شیعہ ہمیشہ حزن و الم میں رہیں گے یہاں تک کہ میرا وہ فرزند ظہور کرے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی: امام حسن عسکری علیہ السلام

امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعوں کے عظیم الشان عالم، علم حدیث، علم فقہ اور دوسرے تمام اسلامی علوم میں ماہر اور جلیل القدر عالم دین ابو الحسن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی( محمد بن علی بابویہ معروف شیخ صدوق کے والد ہیں) کو ایک خط تحریر فرمایا جس میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریرہے :

(۱) شیخ مفید ؒ اوردوسرے اعلام نے روایت کی ہے کہ بنی عباس صالح بن وصیف کے گھر گئے اُس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کوقید کررکھاتھا اور اس سے کہنے لگے کہ اس پر تنگی اور سختی کو۔ صالح کہنے لگا کہ میں اس کے ساتھ کیاکروں میں نے انہیں دوبدترین افراد کے سپرد کیاتھا جن کے نام علی بن یارمش اور دوسرے کانام اقتامش تھا اور اب وہ دونوں صاحب نماز اور عبادت گزار ہوچکے ہیں۔ تب اُس کوحکم دیاکہ اُن دونوں افراد کوبلایا جائے جب وہ آئے تو اُن کی سرزنش کی اور کہنے لگا وائے ہو تم پر تمہارا اس شخص کے ساتھ کیامعاملہ ہے؟

 وہ کہنے لگے کہ ہم کیا بتائیں اس شخص کے حق میں جودن کوروزے رکھتاہے اور راتوں کو صبح تک عبادت میں مشغول رہتاہے جوکسی سے بات نہیںکرتا جب کبھی ہم پر نظر کرتاہے تو ہمارے بدن اس طرح کانپنے لگتے ہیں کہ گویا ہم اپنے نفس کے مالک نہیں اور اپنے آپ کو قابو میںنہیں رکھ سکتے۔جب آل عباس نے یہ سُنا تو انتہائی ذلت اور بدترین حالت میں اس کے پاس سے چلے گئے۔

 زہرا رضائیان

مترجم: سجاد مہدوی

دورِ قدیم سے آج تک، ہمیشہ ایسے بزرگوں کی زندگی اور ان کا کردار توجہ کا مرکز رہا ہے جن کا انسانی پہلو برجستہ رہا ہو۔ ان میں انبیائے الہی اور مکتب علوی کے رہنما، وہ منفرد افراد ہیں جو پروردگار کی جانب سے تمام انسانوں کے لئے بہترین نمونہ عمل قرار دیئے گئے ہیں۔

شیعوں کے گیارہویں امام‘ حضرت حسن عسکریٴ، ٢٣٢ ہجری میں شہر مدینہ میں متولد ہوئے۔ چونکہ آپٴ بھی اپنے بابا امام علی النقیٴ کی طرح سامرا کے عسکر نامی محلے میں مقیم تھے اس لئے عسکری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپٴ کی کنیت ابومحمد اور معروف لقب نقی اور زکی ہے۔ آپٴ نے چھ سال امامت کی ذمہ داری ادا کی اور ٢٨ سال کی عمر میں معتمد عباسی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی حکمت عملی:

امام حسن عسکریٴ نے ہر قسم کے دباو اور عباسی حکومت کی جانب سے سخت نگرانی کے باوجود دینِ اسلام کی حفاظت اور اسلام مخالف افکار کا مقابلہ کرنے کے لئے متعدد سیاسی، اجتماعی اور علمی اقدامات انجام دیئے اور اسلام کی نابودی کے لئے عباسی حکومت کے اقدامات کو بے اثر کردیا۔ آپٴ کی حکمتِ عملی کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

دین اسلام کی حفاظت کے لئے علمی جدوجہد، مخالفوں کے شکوک و شبہات کا جواب، درست اسلامی افکار و نظریات کا پرچار، خفیہ سیاسی اقدامات، شیعوں کی اور بالخصوص نزدیکی

احمد علی جواہری

 ولادت باسعادت: مدینہ طیبہ میں دس ربیع الثانی ۲۳۲ہجری کو ولادت ہوئی۔ آپ کی ولادت کے وقت واثق باللہ عباسی حکمران تھا یہ اُس کے آخری ایام تھے اُس نے اسی سال انتقال کیا اس کے بعد متوکل، منتصر، مستعین اور معتز حکمران ہوئے۔ آپ کی امامت ۳رجب ۴۵۲ہجری کو معتز کے دور حکومت میں ہوئی

القاب وکنیت آپ کی کنیت ابومحمد تھی اور القاب عسکری، زکی، ہادی اورسراج ہیں۔ ان میں مشہور ترین لقب عسکری تھا جونام کاجزو بن گیا چونکہ آپ اپنے والد ماجد کے ہمراہ سامراءکے محلے عسکر میں رہائش پذیر تھے لہٰذا عسکری کہلائے۔ دفیات الاعیان ج۱ ص۵۳۱ ، تذکرة المعصومین ص۲۲۲

 

امام حسن عسکری(ع) اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جس کا ہر حلقہ انسانی کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وایثار سب ہی اوصاف بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه