حضرت علی کی ماں قبیلہ قریش بن ہاشم کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ خاندان جزیرة العرب کا نجیب ترین اور با اخلاق خاندان تھا۔ فاطمہ بنت اسد کے کئی مناقب اور فضائل ہیں۔

حضرت علی(علیہ السلام) اور قبولِ خلافت ایسے مشکل حالات میں لوگوں کی ناراض اکثریت نے علی ابن ابی طالب علیه السلام کی خدمت میں پناہ لی اور آنحضرت علیہ اسلام کے انکار کے باوجود آپ کو مسندخلافت پر بٹھادیا۔ درحقیقت یہ پھلی بار تھا کہ لوگوں کی اکثریت نے خود جوش طور پر داعیٴ بیعت کے عنوان سے ایک لائق ترین فرد ، ایسے شخص کے ھاتھوں پر بیعت کی۔ عمر اور عثمان نے اپنے پھلے والے خلفا کی وصیت کے مطابق خلافت حاصل کی۔

اس فصل میں ہم آپ کی سیرت کے چند ایسے گوشے اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں جنہیں عظیم مسلمان مورخین نے نقل کیا ہے ۔

1:آئین حکومت
درج ذیل دستاویز کو مالک اشتر نخعی کے لئے تحریر فرمایا ۔قارئین کرام سے ہم التماس کرتے ہیں کہ وہ حضرت علی (ع) کی اس دستاویز کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں کیونکہ اس خط میں آپ نے اسلام کے آئین جہانبانی کی مکمل وضاحت کی ہے ۔

ہم نے حضرت علی علیہ السلام کے ایک خط کا نہج البلاغہ سے انتخاب کیا ہے ۔ یہ خط آپ نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا اور اس کے متعلق جامع نہج البلاغہ سید رضی رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں کہ :- " یہ مکتوب امیر المومنین کے بہتر ین مکتوبات میں سے ہے ۔"

ترتیب: سید حسن بخاری
علی ابن ابی طالب (ع) کی مقتدرانہ مگر مظلومانہ زندگی کا سفر جو آپ کی سرخروئی پر منتج ہوا، تین محاذوں پر نبرد کا سفر تھا۔
تیسرا محاذ مارقین کا محاذ تھا۔

طراحی و پشتیبانی توسط گروه نرم افزاری رسانه