تحریر: عبدالرحمن نجفی عمران

چکیدہ: امام کی معرفت سے مقصد صرف امام زمان ؑ کی زاتی معلومات مراد نہیں ہے بلکہ حقیقی معنوں میں امام کی معرفت ہے کہ انسان امام زمان کی حقیقی معنوں میں معرفت حاصل کرے۔ان کی مقام و منزلت کو پہچان لیکہ امام زمان خدا کی طرف سے ولی اور انسانوں کیلئے رہبر ہے۔

یہی عقیدہ انسان کو امام کی حاضر و ناظر ہونے اور خود سازی کرنے اور امام زمان ؑ کی ظہور کیلئے زمینہ فراہم کرنے اور معاشرہ سازی کرنے کے موجب بنتا ہے۔

امام کے وجود سے دو قسم کے فایدے ممکن ہے:

ا۔ فایدہ  حضور؛

1۔وجود رهبر موجب بقای مکتب، 2۔ امام حجت آشکار خدا ، 3۔ امام غائب بادل کے پیچھے سورج کی طرح  ۔ 4۔ امام اهل زمین کے لئے باعث آرام ، 5۔ امام باعث نزول برکات الٰہی ، 6۔ زمین حجت خدا سے خالی نہیں، 7۔ امام کا وجود باعث  امید، 8۔ شیعوں کی نجات اور تحفظ ، 9۔واسطہ فیض

انتظار ظہور مہدی کے اثرات

سوال: امام مهدى(علیه السلام) کے ظہور پر عقیدہ رکنھے سے لوگوں کی فردی اور اجتماعی زند گی پر کیا آثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

اجمالی جواب:

تفصیلی جواب: گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات میں کوئی وارداتی پہلو نہیںرکھتا بلکہ ان بہت زیادہ قطعی ویقینی امور میں سے ہے جو بانی اسلام سے بالذات لئے گئے ہیں اور سب اسلامی مکاتب ومذاہب اس سلسلے میں متفق ہیں اور اس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں ۔ 

مقدمہ

 قال رسول اللّه صلى الله علیه و آله: مَنْ حَفِظ مِنْ اُمَّتى اَرْبَعینَ حَدیثا مِمّا یحْتاجُونَ اِلَیهِ مِنْ أَمْرِ دینِهِمْ بَعَثَهُ اللّهُ یوْمَ الْقیامَةِ فَقیها عالِما. (1)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میری امت میں جو بھی چالیس حدیثیں حفظ کرے گا ـ جن کی عوام کو ضرورت ہے ـ خداوند متعال روز قیامت اس کو فقیہ اور دانشور بناکر محشور فرمائے گا.

ظہور کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ خدا ند متعال اپنے لطف کا ہاتھ حضرت ولی عصر (عج) کے سر پر رکھے گا توتمام لوگ عاقل ہو جائیں گے۔

عالم اسلام کے جلیل القدر مفسر قرآن حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے 18 دسمبر ظہر کے وقت اپنے "درس اخلاق" میں علوم وحی کے مرکز "اسراء" قم میں بیان کیا : مومن لوگ جو دینی ثقافت کے ساتھ جیتے ہیں وہ دنیا میں خدا کے حضور میں جیتے ہیں ۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه