جب جنگ جمل میں عَلَم اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کو دیا تو مولا علیؑ نے فرمایا

پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ اپنے دانتوں کو بھینچ لینا۔2 اپنا کاسۂ سر اللہ کو عاریت دے دینا۔ اپنے قدم زمین میں گاڑ دینا۔ لشکر کی آخری صفوں پر اپنی نظر رکھنا اور (دشمن کی کثرت و طاقت سے ) آنکھوں کو بند کر لینا اور یقین رکھنا کہ مدد خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نھیں کیا جا سکتا ھے کہ ان مسلمانوں کا درخشاں دور ختم ھوگیا۔ کل یورپ کے گھٹتے ھوئے ماحول میں علم و حکمت کے چراغ روشن کرنے والے آج اپنے گھروں سے تاریکی کو دور کرنے کے لئے دیئے کے محتاج ھیں۔

تحریر: فرحت حسین مہدوی

میں نے ایک پوسٹ پر دیکھا کہ ایک سنی بھائی علی علیہ السلام کی عظمت بیان کررہا ہے اور ایک شیعہ بھائی اس پر شرک کا الزام لگا رہا ہے جو افسوسناک تھا، چنانچہ اپنے قارئین کی خدمت میں عرض کرنا ضروری سمجھا کہ:

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کردہ مقالے میں پاکستانی کالم نگار فرحت حسین مہدوی نے کہا ہے کہ میں نے ایک پوسٹ پر دیکھا کہ ایک سنی بھائی علی علیہ السلام کی عظمت بیان کررہا ہے اور ایک شیعہ بھائی اس پر شرک کا الزام لگا رہا ہے جو افسوسناک تھا۔ چنانچہ اپنے قارئین کی خدمت میں عرض کرنا ضروری سمجھا کہ:

تاریخ قرآن کا ایک صفحہ

حضرت علی علیہ السلام اسلام کی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پیغمبر اسلام صلّی الله علیہوآلہ وسلم کی رحلت کے بعد قرآن کو جمع کیا ۔روایات کے مطابق آپ نے آنحضرت صلیّ الله علیہ وآلہ وسلمکے بعد خانہ نشینی اختیار کرکے فقط چھ مہینہ میں اسکام کو مکمل کر ڈالا ۱ ابن ندیم کے مطابق : پہلا قرآن جسے جمع کیا گیا وہ (حضرت)علی علیہ السلام کا جمع کردہ قرآن تھا ۔

یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ قرآن کی جمع آوری سب سے پہلے حضرت علی ؑ کے ہاتھوں ہوئی، علم نحوکی ایجاد اور قرآن کی اعراب گذاری،پیامبر نے فرمایا:علی علیہ السلام قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی علیہ السلام کے ساتھ ہے۔

قرآن کی جمع آوری

یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ قرآن کی جمع آوری سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه