امیر المومنین مولائے متقیان (ع) فرماتے ہیں کہ جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے آپ کو تعلیم دینا چاہیئے اور زبان سے درس اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیئے اور جو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کر لے وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے۔

حضرت علی (ع) تین سال کی عمر تک اپنے والدین کے پاس رہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کے پاس آ گئے کیونکہ جب آپ تین سال کے تھے اس وقت مکہ میں بہت سخت قحط پڑا،

  ابن عباس
 ابن عباس نے اپنی عمر کے آخری لمحوں میں سربلند کرکے یہ کھا:

"اَلَّلھُمَّ اِنِّی اَ تَقَرَّبُ اِلَیْکَ بِحُبِّ الشَّیْخِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طٰالِب"۔

"پروردگارا! میں علی کی دوستی اورمحبت کا واسطہ دے کر تیری قربت چاھتا ھوں"۔

 اسلام وہ مذھب ہے جو خالق کائنات کی طرف سے پوری دنیائے انسانیت کے لئے ایک بیش بہا دولت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بارگاہ ایزدی میں اس دین کی قبولیت کا اعلان قرآن مجید یوں کررہا ہے۔ ان الدین عنداللہ الاسلام ۔ بے شک خدا کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔ ( آل عمران)

ولادت
13 رجب سن تیس عام الفیل کو رسول اکرم (ص) کے چچازاد بھائی داماد اور جانشین حضرت علی (ع) کی خانۂ کعبہ میں ولادت باسعادت ہوئی ۔ آپ کے والد ابو طالب علیہ السّلام اور ماں فاطمہ بنتِ اسد علیھا السلام کو جو خوشی ھونی چاھیے تھی وہ تو ھوئی ھی مگر سب سے زیادہ رسول الله اس بچے کو دیکھ کر خوش ھوئے .

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه