ۔
۳۔حکومت نے علویوں کے چھینے ہوئے اوقاف واپس کئے ۔
۴۔علویوں کی برا ئی کرنے والے مدینہ کے والی صالح بن علی کو معزول کیا ،اس کے مقام پر علی بن الحسن کو والی بنایا اور اس کو علویوں کے ساتھ احسان و نیکی کر نے کی تا کید کی ۔علوی خاندان پر ان تمام احسانات کو دیکھ کر شاعروں نے اُ س کی تعریف اور شکریہ میں اشعار پڑھے، یزید بن محمد بن مہلبی کا کہنا ہے :
وَلَقَدْ بَرَزَتَ الطَّالِبِیَّۃَ بَعْدَ مَا              ذَمُّوا زَمَاناً قَبْلَھَا و زَمَانا
وَرَدَدْتَ اُلْفَۃَ ہَاشِمٍ فَرَأَیْتَھُمْ             بَعْدَ الْعَدَاوَۃِ بَیْنَھُمْ اِخْوَاناً
آنَسْتَ لَیْلَھُمْ وَجُدْتَ عَلَیْھِمْ     حَتیّٰ نَسُوا الْأَحْقَادَ وَالْأَضْغَانا
لَوْ یَعْلَمُ الأَسْلَافُ کَیْفَ بَرَرْتَھُم     لَرَأَوْکَ أَثْقَلَ مَنْ بِھَا مِیْزَانا
تم نے علویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جبکہ اس سے پہلے ان کی مذمت ہو چکی تھی ۔تم نے ہاشم کی محبت کو پلٹادیا جس کی بنا پر دشمنی کے بعد تم نے ان کو دوست پایا۔تم نے راتوں میں ان سے انس اختیار کیا اور اُن پر سخاوت کی یہاں تک کہ وہ کینوں اور دشمنی کو بھول گئے۔ اگر گذشتہ بزرگان کو تمہارے حسن سلوک کا علم ہوجائے تو وہ تم کو بہت آبرو مند سمجھیں گے ‘‘۔منتصر نے نبی ؐ کے خاندان کے اس سلسلہ کو جا ری رہنے دیا جس کو اس کے گذشتہ بزرگ عباسیوں نے ہر چند منقطع کرنے کی کو شش کی تھی ،اُ ن سے ہر طرح کے ظلم و ستم اور کشت و خون کو دور کیا لیکن افسوس کہ اُس کا عمر نے ساتھ نہ دیا طبیب نے ترکوں کے دھوکہ میں آکر اس کو زہر دیدیا جس سے وہ فوراً مر گیا ، اُس کے مر نے کی وجہ سے لوگوں سے خیر کثیر ختم ہو گیا ، اس نے علویوں کو دینی آزا دی دی تھی اور اُن سے ظلم و ستم کو دور کیا تھا ۔
امام پر قاتلانہ حملہ
امام ؑ ،معتمد عباسی پر بہت گراں گذر رہے تھے ،امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امام ؑ کے فضا ئل شائع ہوئے تو اس کو امام ؑ سے حسد ہو گیا اور جب مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں اور دین سے اُن کی والہانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تووہ اور جلتا اُس نے امام ؑ کو زہر ہلاہل دیدیا ، جب امام ؑ نے زہر پیا تو آپ ؑ کا پورا بدن مسموم ہو گیا اور آپ ؑ کے لئے بستر پر لیٹنا لازم ہوگیا(یعنی آپ ؑ مریض ہو گئے )آپ ؑ کی عیادت کے لئے لوگوں کی بھیڑ اُمڈ پڑی ،منجملہ اُن میں سے ابوہاشم جعفری نے آپ ؑ کی عیادت کی جب اُ نھوں نے امام ؑ کو زہر کے درد میں مبتلا دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ،اور مندرجہ ذیل اشعار پر مشتمل قصیدہ نظم کیا :
مَا دتِ الدنیا فُؤادي العلیلِ                      وَاعْتَرَتْنِیْ مَوَارِدُ اللأْواءِ
     حِینَ قِیْلَ الْاِمَامُ نِضُوْ عَلِیْل                              قُلْتُ نَفْسِیْ فَدَتْہُ کُلَّ الفِدَاءِ
مَرِضَ الدِّیْنُ لَاعْتِلَالِکَ وَاعْتَدْ لَ                                   وَغَارَتْ نُجُوْمُ السَّمَاءِ
عَجَباً اِنْ مُنِیْتَ بِالدَّاءِ وَالسُّقْمِ                                           وَأَنْتَ الاِمَامُ حَسْمُ الدَّاءِ
أَنْتَ أَسِیْ الأَدْوَاءَ فِي الدِّیْنِ والدُّنْیَا                َمُحْیي الأَمْوَاتِ وَالْأَحَیَاءِ
’’ دنیا نے میرے بیمار قلب کو ہلا کر رکھ دیا اور مجھے وا دی ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ جب مجھ سے کہا گیا امام ؑ کی حالت نہایت نازک ہے تو میں نے کہا میری جان اُن پر ہر طرح قربان ہے ۔آپ ؑ کے بیمار ہونے کی وجہ سے دین میں کمزوری پیدا ہو گئی اور ستارے ڈوب گئے۔تعجب کی بات ہے کہ آپ بیمار پڑگئے جبکہ آپ ؑ کے ذریعہ بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔آپ ؑ دین و دنیا میں بہترین دوا اور مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ‘‘۔آپ کی روح پاک ملائکۂ رحمن کے سایہ میں خدا کی بارگاہ میں پہنچ گئی ،آپ ؑ کی آمد سے آخرت روشن و منور ہو گئی ،اور آپ ؑ کے فقدان سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا ،کمزوروں اور محروموں کے حقوق سے دفاع کرنے والے قائد ور ہبر نے انتقال کیا ۔
تجہیز و تکفین
آپ ؑ کے فرزند ارجمند کی امام حسن عسکری ؑ نے آپ ؑ کی تجہیز و تکفین کی ،آپ ؑ کے جسد طاہر کو غسل دیا،کفن پہنایا،نماز میت ادا فر ما ئی ،جبکہ آپ کی نکھوں سے آنسو رواں تھے آپ ؑ کا جگر اپنے والد بزرگوار کی وفات حسرت آیات پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا تھا ۔
تشییع جنازہ
سامرا ء میں ہر طبقہ کے افراد آپ ؑ کی تشییع جنازہ کیلئے دوڑ کر آئے ،آپ کی تشییع جنازہ میں آگے آگے وزراء ،علماء ،قضات اور سر براہان لشکر تھے ، وہ مصیبت کا احسا س کر رہے تھے اور وہ اس خسارہ کے سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے جس سے عالم اسلام دو چار ہوا اور اس کا کو ئی بدلہ نہیں تھا ، سامراء میں ایسا اجتماع بے نظیر تھا ،یہ ایسا بے نظیر اجتماع تھا جس میں حکومتی پیمانہ پر ادارے اور تجارت گاہیں وغیرہ بند کر دی گئی تھیں ۔