امام محمد باقر علیہ السلام

امامت و ولایت کے پانچویں درخشاں آفتاب کی سوانح حیات

پانچواں آفتاب، آسمانِ امامت کے اُفق پر همیشہ کے لئے روشن و منوّر هوا، ان کی پوری زندگی علوم و معارف سے سرچشمہ تھی اسی وجہ سے انھیں باقر العلوم کے لقب سے یاد کیا جاتا هے،

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔۱۔علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے۔۲

آپ کا اسم گرامی ”لوح محفوظ“ کے مطابق اورسرورکائنات کی تعیین کے موافق ”محمد“تھا۔ آپ کی کنیت ”ابوجعفر“ تھی، اورآپ کے القاب کثیرتھے، جن میں باقر،شاکر،ہادی زیادہ مشہورہیں۔3

آپ ۵۷ ھ میں معاویہ بن ابی سفیان کے عہد میں پیدا ہوئے ۔ ۶۰ ھ میں یزید بن معاویہ بادشاہ وقت رہا، ۶۴ ھ میں معاویہ بن یزیداورمروان بن حکم بادشاہ رہے ۶۵ ھ تک عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت رہا ۔ پھر ۸۶ ھ سے ۹۶ ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی، اسی نے ۹۵ ھ میں آپ کے والد ماجد کو درجہ شہادت پرفائز کر دیا، اسی ۹۵ ھ سے آپ کی امامت کا آغاز ہوا، اور ۱۱۴ ھ تک آپ فرائض امامت ادا فرماتے رہے، اسی دور میں ولید بن عبدالملک کے بعد سلیمان بن عبدالملک ،عمربن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اورہشام بن عبدالملک بادشاہ وقت رہے۔4

علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں پرندوں تک کی زبان سکھا گئی ہے اور ہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیا ہے5۔روضة الصفاء میں ہے : خداکی قسم! ہم زمین اورآسمان میں خداوند عالم کے خازن علم ہیں اور ہم ہی شجرہ نبوت اورمعدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں۔ 

علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن ،تفسیر قرآن ،علم السیرۃ ،علوم ،فنون وادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقرعلیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین و امام حسین کی اولاد میں سے کسی اورسے ظاہرنہیں ہوئے6۔

صاحب صواعق محرقہ لکھتے ہیں : عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار کے راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے.7 علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے8۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا9۔امام باقرعلیہ السلام نے تقریبا چار سال کی عمر میں کربلاکا خونین واقعہ دیکھا۔آپ اپنے جد  امام حسین علیہ السلام کےپاس موجود تھے۔آپ کی شرافت اور بزرگی کو اس حدیث سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک نیک صحابی جابر بن عبد اللہ انصاری سے فرمایا:

اے جابر : تم زندہ رہوگے اور میرےفرزند محمد ابن علی ابن الحسین سے کہ جس کا نام توریت میں باقر ہے ،ملاقات کروگے ،ان سے ملاقات ہونے پر میرا سلام پہنچادینا۔جابر نے ایک طویل عمر پائی اور یوں وہ دن بھی آیا کہ امام باقرعلیہ السلام کے سامنے جابر کھڑا تھا۔جب معلوم ہوا کہ آپ امام باقر ہیں توجابر نے آپ کے قدموں کا بوسہ لیا اورکہا اے فرزند پیغمبر میں آپ پر نثار، آپ اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام و درود قبول فرمائیں۔انہوں نے آپ کو سلام کہلوایا تھا۔آپ کا علم بھی دوسرے تمام ائمہ علیہم السلام کی طرح چشمہ وحی سے فیضان حاصل کرتا تھا۔جابر ابن عبد اللہ انصاری آپ کےپاس آتے اور آپ کے علم سے بہرہ مندہوتے اور بار بار عرض کرتے تھے کہ اے علوم کو شگافتہ کرنےوالے،میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بچپن ہی میں علم خدا سے مالا مال ہیں ۔

آپ کا علمی مقام ایساتھا کہ جابر بن یزیدجعفی ان سے روایت کرتے وقت کہتے تھے،وصی اوصیا اور وارث علوم انبیاء محمد بن علی بن حسین نے ایسا کہا ہے ۔حضرت امام باقر علیہ السلام نے علوم و دانش کے اتنے رموز و اسرار وضع کئے ہیں کہ سوائے دل کے اندھے کے اور کوئی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔اسی وجہ سے آپ نے تمام علوم شگافتہ کرنے والے اور علم و دانش کا پرچم لہرانے والے کا لقب پایا۔آپ نے مدینہ میں علم کا ایک بڑا دانشگاہ بنایا تھا جس میں سینکڑوں درس لینےوالے افرادآپ کی خدمت میں پہنچ کر درس حاصل کیا کرتے تھے۔امام باقر علیہ السلام کے مکتب فکر میں مثالی اور ممتاز شاگردوں نے پرورش پائی تھی ان میں سے کچھ افراد یہ ہیں :

1۔ ابان بن تغلب: ابان نےتین اماموں کی خدمت میں حاضری دی ،چوتھے امام ،پانچویں امام اور چھٹے امام۔ابان کی فقہی منزلت کہ وجہ سے ہی امام باقر علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ مدینہ کی مسجد میں بیٹھو اور لوگوں کےلئے فتوی دو تاکہ لوگ ہمارے شیعوں میں تمہاری طرح کے میرے دوست دار کو دیکھیں ۔

2۔زراۃ ابن اعین:امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتےہیں : ابو بصیر ،محمد ابن حکم ، زراۃ ابن اعین اور بریدہ ابن معاویہ نہ ہوتے توآثار نبوت مٹ جاتے یہ لوگ حلال اور حرام کے امین ہیں ۔

3۔ کمیت اسدی: ایک انقلابی اوربامقصد شاعر تھے ۔دفاع اہل بیت کے سلسلے میں لوگوں کوایسی جھنجھوڑنے والی اور دشمنوں کواس طرح ذلیل کرنےوالی شاعری تھی کہ دربار خلافت کی طرف سےموت کی دھمکی دی گئی۔جب کمیت نے امام کی مدح میں چند اشعار پڑھ لئے تب امام نے اسے اپنا لباس دے دیا۔

4۔ محمد ابن مسلم: امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے سچے دوستوں میں سےتھے۔آپ کوفہ کے رہنےوالے تھے لیکن امام کے علم بیکراں سے استفادہ کرنےکے لئےمدینہ تشریف لائے۔ایک دن ایک عورت محمدابن مسلم کے گھر آئی اور سوال کیا کہ میری بہو مر گئی ہے اور اس کے پیٹ میں زندہ بچہ موجود ہے۔ہم کیا کریں؟ محمد نے کہا کہ امام باقرعلیہ السلام نےجو فرمایا ہے اس کے مطابق توپیٹ چاک کر کےبچہ کو نکال لینا چاہئے اور پھر مردہ کو دفن کر دینا چاہئے۔پھر محمد نے اس عورت سےپوچھاکہ میرا گھر تم کو کیسےملا؟ عورت بولی میں یہ مسئلہ ابو حنیفہ کےپاس لے گئی۔انہوں نے کہا محمد ابن مسلم کےپاس جاو اور اگر فتوی دیں تومجھے بھی بتادینا۔

امام باقر علیہ السلام کی رہبری کا ۱۹ سالہ زمانہ نہایت ہی دشوار حالات اور ناہموار راہوں میں گزرا۔اپنے آخری ایام میں امام نے اپنے بیٹےامام جعفر صادق علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان کے پیسوں میں سےایک حصہ ۸۰۰ درہم دس سال کی مدت تک عزاداری میں صرف کریں۔عزاداری کی جگہ میدان منی اور عزاداری کا زمانہ حج کا زمانہ قرار دیا گیا۔

حج کا زمانہ دور افتادہ اور نا آشنا لوگوں اور دوستوں کی وعدہ گاہ ہے اگر کوئی پیغام ایسا ہو کہ جسے تمام عالم اسلام تک پہنچانا ہو تو اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں اور امام نے بھی عزاداری کے لئے حج کے ایام اور اس جگہ کو معین کیا تاکہ ہر سال مجلس عزاء برپاہونےپر ہر آدمی یہ سوال کرنے پر مجبور ہو کہ آخر کس کے لئےیہ مجلسیں برپا ہوتی ہیں اور عالم اسلام کی بلند شخصیت محمد ابن علی ابن الحسین علیہ السلام کی موت آخر طبیعی نہ تھی ۔ان کو کس نے قتل کیا اور کیوں؟ آخر ان کا جرم کیا تھا،کیا ان کا وجود خلیفہ کے لئے خطرے کاباعث تھا؟دسیوں ابہام اور اس کے پیچھے اتنے ہی سوالات اور جستجو والی باتیں اور صاحبان عزاء اور صاحبان معرفت کی طرف سے جوابات کا ایک سیلاب۔

۷ ذی الحجہ ۱۱۴ ہجری کو ۵۷ سال کی عمر میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ظالم و جابربادشاہ ہشام ابن عبد الملک نے آپ کو زہر  دلوایا اور اس زہر کےاثر سے آپ کی شہادت واقع ہوئی اور دنیائے علم و دانش ہمیشہ کے لئے سوگوار ہوگئی۔اس آفتاب علم و ہدایت کو بھی ظالموں نےباقی رہنےنہ دیا۔

شہادت سےپہلے امام جعفرصادق علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: میں آج کی رات اس دنیا سےکوچ کر جاوٴں گاکیونکہ میں نے اپنےپدر بزرگوار کو خواب میں دیکھا ہے کہ مجھے شربت پیش کر رہےتھے جسے میں نےپیا  ہے وہ مجھے زندگی جاویداوراپنے دیدار کی بشارت دےرہے تھے۔ دوسرےدن اس آفتاب علم و دانش کے دریائے بیکران کوجنت البقیع میں امام حسن علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام کےپہلو میں دفن کر دیا لیکن وقت کے ظالم و جابر حکومتوں نے اس قبر مطہر پر  سائباں بھی گوارہ نہ کیا۔ 

دن کی دھوپ اوررات کی شبنم میں یہ قبر مطہر آج بھی مظلومیت کی مجسم تصویر ہے۔

حوالہ جات:

 1۔ اعلام الوری ص ۱۵۵ ،جلاء العیون ص ۲۶۰ ،جنات الخلود ص ۲۵۔

۲۔جلاء العیون ص ۲۵۹۔

۳۔ مطالب السؤال ص ۳۶۹ ،شواہدالنبوت ص ۱۸۱

4۔اعلام الوری ص ۱۵۶۔

5۔ مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱۔

6۔ کتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷۔

۷۔صواعق محرقہ ص ۱۲۰

8۔ وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰ ۔

۹۔ تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱۔

۱۰۔ تاریخ اسلام۔

 

امام کے علمی مبارزوں میں کفر و شرک ، ظلم وستم، جابر حاکموں کی تنبیہ، بے راہ روی اور اصلاح ، اجتماعی کی کوشش، جابر حکمرانوں کی ہدایات، اجتماعی عدل، تقیہ اور اس کی ضرورت شامل ہیں۔ تقیہ کے متعلق امام نے فرمایا کہ :

""تقیہ میرے اور میرے آباء کے دین کا حصہ ہے اور کسی نے وقت ضرورت اس پر عمل نہیں کیا تو وہ صاحب ایمان نہیں۔ مومن کے لئے تقیہ حق سے چشم پوشی نہیں بلکہ حق کے حفاظت کا ایک ذریعہ ہے۔ ""( بحار الانوار ۔٨)

محمد بن علی بن الحسین ؑ کا علم و فضل ،ریاست ،امامت ،شیعہ اور سنی سب کے لئے تھی ،آپ ؑ کرم میں مشہور تھے ،کثرت عیال اور متوسط حال ہونے کے باوجود آپ ؑ لوگوں کے ساتھ فضل و احسان کرنے میں مشہور تھے۔امام ؑ فرماتے تھے

فقیروں پر مہربانی کرنا امام ؑ کے بلند اخلاق میں سے تھا ،آپ ؑ ان کا بڑی فراخدلی اور اکرام و تکریم کے ساتھ استقبال کر تے ،آپ ؑ نے اپنے اہل و عیال سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کو ئی سائل سوال کرے تو اس کو یہ نہ کہنا :اے فقیر یہ لے لو ۔بلکہ اس سے کہو :اے اللہ کے بندے خدا تم کو اس میں برکت دے ۔جیسا کہ آپ ؑ نے اپنے اہل کویہ حکم دیا تھاکہ فقراء کو اچھے القاب سے یاد کریں ،حقیقت میں آپ ؑ نے یہ اخلاق اپنے جد رسول اسلام کے اخلاق سے منتخب فرمائے تھے وہ رسول جو اخلاق میں تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔امام محمد باقر ؑ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز یہ تھی کہ آپ ؑ اپنے برادران ،قاصد ، خبر نشر کرنے والے اورامیدوار سے محبت کر تے تھے ،امام کی پیدائش ہی نیکی سے محبت ،لوگوں کے ساتھ صلۂ رحم اور ان کوخو ش کرنے کے لئے ہو ئی تھی ۔

ابن صباغ کا کہنا ہے : محمد بن علی بن الحسین ؑ کا علم و فضل ،ریاست ،امامت ،شیعہ اور سنی سب کے لئے تھی ،آپ ؑ کرم میں مشہور تھے ،کثرت عیال اور متوسط حال ہونے کے باوجود آپ ؑ لوگوں کے ساتھ فضل و احسان کرنے میں مشہور تھے۔امام ؑ فرماتے تھے :’’صلۂ اخوان اور معارف کے علاوہ دنیا میں کو ئی نیکی و اچھا ئی نہیں ہے ‘‘۔آپ ؑ کی عبادت امام محمد باقر علیہ السلام متقین کے امام اور عابدوں کے سردار تھے ، آپ ؑ اللہ کی اطاعت میں عظیم اخلاص سے پیش آتے تھے ،جب آپ نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو اللہ کے خوف و خشیت سے آپ ؑ کا رنگ متغیر ہو جاتا ،آپ ؑ دن اور رات میں ایک سو پچاس رکعت نماز پڑھتے  اور کثرت نماز کی وجہ سے امت کے علمی امور اور عام مراجعہ میں کو ئی رکا وٹ نہیں ہو تی تھی ، آپ ؑ سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے : ’’سبحانک اللھمّ انت ربّي حقّاحقا،سجدت لک یاربي تعبدا ورقا، اللھم انَّ عملي ضعیف فضاعفہ لي۔اللّھمَّ قِنِیْ عذابک یوم تبعث عبادکَ،وتُبْ عليَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرحیمُ ‘‘۔’’اے خدا تو پاک و منزہ ہے ،میرے پروردگار تو برحق ہے ،اے میرے پروردگار میں بندگی اور غلامی کی وجہ سے تیرا سجدہ کرتا ہوں ،خدایا میرا عمل ضعیف ہے ،تو اس کو میرے لئے دُوگنا کردے ، مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھ جس دن تیرے بندے اٹھا ئے جا ئیں گے ،میری توبہ قبول کرلے ،تو ،توبہ قبول کرنے والا ہے ‘‘۔

آپ ؑ قنوت اور سجود میں دو سری دعا ئیں بھی پڑھا کرتے تھے جن کو ہم نے اپنی کتاب ’’حیاۃالامام محمد باقر ؑ ‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔

آپ ؑ کا زہد آپ ؑ دنیا کے زاہدوں میں سے تھے ،آپ ؑ نے رونق زندگا نی سے منھ موڑ لیا تھا آپ ؑ کے گھر میں کوئی بھی عمدہ لباس اور سامان نہیں تھا اور آپ اپنی مجلسوں میں چٹائی پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔ امام ؑ نے دنیا پر بڑی گہرا ئی کے ساتھ نظریں دوڑائیں اس میں سے حق کے علاوہ دنیا کے زرق و برق سے زہد اختیار کیااور قلب منیب کے ساتھ اللہ سے لو لگا ئی ۔جابر بن یزید جعفی کا کہنا ہے :مجھ سے محمد بن علی ؑ نے فرمایا ہے :’’یاجابراني لَمَحْزُونٌ وانِّي لمُشْتّغِلُ القَلْبِ۔’’اے جابر میں محزون و رنجیدہ ہوں اورمیرا دل مشغول ہوگیا ہے‘‘جابر نے جلدی سے عرض کیا :آپ ؑ کس چیز سے رنجیدہ ہیں اور آپ ؑ کا دل کس سے مشغول ہوگیا ہے ؟۔

فرمایا :’’اے جابر جس کا دل دین خدا کے امور میں داخل ہوجاتا ہے تو اس کے علاوہ دوسری چیزوںسے دور ہو جاتا ہے ۔اے جابر دنیا کیا ہے ؟اور کیا ہو سکتی ہے ؟کیا یہ اس مرکب کے علاوہ کچھ اور ہے جس پر تم سوار ہو،یا کپڑا ہے جس کو تم پہنے ہو ،یا وہ عورت ہے جو تم کو مل گئی ہے ۔امام ؑ کے دنیا اور اس کے غرور سے پرہیز کے سلسلہ میں متعدد کلمات نقل ہو ئے ہیں ۔

اقتباس از کتاب ائمہ اہل بیت(ع) کی سیرت سے خوشبوئے حیات

اسلامی روایات کی روشنی میں ٧ ذی الحجۃ الحرام اہلبیت رسول اسلام اور اُن کے دوستداروں کے لئے نہایت ہی غم واندوہ کی تاریخ ہے سن ١١٤ ھجری میں اسی تاریخ کو آسمان علم و ہدایت کا وہ درخشاں آفتاب امامت مدینہ منورہ میں غروب ہواہے کہ جس کی علمی وفکری تابندگی سے بنی امیّہ کی ایجادکردہ گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں بھی عالم اسلام کے بام و در روشن و منور تھے۔

Choose Language

جامعه روحانیت کی خبریں

حسینیہ بلتستانیہ قم

مشاہدات

آج607
کل1185
اس هفته607
اس ماه32904
ٹوٹل مشاهدات656473

12
Online

پیر, 25 جون 2018 13:58
.Copyright © jrbpk Institute. All rights reserved
Designed by Islamic Medias Software Team