پیش نظر اقوال مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گہربار احادیث اور اہل بیت اطہار علیھم السلام کے ارشادات کا وہ انتخاب ہے جو قائد انقلاب اسلامی نے احادیث کی معتبر کتب سے فقہ کے دروس میں "حسن آغاز" کے عنوان سے مختصر شرح و توضیح کے ساتھ پیش کیا ہے۔

اس نوشتہ کا اصلی مقصد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آپ کی ازواج کے ساتھ ساز گاری موافقت کو بیان کرنا ھے تاکہ روشن ھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے ساتھ کس طرح رھتے تھے کہ وہ آپ سے راضی تھیں اور آپ کا زیادہ وقت نہیں لیتی تھیں، تاکہ آپ عبادت و تہجد، تبلیغ دین، رسالت الٰھی کی ادائیگی اور لوگوں پر حکومت و نظارت کے فرائض کو باحسن وجہ انجام دے سکیں۔

مبادا کوئی تصور کرے کہ پیغمبر کی ساری بیبیاں اچھی تھیں اور ان کے درمیان آپس میں کوئی نزاع نہیں تھا بلکہ دست بدست فرائض کی تکمیل اور وظائف کی انجام دھی میں آپ کی مدد کرتی تھیں، پہلی اور دوسری فصل میں ازواج پیغمبر کی ناسازگاری کے واقعات بیان ھوئے اور معلوم ھوا کہ اچھی بیوبیاں جیسے زینب بنت جحش جو پیغمبر کے لئے شھد کا شربت تیار کرتی تھیں اور دوسری بیویوں پر افتخار کرتی تھیں کہ خدا نے ان کا عقد پڑھا ھے جب کسی سفر میں جناب صفیہ کا اونٹ چلنے سے انکار کردیتا ھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب سے درخواست کرتے ھیں کہ وہ جناب صفیہ کو اپنے اونٹ پر سوار کرلیں تو جواب دیتی ھیں کہ کیا میں آپ کی یہودی بیوی کو اپنے اونٹ پر سوار کرلوں؟ ایسا ھرگز نہیں ھوگا۔ 1

سوال

کیا یہ حدیث متن و سند کے لحاظ سے صحیح ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ابو طالب کی پستان سے دودھ پیتے تھے؟ امام صادق (ع) سے نقل کیا گیا ہے کہ:" جب پیغمبر(ص)پیدا ہوئے، کئی دن تک دودھ نہیں ملا تاکہ آپ (ص) پیتے۔ ابو طالب نے آپ (ص) کے دہان مبارک کو اپنی پستان پر رکھا اور خداوند متعال نے ان میں دودھ جاری کیا اور آنحضرت (ص) نے کئی دن تک وہ دودھ پی لیا یہاں تک کہ حلیمہ سعدیہ کو دودھ پلانے کے لئے پیدا کیا گیا اور پیغمبر اکرم (ص) کو ان کے حوالہ کیا گیا"۔ ( اصول کافی: کتاب حجت من باب مولود النبی)

پیش نظر اقوال مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گہربار احادیث اور اہل بیت اطہار علیھم السلام کے ارشادات کا وہ انتخاب ہے جو قائد انقلاب اسلامی نے احادیث کی معتبر کتب سے فقہ کے دروس میں "حسن آغاز" کے عنوان سے مختصر شرح و توضیح کے ساتھ پیش کیا ہے۔

استاد انصاریان

ارشاد دیلمی(رہ) میں منقول ھے:آنحضرت(ص) اپنے لباس میں خود ھی پیوند لگاتے اور نعلین کی سلائی کرتے تھے،گوسفندوں کا دودھ دوھتے تھے،غلاموں کے ساتھ کھانا نوش فرماتے تھے،زمین پر بیٹھتے تھے،گدھے پر سوار ہوتے تھے اوردوسرے کو بھی سواری پر اپنے پیچھے بیٹھا لیتے تھے۔ بغیر کسی شر م وجھجک کے زندگی کی تمام ضروری چیزوں کو بازار سے خرید تے اور پھر گھر لے جاتے تھے۔مالدار اورغریب دونوں سے ایک ھی طرح مصافحہ کرتے جب تک وہ اپنا ھاتھ نھیں کھینچتا تھا آپ اپنا دست مبارک نھیں کھینچتے تھے ،جس سے ملاقات کرتے سلا م میں پھل کرتے تھے چاھے وہ مالدار ھو یا فقیر،چھوٹا ھو یا بڑا،اگر آپ کو دعوت دی جاتی تواسے حقیر نھیں سمجھتے چاھے خراب کھجور ھی کی دعوت کیوں نہ ھو ۔

 

بلند طبیعت:

آپ کاخرچ کم تھا آپ کریم الطبیعت -،خوش معاشر ت اور خوبصورت تھے بغیر ہنسے ھمیشہ آپ کے لبوںپر مسکراہٹ رھتی تھی اوراسی طرح ھمیشہ محزون و غمگین رھتے تھے لیکن منھ نھیں بگڑ نے دےتے تھے۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه