نام و نسب  

اسم گرامی : علی ابن الحسین (ع)                 لقب : زین العابدین

کنیت : ابو محمد                                          والد کا نام : حسین (ع)

والدہ کانام : شھر بانو شاہ زناں                      جائے ولادت : مدینہ منورہ

مدت امامت : ۳۵/ سال                          عمر : ۵۷/ سال                             تاریخ شھادت : ۲۵/محرم ۹۵ھء

امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو پورا مدینہ امام علیہ السلام کے سوگ میں عزادار ہو گیا، مرد و زن، گورا کالا اور چھوٹا بڑا سب امام کے غم میں گریاں تھے اور زمین و آسمان سے غم کے آثار نمایاں تھے۔

امام علي بن الحسين عليہ السلام" جو "سجاد"، "زين العابدين"، اور "سيد الساجدين"، جیسے القاب سے مشہور تھے، کربلا میں آئے تو 22 سالہ نوجوان تھے۔

11 محرم کو عمر بن سعد نے اپنے مقتولین کی لاشیں اکٹھی کروائیں اور ان پر نماز پڑھی اور انہیں دفنا دیا مگر امام حسین علیہ السلام اور اصحاب و خاندان کے شہداء کے جنازے دشت کربلا میں پڑے رہے۔  عمرسعد نے کوفہ کی طرف حرکت کا حکم دیا۔  عرب اور کوفے کے قبیلوں کے افراد نے ابن زیاد کی قربت اور اللہ کی لعنت حاصل کرنے کے لئے شہداء کے مطہر سروں کو آپس میں تقسیم کرکے نیزوں پر سجایا اور کوفہ جانے کے لئے تیار ہوئے؛ اور حرم رسول اللہ (ص) کی خواتین، بچوں اور بچیوں کو بےچادر، اونٹوں پر سوار کیا گیا اور کفار کے اسیروں کی طرح انہیں کوفہ کی جانب لے گئے۔ 

جب یہ اسراء کوفے کے نزدیک پہنچے تو وہاں کے لوگ اسیروں کا تماشا دیکھنے  کے لئے اکٹھا ہو گئے۔ ایک کوفی خاتون جو اپنے گھر کی چھت سے اسیروں کے کارواں کا تماشا دیکھ رہی تھی نے اسراء سے پوچھا: ’’تم کس قوم کے اسیر ہو؟‘‘۔

زبور آل محمد صحیفہ سجادیہ کی پینتالیسویں دعا ہے کہ جو امام زین العابدین علیہ السلام سے منسوب ہے۔
إِنْ أَعْطَيْتَ لَمْ تَشُبْ عَطَاءَكَ بِمَنّ‏ٍ، وَ إِنْ مَنَعْتَ لَمْ يَكُنْ مَنْعُكَ تَعَدّياً.
تَشْكُرُ مَنْ شَكَرَكَ وَ أَنْتَ أَلْهَمْتَهُ شُكْرَكَ.
وَ تُكَافِئُ مَنْ حَمِدَكَ وَ أَنْتَ عَلّمْتَهُ حَمْدَكَ.

امام ؑ فقیروں کے لئے افسوس کرتے ،ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ،جب کسی سائل کو کچھ دیتے تو اس سے معانقہ کرتے تاکہ اس سے ذلت اور حاجت کااثر جاتا رہے، جب سا ئل کسی سوال کا قصد کرتا تو آپ ؑ مرحبا کہتے۔

 امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک ذاتی صفت لوگوں پر احسان اور ان کے ساتھ نیکی کرنا تھی ، آپ ؑ کا قلب مبارک اُن پر رحم و کرم کرنے کیلئے آمادہ رہتا تھا ،مورّخین کا کہنا ہے :جب آپ کو یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ آپ کا کوئی چا ہنے والا مقروض ہے تو آپ ؑ اس کا قرض ادا فرما دیتے تھے ، اور آپ ؑ اس ڈرسے کہ کہیں آپ ؑ کے علاوہ کو ئی دوسرا لوگوں کی حا جتیں پوری کر دے اورآپ ثواب سے محروم رہ جائیں لہٰذا لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے میں سبقت فرماتے تھے، آپ ؑ ہی کا فرمان ہے : ’’ اگر میرا دشمن میرے پاس اپنی حاجت لیکر آئے تو میں اس خوف سے اس کی حاجت پورا کرنے کیلئے سبقت کرتا تھا کہ کہیں اور کو ئی اس کی حاجت پوری نہ کردے یا وہ اس حاجت سے بے نیاز ہو جائے اور مجھ سے اس کی فضیلت چھوٹ جائے ‘‘۔آپ ؑ کے لوگوں پر رحم و کرم کے سلسلہ میں زہری نے روایت کی ہے :میں علی بن الحسین ؑ کے پاس تھاکہ آپ ؑ کے ایک صحابی نے آپ ؑ کے پاس آکر کہا :آج میں چارسو دینار کا مقروض ہوں اور میرے لئے اپنے اہل و عیال کی وجہ سے ان کو ادانہیں کر سکتا ،امام ؑ کے پاس اس وقت اس کو دینے کے لئے کچھ بھی مال نہیں تھا ،آپ ؑ نے اس وقت گریہ وزاری کرتے ہوئے فرمایا :’’ایک آزاد مو من کے لئے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے مو من بھا ئی کو مقروض دیکھے اور وہ ادا نہ کر سکے اور وہ اس کاایسے فاقہ کی حالت میں مشا ہدہ کرے جس کو وہ دور نہ کر سکتا ہو‘‘۔

امام سجاد نے ایک ایسے دور میں زندگی گذاری کہ جس میں افکار کو لوگوں تک پہنچانا اور حقائق کو صریح  بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور دوسرے طرف لوگ دین خدا سے بلکل ہٹ گئے تھے اور لوگ اسلامی تعلیمات سے بلکل بے خبر ہوتے جارہے تھے۔ اسکی مثال بیان کرتے ہوے  سیرہ پیشوایان کے مصنف  لکھتے ہیں کہ 

1. نبی ہاشم کے کچھ دانشمندان امام سجاد ؑ کے دور میں نماز پڑھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اور شیعیان احکام اسلامی کو فقط افواہوں سے ہی لیتے تھے۔

2. انس بن مالک کہتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات جو رسول خدا ؐ کے دور میں تھے انکا نام و نشان تک نہیں ہے۔

3. ۶۸ ہجری مین ولید بن عبدالملک جب حج کیلئے گئے تو عید کے دن وقوف کو غلط انجام دیا۔

4. حسن بصری کہتا ہے کہ اگر رسول خدا اس وقت تمہارے درمیان واپس آتے تو تمام تعلیمات اسلامی جو انہوں نے سکھایا تھا جز قبلہ کے نہیں پہچانیں گے ۔

Choose Language

جامعه روحانیت کی خبریں

حسینیہ بلتستانیہ قم

مشاہدات

آج609
کل1185
اس هفته609
اس ماه32906
ٹوٹل مشاهدات656475

11
Online

پیر, 25 جون 2018 14:00
.Copyright © jrbpk Institute. All rights reserved
Designed by Islamic Medias Software Team